بنی اسرائیل کی تربیت کے لیے نبوی اُسلوب

قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما لَونُها ۚ قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ صَفراءُ فاقِعٌ لَونُها تَسُرُّ النّاظِرينَ
قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما هِيَ إِنَّ البَقَرَ تَشابَهَ عَلَينا وَإِنّا إِن شاءَ اللَّهُ لَمُهتَدونَ
قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ لا ذَلولٌ تُثيرُ الأَرضَ وَلا تَسقِي الحَرثَ مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فيها ۚ قالُوا الآنَ جِئتَ بِالحَقِّ ۚ فَذَبَحوها وَما كادوا يَفعَلونَ (-2 البقرہ:69-71)
(بولے کہ: دعا کر ہمارے واسطے اپنے ربّ سے کہ بتادے ہم کو کیسا ہے اس کا رنگ؟ کہا: وہ فرماتا ہے کہ: وہ ایک گائے ہے زرد، خوب گہری ہے اس کی زردی، خوش آتی ہے دیکھنے والوں کو۔ بولے: دعا کر ہمارے واسطے اپنے ربّ سے کہ بتادے ہم کو کس قسم میں ہے وہ؟ کیوں کہ اس گائے میں شبہ پڑا ہے ہم کو، اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور راہ پالیں گے۔ کہا: وہ فرماتا ہے کہ: وہ ایک گائے ہے، محنت کرنے والی نہیں کہ جوتتی ہو زمین کو، یا پانی دیتی ہو کھیتی کو، بے عیب ہے، کوئی داغ اس میں نہیں، بولے: اب لایا تو ٹھیک بات۔ پھر اس کو ذبح کیا۔ اور وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کرلیں گے۔) (ترجمہ از حضرت شیخ الہندؒ)
گزشتہ دو آیاتِ مبارکہ سے گائے کے ذبح سے متعلق واقعے کا بیان جاری ہے۔ بنی اسرائیل کے ذہنوں میں مصریوں کی صحبت سے گائے کی تقدیس کا تصور پایا جاتا تھا۔ اس لیے اس واقعے کے ذریعے اُن کے ذہن کے نہاں خانوں میں چھپے ہوئے گائے کی تقدیس کے نظریے کا رد کرتے ہوئے انھیں اجتماعی طور پر ذاتِ باری تعالیٰ اور اُس کی تجلیاتِ الٰہیہ کے ساتھ جڑنے کا طریقہ سمجھایا گیا ہے۔
بنی اسرائیل کو جب حکم دیا گیا کہ تم گائے ذبح کرو تو اُن کے ذہن میں گائے کے حوالے سے تقدیس کا تصور گردش کر رہا تھا، اور ان کے لیے اس سے چھٹکارا پانا طبعی، رسمی اور علمی طور پر بڑا تکلیف دہ تھا تو انھوں نے گومگو کی حالت میں اس حوالے سے تین سوالات کیے۔ اُن کے پہلے سوال کا جواب گزشتہ آیت میں بیان کردیا گیا ہے۔
پیشِ نظر مذکورہ بالا آیات میں بنی اسرائیل کے دیگر دو سوالات کا تذکرہ ہے:
قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما لَونُها ۚ: انھوں نے دوسرا سوال کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ربّ سے پوچھ کر ہمیں یہ بتائیں کہ ذبح کی جانے والی گائے کا رنگ کیسا ہو؟ پہلے گائے کی عمر اور اس کی حالت پوچھی۔ اب وہ اس کا رنگ وغیرہ پوچھنا چاہتے ہیں۔ اس سوال میں اپنے ربّ سے دعا مانگنے کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور اُس کی طرف سے بیان کا انتظار کر رہے ہیں۔
قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ صَفراءُ فاقِعٌ لَونُها تَسُرُّ النّاظِرينَ: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیا کہ اُس گائے کی رنگت خوب گہری زرد ہو اور اس کی زردی ایسی ہو جو تمام دیکھنے والوں کے لیے فرحت اور سرور بخشنے والی ہو۔ رنگت ایسی ہو، جو انسانی سوسائٹی میں سُرور بھر دے۔ اس کے بعد انھوں نے کہا:
قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما هِيَ إِنَّ البَقَرَ تَشابَهَ عَلَينا وَإِنّا إِن شاءَ اللَّهُ لَمُهتَدونَ: انھوں نے تیسرا سوال کیا کہ اپنے ربّ سے پوچھ کر ہمارے سامنے یہ بیان کریں کہ وہ گائے کس قسم کی ہے؟ اس حوالے سے گائے کی علمی معرفت ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔ ہمیں جب اُس کے بارے میں پورا علم اور معرفت حاصل ہوگئی تو ہم ضرور ہدایت کے سیدھے راستے پر پہنچ جائیں گے اور صدقِ دل سے اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے گائے ذبح کریں گے۔
قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سوال کے جواب میں اس گائے کی حقیقت اور تعارف کے حوالے سے تین باتیں ارشاد فرمائیں:
الف: لا ذَلولٌ تُثيرُ الأَرضَ : وہ گائے ایسی ہونی چاہیے، جو زمین کی کاشت کاری میں ہل چلا کر کمزور اور دُبلی پتلی نہ ہوچکی ہو، بلکہ صحت مند اور فربہ ہو۔
ب: وَلا تَسقِي الحَرثَ : وہ گائے ایسی ہونی چاہیے، جو کھیتی کو سیراب کرنے کے کنوئیں سے پانی کھینچنے کے کام میں استعمال ہو کر بے کار نہ ہوچکی ہو۔
ج: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فيها ۚ : ایسی بے عیب ہو کہ اُس کے اعضا میں کوئی کمی نہ ہو، اور اُس کے رنگ میں کسی دوسرے رنگ کا داغ اور نشان نہ ہو، بلکہ پوری زرد ہو۔
قالُوا الآنَ جِئتَ بِالحَقِّ ۚ فَذَبَحوها وَما كادوا يَفعَلونَ: اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ہاں! اب ہمارے ذہن میں حق واضح ہوگیا۔ چناں چہ انھوں نے اُس گائے کو ذبح کیا، جب کہ اس سے پہلے وہ اُسے ذبح کرنے والے نہیں تھے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ معرفت ِخداوندی کے حوالے سے انسان میں تین طرح کے حجابات ہوتے ہیں: (1) حجابِ طبع، (2) حجابِ رسم، (3) حجابِ سُوءِ معرفت۔ بنی اسرائیل میں ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیات تک براہِ راست ربط پیداکرنے میں گائے کی تقدیس کے تصور کے حوالے سے یہ تینوں حجابات پائے جاتے تھے۔ چناں چہ اُن کے یہ تین سوالات، ان تینوں حجابات سے متعلق ہیں۔ چناں چہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلے سوال کے جواب میں اُن کی طبیعت پر چھائے ہوئے حجاب کو توڑا۔ اسی لیے پہلے سوال کے جواب میں طبعی حجاب کی دو انتہائیں ’’فارض ‘‘ (بوڑھی) اور ’’بِکر‘‘ (بِن بیاہی) کی نفی کرکے ’’عوان بین ذٰلک ‘‘ کے طبعی اعتدال کو واضح کیا۔ دوسرے سوال کے جواب میں اُن کے حجابِ رسم کو توڑ کر اچھی رسم اور ماحول کے لیے فرحت انگیز اور سُرور بخش ہونے کا ذکر کیا۔ تیسرے سوال کے جواب میں معرفتِ علمی کے حوالے سے ان کی بدفہمی اور سوئے معرفت کو دور کرتے ہوئے فربہ، بہترین اور صاف ستھری گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس طرح اُن کے حجابات ٹوٹنے سے اُن پر حق کی تجلیٔ الٰہی روشن ہو کر سامنے آگئی۔ اسی کو انھوں نے ’’جئت بالحق ‘‘ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ اس تجلیٔ حقانی کی وجہ سے وہ سب متفق ہوگئے کہ گائے ضرور ذبح کی جائے، حال آں کہ وہ سوالات کے ان جوابات سے پہلے گائے ذبح کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس طرح تربیت کے نبوی کے انداز و اُسلوب نے انھیں اللہ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے آمادہ کرلیا۔
دینِ اسلام کی دعوت دینے کا اَجر

عَنْ سَھْلٍ یَعْنِیْ: ابْنِ سَعْدٍؓ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: ’’واللّٰہِ! لَاَنْ یَّھْدِیَ اللّٰہُ بِھُدَاکَ رَجُلاً وَاحِداً خَیْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ‘‘۔ (سنن ابوداؤد : 3661)
(حضرت سہل بن سعدؓ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ: ’’اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمھاری رہنمائی کی وَجہ سے اگر ایک شخص کو ہدایت عطا کردے تو یہ تمھارے لیے سُرخ اونٹوں (اُس وقت کے مطابق بڑا قیمتی مال صدقہ کرنے) سے بہتر ہے۔)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ دینی دعوت دینے کی اہمیت بیان کررہے ہیں۔ یعنی دینی علم کی دوسروں کو تعلیم دینا، ان کی ذہن سازی کرنا اور ان کو گمراہی سے بچا لینے کا اجر ایسے ہی ہے، جیسے آپ نے کئی سُرخ اونٹ اللہ کی راہ میں صدقہ کردیے۔ عربوں کے ہاں سُرخ اونٹ بہت قیمتی ہوتے تھے۔ اس لیے آپﷺ نے دعوتِ دین کی اہمیت کے بیان میں اپنے دور کے لوگوں کی ذہنی ساخت کے مطابق مثال ذکر فرمائی۔
انبیاعلیہم السلام کی اصل ذمہ داری دعوتِ دین کی تھی۔ اس لیے داعیانہ عمل پیغمبرانہ عمل کی پیروی ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق یہ عمل آپﷺ کے اوصاف جمیلہ میں سے ہے۔ (الاحزاب: 46) اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فرمایا: اے رسولؐ! جو آپ پر نازل ہوتا ہے، اس کو آپ آگے پہنچا دیجیے۔ (المائدہ: 67) آپؐ کی نبوی اور رسالت کی ذمہ داری کا اہم اور کلیدی پہلو یہ تھا کہ آپؐ لوگوں کو پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ دین سمجھائیں۔ چناں چہ آپؐ نے مقاصد ِقرآن بیان کرنے میں ذرہ بھر کمی نہ چھوڑی۔ اس مقصد کے لیے دن رات ایک کرکے اپنی زندگی، صلاحیتیں اور قیمتی اثاثہ جات وقف کردیے۔ آپؐ کی ہر ممکن کو شش تھی کہ ہر گمراہ راہِ ہدایت پر آجائے۔ آپﷺ کو یہ فکر دامن گیر رہتا کہ کہیں گمراہوں کی گمراہی کا سوال اللہ تعالیٰ مجھ سے نہ فرمالیں۔ قرآن نے مختلف اسالیب کے ساتھ اس بابت آپﷺ کو تسلی دی۔ (الزمر: 41، الغاشیہ: 22 وغیرہ) اس فریضے کی ادائیگی اور لوگوں کو راہِ ہدایت پر لانے میں آپؐ کو اتنا انہماک تھا کہ قرآن کو بالآخر یہ کہنا پڑا کہ آپ اپنے آپ کو حد سے زیادہ گھائل نہ کریں۔ (الکہف: 6)
حضورﷺ کی اتباع میں صحابہ کرامؓ اور علمائے حق کا داعیانہ طرز ِعمل بھی بڑا جاںفشانی کا رہا ہے۔ دین کی تعبیر و تشریح اور ابلاغ میں قرآنی بیان کے مطابق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیے بغیر ہمیشہ کلمۂ حق کہنے کا رہا ہے۔ (سورہ مائدہ: 54) یہاں تک کہ انھیں جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے بھی دوچار ہونا پڑا،مگر وہ راہِ حق کی رہنمائی کے لیے سر بہ کف رہے۔ چوں کہ دعوتِ دین کے لیے مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں، اس لیے پروردگار اس کا اَجر بھی دیگر اعمال کی نسبت زیادہ عطا فرماتے ہیں۔اس زوال پذیر دور میں خاص طور پر دینِ اسلام کی اصل روح کے مطابق حکمتِ عملی کے ساتھ دعوت دینا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضرت حسان بن ثابت خزرجی نجاری انصاری رضی اللہ عنہٗ (2)

حضرت حسان بن ثابتؓ کے آباؤاجداد کی چار پشتیں نہایت معمر گزریں۔ تاریخ میں عرب میں کسی خاندان کی چار پشتیں مسلسل اتنی بڑی عمر والی نہیں ملتیں۔ حضرت حسانؓ کے پردادا ’’حرام‘‘ کی عمر 120 سال تھی۔ ان کے بیٹے منذر، پوتے ثابت بن منذر اور پھر پڑپوتے حضرت حسان بن ثابتؓ سب نے یہی عمر پائی۔ حضرت حسانؓ کے خاندان میں نسل در نسل شاعر تھے۔ حضور ﷺ آپؓ کی شاعری کو پسند فرماتے تھے۔ اور مسجد ِنبویؐ میں منبر رکھوا دیتے، جس پر حسانؓ کھڑے ہو کر آپؐ کی مدح کرتے تھے اور آپؐ سن کر مسرور ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت حسانؓ نے آپؐ کی مدح میں یہ شعر کہے ؎
مَتٰی یبدُ فی الدُّجٰی البہیم جَبِینُہ
یَلُح مِثلَ مِصبَاحِ الدُّجٰی المُتَوَقِّدِ
فَمَن کَانَ اَو مَن یَکُونُ کَاَحمَدٍ
نِظَامٌ لِحَقٍّ ، اَو نکاَلٌ لِمُلحِدٍ
(جب آپؐ کی پیشانی اندھیری رات میں ظاہر ہوتی ہے تو اس کی چمک نہایت روشن چراغ کی طرح ہوتی ہے۔پس احمدؐ کی مثل کون پیدا ہوا، یا کون آئندہ پیدا ہو سکتا ہے؟ آپؐ حق کا نظام ہیں اور ملحد کے لیے عذاب ہیں)۔ حضرت حسانؓ کی شاعری پُر از حکمت تھی، جس میں نصائح و عقل و دانائی کا کا فی سامان موجود ہے۔ چناں چہ آپؓ فرماتے ہیں ؎
وَ اِلزَم مُجَالَسۃَ الکِرَامِ وَ فِعلَھُم
وَ اِذا اِتَّبَعتَ فَاَبصِرَن مَن تَتبَعُ
لاَ تَتبَعَنّ غَوَایَۃً لِصَبابَۃٍ
اِنَّ الغَوَایَۃَ کُلَّ شَرٍّ تَجمَعُ
(سمجھ دار اور معزز لوگوں کی صحبت اختیا کر، اور اُن کے افعال کی اتباع کر۔ جب تُو کسی کی پیروی کرنے لگے تو اس بات پر اچھی طرح غور و فکر کر کہ تُو کس کی اتباع کر رہا ہے۔ عشق و محبت سے پیدا ہونے والی گمراہی کی کبھی بھی پیروی مت کر۔ یہ گمرا ہی ہر شر کو جمع کر دیتی ہے ( یعنی جذباتی بن کر اتباع نہیں، عقل مند بن کر کسی کے پیچھے چلو۔)
حضوؐر کی وفات کے بعد آپؐ کے جانشین حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک بھی حضرت حسانؓ کا ایک بڑا مرتبہ تھا۔ انھیں مالِ غنیمت میں حصہ بھی دیتے رہے۔ خصوصاً حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں تو حضرت حسانؓ کو ’’قاضی شعر‘‘ بنا یا تھا۔ جب حطیہ نے زباد بن بدر کی ہجو کی تو وہ حضرت عمرؓ کے پاس معاملہ لے کر آئے۔ حضرت عمرؓ نے اپنا فیصلہ نہیں سنایا۔ کیوں کہ شعر و شاعری سے آپؓ کو واقفیت نہیں تھی۔ لہٰذا آپؓ نے حضرت حسانؓ سے اس سلسلے میں مشورہ لیا اور انھیں اس معاملے کا قاضی بنایا۔ حضرت حسانؓ نے 120 برس کی عمر میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ کے زمانۂ خلافت (۶۰ھ) میں وفات پائی۔( اُسد الغابۃ ، سیر الصحابہ، دیوانِ حسان )
جنگی بلاکوں کی ذہنیت‘ کلونیل عہد کا تسلسل ہے

ہمارے گرد و پیش کی دنیا‘ نِت نئے حادثات و واقعات کی زد میں رہتی ہے۔ ہم مسلسل قومی اور بین الاقوامی سطح پر تازہ بہ تازہ صورتِ حال کو ملاحظہ کرتے رہتے ہیں۔ آج کی دُنیا ایک بستی کی مانند ہو چکی ہے۔ دنیا میں واقع ہونے والی صورتِ حال سے ہم سب براہِ راست یا بالواسطہ متأثر ہوتے ہیں۔ اس لیے دُنیا میں واقع پذیر واقعات سے آگاہ رہنا انتہائی اہم ہے۔ آج کے انفرمیشن ٹیکنالوجی کے عہد میں تیزی سے آنے والی خبروں میں غلط اور درست کا فرق کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ ورنہ پروپیگنڈے کے سیلاب میں بہہ جانا عین ممکن ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان تنازع ایک جنگی نوعیت اختیار کرچکا ہے، جس سے متعلق خبروں سے ہمارے ذرائع اِبلاغ بھرے پڑے ہیں۔ خبر محض خبر کے طور پر مقصود نہیں ہوتی، جب تک آپ اسے اس کے سیاق و سباق میں اپنے تجزیے کا ذریعہ نہ بنا سکیں۔ اس لیے خبر کا درست اور معتبر ہونا ضروری ہے۔ ورنہ غلط خبر اور پروپیگنڈا آپ کے تجزیے کو بھی پروپیگنڈے کا حصہ بنادے گا۔ ہمیں آج اس جنگی صورتِ حال میں محض روزمرہ کارروائیوں سے زیادہ اس کے اسباب، محرکات، پسِ منظر اور پیشِ منظرپر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، تاکہ ہم درست نتائج تک پہنچ سکیں۔
ہماری دُنیا نظاموں کے ایک نظریاتی ڈیزائن پر کھڑی ہے۔ کچھ ملکوں کے دوسرے ملکوں سے اپنے اپنے نظریات اور مفادات کی بنیاد پر تضادات موجود ہیں۔ جب وہ تضادات روزمرہ معاملات میں اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں تو وہ تنازعات کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ جیساکہ امریکا آج دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی حامل قوتوں کا نمائندہ اور لیڈر ہے۔ اسے یہ منصب استعماری ویژن سمیت برطانیہ سے منتقل ہوا۔ اس نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے استعماری عزائم کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے ایسے اقدامات اٹھائے، جس کے سبب وہ سفاک برطانیہ کا صحیح جانشین کہلایا۔ مثلاً اس نے 1949ء میں اپنے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد نیٹو(NATO)کی بنیاد رکھی، جس میں 1954ء میں سوویت یونین کو __ باوجود اس کی خواہش کے __ شامل نہ کرکے دنیا کے ملکوں کے درمیان طاقت کے عدمِ توازن کو فروغ دیا۔ پھر 1955ء میں برطانیہ کے ذریعے معاہدۂ بغداد میں ایران، پاکستان اور ترکی کے ساتھ ساتھ بشمول عراق کے امریکا خود بھی اس معاہدے میں شامل ہوگیا، جس کا نام ’’سینٹو‘‘ کردیا گیا۔ جس کا بنیادی مقصد وسط ایشیا کے ممالک کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کرنا تھا۔ اس طرح امریکا نے برطانیہ کو اپنا دُم چھلہ رکھتے ہوئے اس کی استعماری وراثت کے ساتھ دُنیا میں سرمایہ دارانہ بلاک کو منظم کرلیا۔
ایسے ہی دوسری طرف رُوس ہے، جو اشتراکی نظریے کا نمائندہ ہے۔ جو ماضی میں ’’سوویت یونین‘‘ کے نام سے بہت سے ملکوں کے اتحاد کا سربراہ اور رہنما رہا ہے۔ اس نے بھی وسطی و مشرقی یورپ کی اشتراکی ریاستوں پر مشتمل اقتصادی و فوجی تعاون کا ’’معاہدۂ وارسا‘‘ کروا کر خود بھی اس اتحاد میں شامل ہوگیا۔ معاہدۂ وارسا(Pact Warsaw)کا پسِ منظر یہ تھا کہ نہ صرف 1954ء کو یورپ میں امن کی خواہش کے تحت سوویت یونین کے نیٹو میں شمولیت کی خواہش کو ٹھکرایا گیا، بلکہ 1955ء میں مغربی جرمنی کو نیٹو اتحاد میں شامل کرلیا گیا، جس کے ردِعمل میں ’’وارسا پیکٹ‘‘ وجود میں آیا۔ گویا یہ سرمایہ دارانہ قوتوں کے اتحاد نیٹو(NATO)کا اشتراکی جواب تھا۔ اس طرح سے دُنیا میں دوبلاک وجود میں آگئے، جن میں ایک کی اَساس سرمایہ داری، جب کہ دوسرے کی بنیاد اس کے مد ِمقابل کے طور پر اشتراکیت پر قائم تھی۔
وارسا معاہدہ 1991ء میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد باقاعدہ ایک اعلان کے ساتھ ختم کردیا گیا اور اس کی رُکن بہت سی ریاستوں نے نیٹو میں شمولیت اختیار کرلی۔ بنیادی طور پر تو اس مرحلے پر نیٹو(NATO)کو بھی ختم ہو جانا چاہیے تھا اور دُنیا کو جنگ کا میدان بنانے کے بجائے اس کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوششیں کرنی چاہیے تھیں، مگر امریکا بہادر نے نہ صرف اپنے فوجی اتحاد کو ختم نہیں کیا، بلکہ اسے جدید اور تباہ کن اسلحے سے لیس کرکے جھوٹی رپورٹس کی بنیاد پر بہت سے ملکوں میں باقاعدہ قتل وغارت گری کی۔ ان کی حکومتوں کو برباد کیا۔ وہاں کی سیاسی قیادت کو ناحق بے دردی سے قتل کروایا۔ اور مدتوں سے قائم ان کے سماجی ڈھانچوں کو توڑ کر انھیں دوبارہ قبائلی دور میں دھکیل دیا۔ یہ دراصل امریکا کو ملنے والی وہ وراثت ہے، جو برطانیہ نے انسانی خون سے رنگے ہاتھوں اسے منتقل کی ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک اسی تاریخ کا تسلسل ہیں، جو برطانوی کلونیل عہد کی نا خوش گوار اور ظالمانہ یاد ہیں۔ آج بھی وہ استعماری جذبے کے تحت دُنیا پر عالمی غلبے کے خواب سے نہیں جاگے۔
امریکا کی طرف سے یوکرین کو مسلسل اُکسانا، اسے نیٹو اتحاد میں شمولیت اور مراعات کا لالچ دینا، سابقہ سوویت یونین کی ریاستوں میں اپنی کٹھ پتلیاں بنانا، یہ سب کچھ امریکا کے شرارتی اور فسادی ذہن کی کار ستانیاں ہیں، جنھیں کوئی بھی ملک اپنی قومی سلامتی کے خلاف برداشت نہیں کرسکتا۔ کیا امریکا اپنے کسی مخالف ملک کو کینیڈا یا میکسیکو میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے دے گا؟ خود تو وہ جھوٹی رپورٹس کی بنیاد پر عراق پر چڑھ دوڑا تھا کہ اس کے جوہری ہتھیاروں سے امریکی سلامتی کو خطرہ ہے۔
امریکی بزرجمہروں نے جس طرح سے یوکرینی قیادت کو بانس پر چڑھا کر نیچے سے سیڑھی کھینچ لی ہے، اس سے یوکرینی قیادت کو بھی سمجھ جانا چاہیے کہ امریکا صرف آگ کا الاؤ جلانا جانتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی آبادیوں سے دور دوسرے ملکوں میں جنگ کا یہ کھیل کھیلے اور دنیا کو اقتصادی پابندیوں سے ڈرا دھمکا کر اپنے من پسند نتائج لے لے، لیکن اب دنیا کے بہت سے ممالک نے امریکا کی پابندیوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ وہ ڈالر کی معاشی غارت گری کے مقابلے میں کوئی نیا راستہ بھی کھوج نکالیں گے۔
جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، بلکہ وہ مسائل پیدا کرتی ہیں۔ روس کو اس تنازعے کے فوجی حل کے بجائے دوسرے ذرائع پر غور کرنا چاہیے اور امریکا کو بالکل بھی ایسا موقع نہیں دینا چاہیے، جس کو بہانہ بناکر وہ دُنیا کے امن کو تباہ کردے۔ آج تمام ممالک پر لازم ہے کہ وہ معاشی خوش حالی اور امن کو دُنیا کی پہلی ترجیح قرار دیں۔ (مدیر)
چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’(اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے مسنون ذکر و اذکار کی اہمیت پر چوتھی حدیث:)
(4)نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
’’جس نے ایک نیکی کی، اُس کے لیے اُس جیسی دس نیکیاں ہیں اور مَیں اس میں مزید بھی اضافہ کر دیتا ہوں۔ اور جس نے ایک بُرائی کی، تو اُسے اُس ایک گناہ کے برابر سزا دی جائے گی، یا مَیں اُسے معاف کردوں۔ اور جو آدمی میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں ایک ذِراع (ڈیڑھ فٹ) اُس کے قریب ہوجاتا ہوں۔ اور جو ایک ذِراع میرے قریب ہوتا ہے، تو میں اپنے دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر اُس کے قریب ہوجاتا ہوں۔ اور جو میرے پاس پیدل چل کر آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں۔ اور جو آدمی مجھ سے رُوئے زمین کے برابر گناہ کرکے آتا ہے اور اُس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو میں اُس کے گناہوں کے برابر اُس کی مغفرت کردیتا ہوں‘‘۔ (صحیح مسلم، مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2225)
میں کہتا ہوں کہ: انسان جب مر جاتا ہے اور دنیا سے پشت پھیر لیتا ہے تو اُس کی بہیمیت کی تیزی‘ کمزور ہوجاتی ہے۔ اور اُ س پر اُس کی ملکیت کے انوار چمکنے لگتے ہیں۔ اس طرح اُس کی تھوڑی کی ہوئی نیکیاں بھی زیادہ ہوجاتی ہیں۔ وہاں جا کر حیوانیت کے کمزور ہونے کی وجہ سے انسان کو لاحق گناہ نیکیوں کی نسبت سے بہت عارضی اور کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا قائم کردہ نظام اور تدبیر خیر کے پھیلاؤ پر مبنی ہے۔ وہاں جا کر خیر وجودکے زیادہ قریب ہوجاتی ہے اور شر اور بُرائی مزید دور ہوجاتی ہے۔ یہی مطلب ہے اُس حدیث کا، جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ’’اللہ کی رحمت کے سو درجے ہیں۔ اُن میں سے صرف ایک درجہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر نازل کیا ہے۔ اسی بات کو نبی اکرم ﷺ نے اسے ایک ’’بالشت‘‘، ایک ’’ذِراع‘‘ اور دونوں ہاتھوں، پیدل چلنے اور تیز دوڑنے کی مثالوں کے ذریعے سے واضح کیا ہے۔
اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور ’’تطلُّع الی الجبروت‘‘ (عالمِ جبروت کی طرف جھانکنے) سے زیادہ کوئی چیز آخرت میں نفع بخش نہیں ہے۔ اور یہی مطلب ہے اس حدیث کے اس جملے کا کہ: ’’جو آدمی رُوئے زمین کے برابر گناہ کرکے آتا ہے اور اُس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو میں اُس کے گناہوں کے برابر اُس کی مغفرت کردیتا ہوں‘‘۔ اور ایک دوسری حدیث میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول بیان کیا گیا ہے کہ: ’’کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے، جو گناہوں کو معاف کرسکتا ہے اور اُس پر سزا بھی دے سکتا ہے‘‘۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2333)
(5)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:’’جس نے میرے ولی اور دوست سے دُشمنی رکھی تو میرا اُس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اور میں نے جو اپنے بندے پر فرض کیا ہے، اس پر عمل کرکے کوئی بندہ میرا قرب حاصل کرتا ہے تو اس سے زیادہ محبوب مجھے کوئی اَور چیز نہیں ہوتی۔ میرا بندہ ہمیشہ میری طرف نوافل کے ذریعے سے قرب حاصل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ اُس وقت میں اُس کا کان بن جاتا ہے، جس سے وہ سنتا ہے۔ میں اُس کی آنکھ بن جاتا ہے، جس سے وہ دیکھتا ہے۔ میں اُس کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے۔ میں اُس کا پاؤں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔ اور اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرے تو میں اُسے ضرور دیتا ہوں۔ اور اگر مجھ سے پناہ مانگے تو میں اُسے پناہ دے دیتا ہوں۔ میں جو کام کرنے والا ہوتا ہوں، اُس میں کسی چیز میں مجھے ایسا تردّد اور ہچکچاہٹ نہیںہوتی، جتنا کہ ایک مؤمن کی جان لینے کے حوالے سے ہچکچاہٹ ہوتی ہے، اس لیے کہ وہ موت کو ناپسند سمجھتا ہے۔ اور میں بھی اُس کی تکلیف کو ناپسند کرتا ہوں، لیکن موت کا ہونا بھی اُس کے لیے ضروری ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2266)
میں کہتا ہوں کہ:
(الف) جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے اور اُس کی محبت ملائِ اعلیٰ میں اُترتی ہے، پھر اُس کے لیے زمین میں بھی قبولیت نازل ہوتی ہے۔ پس اگر کوئی آدمی اللہ کے اس محبوب بندے کے لیے بنائے گئے نظام کی مخالفت کرتا ہے اور اُس سے دشمنی کرتا ہے، اور اُس کے احکامات کو رد کرنے اور اُس کی مخالفت کی کوشش کرتا ہے تو اس محبوب بندے کی وجہ سے اللہ کی رحمت اُس کے دشمن پر لعنت کی صورت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اس بندے سے راضی ہونا اُس کی دشمنی کرنے والے پر اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔
(ب) جب حق تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف اپنی شریعت کے اِظہار کی تجلی ڈالتا ہے اور دین کو قائم کرنے کی ذمہ داری دیتا ہے اور حظیرۃ القدس میں اُس دین کی شریعت اور طریقے لکھ دیتا ہے تو یہ فرائض اور سننِ شریعت اللہ کی رحمت کو اپنی طرف کھینچنے کا باعث بنتی ہے۔ اور اللہ کی رضا کو اپنی موافقت میں بنا لیتی ہے۔ شریعت کے فرض کردہ کاموں میں سے تھوڑا کام بھی بہت زیادہ نفع کا باعث بنتا ہے۔
(ج) جب کوئی بندہ ہمیشہ فرائض کے ادا کرنے کے بعد کثرتِ نوافل کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اُس سے محبت کرتا ہے اور اُس کو اپنی رحمت کے پردوں میں ڈھال لیتا ہے اور اُس وقت اُس کے اعضا کو نورِ الٰہی کی تائید حاصل ہوجاتی ہے۔ اس بندے کی اپنی ذات، اس کی بیوی، اس کی اولاد اور اس کے مال میں بھی برکت پیدا ہوجاتی ہے اور اُس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اسے ہر طرح کے شر سے محفوظ کردیا جاتا ہے۔ اور اس کی مدد کی جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس قرب کا نام ’’قرب الاعمال‘‘ ہے۔
(د) بندے کی موت کے وقت اللہ کو جو تردّد اور ہچکچاہٹ ہوتی ہے، یہ دراصل کنایہ ہے کہ اللہ کی مختلف عنایات میں تعارُض ہوتا ہے۔ بے شک حق تبارک و تعالیٰ کی ہر ایک نظام __ خواہ وہ نوعی ہو یا شخصی __ کے حوالے سے ایک الگ عنایت اور مہربانی ہے۔ انسانی جسم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کا تقاضا ہے کہ اُس بندے پر موت طاری ہو یامرض آئے اور دنیاوی حالات کی تنگی آئے (اس لیے کہ انسانی جسم کمزور پیدا کیا گیاہے)۔ اور اللہ کی محبوب روح اور نفس پر اللہ کی عنایت تقاضا کرتی ہے کہ ہر پہلو سے اُس کے لیے سہولتیں اور آسانیاں پیدا کی جائیں اور اُسے ہر شر سے محفوظ رکھا جائے۔ (اب جب اللہ تعالیٰ کسی نیک بندے کی روح قبض کرتا ہے تو ان دونوں عنایتوں اور مہربانیوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے ’’تردّد‘‘ اور ’’ہچکچاہٹ‘‘ کا۔ اس لیے کہ نیک بندے کو اگلے سفر کے لیے موت کے مرحلے سے گزرنا ضروری ہے۔)
امامِ ربانی مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ کا نظریۂ وحدت الشّہود

’’وحدت الشّہود‘‘ کالفظی معنی ہے: ’’شہود کا ایک ہونا‘‘۔ ’’شہود‘‘ اسم مفعول، مشہود کے معنی میں ہے، یعنی متعدد ہستیوں کا مشاہدے میں ایک نظر آنا۔ امامِ ربانی، مجدد الفِ ثانی، حضرت شیخ احمد سرہندیؒ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ کا وجود حقیقی ہے اور کائنات کا وجود ظِلّی اور خیالی ہے۔ اور ظِلّی وجود سے حقیقی وجود کی وحدت متأثر نہیں ہوتی‘‘۔ شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربیؒ کے نزدیک کائنات وجودِ باری تعالیٰ کا مظہر ہے۔ باری تعالیٰ لا متناہی اور کائنات متناہی ہے، لیکن حضرت مجدد الفِ ثانیؒ کے ہاں ممکنات یعنی منتاہی کائنات کا اگرچہ وجود ہے، لیکن نورِ حقیقی کے سامنے سالک کو وہ نظر نہیں آتا۔ اسی کو وہ ’’وحدت الشّہود‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
شیخ مجددؒ اس کو ایک مثال سے واضح کرتے ہیں کہ جیسے آئینے میں کسی موجود شئے کا عکس گویا ایک ’’شئے‘‘ ہے اور اس موجود اور اس کے عکس کے درمیان کوئی موازنہ نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اور کائنات کے درمیان کوئی موازنہ نہیں۔ کسی چیز کا سایہ اس چیز کا عین نہیں، بلکہ اس کی ایک شبیہ اور مثال ہے۔ ممکن کی ذات عدم ہے۔ اس میں جو بھی کمالات ظاہر ہوتے ہیں، وہ وجود ہو یا اس کی صفات، و ہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاشدہ اور ذاتِ باری تعالیٰ کے کمالاتِ ذاتیہ کا پرتَو ہے۔شیخ ابنِ عربیؒ اور شیخ مجددؒ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ خارج میں صرف ایک ہی وجود ہے اور وہ ذاتِ باری تعالیٰ کا وجود ہے، تاہم کائنات اور ذاتِ باری تعالیٰ میں تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ اس میں دونوں مختلف ہیں۔ شیخ ابنِ عربیؒ کے ہاں کائنات کا وجود، وجودِ باری کا مظہر ہے اور شیخ مجددؒ کے ہاں کائنات کا وجود ظِلّی اور خیالی ہے۔ شیخ مجددؒ فرماتے ہیں کہ پہلے میں بھی وحدت الوجود کا قائل تھا، لیکن جب میں نے روحانی اُمور میں ترقی کی تو وحدت الوجود کی کیفیت مجھے بہت ادنیٰ نظر آئی اور مجھے یقین حاصل ہوا کہ مخلوق‘ خالق کا ظِل ہے۔
حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’مکتوبِ مدنی‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’دونوں بزرگوں کے درمیان اختلاف صرف جزئیات میں ہے۔ بنیادی مسلّمات میں دونوں متفق ہیں۔ بس تعبیر کا فرق ہے‘‘۔ شاہ صاحبؒ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جیسے زید، عمرو، بکر و غیرہ ایک اعتبار سے ایک دوسرے کا عین ہیں، کیوں کہ ان سب میں مشترک انسانیت ہے، پھر نوعِ انسانی اور نوعِ حیوانی بھی ایک دوسرے کا عین ہے۔ کیوں کہ ان کا وصفِ مشترک ’’حیوانیت‘‘ ہے۔ اسی طرح موجودات میں وجود مشترک ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ان موجودات میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے۔ جب کہ دوسرے صوفیا یہ کہتے ہیں کہ یہ وجود جو سب موجودات میں مشترک ہے اور اسی سے سب موجودات کا قیام ہے، یہ وجود ایک اَور برتر وجود کا فیضان اور پرتَو ہے۔ اسی کو ’’وحدت الشّہود‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے نہایت عمدگی کے ساتھ خالق و مخلوق سے متعلق ان مسائل کو بیان کیا ہے۔ گویا سامی (مللِ حنیفی) اور آریائی (صابی) اذہان کو ایک نقطۂ اِتصال پر جمع کر دیا ہے۔ سامی ذہن ذاتِ باری تعالیٰ کو منزہ اور مجرد مانتے ہیں، جب کہ آریائی (صابی)‘ وجودِ باری تعالیٰ کو کسی مظہر میں دیکھتے ہیں، یعنی مظاہرِ فطرت میں ذاتِ باری تعالیٰ کو جلوہ افروز سمجھتے ہیں۔
قرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

پاکستان کو موجودہ مالی سال کے آمدہ چار ماہ میں قرضوں کی ادائیگی اور اپنی ضروریات کے لیے 10 ارب ڈالر کا اضافی قرض درکار ہے اور آمدہ مالی سال کے دوران انھی مدات میں 20 سے 25 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ قرض اور اس پر سود کی ادائیگی محنت کی کمائی سے کردی جائے تو گویاقرض لینے کی بنا پرعزت و وقار میں کمی کا ازالہ ہو، لیکن پاکستان ایسے کام نہیں کرتا۔ یہاں کے ذمہ داران اس ہمالیائی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک اَور منصوبہ بنا چکے ہیں۔
گزشتہ تین سالوں میں ہم نے مشاہدہ کرلیا کہ ہمارے بہترین ذہن، یعنی بیوروکریٹس اور قومی سرمایہ دار کمیشن‘ اُوپر کی کمائی اور بلیک میلنگ کے ماہر ہیں۔ انھوں نے کمال مہارت سے مراعات بھی لے لیں، کام بھی نہ ہونے کے برابر کیا۔ اور آج ملک تقریباً وہیں کھڑا ہے، جہاں سے چلے تھے۔ مہنگائی کا ایک طوفان ہے، جو تھمنے کا نام نہیں لیتا، لیکن ان کا معیارِ زندگی اور کاروباری منافع تاریخی ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ ریکارڈ توڑنے کی ریت چل ہی نکلی ہے تو صاحب لوگوں نے سوچا کہ قرض لینے کا ریکارڈ بھی بنا لیا جائے۔ چناں چہ ڈیٹ لیمیٹیشن ایکٹ(Debt Limitation Act)منظور کرلیا گیا ہے۔ اس کے مطابق حکومتِ پاکستان سالانہ قومی پیداوار کا 60 فی صد قرض لے سکتی ہے اور 10 فی صد تک کی ریاستی ضمانتیں جاری کرسکتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ہمارے لیڈران اور افسران نے اس طے شدہ حد سے کم قرض لیا ہوا تھا اور اب اس ایکٹ کی منظوری کے بعد مزید قرض لیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلے سے موجود قانون کے مطابق پاکستان پر سالانہ پیداوار کا 60 فی صد قرض ہی چڑھایا جاسکتا تھا، لیکن قانون میں ہمارے لیڈران کے پاس صوابدیدی اختیارات نہیں تھے۔ اب وہ اختیارات انھیں دے دیے گئے ہیں، جن کے مطابق ضرورت کا تعین قانون میں دیے گئے ممکنات نہیں ہوں گے، بلکہ ہمارے محبوب لیڈرز اور افسرانِ بالا کی سمجھ بوجھ ہوگی، تاکہ ملک معاشی مشکلات کا شکار نہ ہونے پائے اور فیصلہ فوراً ہو جائے۔
یہ آخری جملہ ازراہِ تفنن بیان نہیں کیا گیا۔ ہمارا دوہرا مسئلہ ہے کہ امریکا یا برطانیہ کے قانون کا چھاپہ لگاتے ہوئے ہمارے یہ بڑے ذہن یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ ممالک یوں ہی ترقی نہیں کرگئے۔ وہاں بنے ہوئے قوانین کا بغیر معروضیت کو مد ِنظر رکھے، اطلاق پاکستانی مقتدرہ کے پاؤں کی بیڑیاں بن جائے گا اور اُس قانون کو پہلی دفعہIMFہی مکمل پڑھے گا اور ہمارے فیصلہ ساز وہیں پھنس جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کے مسودے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان پر کُل قرض دراصل سالانہ پیداوار کا 72 فی صد ہے اور ریاستِ پاکستان نے 6 فی صد کے لگ بھگ ضمانتیں بھی جاری کی ہوئی ہیں۔
گویا بھائی لوگ پہلے سے ہی حد پار کرچکے ہیں اور ابIMFوغیرہ کے کہنے پر یہ قانون سازی ہورہی ہے۔ اور اس دفعہ تھوڑا سا سوچ لیا گیا ہے اور نئے قانون میں مستقبل کی پیش بندی کرلی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی سالانہ پیداوار کو 295 ارب ڈالر سے بڑھا کر 345 ارب ڈالر کرلیا گیا ہے اور قومی ادارےState Owned Enterprises (SOEs)کو خودمختار کرنے کا قانون بھی آیا چاہتا ہے۔ کیوں کہ ان اداروں کی ضمانتی ادائیگیاں 5000 ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہIMFاس میں شامل نہیں ہے۔ اتنی عقلIMFمیں ہی ہے، کیوں کہ مزید قرض جو دینا ہے۔
روسی اور چینی قیادت کا کڑا اِمتحان!

( مسئلۂ یوکرین)
شیطان اپنی شیطنت سے کبھی باز نہیں آتا۔ اس کا علاج صرف اسے مغلوب کر کے رکھنے میں ہوتاہے۔ جنگ اگرچہ مسئلے کا حل تو نہیں ہوتی، لیکن حل تک پہنچنے کی ابتدائی سیڑھی ضرور کہلاتی ہے۔ ہر مسئلہ محض گفتگو کے ذریعے بھی حل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات مخالف فریق کی نفسیات کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، جنھیں پورا کرنا وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ اگر انھیں پورا نہ کیا جائے تو پھر ایسے مسائل جنم لیتے ہیں، جن کا تدارُک مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ مسائل پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ ویسے بھی ریاست اگر اپنے دفاع سے غافل ہوجائے تو پھر اس کا اپنا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ فطرت نے اپنے ارکان میں جہاد کے رُکن کو مستقل حیثیت دی ہے۔ اگر اس کی اہمیت وقتی اور عارضی ہوتی تو اسے مستقل رُکن کا درجہ نہ دیا جاتا۔
1991ء میں جب روس نے اپنی ملحقہ ریاستوں کو آزادکرنا شروع کیا تو امریکا نے اپنے مغربی اتحادیوں کے ذریعے وہاں مغرب نواز حکومتیں بنوانا شروع کردیں۔ یوکرین وسائل اور طاقت کے لحاظ سب سے مالا مال تھا، اس کے ایٹمی پلانٹ اتنے طاقتور تھے جنھیں دو مراحل یعنی 1996ء اور 1999ء میں بالترتیب اس وقت کے صدر لیونڈ کوچما(Leonid Kuchma)کے ذریعے ختم کروایا گیا۔ ایٹمی پلانٹ کے ختم کرنے سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ حکومتیں سیاسی طور پر نابلد تھیں۔ آج جب چین میں سرمائی اولمپکس کھیلوں کا انعقاد ہونے جارہا تھا، امریکانے پھر یو کرین کا مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔ جس کے لیے وہ نیٹو کو متحرک کرنے کی نازیبا حرکتیں کررہا ہے۔ روس کی انٹیلی جنس کے مطابق امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پہلے مرحلے میں یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنانا تھا۔ اس کے بعد روس کے خلاف یوکرین کی سرحد کے ساتھ میزائل نصب کر کے ا س کی شہ رگ کو مسلنا تھا۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک کامیڈین اداکار ولادیمیر زیلینسکی کو یوکرین کا صدر بنوایا گیا۔ روس اس ساری صورتِ حال کا نظرِ عمیق سے مشاہدہ کررہا تھا۔
امریکا نے اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پیوٹن کے چین جانے کے موقع کا انتخاب کیا، جب کہ روس یوکرین کی سرحد کے ساتھ ایک لاکھ فوج تعینات کرکے گیا تھا۔ جس کو بنیاد بناکر امریکا نے واویلا شروع کردیا تھا کہ خطے میں جنگ کے بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ یوکرین کی سرحد کے ساتھ فوجوں کی تعیناتی سے مغربی طاقتوں کے منصوبے ناکام ہوتے دکھائی دینے لگے، جس کا اظہار ان کے چیخنے چلانے سے ہورہا تھا۔ حقیقت میں امریکا روس کے دفاعی نظام کو غیر مؤثر کرنے کی ابھی تک کوئی جدید ٹیکنالوجی متعارف نہیں کرواسکا، البتہ اپنے مذموم عزائم لفافہ صحافیوں کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
ولادی میرپیوٹن نے 24؍ فروری 2022ء کو یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد اقوامِ عالم سے ایک گھنٹہ خطاب کیا۔ اس خطاب میں اس نے متنوع پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ان میں ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ ’’اب مَیں جو کچھ کہہ رہا ہوں، اس کا تعلق صرف روس کے ساتھ نہیں ہے۔ اور روس ہی واحد ملک نہیں ہے، جو اس بارے میں پریشان ہے۔ اس کا تعلق بین الاقوامی تعلقات کے پورے نظام اور بعض اوقات امریکی اتحادیوں سے بھی ہوتا ہے۔ سوویت یونین کا انہدام دنیا کی دوبارہ تقسیم کا باعث بنا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اور خود امریکا کو سرد جنگ کا فاتح قرار دینے والوں نے بین الاقوامی قوانین کے اصول تیار کیے، جنھوں نے ایک قسم کی جدید مطلق العنانیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی خوشی کی کیفیت دیکھی، جس کے ساتھ ان لوگوں کے پست ثقافتی معیارات اور تکبر کے ساتھ جنھوں نے صرف اپنے لیے موزوں فیصلے مرتب کیے اور آگے بڑھائے۔ صورتِ حال نے ایک اَور رُخ اختیار کیا۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ سب سے پہلے ’’بلغراد‘‘ کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر، یورپ کے قلب میں جنگی طیارں اور میزائلوں کے ساتھ ایک خونی آپریشن کیا گیا۔ پُرامن شہروں اور اہم انفراسٹرکچر پر بمباری کئی ہفتوں تک جاری رہی۔ ۔۔۔ پھر لیبیا، شام، عراق کی باری آئی۔۔۔ وغیرہ‘‘۔
اگر شتر بے مہار قوتوں کوایسے ہی چھوڑ دیا جائے تو دنیا کا امن کا تباہ ہوجاتا ہے۔ چھوٹی اور کمزور اقوام کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دنیا پھر سے جنگل کا نمونہ بن جاتی ہے۔ انسانیت کے ارتقا کا عمل تعطل کا شکار ہوجاتا ہے۔ لہٰذا امن کے قیام کے لیے طاقت کا توازن ضروری ہے۔ آج ساری دنیا میں یہ تأثر پھیل رہا ہے کہ استعمار کا کر دار ماسوائے منافقت کے کچھ نہیں ہے۔ وہ جن قوتوں کے ساتھ ہوتا ہے، بہ ظاہر ان کی مدد اور تعاون کا دعوے دار بنتا ہے، لیکن جوں ہی اس کی اتحادی قوتوں پر مشکل وقت آتاہے، فوراً پیٹھ دکھا کر بھاگ جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرین کا صدر جسے خود امریکی اتحادی لے کر آئے تھے، آج جب اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت تھا تو اس کے نئے دوستوں نے کھلے عام کہنا شروع کردیا ہے کہ اپنا دفاع خود کر و۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں چین واحد ملک ہے، جس نے روس کے ساتھ مکمل وفاداری نبھانے کا عندیہ دیا ہے۔ اگرچہ امریکا آج اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کررہا ہے، لیکن وہ ایسا کرے گا نہیں۔ ہاں! اگر کرتا ہے تو صرف کمزور ملکوںکے ساتھ جیسے پاکستان وغیرہ۔ البتہ چین اور روس کے ساتھ ایسا کرے گا نہیں، کیوں کہ ایسا کرنے سے بڑی طاقتیں متبادل راستے پر چل نکلیں گی، جو امریکاکے لیے معاشی موت ثابت ہوگی۔ کیوں کہ امریکا کی بالادستی محض ڈالر کی بالادستی کی بنیا د پر قائم ہے۔ مزید یہ کہ چین اور رُوس پہلے ہی ایک تجارتی اتحاد تشکیل دے چکے ہیں۔
منبر و محراب سے اجتماعی مسائل پر گفتگو کی ضرورت

؍ فروری 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز دوستو! آج ہم جس زوال کی حالت میں ہیں، اس کے بنیادی اسباب انبیا علیہم السلام کی تعلیمات سے اِنحراف ہے۔ جو احکامات اللہ تبارک و تعالیٰ اور حضور اقدس ﷺ نے ہمیں عنایت فرمائے ہیں اور اس کے مطابق ایک مسلمان کو سچا مؤمن اور مسلمان بننا ہے، ہم اپنے اجتماعی معاملات میں خاص طور پر اس سے رُوگردانی کیے ہوئے ہیں۔ انفرادی معاملات بھی اگرچہ دگرگوں ہیں کہ ہم اپنی ذاتی تہذیب اور شخصی تربیت کے لیے بھی سوائے رسمی اعمال کے اور کچھ نہیں کرتے ہیں۔ چناں چہ حقیقی طو رپر جس سے اپنے نفس کی تہذیب ہوتی ہے، یا شخصی سیرت و کردار پیدا ہوتا ہے، اُس کی طرف توجہ نہیں دیتے، لیکن پھر بھی واعظین اور مبلغین دینِ اسلام کی تعلیمات کے وہ پہلو جو فرد اور شخص سے متعلق ہیں، اس پر عام طور پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارا اُس پر عمل کس درجے میں ہے اور کس حد تک ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے منبر و محراب سے، ہمارے مذہبی اور دینی رہنماؤں کی طرف سے اجتماعی معاملات سے متعلق جو شریعت کے احکامات اور نبوی طریقۂ کار اور سیاسی و معاشی حکمتِ عملی ہے، اس پر سِرے سے کوئی گفتگو نہیں کی جاتی۔ زیادہ سے زیادہ صحابہؓ کی عقیدت کے عنوان سے کچھ گفتگو ہوجاتی ہے۔ ریاستِ مدینہ کے حوالے سے کچھ خواہشات اور تمناؤں کا اِظہار کیا جاتا ہے، لیکن ریاستِ مدینہ کی تشکیل اور اس سے پہلے جماعتی زندگی کی تعلیم و تربیت میں رسول اللہ ﷺ نے جس طریقے سے اپنے صحابہؓ کی تربیت کی اور انھیں ایک ایسی قوم میں ڈھال دیا کہ جو نہ صرف اپنے خطے، ملک اور قوم کے لیے ترقی کا باعث بنی، بلکہ دنیا بھر میں نبی اکرمؐ کی نائب بن کر دین کے سیاسی اور معاشی غلبے کے لیے یہ جماعت پھیلی۔ انھوں نے قیصر و کسریٰ کے نظاموں کو توڑا اور دینِ اسلام کے حقانی نظام کو غالب کرنے کے لیے عظیم الشان جدوجہد اور کوشش کی۔ جن تعلیمات کی اَساس پر ایسا کیا جانا ممکن ہے، اُن پر ہم گفتگو ہی نہیں کرتے۔ اس کے حوالے سے ہمارے اندر کوئی فکر نہیں ہوتی۔ صرف خواہش ہے کہ ہم بھی دنیا کی سپر طاقتوں کو توڑ کر اسلام کا نظام غالب کریں، لیکن دنیا میں خواہشات سے کچھ نہیں ہوتا۔
جس دین کے ہم پیروکار ہیں، اس دین کی تعلیمات کے بنیادی تصورات، بنیادی افکار اور اُن کا بیان کردہ سسٹم جب تک ہم خود نہیں سمجھیں گے، اُس وقت تک ہماری اجتماعی زندگی کسی طور درست نہیں ہوسکتی۔ انبیا علیہم السلام اپنی قوم کی زبان میں ہی قوم کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہیں اور اجتماعی زندگی کا خوگر بناتے ہیں۔ ہر فرد کو آزادیٔ رائے کے ساتھ اجتماعی معاملات میں اپنے حق کے استعمال کرنے کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ کسی بھی اجتماعی معاملے کے بارے میں معروضی حقائق اور موضوعی اُصولوں کو سامنے رکھ کر ایک نپی تلی رائے قائم کرے‘‘۔
آزادیٔ رائے اور اجتماعی مشاورت کی اہمیت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’فرعون نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’‘‘ (-40: المومن: 29) کہ میں تم کو جو رائے سجھاتا ہوں، وہی رائے تم رکھو۔ اس سے ہٹ کر اِدھر اُدھر مت دیکھو۔ ایسے معاملات کی انبیا علیہم السلام مذمت کرتے ہیں۔ رائے وہ ہے، جو آپ کی اپنی ہے۔ کسی کے دباؤ، پروپیگنڈے سے بنائی گئی رائے آپ کی اپنی نہیں ہے، وہ کسی دوسرے کا لقمہ ہے، جو تمھارے منہ میں ڈال دیا گیا ہے۔ لقمہ تو منہ میں جاتا ہے اور سوچ اور رائے کانوں کے ذریعے سے دماغ میں جاتی ہے۔ آج کل تو سوشل میڈیا کے زمانے میں رائے پر اثرانداز ہونے کے بہت سے حربے بن گئے ہیں، جس میں تخیلات و توہمات اور لایعنی تعقلات کی بنیاد پر رائے سازی کا باقاعدہ ایک فراڈی نظام وجود میں آچکا ہے۔ خاص طور پر اس دور میں جب کہ فرعون خصلت سامراجی ممالک چاہتے ہیں کہ جو اُن کے خیال کے مطابق پست اور ذلیل سمجھے جانے والے ممالک اور اقوام ہیں، وہ ہمارے اُگلے ہوئے کو چاٹتے رہیں۔ ہم اُن کا استحصال کرتے رہیں۔ جو رائے ہم چاہیں، وہی رائے وہ رکھیں۔
ایک مسلمان کی رائے آزاد ہوتی ہے۔ کسی شیطان، کسی سامراجی طاغوتی قوت کی بنیاد پر رائے نہیں بنتی۔ قرآن اُسے اپنی عقل و شعور کے استعمال کے ساتھ سوچ اور فکر کی دعوت دیتا ہے کہ کیا تم خود غور و فکر نہیں کرتے؟ ’’و فی انفسکم افلا تبصرون ‘‘ (-51 الزاریات: 21) اپنی ذات میں غور کرو۔ اور آفاق میں غور کرو۔ گرد و پیش کے حقائق پر غور و فکر کرو۔ پھر رائے قائم کرو۔ اور جب صحیح رائے قائم کرنے والی جماعت، قوم، نسل وجود میں آجائے تو پھر اُن آرا کے مابین ایک باقاعدہ مشاورت کا نظام ضروری ہے۔ اگر ہر فرد اپنی اپنی سوچی ہوئی رائے پر اڑا رہے، اور وہ یہ سمجھے کہ چوںکہ اُس نے آزاد رائے قائم کی ہے، اس لیے باقی تمام لوگوں کی آرا پر اُسے تسلط حاصل ہے۔ یہ غلط سوچ ہے۔ بھئی! جیسے تمھاری رائے آزاد ہے، ایک دوسرے حریت پسند کی رائے بھی تو آزاد ہے۔ تیسرے کی بھی تو آزاد ہے۔
اجتماعی معاملے میں تمام کی آرا کو سامنے رکھا جائے۔ کیوں کہ جب ایک اجتماعی نظام میں سب کی حیثیت مساوی ہے تو سب کی اجتماعی رائے سامنے آنی چاہیے۔ اس کے لیے ہمیشہ اجتماعی فورم بنایا جاتا ہے۔ اُسے مجلسِ مشاورت کہیں یا آج جدید دور میں اُسے پارلیمنٹ یا سینٹ کہیں یا کوئی اَور، جو نام بھی رکھ لو، اصطلاح گھڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اصل معنویت ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی دائرۂ کار ہوتا ہے۔ رائے لینے کا عمل فراڈ اور دھوکے کی بنیاد پر نہ ہو۔ جب بامعنی مشاورت ہوجائے تو اس مشاورت کا لازمی نتیجہ یہ ہو کہ ایک ایسی اتھارٹی وجود میں آئے جو تمام آرا کو سم اپ کرکے سب کے اجتماعی مفاد کی ایک کلی رائے قائم کی جائے، اُس کی بنیاد پر ایک قانون، ایک ضابطہ، ایک طریقۂ کار وضع کریں کہ یہ حکم ہے، یہ فیصلہ اور عزم و ارادہ ہے۔ پھر اس کا نفاذکیا جائے‘‘۔
خود مختاری کی بنیاد پر آزادانہ فیصلوں کی اہمیت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ معاشرے کا اجتماعی نظام ’’رائے کلی‘‘ (اجتماعی مفاد) کی اَساس پر بننا چاہیے۔ یعنی ایسا قانون، ایسا ضابطہ، ایسی جامع اور نپی تلی رائے، جو اُس سوسائٹی میں بسنے والے، اُس قوم میں رہنے والے تمام افراد کی بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب‘ ضرورت کو پورا کرے۔ ان کے سیاسی، معاشی، اجتماعی اور سماجی مسائل حل کرے۔ اُن کی مشکلات کو دور کرے۔ رائے کلی کی بنیاد پر ایک متفقہ آئین اور دستور ہو، جو حقیقی مشاورت کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہو، نہ کہ کسی سامراجی نظام کی طرف سے آپ کے منہ میں لقمہ دیا گیا ہو۔ ایسا قانون نہ ہو کہ آپ کی پارلیمنٹ کو عالمی سامراجی مفادات کے مطابق بتایا گیا ہو، آئی ایم ایف کا دباؤ ہو، فیٹف یہ کہہ رہا ہے، اقوامِ متحدہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ قانون آپ نے اپنی پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہے۔ یہ تو ان کے مفادات کا قانون اور ضابطہ ہوگا، نہ یہ کہ کسی قومی مفاد کے تناظر میں وہ قانون سازی ہو گی۔
قانون سازی تو وہ ہوتی ہے، جو دراصل سوسائٹی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے قومی بامعنی مشاورت سے وجود میں آئے۔ جو باہر سے ہدایات پر آپ پر کوئی چیز مسلط کی جا رہی ہے، تو وہ جبر تو ہوسکتا ہے۔ آپ یہ کہیں گے کہ جی مجبور ہیں، ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، جیسے ہمارے منسٹر صاحب کہہ رہے ہیں جی کہ ’’آئی ایم ایف کے بغیر ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ قرضہ جو لیتے ہیں‘‘۔ تو قرضہ کیوں لیتے ہو؟ لوٹ مار تم کرتے ہو، ملک کی تباہی اور بربادی کے راستے تم نے اختیار کیے ہیں۔ اور قرضے لے کر پھر اُن کی ہدایات پر عمل کرتے ہو۔ یہ تو سامراجی طریقۂ کار ہے کہ قوموں کو پہلے قرضوں کے جال میں جکڑو، اور پھر اپنے قوانین مسلط کرواؤ، اور پھر جواز بتانے کے لیے یہ کہا جائے کہ ’’چوں کہ ایک بالادست فورم یہ کہہ رہا ہے‘‘۔ آپ کو زیادہ سے زیادہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ ہمارے مفاد کا قانون نہیں ہے۔ یہ ہمارے بازو مروڑ کر، پیچھے ہاتھ باندھ کر، دو چانٹیں مار کر ہم سے یہ قانون منظور کرایا گیا ہے۔ تو اس کو ظلم تو کہو۔ جبر تو کہو۔
دوسروں کی رائے اور دباؤ میں بنایا گیا قانون قومی قانون کیسے ہوگا؟ اس کا قومی نظام سے کیا تعلق؟ قومی ریاست سے کیا تعلق؟ اس کا ریاستِ مدینہ سے کیا تعلق ہے؟ کیا ریاستِ مدینہ‘ مکہ والوں سے قرضہ لے کر چل رہی تھی؟ جیسے افغانستان کے بارے میں کہتے ہیںکہ ہم نے فتح مکہ کی طرح فتح حاصل کرلی، جب کہ بھیک اُس سے مانگ رہے ہیں جو مفتوح ہے۔ اسلام کا قلعہ بنایا ہے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے کہتے ہیںکہ ہمیں اسلام نافذ کرنے کے لیے پیسے تم دو۔ جو عالمِ کفر ہے، جس نے خلافتِ اسلامیہ کا بارہ سو سالہ نظام توڑا۔ اُس سے کہتے ہیں کہ تمھارے دیے ہوئے قرضے سے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلامی امارتِ افغانستان چلانا چاہتے ہیں، تو اس سے بڑا دھوکا کوئی اَور ہوسکتا ہے؟ ایسی حکومت ریاستِ مدینہ کی حیثیت نہیں رکھتی‘‘۔
مسلمان قوم‘ قومی اُمنگوں کی پاسداری کرے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:’ ’‘طاعۃ و قول معروف ‘‘ (-47 محمد: 21) یعنی اگر تمھیں کامیابی حاصل کرنی ہے تو ’’طاعۃ‘‘: اللہ کے قانون کی اطاعت کرنے کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ اور ’’قول معروف‘‘: اس قانون کے مطابق ٹھیک اور صحیح بات کرنی ہوگی۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ طاعت اس کو کہتے ہیں کہ ہر وہ آدمی جو کسی نظریے پر ایمان رکھتا ہے، اس کے مطابق بنی ہوئی اپنی جماعت، قوم اور ریاست کے منظور کیے ہوئے قاعدوں، ضابطوں اور بنائے ہوئےSOP'sاور طریقۂ کار کی پابندی کرے۔ اس لیے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ہر مسلمان مؤمن پر سمع و طاعت لازمی ہے کہ جو قانون منظور ہوا، اس کے نفاذ کے لیے حکومت نے جو حکم نامہ جاری کیا، اس کو توجہ سے سنے اور اس کی ڈسپلن کے ساتھ اطاعت کرے۔ چاہے اُس کو ذاتی، گروہی یا انفرادی طور پر یا اپنے علاقائی طور پر وہ چیز پسند ہو یا نہ پسند ہو۔
قومیں بنتی ہی ڈسپلن سے ہیں کہ جو قانون اور ضابطہ جاری ہوگیا، اس کی پابندی کی جائے۔ شرط یہ ہے کہ وہ قانون اور ضابطہ قومی اُمنگوں کا آئینہ دار، ملّی تقاضوںکا نمائندہ اور اُس اجتماعی نظام کے تحت ہو، جس کی سوچ اور فکر غالب ہو۔ آج امریکا سرمایہ داری نظام پر ایمان رکھتا ہے، تو اس کا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام سرمائے کے گرد ہی گھومتا ہے۔ چین اور رُوس سوشلزم اور کیمونزم پر ایمان رکھتے ہیں تو اُن کی سیاسی اتھارٹی، معاشی اور معاشرتی نظام اسی کے مطابق ہے۔ اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کہاںکھڑے ہیں؟ کیا آپ کا ایمان سرمائے کی بالادستی پر ہے؟ کیا آپ کیمونسٹ ہیں؟ یا آپ کا ایمان دینِ اسلام کے مطابق ہے؟ آپ مسلمان ہیں تو آپ فرض ہے کہ آپ دین کی تعلیمات کے مطابق اپنا نظام تشکیل دیں۔
متحدہ ہندوستان میں آپ پر یہ اجتماعی فرائض نہیں تھے کہ آپ اپنا انتظامی ڈھانچہ اسلام کے اُصولوں پر بنائیں۔ آپ سیاسی نظام اسلام کا بنائیں۔ آپ پر لازمی اور فرض نہیں ہوا تھا کہ آپ اپنی پارلیمنٹ، اپنی بیوروکریسی، اپنی عدالت کو اسلامی اُصولوں پر بنائیں۔ وہ انگریزوں کا چل رہا تھا، چلتا رہتا۔ آپ نے کہا کہ ہم نے ریاست بنانی ہے۔ ہم نے اسلام کی حکومت قائم کرنی ہے۔ مسلمانوں کا ایک اجتماعی نظام بنانا ہے۔ اور جب پاکستان بنا اور ننانوے فی صد مسلمان یہاں جمع ہوگئے تو اب دینی اُصولوں پر ریاست چلانا آپ پر فرض ہوگیا۔ وہ ریاست جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیمات اور دین کی تعلیمات کی اَساس پر کردار ادا کرے۔ اب وہ احکامات نافذ العمل ہوں گے، جو نبی اکرمؐ نے بیان فرمائے۔ آپ نے اسلام کے نام پر ریاست بنائی ہے تو یہاں آزادیٔ رائے بھی اسلام کی تعلیمات کے مطابق بائیس کروڑ لوگوں کو دینی ہوگی، بامعنیٰ مشاورت بھی کرنی ہوگی، اس مشاورت کی اساس پر قانون اور آئین بھی بنانا ہوگا۔ اور پھر اس کا نفاذ بھی کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو محض نیک خواہشات سے کبھی کامیابی اور ترقی نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے دوران کابل میں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کی قائم کی گئی حکومتِ موقتۂ ہند کی موجودگی اور پنجاب اور بنگال میں جاری تحریکوں کی وجہ سے برطانیہ کی جانب سے 1918ء میں سڈنی رولٹ نامی انگریز جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم ہوئی۔ اس کا کام ہندوستان میں جاری تحریکوں کے دیگر ممالک سے روابط کا جائزہ لینا تھا۔رولٹ کمیٹی نے بہت تفصیل سے تحریکِ حضرت شیخ الہندؒ پر روشنی ڈالی ہے۔ اگرچہ انگریز اس تحریک کے تمام گوشوں سے واقف تو نہ ہوسکے، لیکن جیسے جیسے اُن کو معلومات ملتی گئیں، ویسے ویسے ان کے پائوں لرزتے گئے۔ کمیٹی کی تجاویز پر رولٹ ایکٹ (جسے کالا قانون کہا گیا) 18؍ مارچ 1919ء کو منظور ہوا، جو 1915ء والے ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کی وسیع تر شکل تھی۔ اس سے شہری آزادی مزید محدود ہوگئی۔ آزادیٔ رائے اور اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی۔ اس قانون کے خلاف ملک گیر تحریکات کا آغاز ہوا۔ امرتسر (پنجاب) میں جن رہنمائوں نے قائدانہ کردار ادا کیا، ان میں سرِفہرست ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ کا نام نمایاں ہے۔
ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ 15؍ جنوری 1888ء کو فرید کوٹ میں عزیز الدین کچلو کشمیری کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر ہی میں حاصل کی۔ مزید تعلیم کے حصول کے لیے کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوئے، جہاں سے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ برلن (جرمن) سے فلسفے میںپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1919ء میں وطن واپس آکر وکالت کے پیشے سے منسلک ہوگئے۔ اسی سال میونسپل کمشنر امرتسر متعین ہوئے۔ یہ وہ دور تھا، جب پورے ملک میں آزادی پسند متحرک تھے اور خاص طور پر تحریکِ ریشمی رومال، تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدمِ اعتماد زوروں پر تھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی تحریکِ خلافت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اپنی سیاسی زندگی کا آغاز خلافت کمیٹی سے کیا۔ اس دوران وکالت پر خاص توجہ نہ رہی تو اس پیشے کو خیر باد کہہ دیا۔
موصوف اپنے ایک قریبی دوست ڈاکٹر ستیہ پال کے ساتھ مل کر رولٹ ایکٹ کی خلاف تحریک میں شامل ہوئے۔ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے ملک کے بہت سے شہروں کے دورے کیے۔ 30؍ مارچ 1919ء کو امرتسر میں 35 ہزار لوگوں کے مجمع سے ڈاکٹر صاحبؒ نے خطاب کرکے اس تحریک کو مزید تیز کردیا۔ 6؍ اپریل تک یہ تعداد 50 ہزار تک جا پہنچی۔ اپنی بات کو عام و خاص تک پہنچانے کا آپؒ کو ایک خاص ملکہ تھا۔ شعلہ بیاں مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مؤقف پر علمی حوالے سے بھی گہری دسترس بھی رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ آپؒ کی باتوں کا اثر لیتے اور بہت جلد علمی اور عملی میدان میں کردار ادا کرنے کے لیے آپؒ کے شانہ بہ شانہ ہوجاتے تھے۔ جس کی پاداش میں ان دونوں دوستوں کو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ 10؍ اپریل 1919ء کو قید کرلیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 13؍ اپریل 1919ء کو جلیانوالہ باغ کا خونیں حادثہ پیش آیا، جوکہ آج بھی انگریز سامراج کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کا مصداق ہے۔ موصوفؒ کا یہ امتیاز بھی ہے کہ انھوں نے اپنی پوری دولت تحریکاتِ آزادی میں خرچ کردی تھی۔ ان کا شمار 1920ء میں حضرت شیخ الہندؒ کی سرپرستی میں قائم ہونے والی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے بانی اراکین میں بھی ہوتا ہے۔
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع ’’خالق دینا ہال‘‘ میں حکومتِ برطانیہ نے مؤرخہ 26؍ دسمبر 1921ء کو مولانا محمد علی جوہرؒ اور ان کے بھائی مولانا شوکت علیؒ، مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مولانا نثار احمد کانپوریؒ، پیر غلام مجدد سرہندی ؒاور سوامی شنکر اچاریہ پر بغاوت کا تاریخی مقدمہ چلایا تھا اور انھیں دو دو سال کی سزا سنائی گئی۔ انھیں رہنمائوں میں ایک نام ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ کا بھی ہے۔
موصوفؒ کو پنجاب کانگریس کمیٹی کے پہلے صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ بعد میں دہلی کانگریس کمیٹی کی صدارت پر بھی فائز کیے گئے۔ 1924ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدمِ اعتماد میں عملی کردار ادا کرنے کی پاداش میں برطانوی حکومت نے انھیں گرفتار کیا۔
ہندوستان کی کامل آزادی کے لیے کی جانے والی اہم کاوشوں میں ایک کاوش امرتسر میں ہندوستان بھر کی آل پارٹیز کانفرنس بلانا تھا۔ 1925ء میں بلائی گئی اس کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب موصوفؒ مجلسِ استقبالیہ کے صدر تھے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد وطنِ عزیز کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا تھا۔ مزید برآں پرنٹ میڈیا کے ذریعے اپنے آزادی پسندی کے مؤقف کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لیے آپؒ نے امرتسر سے ’’تنظیم‘‘ نامی ایک اُردو روزنامے کا بھی اجرا کیا۔ اس روزنامے نے تحریک میں تیزی پیدا کی۔
1926ء میں نوجوانان بھارت سبھا قائم ہوئی تو موصوفؒ کا شمار اس کے بانی اراکین میں کیا جاتا ہے۔ 1930ء اور 1934ء کے دوران بھی کئی بار قید ِسلاسل میں رہے۔
ایک مرتبہ حکومتِ برطانیہ نے ’’مجلسِ احرارِ اسلام‘‘ کے رہنماؤں؛ مولانا ظفر علی خانؒ،شیخ حسام الدینؒ،سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ، اورمولانا سیّد محمدداؤد غزنویؒ کو ایک ہی وقت گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا تھا۔
ملک کی آزادی کے بعد ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ نے ہندوستان میں ہی قیام پذیر رہے۔ انھوں نے عالمی امن کمیٹی کے انعقاد میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ ا س کمیٹی کی صدارت کے لیے بھی آپؒ کو ہی منتخب کیا گیا۔ انھوں نے اس خطے میں امن و امان کے لیے بھی بڑی خدمات سرانجام دیں۔ انھی خدمات کے صلے میں موصوفؒ کو 1952ء میں ’’لینن امن ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒکا انتقال 9؍ اکتوبر1963ء کو دہلی میں ہوا۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے قبرستان میں آسودئہ خاک ہیں۔
End of issue
Back
