تعلیماتِ انبیاؑ قوموں کو زندہ اور عقل مند بنا دیتی ہیں

وَإِذ قَتَلتُم نَفسًا فَادّارَأتُم فيها ۖ وَاللَّهُ مُخرِجٌ ما كُنتُم تَكتُمونَ. فَقُلنَا اضرِبوهُ بِبَعضِها ۚ كَذٰلِكَ يُحيِي اللَّهُ المَوتىٰ وَيُريكُم آياتِهِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ (-2 البقرہ: 73-72)
(اور جب مار ڈالا تھا تم نے ایک شخص کو، پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے، اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو تم چھپاتے تھے۔ پھر ہم نے کہا: مارو اس مُردہ پر اس گائے کا ایک ٹکڑا۔ اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مُردوں کو۔ اور دکھاتا ہے تم کو اپنی قدرت کے نمونے، تاکہ تم غور کرو۔)
گزشتہ آیات میں واضح کیا گیا کہ گائے کے ذبیحے سے متعلق بنی اسرائیل کے سوالات کے صحیح جوابات کے نتیجے میں وہ اجتماعی طور پر گائے ذبح کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ انھوں نے اللہ کے حکم کی پوری اطاعت کا مظاہرہ کیا تو اُن کے قلوب میں تجلیٔ الٰہی کے مثالی نور سے مناسبت پیدا ہوگئی۔ مظاہرِ قدرت؛ سورج، چاند، ستارے اور گائے جیسے جانوروں سے تعلق منقطع ہو کر ملائِ اعلیٰ کے ساتھ ایک خاص تعلق پیدا ہوگیا۔ اُن کے اہل اور صاحبِ استعداد لوگوں میں تورات کے احکامات کو صحیح تناظر میں سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی۔ وہ جو گائے کے ذبح کو مذاق سمجھ رہے تھے، اُس پر صدقِ دل سے ایمان لے آئے اور انھوں نے آئندہ احکامِ الٰہی کے مطابق اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا عزم کرلیا تھا۔
اب ان آیات میں انسانی جان اور مال کے احترام کے حوالے سے اپنے اجتماعی جھگڑے نمٹانے سے متعلق قتل کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ بیان کیا جا رہا ہے۔
وَإِذ قَتَلتُم نَفسًا فَادّارَأتُم فيها ۖ : بنی اسرائیل میں ایک آدمی قتل ہوگیا تھا۔ اُس کی کوئی اولاد نہیں تھی اور وہ بہت زیادہ مال کا مالک تھا۔ اُس کا چچازاد بھائی اُس کا وارث بنتا تھا۔ اُس نے مال حاصل کرنے کے لالچ میں اُس آدمی کو قتل کردیا۔ پھر رات کے وقت اُس کی لاش اُٹھا کر کسی دوسرے آدمی کے دروازے کے سامنے رکھ دی۔ صبح کو قاتل نے وارث کی حیثیت سے اُس آدمی کے خلاف قتل کا اِلزام لگا دیا۔ اُس نے اس کا انکار کرتے ہوئے اس قاتل پر قتل کا الزام عائد کیا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے دونوں طرف کے فرقے آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا اِلزام لگانے لگے۔
وَاللَّهُ مُخرِجٌ ما كُنتُم تَكتُمونَ : انسانی جان کے قتل اور مالی لالچ کی اصل حقیقت کو وہ لوگ چھپا رہے تھے۔ اصل قاتل اور لالچی انسان کو بچانے کے لیے حربے استعمال کر رہے تھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ انسانی جان کے احترام اور مال کی حفاظت کے لیے عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو اور مال کے لالچ کی وجہ سے انسانی قتل کیا گیا تھا، اُسے کھول کر سب کے سامنے بیان کردیا جائے۔ اس موقع پر سمجھ دار لوگوں نے کہا کہ تم آپس میں کیوں لڑتے جھگڑتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام ہمارے درمیان موجود ہیں، ان سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔
فَقُلنَا اضرِبوهُ بِبَعضِها ۚ : اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے یہ ہدایت دی کہ ذبح کی ہوئی گائے کے گوشت کو مقتول کے جسم کے ساتھ لگاؤ تو یہ اپنا قاتل خود بتا دے گا۔ جیسے ہی انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کے مطابق گائے کا گوشت مقتول کے جسم کی ران یا دونوں کندھوں کے درمیان ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ لگایا تو وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ تمھارا قاتل کون ہے؟ تو اُس نے بتلایا کہ مجھے میرے چچازاد بھائی نے قتل کیا ہے۔ اور پھر فوراً ہی دوبارہ فوت ہوگیا۔ اللہ کے حکم کے مطابق گائے ذبح کرنے کی برکت سے اُس گائے کے گوشت میں ایسا مثالی نور ظاہر ہوا کہ جس کے نتیجے میں مقتول کے جسم میں زندگی پیدا ہوئی اور اس نے بنی اسرائیل میں اجتماعی اجتماعی جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے حیاتِ نو پیدا کردی۔
كَذٰلِكَ يُحيِي اللَّهُ المَوتىٰ : بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ مُردوں کو زندہ کرتا ہے۔
اس واقعے کے ضمن میں کئی حقیقتیں واضح کردی گئیں۔ ایک تو یہ کہ مرنے کے بعد زندہ ہونے کی حقیقت سمجھا دی گئی۔ آج اگر مقتول کے جسم میں اُس کی روح ڈال کر جرم کی حقیقت واضح کی گئی ہے، ایسے ہی آخرت میں اللہ تبارک و تعالیٰ مُردہ انسانوں میں روح ڈال کر زندہ کرے گا اور لوگوں کے جرائم خود انھیں کی زبانی یا اُن کے اعضا کی زبانی سامنے آجائیں گے۔ اسی طرح یہ حقیقت بھی واضح کی گئی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات سے پہلے بنی اسرائیل ایک مُردہ قوم کی حیثیت رکھتی تھی، ان کی تعلیم و تربیت سے دوبارہ اُن میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے اور وہ ایک طاقت ور مستحکم قوم کی حیثیت سے دُنیا بھر میں زندہ دلی کے ساتھ کردار ادا کرنے کے قابل ہوگئی۔
وَيُريكُم آياتِهِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ : اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور تجلیات کے ذریعے تعلیم و تربیت کا ایسا طریقۂ کار بنی اسرائیل کو دکھایا تھا کہ جس کے ذریعے سے وہ اللہ کی رحمت کی مدد حاصل کرکے عقل مند اور باشعور بنیں۔ اللہ کی رحمت اُس وقت نازل ہوتی ہے کہ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر اللہ کے احکامات کی اطاعت پر ایک واحد جسم کی صورت کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہو۔ ان میں اجتماعی طور پر فکر و نظریے کی وحدت اور بھرپور عملی سیاسی و معاشی قوت موجود ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی تعلیمات کے ذریعے سے اُن کو سیاسی اور معاشی قوت حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے فکر کی بلندی اور علمی وحدت کے لیے انبیا علیہم السلام بھیجے۔ اور سیاسی اور معاشی قوت کے لیے اُن میں بادشاہ اور حکمران پیدا کیے۔ جس قوم میں اس طرح کی فکری وحدت اور عملی قوت نہ ہو، تو وہ کیسے انسانی معاشروں کو انسانی ترقی کے قوانین کے مطابق کامیاب کرسکتے ہیں۔ بنی اسرائیل سے کہاجا رہا ہے کہ آج تم ایسی اعلیٰ صلاحیت سے محروم ہوچکے ہو۔ اس لیے تم بین الاقوامی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ تم نے موسوی تعلیمات سے فیض یاب ہونے کے باوجود اُس کی پورے طور پر قدر نہیںکی۔ اور آج آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے اور مالی لالچ ایسے جرائم میں مبتلا ہو اور غضب ِالٰہی کے مستحق بن چکے ہو۔ جیسا کہ اس کا بیان اگلی آیات میں آرہا ہے۔
روزے اور قرآن کی بندے کے حق میں سفارش

عَنْ عبد اللّٰہ ابن عمرؓ أنّ رسول اللّٰہ ﷺ قال: ’’الصّیامُ والقرآن یُشَفِّعان یوم القیامۃ للعبد۔ یقول الصّیام: أی ربِّ! منعتُہ الطّعام والشّہوۃ، فشَفِّعْنی فیہ، و یقول القرآن: منعتُہ النّومَ باللّیل فشَفِّعْنی فیہ‘‘، قال: ’’فَیُشَفَّعان لہ‘‘۔(مشکوۃ 171/1)
(حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن بندے کے حق میں خود روزہ اور قرآن سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے اس کو کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے روکے رکھا۔ اس بندے کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ پھر اللہ کے در بار میں قرآن عرض کرے گا: اے اللہ! میں نے اس کو راتوں میں سونے سے روکے رکھا۔ اس بندے کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا: ’’ان کی سفارش بندے کے حق میں قبول ہے‘‘۔)
زیرِنظر حدیث کی رُو سے قرآن حکیم کی تلاوت کرنا اور اُس سے دلی لگائو رکھنا اور رَمضان کے مہینے میں روزے رکھنا اس قدر قیمتی اعمال اور انسان کے لیے باعث عِز و شرف ہیں کہ مؤمن کے گناہوں کی معافی اور اللہ کی رضا کے حصول کا باعث بن سکتے ہیں۔ رمضان المبارک میں رکھے گئے روزے اور اس کی راتوں کو کی گئی قرآن کی تلاوت یا اس کا سُننا اللہ کو بہت پسند اور نہایت مبارک عمل ہے۔ رمضان کے روزوں سے انسان کے اندر سے نفسانی خواہشات اور حیوانی تقاضوں میں کمی آتی ہے۔ روح پاکیزہ اور صاف ستھری ہوجاتی ہے، جب کہ قرآن حکیم کی تلاوت سے انسان کا وجود آیاتِ الٰہیہ کے نور سے منور ہوجاتا ہے۔ ا س طرح اللہ تبارک و تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔
یہ دونوں اعمال بندے کے حق میں اللہ کے رُو بہ رُو روز ِقیامت سفارش کریں گے۔ روزہ پروردگار کے حضور کہے گا کہ: اے اللہ! میں نے اسے کھانے پینے سے روکا اور بھوکا پیاسا رہنے پر مجبور کیا۔ اس کے اس عمل کو قبول کرکے آپ اس بندے کی لغزشوں کو معاف فرما دیں۔ قرآن پروردگار کے حضور التجا کرے گا کہ: میں نے اس کو رمضان کی راتوں میں اپنے ساتھ مشغول رکھا، اس کو تھکایا اور سونے نہ دیا۔ اے ربّ! اس کے اس مبارک عمل پر میری سفارش قبول کر اور اسے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لے۔ پروردگار کمال مہربانی سے بندے کے حق میں ان دونوں کی سفارش قبول کرلیں گے۔
قرآن و سنت میں اعمالِ صالحہ پر ایسے گراں قدر اجر کے وعدے اس امر کے ساتھ مشروط ہیں کہ ان اعمال کو ان کے تمام تقاضوں اور آداب کے ساتھ ادا کیا گیا ہو۔ جب بندہ کسی عبادت کو اس کی رُوح کے مطابق ادا کرنے کی بساط بھر کوشش کرتا ہے تو بشری کوتاہیوں، کمزوریوں اور صغیرہ گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنی شانِ کریمی سے درگزر فرما کر شرفِ قبولیت سے نواز دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ دونوں اعمال ہمیں یکسوئی سے ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ ہمیں اس قابل بنائے کہ رمضان اور قرآن روز ِقیامت اللہ کے رُو بہ رُو ہماری سفارش کریں۔
حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہٗ (1)

حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہٗ مشہور صحابیٔ رسول ہیں۔ آپؓکا تعلق ملک شام کے ایک قبیلہ لخم سے تھا۔ آپؓ کی ساتویں پشت پر آپؓ کے جد ِامجد کا نام ’’الدار‘‘ تھا۔ انھیں کی طرف نسبت کی وجہ سے آپؓ کو ’’الداری‘‘ کہا جاتا ہے۔ (اصابہ183/1)
آپؓ جِنّوں کی دعوت پر اسلام کی طرف متوجہ ہوئے۔ مقام حجون پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے والے ایک جن نے آپؓ کو بتایا کہ: ’’اب جنوں کے مکر وفریب کا دور گزر گیا۔ محمد ﷺ ربّ العالمین کے رسول ہیں، آپ ان کے پاس جائیں اور مسلمان ہو جائیں‘‘۔ ایمان لانے سے پہلے حضرت تمیمؓ ایک عیسائی عالم تھے۔۹ہجری میں آپؓ دس افراد پر مشتمل اپنے خاندانی وفد کے ساتھ اپنے بھائی نعیم کو لے کر حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپؓ نے مدینہ منورہ میں مستقل سکونت اختیار کی اور مسلمان ہونے کے بعد تمام غزوات میں شریک رہے۔
اسلام لانے کے بعد حضرت تمیمؓ کو قرآن حکیم سے بے پناہ شغف پیدا ہوگیا اور آپؓ نے قرآنی علوم و معارف سے کامل واقفیت پیدا کی۔ محمد بن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ: ’’چار آدمیوں نے حضور ﷺ کے عہد ِمبارک میں قرآن پاک جمع کرلیا تھا: ’’اُبیٔ بن کعب، عثمان، زید اور تمیم داری رضی اللہ عنہم‘‘۔ (سیراعلام النبلاء، 48/4) ’’جمع کرنے‘‘ سے مراد غالباً لکھ کر محفوظ کرلینا ہے۔
معروف تاریخ دان ابن اثیرؒ لکھتے ہیں کہ: ’’حضرت تمیم داریؓ جب شام سے مدینہ آئے تو اپنے ساتھ قندیلیں اور تیل لائے تھے۔ آپؓ نے قندیلوں کو مسجد ِنبویؐ میں لٹکایا، جن سے مسجد میں رات کو روشنی ہوجاتی تھی۔ اس سے پہلے مسجد میں روشنی نہیں ہوتی تھی ۔ یہ سنتِ حسنہ سب سے پہلے آپؓ نے ہی جاری کی۔ جب حضور ﷺ تشریف لائے تو مسجد روشن دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ یہ اہتمام کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے حضرت تمیم داریؓ کا نام لیا تو حضور ﷺ نے آپؓ کو بہت دعائیں دیں اور فرمایا: ’’اگر میری کوئی بیٹی ہوتی تو میں ان سے نکاح کردیتا‘‘۔ اتفاق سے اسی وقت حضرت نوفل بن حارثؓ موجود تھے۔ انھوں نے اپنی بیوہ بیٹی ام المغیرہ کا نکاح اسی مجلس میں حضرت تمیم داریؓ سے کردیا۔ ان سے آپؓ کی صرف ایک بیٹی رُقیہ پیدا ہوئیں، جن کی وجہ سے آپؓ کی کنیت ’’ابورُقیہ‘‘ پڑی۔ آپؓ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔
حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ: ’’حضرت عمرؓ نے حضرت اُبیٔ بن کعب کو مردوں پر اور حضرت تمیم داریؓ کو عورتوں پر نمازِ تراویح کا امام مقرر کیا‘‘۔ ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمرؓ حضرت تمیم داریؓ کو کبھی عورتوں کی نماز تراویح کا امام بنا دیتے تھے‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی ان کے اوقات کی مناسبت سے جمع کرکے نمازِ تراویح میں ایک امام کے پیچھے نماز کا باپردہ اہتمام عہد ِخلافتِ راشدہ میں موجود تھا ۔
جمہوری تماشے میں سرمایہ داری نظام کے حربے!

گزشتہ ماہ ملکی سیاسی صورتِ حال میں ’’تحریکِ عدمِ اعتماد‘‘ سرِفہرست رہی ہے، جس کے ہمارے ہاں ذرائع اَبلاغ پر ہر چہار سُو چرچے رہے ہیں۔ اس پر سیاست و صحافت سے وابستہ شخصیات دانش کے دریا بہاتی رہی ہیں، اس سے قوم ایک عجیب وغریب ذہنی مخمصے سے دوچار ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے تحریکِ عدمِ اعتماد کا ڈول لیے اپوزیشن جماعتوں نے پورا پاکستان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ مارچ کا پورا مہینہ تو قوم سارے کام چھوڑچھاڑ اس اونٹ پر نظریں جمائے بیٹھی رہی کہ یہ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ میڈیا اور اہلِ صحافت کی بھی چاندی ہوئی کہ انھیں کوئی ایسا کام ملا، جس سے ان کے ٹاک شوز کی رونقیں لوٹ آئیں۔ تحریکِ عدمِ اعتماد کا اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے، بلکہ جس وقت یہ تحریر آپ پڑھ رہے ہوں گے، اس وقت تک یہ اونٹ ضرور کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہوگا، مگر اس سے اس نظام کے اونٹ کی کوئی بھی کَل سیدھی ہونے والی نہیں ہے، جیسے کہ اُردو کا محاورہ ہے: ’’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کَل سیدھی‘‘۔
ایسے ہی اس نظام کے کوئی بھی کَل پُرزے سیدھے نہیں ہیں۔ یہ نظام اپنی فکر اور ڈھانچے میں ایک معمہ اور چیستان ہے، جو سادہ لوح عوام کو صدیوں سے خوب صورت دعوؤں اور سلوگن سے لوٹ رہا ہے۔ ایسی دور اَزکار بحثوں کے ماحول میں جہاں عقل و شعور کی بات کرنا مشکل ضرور ہے، لیکن ہم اپنے ان نوجوانوں سے مایوس نہیں، بلکہ پُراُمید ہیں جو اس کھیل میں ناسمجھی سے کسی نہ کسی پچ پرپورے خلوص کے ساتھ اس اُمید سے ڈٹے کھڑے ہیں کہ شاید یہ قوم کی کایا کلپ کا آخری اور سنہری موقع ہے۔ ان کے سامنے اس نظام کے حقیقی چہرے کو سمجھنے کی غرض سے چند گزارشات پیش ہیں:
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال نے کوئی پہلی بار ایسی کروٹ نہیں لی۔ ایسی صورتِ حال کئی بار آچکی ہے، جب اپنے دور کے میڈیا کو یہ خبر جمانی پڑی کہ بعض ’’اتحادی‘‘ حکومتی گھونسلا چھوڑ کر اپوزیشن کے پیڑ کی شاخوں پر جابیٹھے ہیں اور باقی بھی پرواز بھرنے کو تیار ہیں۔ اس میں کچھ بھی نیا نہیں لگتا۔ یہ وہی کردار ہیں، جو چھانگا مانگا اور مری کی تاریخ کو دُہرا رہے ہیں۔ جس میں کہیں پیسے کی چمک دکھائی دے رہی ہے توکہیں نئے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ کا لالچ دیا جارہا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے جمہوری تماشے میں ایسی کمزور حکومتیں قائم کرنا، جو اتحادیوں کے رحم وکرم پر ہوں، اس نظام کا اپنا حربہ ہے۔ وہ اپنے الیکشن کے نظام میں آزادانہ حیثیت میں الیکشن لڑنے کا جواز فراہم کرکے چند آزاد اُمیدواروں کی شکل میں تُرپ کے چند پتے اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے، تاکہ بہ وقتِ ضرورت جہاں جمہوری ناٹک کے ذریعے قائم حکومت کو اس کی حیثیت یاد دلائی جاسکے، وہیں اپوزیشن میں بیٹھی جماعتوں کی اقتدار کے لیے رال بھی ٹپکائی جاسکے۔ ورنہ ساڑھے تین سال گزاردینے والی حکومت جو خود اپنی پالیسیوں اور ناقص کارکردگی کے باعث بڑی تیزی سے عوام میں اپنا اعتماد کھورہی ہے، اسے گر اکر ڈیڑھ سال میں کون سی دودھ شہد کی نہریں بہائی جاسکتی ہیں اور وہ بھی ان اپوزیشن جماعتوں کے ذریعے، جو اس سب کیے دھرے کی ذمہ دار ہیں۔
یہ بھی اس نظام کا ایک حربہ ہے کہ وہ عوام میں غیر مقبول ہوتے ہوئے اپنے مہروں کو تحریکوں کے ذریعے نئی زندگی دیتا ہے، جیساکہ موجودہ صورتِ حال میں عوام میں نامقبول ہوتی ہوئی حکومتی پارٹی اس عدمِ اعتماد کا شکار ہونے یا بچ نکلنے دونوں صورتوں میں عوام میں کھوئی ہوئی اپنی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ بہتر تو تھا کہ وہ اپنا دورِ حکومت (tenure) پور ا کرکے عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی اور اس کے دعوؤں اور کارکردگی کے حوالے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا، مگر یہ سب کچھ اس نظام اور اس کی محافظ قوتوں کے وارے میں نہیں آتا۔
ایسی صورتِ حال میں امید کے کسی نئے چراغ کو روشنی کی کرن سمجھنامحض سراب سے دھوکا کھانے کے مترادف ہوتا ہے۔ پارٹیاں اپنے اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے خطابت کے نئے ریکارڈ ضرور قائم کرتی ہیں، ورنہ یہ پاور پالیٹکس ہوتی ہے، جو صرف نمبروں پر کھیلی جارہی ہوتی ہے۔ اس میں نظام کا کچھ بھی بدلنے نہیں جارہا ہوتا اور نہ ہی کسی قسم کے اُصولوں کی پاسداری مقصود ہوتی ہے، بلکہ سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی حقیقت ان کی زبان سے جاری بیانات سے ٹپک رہی ہوتی ہے۔ تہذیب اور شائستگی سے عاری گفتگو سے اس نظامِ سیاست کے بے نقاب چہرے کو اچھی طرح سے دیکھا جاسکتا ہے۔ قومی سطح کی جماعتوں کے لیڈروں کا ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنا اور نام بگاڑنا اس سنگین صورتِ حال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جدید جمہوری طرز ِحکومت سے پہلے انتقالِ اقتدار میں جنگی صلاحیتوں کا عمل دخل زیادہ ہوتا تھا۔ ایک طاقت جب پہلی طاقت کی جگہ لیتی تھی تو وہ پہلی حکومت میں شریک افراد کے خون سے ہاتھ رنگین کیے بغیر اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنا خطرے سے خالی نہیں سمجھتی تھی، جب تک کہ وہ اپنے سب مخالفین کو ٹھکانے نہ لگادے۔ ووٹ کے ذریعے پُراَمن طریقے سے حکومتیں بدلنے کے اس طریقے سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے سرمایہ داری نظام نے ممبروں کی خریدوفروخت سے نمبر گیم کا ایک ایسا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے، جس میں نہ صرف جمہوریت کی روح گھائل ہوتی ہے، بلکہ انسانیت کی مسلمہ اَقدار کا جنازہ بھی نکال دیا گیا ہے۔ووٹ کے ذریعے پُر اَمن انتقالِ اقتدار کے باعث جہاں انسانی شعور نے انسانی جانوں کو تلف ہونے سے بچانے کا راستہ بنایا تھا، وہیں سے سرمائے کے پجاریوں نے ایمان، ضمیر اور صداقت کو موت کے گھاٹ اُتارنے کا بندوبست کردیا ہے، جو انسانیت کا بہت بڑا نقصان ہے۔ یہ بے رحم سرمایہ دارانہ نظام کی انسانی ذہن کی مثبت ترقی کو منفی ہتھکنڈے فراہم کرنے کی ایک مثال ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں گاہ بہ گاہ ایسی تحریکوں کے وقتی اُبال میں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں صَرف کرنے سے پہلے اس کی فکر، ڈھانچے اور حربوں پر غوروفکر کرنا چاہیے۔ اس کے بعد تبدیلی کی کوئی ٹھوس راہ لی جائے، جس کے نتیجے میں اس نظام کے جبر سے قومی آزادی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکے۔ ( مدیر)
چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار (3)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’(اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے مسنون ذکر و اذکار کی اہمیت پر چھٹی حدیث:)
(6) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’کیا میں تمھارے اعمال میں سے تمھارا سب سے بہتر عمل نہ بتلاؤں؟ وہ تمھارے بادشاہ(ربّ تبارک و تعالیٰ) کے نزدیک سب سے پاکیزہ عمل ہے۔ اور وہ اُن میں سے تمھارے لیے سب سے اونچے درجے والا عمل ہے۔ وہ عمل تمھارے لیے سونے اور چاندی کے خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ وہ عمل تمھارے اپنے دشمنوں سے لڑنے سے بھی بہتر ہے کہ تم اُن کی گردنیں مارو اور وہ تمھاری گردنیں ماریں‘‘۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ہاں ضرور بتلائیے!آپ ﷺنے فرمایا: ’’اللہ کا ذکر کرنا‘‘۔ (ترمذی، مشکوٰۃ، حدیث: 2269)
میں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ اعمال کی افضلیت مختلف اعتبار سے ہوتی ہے۔ انسانی نفس کی عالمِ جبروت کی طرف توجہ کرنے کے اعتبار سے ذکر اللہ سے بڑھ کر کوئی اَور عمل افضل نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے پاکیزہ نفوسِ قدسیہ جنھیں زیادہ ریاضتوں اور مشقتوں کی ضرورت نہیں ہوتی، انھیں ہمیشہ صرف اللہ کی طرف متوجہ رہنا ہوتا ہے۔
(7) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جو آدمی کسی جگہ بیٹھا اور اُس جگہ پر اُس نے اللہ کا ذکر نہ کیا تو اللہ کے حوالے سے وہ جگہ اُس کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ اور جو آدمی اپنے بستر پر لیٹا اور اُس میں اُس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تو یہ بھی اللہ کی جناب کے حوالے سے بندے کے لیے بڑے نقصان کی بات ہے‘‘۔ (ابوداؤد، مشکوٰۃ، حدیث: 2272)
(8) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی قوم کسی ایسی مجلس سے نہیں اُٹھتی کہ جس میں انھوں نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو تو وہ ایسے اُٹھے، جیساکہ گدھے کا مردار جسم ہے۔ اور وہ مجلس اُن کے لیے باعثِ حسرت اور ندامت ہوگی‘‘۔ (ابوداؤد، مشکوٰۃ، حدیث: 2273)
(9) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کے ذکر کے بغیر کثرت سے گفتگو نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ ذکر اللہ کے بغیر کثرت سے کلام کرنا‘ دل کو سخت بنا دیتا ہے۔ اور وہ فرد اللہ سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے، جس کا دل سخت ہے‘‘۔ (ترمذی، مشکوٰۃ: 2276)
میں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ جو آدمی ذکر کی مٹھاس پا لیتا ہے، اور یہ جان لیتا ہے کہ کیسے اللہ کے ذکر سے اُسے اطمینان حاصل ہوگا، اور کیسے ذکر کرنے سے اُس کے دل پر سے حجابات اور پردے دُور ہوں گے۔ یہاں تک کہ اُس نے گویا کہ اللہ کو دیکھ لیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ جب ایسا آدمی دُنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور بیوی بچوں اور ساز و سامان میںاُلجھ جاتا ہے تو یہ چیزیں اُسے اللہ کا ذکر بھلا دیتی ہیں۔ اور جو اُس نے ذکر سے لذت اور حلاوت پائی تھی، وہ ختم ہوجاتی ہے۔ اور جو اُس نے مشاہدۂ باری تعالیٰ کیا تھا، اُس راستے میں پردے حائل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کی غفلت اور خصلت انسان کو جہنم اور ہر شر کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ تمام چیزیں اُس کے لیے بڑے نقصان کا باعث ہیں۔ اس طرح کے کئی نقصانات جمع ہوجائیں تو پھر اُس سے نجات کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس طرح کے تمام نقصانات کا پورا پورا علاج فرمایا ہے۔ اس طرح پر کہ آپؐ نے انسانی زندگی کی ہر حالت کے بارے میں ایک مناسب ذکر شرعی طور پر بیان کیا ہے، تاکہ وہ غفلت کے زہر کو دُور کرنے میں تریاق ثابت ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے ان اذکار کے فائدوں پر متنبہ کیا ہے اور ان اذکار کے بغیر لاحق ہونے والے نقصانات کی وضاحت بیان فرمائی ہے۔
(حضور ﷺ کے بیان کردہ دس مسنون اذکار)
جاننا چاہیے کہ ذکر اللہ کے الفاظ مقرر کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی، تاکہ کوئی آدمی اپنی ناقص عقل سے ذکر کے خود ساختہ الفاظ مقرر کرنے کی غلطی سے محفوظ رہے۔ ورنہ تو وہ اللہ کے ناموں میں اِلحاد کا مرتکب ہوگا، یا اللہ تبارک و تعالیٰ کے بلند مقام کو پورا حق نہیں دے سکے گا۔ اس سلسلے میں سب سے بہترین اور عمدہ اذکار وہ ہیں، جو نبی اکرم ﷺ نے سنت قرار دیے ہیں۔ یہ اذکار دس ہیں۔ ان میں سے ہر ایک ذکر میں ایک خاص راز، مصلحت او رفائدہ ہے، جو دوسرے ذکر میں نہیںہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے ہر ایک موقع کی مناسبت سے یہ مسنون اذکار بیان کیے ہیں، تاکہ ان اذکار کے تمام رنگ ایک انسان میں جمع ہوجائیں۔
یہ بات بھی ہے کہ صرف ایک ہی ذکر پر ٹھہرے رہنا اُسے عام انسانوں کے حق میں صرف زبانی لقلقہ بنا کر رکھ دیتا ہے، جب کہ ایک ذکر سے دوسرے ذکر کی طرف سے متوجہ ہونے سے انسانی نفس متنبہ ہوتا ہے اور غافل انسانوں کو جگانے کا باعث بنتا ہے۔
(1۔ تسبیح): ان اذکار میں سے پہلا ذکر ’’سبحان اللّٰہ‘‘ ہے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ کو ہر قسم کے عیوب، نقائص او رپست چیزوں سے پاک اور بلند تر سمجھنا ہے۔
(2۔ تحمید): ان اذکار میں سے دوسرا ذکر ’’الحمد للّٰہ‘‘ ہے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اوصاف او رتمام کمالات کو ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے ثابت کیا جائے۔
جب یہ دونوں ذکرایک کلمے میں جمع ہوجائیں تو یہ انسان کی اپنے ربّ کی معرفت بیان کرنے میں سب سے فصیح اور خوب صورت تعبیر ہے۔ اس لیے کہ انسان اللہ کی معرفت کے حوالے سے اس سے زیادہ کی استطاعت نہیں رکھتا، مگر اس پہلو سے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کو اُن تمام نقائص سے پاک ثابت کرے، جو ہم اپنے اندر پاتے ہیں۔ اور وہ تمام کمالات ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے ثابت کریں کہ جو ہم اپنے اندر بہ طور کمال کے مشاہدہ کرتے ہیں۔ جب ذکر اللہ کی یہ صورت کسی انسان کے صحیفے میں پختہ ہوجاتی ہے تو اُس وقت اُس پر ایسی کامل اور پوری معرفت ظاہر ہوتی ہے، جس سے اللہ کے کمالات پورے طور پر سامنے آتے ہیں اور یوں قربِ الٰہی کے حوالے سے اُس کے لیے ایک بڑا عظیم دروازہ کھل جاتا ہے‘‘۔ (باب الاذکارِ و ما یتعلّق بھا)
علامہ ابن حزم اَندلُسیؒ

اَندلُس کے مشہور علما میں سے ایک نام ور شخصیت علامہ ابن حزم اَندلُسیؒ کی ہے۔ آپؒ کی شخصیت ہمہ جہت تھی، جو بہ یک وقت محدث بھی ہیں اور مؤرخ بھی، شاعر بھی ہیں اور فقیہ بھی، بہت سی کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور حکومت ِبنواُمیہ کے منصب ِوزارت پر فائز بھی۔ آپؒ کا پورا نام اس طرح سے ہے: ابومحمد علی بن احمد بن سعید بن حزم۔ آپؒ کے اجداد میں سے خلف بن معدان‘ فارس (ایران) سے اندلس آئے تھے۔ اس طرح آپؒ فارسی النسل ہیں۔ آپؒ رمضان المبارک کی آخری شب بروز بدھ۳۸۴ھ / 7؍ نومبر 994ء کو قرطبہ کے مشرقی محلے ’’المغیرہ‘‘ میں پیدا ہوئے اور 72 سال کی عمر میں۴۵۶ھ / 1064ء میں وفات پائی۔ آپؒ کے والد اور دادا اُموی خلیفہ ہشام ثانی کے زمانۂ خلافت میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اس لیے ابتدائی زندگی خوش حالی میں گزری۔ آپؒ کے والد آپؒ کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بڑے حساس تھے۔ اس لیے اس زمانے کے مشہور اہلِ علم سے تعلیم دلوائی۔ قرطبہ میں جب سیاسی خلفشار عروج پر تھا تو ان کو قرطبہ سے جلاوطن ہونا پڑا۔ وہ وزارت کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ جلاوطن بھی ہوئے اور قید کی سزائیں بھی بھگتنا پڑیں۔
علامہ ابن حزمؒ کا تصورِ اجتہاد: علامہ ابنِ حزمؒ کا اجتہاد اور استنباطِ مسائل کا منہج جمہور فقہا کے تصور سے الگ اور مختلف ہے۔ امام ابنِ حزمؒ کتاب و سنت کی نصوص کے ظاہری الفاظ کی بنیاد پر استنباطِ احکام کے قائل ہیں۔ وہ علل و حکمتوں کی تلاش و جستجو کے قائل نہیں، جب کہ جدید و معروضی مسائل کے حل کے لیے منصوص مسائل کی علت و حکمت کی تلاش و تعیین انتہائی ضروری ہے۔ اس کے بغیر پیش آمدہ جدید مسائل کے احکام معلوم نہیں ہوسکتے۔ نصوص کے ظواہر سے استدلال و تمسک کرنا گویا عقل و فکر کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے بعض تفردات اور جمہور فقہا کی روش سے انحراف کے باوجود ان کے دیگر مثبت کاموں کی تعریف بھی کی گئی ہے۔ مثلاً شیخ عِزالدین بن سلامؒ کہتے ہیں کہ: ’’میں نے اسلامی کتب میں ابنِ حزمؒ کی ’’المحلّٰی‘‘ اور شیخ موفقؒ کی ’’المغنی‘‘ جیسی علمی کتاب نہیں دیکھی‘‘۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج: 2، ص: 766)
علامہ ابنِ حزمؒ نے سیرت پر ایک مختصر کتاب ’’جوامع السّیرۃ‘‘ لکھی ہے، جو نہایت والہانہ عقیدت و محبت سے لکھی گئی ہے، جس میں آپ لکھتے ہیں کہ: ’’رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت کا جو شخص تعصب کی عینک اُتار کر مطالعہ کرے گا، وہ آپؐ کی نبوت کی تصدیق پر مجبور ہوجائے گا۔ کیوں کہ آپؐ کی سیرتِ مطہرہ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ آپؐ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپؐ کی سیرت ہی آپؐ کی صداقت کے لیے معجزہ ہے۔
آفتاب آمد دلیلِ آفتاب
معاشی آزادی کی قیمت

رُوس اور یوکرین جنگ نے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو اس سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز کے بھنورپر لاکھڑا کیا ہے۔ اس جنگی ماحول میں وزیر اعظم کا روس پہنچنا اور اندرونِ ملک عدمِ عتماد کی تحریک کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے ایک اور ایمینیسٹی سکیم کا اجرا، مہنگائی ریلیف پیکج، جس کے تحت ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میںکمی کا اعلان، جب کہ معیشت پرIMFکی گہری چھاپ ہو، معاملے کو بے حد پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عالمی کشمکش میں رُوس کی جانب قدم اور اندرونِ ملک اس سیاسی کھینچا تانی کے معاشی مضمرات آخر کیا ہوں گے؟ اور بہ قول شخصے: کیا آزادی کی طرف یہ ہمارا فیصلہ کن قدم ہے؟ ہماری غلامی کی جڑیں کافی گہری اور مضبوط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہمارے آقا کو ہماری ضرورت پڑی تو ہماری اشرافیہ اور بااَثر سیاسی خانوادے فوراً متحرک ہوگئے ہیں۔ ایسے میں ہمیں یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا اِن اعلانات کی کوئی بنیادیں ہیں؟ یا یہ کسی وقتی چیلنج سے مقابلہ کرنے کی ایک حکمتِ عملی ہے؟ یہ جو بھی ہے، لیکن تجربہ اور قرائن یہ بتا تے ہیں کہ اس کی قیمت بھی ہر دفعہ کی طرح قوم کو چکانی پڑے گی۔ اس بات کا غالب امکان ہے کہ نہ ہمیں آزادی ملے اور نہ ہی اس مہنگائی سے ریلیف۔ رہی بات ایمینیسٹی سکیم کی‘ تو ایسی سکیمیں ہر حکومت اپنے آخری دنوں میں ضرور لاتی ہیں، جو کرپٹ مقتدرہ کی سہولت کار ہوتی ہیں اور اس کا عام پاکستانی کی زندگی پر خاص اثر نہیں ہوتا۔
اس جنگ کی وجہ سے تیل کی درآمد میں 6 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ریلیف پیکج کی وجہ سے تیل کی مقامی کھپت میں اضافہ اس صورتِ حال کو مزید خراب کرسکتا ہے۔ اسی طرح ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدی بل میں 40 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ریلیف پیکج کی وجہ سے خزانے کو 350 ارب روپے کا خرچ برداشت کرنا ہوگا، جسے ترقیاتی بجٹ کم کرکے اور مقامی بینکوں سے مزید قرض لے کر پورا کیا جائے گا۔ یوں ہی 6 سے 7 ارب ڈالر کا اضافی درآمدی بل دراصل پہلے سے موجود ضرورت میں اضافی ہوں گے۔ ملکی برآمدات کا 60 فی صد مغربی ممالک اور اُن کے اتحادیوں کو جاتا ہے۔ اسی طرح ان ممالک سے ترسیلاتِ زر کُل 30 فی صد وصول ہوتا ہے۔ یہ دونوں مدات مل کر سالانہ 27 ارب ڈالر بنتی ہیں۔ اس جنگی صورتِ حال اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایسی وصولیوں میں معمولی تبدیلی بھی پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اورIMFسے کیے گئے وعدوں کی دوبارہ سے خلاف ورزی کی سزا کے طور پر اورFATFکے شکنجے میں مزید شدت کی صورت میںہمارا جاری کھاتوں کا خسارہ 17 سے 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو پاکستانی روپے کو گرائے گا اور ممکن ہے کہ یہ 200 روپے فی ڈالر تک پہنچ جائے، جو مہنگائی کی ایک نئی لہر لائے گا اوراسے قابو میں لانے کے لیے آزاد مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کرے گا، جو بجٹ کے خسارے میں مزید اضافہ کرے گا۔ اسے پورا کرنے کے لیے حکومت مزید ٹیکس لگائے گی اور مہنگائی پھر سے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ ڈالے گی۔ گویا وہ قوم جو گزشہ سال بیماری کی قیمت ادا کرتی رہی ہے، اب آزادی کی قیمت ادا کرے گی۔
نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی (1)

آج 12؍ مارچ 2022ء کا دن ہے اور عالمی میڈیا نے 12 گھنٹے قبل کی ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں یوکرین کے دارلحکومت کیف (kyiv) میں روسی ٹینکوں کی ایک طویل ترین قطار داخل ہوتے ہوئے نظر آرہی تھی۔ روسی ٹینکوں کا داخلہ یقینا ایک بڑی فتح کی علامت ہے، لیکن اس ویڈیو میں اہم ترین پہلو ٹینکوں کا داخلہ نہیں، بلکہ اس ٹینک پر لہرایا جانے والا جھنڈا ہے۔ یہ جھنڈا روس کا نہیں تھا، بلکہ سابق سو ویت یونین کا تھا، جو 1991ء کو دنیا کے نقشے سے غائب ہو گیا تھا۔ اس جھنڈے کو دیکھ کر حالیہ مضمون قارئین کی نظر کیا جارہا ہے۔
25؍ دسمبر 1991ء کو ما سکو پر آخری با ر سوویت یونین کا جھنڈا لہرایا گیا۔ اس کے بعد وہ دنیا کے نقشے سے غائب ہوجاتا ہے۔ اس وقت سوویت یونین دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا۔ اس کا رقبہ 22 لا کھ مربع کلو میٹر سے زیادہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے نقشے پر 15 نئے ممالک ظاہر ہوجاتے ہیں اور 72سال کے بعد اچانک دنیا کے نقشے سے سوویت یونین کا غائب ہونا‘ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان پیچھے چھوڑ گیا تھا۔
سوویت یونین ایک اتحاد تھا، جو اکتوبر 1917ء کے انقلاب کے بعد دنیا کے نقشے پر اُبھرا تھا۔ ’’یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلک‘‘، روس کی ’’بالشویک پارٹی‘‘ کے برسرِاقتدار آنے کے بعد قائم ہوا تھا۔ 1922ء میں چار جمہوریتوں یعنی روس، بیلاروس، یوکرین اور ٹراسکوکینین کے باہمی اتحادنے اسے یہ شکل دی تھی۔ آگے چل کر 15 مزید جمہوریتیں اس کا حصہ بن گئیں۔ سٹالن کے عہد ِاقتدار میں اسے مزید مستحکم بنایا گیا۔ اس طرح دوسری جنگِ عظیم کے بعد وہ دنیا کی سپر پاور کے طور پر اُبھرا تھا۔ ساتھ ہی ریاست ہائے متحدہ امریکا (USA) کے ساتھ سرد جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ تقریباً پانچ دہا ئیوں تک عالمی سیاست پر غالب رہنے کے بعد ا س میں کمزوریوں کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ یہاں سوال پید اہوتا ہے کہ ایسے کون سے محرکات تھے، جو اس کے عالمی سیاست سے غائب ہونے کا باعث بنے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسے عوامل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: بیرونی اور اندرونی عوامل۔ اندرونی عوامل؛ ان کی شناخت ایک مطلق العنان ریاست کے طور پر بن چکی تھی۔ ملک میں ایک ہی سیاسی جماعت تھی۔ دوسری اہم بات؛ پورے نظام پر روس کی بالا دستی قائم تھی۔ ایک تأثر یہ پھیلا یا گیا کہ پورے سوویت یونین میں صرف روس کے مفادات کو ہی مقدم رکھا گیا۔ کسی دوسری ریاست کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ سرکاری زبان ایک ہی تھی جو روس کی تھی۔ کسی دوسری ریاست کی زبان کو کوئی اہمیت حاصل نہ تھی، نہ ہی انھیں فروغ دینے کی کوئی حکمتِ عملی وضع کی گئی تھی۔ دیگر ریاستوں میں روسی قوم پرستی بھی ایک گھمبیر مسئلہ اختیار کرچکی تھی۔ یونین کی کسی اَور ریاست کی ثقافت کوتحفظ حاصل نہیں تھا۔ ان وجوہات کے باعث دیگر ریاستوں کو متحدہ روس سے نفرت پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ تمام ریاستیں اس مطلق العنانیت سے باہر آنا چاہتی تھیں۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین نے دفاع اور خلا کی تسخیر پر اپنے اخراجات کا کثیر حصہ صَرف کر نا شروع کردیا تھا، جس کے باعث قومی سماجی ڈھانچہ نظر انداز ہوناشروع ہوگیا تھا۔ انفراسٹرکچر کی تعمیر متأثر ہورہی تھی۔ معاشی صورتِ حال ابتر ہوتی جارہی تھی۔ لوگوں کو روز مرہ کی بنیادی ضروریات بھی پریشان کررہی تھیں، جس کے باعث عوام میں بے چینی بڑھنا شروع ہوگئی تھی۔
بیرونی عوامل؛ جنھوں نے مل کر سوویت یونین کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان میں نمایاں اثر سوویت یونین کے ساتھ ملحقہ سرمایہ دارانہ ملکوں کی نام نہاد آزاد جمہوریتوں کا پرو پیگنڈا تھا۔ روس سے ملحقہ یورپی ریاستوں کے بارے میں یہ تأثر پھیلایا گیا تھا کہ جرمنی، فرانس اور یورپ کی دیگر ریاستیں سوویت یونین کی نسبت زیادہ خوش حال اور آزاد ہیں، جب کہ یہ ممالک ان کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران مغربی طاقتوں نے اپنے بارے میں ترقی اور خوش حالی کا بھر پور پروپیگنڈا کیا۔ اس کے نتیجے میں روسی ریاستوں کے عوام میں اپنے اتحاد کے بارے میں نفرت، بددلی، بے اعتنائی، بے وقعتی، ناراضگی، بیزاری اور ناپسندیدگی جیسے امراض پھیلائے گئے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں یورپی یونین کے بارے میں رغبت پیدا کی گئی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مسائل اور اس سے ملتے جلتے دیگر مسائل تما م ممالک اورا قوام میں بھی ہوتے ہیں، لیکن ان کا وجود پھر بھی برقرار رہتا ہے۔ آخر سوویت اتحاد 1991ء میں ہی کیوں ٹوٹ جاتا ہے۔
اس کی بنیاد بننے والے محرکات جو سوویت یونین کی تحلیل کا باعث بنے، جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ سوویت یونین کا ٹوٹنا گوربا چوف کے اقتدار میں آنے کے باعث ہوا تھا۔ گوبا چوف مارچ 1985ء میں روس کی کیمونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنتے ہیں۔ ملکی پالیسیوں میں تیزی سے تبدیلیاں لانے کے لیے اقدامات اُٹھاتے ہیں۔ سوویت یونین کے سماجی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے بعد انھوں نے دو مقالہ جات تحریرکیے؛ ’’گلاس نوسٹ‘‘ اور ’’پریس ٹرائیکا‘‘۔
’’گلاس نوسٹ‘‘ یعنی کھلا پن؛ سیاسی کھلے پن کا اظہار۔ اس کے لیے گوربا چوف سٹالن کے اقدامات کو معروضی حالات کے تناظر میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ کتابوں پر پابندی اور خفیہ پولیس کے اقدامات، قانون کی بالادستی، قیدیوں کی رہائی اور کئی سیاسی پا رٹیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت وغیرہ۔
دوسرے مقالے کا نام ’’پریس ٹرائیکا‘‘ تھا۔ معاشی تشکیل نو کا نظریہ۔
(جاری ہے )
رمضان المبارک انسانی ہمدردی کا مہینہ ہے

۳؍ رمضان المبارک۱۴۴۲ھ / 16؍ اپریل 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! رمضان المبارک کی بابرکت ساعات شروع ہوچکی ہیں۔ برکت والا یہ مہینہ ہم پر سایہ فگن ہوچکا ہے۔ اس مہینے کی عظمت خود نبی اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ سال کے اندر کچھ مہینے اور کچھ دن ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے انوارات و تجلیات انسانیت کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ ماہِ رمضان المبارک میں عالم ملکوت سے دنیا کی طرف ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ گویا کہ ملائِ اعلیٰ کی طاقتیں اور قوتیں انسانی دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ مسلمان جب صدقِ دل کے ساتھ اس مہینے کی عظمت اپنے دل میں پیدا کرتا ہے تو اسے اس کی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ اس مہینے کے دن اور رات لوگوں کو اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس طرح عالم ملکوت کا وہ دروازہ انسانی دلوں کو اپنی طرف ضرور کھینچتا ہے۔
یوں تو انسانیت کی ارواح ذاتِ باری تعالیٰ اور ’’حضرتِ الٰہیہ‘‘ کی طرف کھنچتی ہیں، لیکن روح پر جو گناہوں کی وجہ سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور زنگ چڑھ جاتا ہے، اس کے نتیجے میں وہ کشش کم ہوجاتی ہے۔ کسی دل پر اگر زنگ چڑھ جائے تو اس میں اللہ کی طرف متوجہ ہونے کی صلاحیت اور استعداد میں کمی آجاتی ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ اس زنگ کو دور کرنے کے لیے ہے۔ آپؐ نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات ارشاد فرمائی کہ: اس ماہِ مبارک میں چار چیزوں کی کثرت کرو: (1) اللہ کا ذکر، (2) اللہ سے اپنے گناہوں کا استغفار، (3) جہنم سے پناہ مانگنا اور (3) جنت الفردوس کی طلب کرنا۔
نبی اکرم ﷺ اس مہینے کے بارے میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ رمضان المبارک ’’شہر المواساۃ‘‘ یعنی انسانی ہمدردی کا مہینہ ہے۔ ہر انسان چاہے وہ کسی فرقے اور کسی نسل کا ہو، اس کے ساتھ خیرخواہی کی جائے۔ ایک ہے ’’موالات‘‘، جو صرف مسلمان جماعت کے ساتھ ہو اور ایک ہے ’’مواسات‘‘، ہمدردی اور خیرخواہی، جس میں دنیا کا ہر انسان شامل ہے۔ اگر وہ مظلوم ہے تو ظالم کا ہاتھ روک کر، اُس کو ظلم سے باز رکھ کر اُس مظلوم کے ساتھ ہمدردی کرنی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’ظالم ہو یا مظلوم، اپنے بھائی کی مدد کرو‘‘۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی مدد کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ: ظالم کی مدد اُس کو ظلم سے روکنا ہے۔ طاقت اور قوت کے ساتھ ظلم کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔ گویا انسانیت پر ہونے والے مظالم، انسانیت میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنے کی فکر کرنا بھی اس مہینے کا بنیادی پیغام ہے‘‘۔
رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ ماہِ رمضان المبارک کا پہلا حصہ رحمت، درمیانہ حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے نجات کا ہے۔ جو لوگ صدقِ دل کے ساتھ اللہ کے احکامات کے مطابق فرائض اور نوافل ادا کرتے ہیں، اور اس کے مطابق جدوجہد اور کوشش کرتے ہیں، اُن کے لیے یہ مہینہ اللہ کی رحمتوں کے نزول کا باعث بنتا ہے۔ رحمتوں کا نزول یہ ہے کہ اللہ کے انوارات و تجلیات کے دروازے کھلے ہوئے ہیں گویا کہ رحمتوں کا موسم اپنے جوبن پر ہے۔ اس موسم میں جتنے اچھے طریقے سے ہم اپنے نیک اعمال کی فصل کاشت کریں گے، اُتنا ہی وہ پھلے پھولے گی اور آگے بڑھے گی۔ اس کی مثال گندم کی فصل کی طرح ہے۔ یوں تو سال بھر میں کبھی بھی گندم زمین میں کاشت کرلیں، تو کچھ نہ کچھ اُگ آتی ہے، لیکن جو گندم کی بجائی اور اُس کی نشو و ارتقا کا اصل موسم ہے، اس میں جب بیج صحیح طریقے سے ڈالا جائے، تو فصل بہت عمدہ طریقے سے تیار ہوتی ہے۔ ایسے ہی دلوں کی کھیتیوں کو آباد کرنے کا مہینہ اور موسم رمضان المبارک ہے۔ اس ماہِ مبارک میں دلوں کے اندر اللہ کے ساتھ سچے تعلق کا بیج ڈال دیا جائے تو وہ برگ و بار لاتا ہے۔ دل اللہ کی طرف کھنچ رہے ہوتے ہیں۔ آسمان سے انواراتِ الٰہیہ کی بارش ہو رہی ہوتی ہے اور ہم اپنے دلوں کی سیپیوں کے منہ کھولیں تو ضرور کوئی نہ کوئی قطرہ ہمارے دل کے اندر داخل ہو کر ہیرا اور موتی بن سکتا ہے۔ وہ ایک جگمگاتا ہوا روشن ایسا نور ہے کہ جس کی روشنی میں ایک مسلمان نہ صرف اس دنیا میں انسان حق و باطل کی تمیز پیدا کرسکتا ہے، بلکہ وہ موتی، وہ نور، وہ روشنی آخرت میں بھی پل صراط پر گزرنے کے لیے معاون ثابت ہوگی۔ اب کون ہے، جس کے دل کی سیپی کھلی ہوئی ہے۔ کون ہے، جو اپنے آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کرے۔ کون ہے جو اس دعا کو باربار پڑھے کہ: ’’اللّٰہمّ افتح مَسامِعَ قَلبِی لِذِکرِک‘‘ (اے اللہ! میرے دل کے کانوں کو اپنے ذکر کے لیے کھول دے۔) اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کے کان کھولے، دل کی آنکھیں کھولے، دل کی عقل اور شعور کو کھولے ، ہمت اور ارادہ مضبوط بنائے۔ انسان کثرت سے وہ اعمال کرے، جس کے ذریعے سے وہ رحمت جو برس رہی ہے، بارش کے وہ قطرات جو ہمارے دلوں پر پڑ رہے ہیں، وہ برگ و بار لائیں۔ وہ ترقی کریں۔
اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے ایک اَور اہم بات فرمائی کہ اس ماہ مبارک میں جب انسان کوئی نفلی کام کرتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے، جس آدمی نے باقی دنوں میں فریضہ ادا کیا ہو۔ اس مہینے میں نفلی عبادت کا اجر و ثواب اور اس کی اہمیت اور عظمت ایسے ہی ہے، جیسے ایک انسان غیررمضان میں فریضہ ادا کر رہا ہے۔ اور اس ماہِ مبارک میں فریضے کی ادائیگی کے بارے میں فرمایا کہ جس نے اس مہینے میں فریضہ ادا کیا، رمضان کا فرض روزہ رکھا، فرض نمازیں پڑھیں، باقی فرائض اُس نے ادا کیے، تو اس کی مثال ایسے ہی ہے، جیسے کسی آدمی نے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کیے۔ یہ بہت اہم بات ہے‘‘۔
اس مبارک مہینے میں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ذرا ہم لوگ اپنے گزرے ہوئے رمضان کے مہینوں کا جائزہ لیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پچھلے 70، 75 سالوں کے رمضانوں میں کیے گئے فیصلے دیکھ لیں۔ بہ طورِ قوم ہمارے فیصلے کیا رہے؟ ہم نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ 1947ء کے رمضان سے لے کر آج تک کے رمضانوں تک ہمارے اجتماعی ’’سیاسۃ الاُمّہ‘‘ سے متعلق فیصلوں کی نوعیت کیا ہے؟ کیا وہ انسانی ہمدردی لیے ہوئے تھے؟ یا انسانوں کی قتل و غارت گری اپنے فیصلوں کے اندر چھپائے ہوئے تھے؟ ہمیشہ ایسے فیصلے کرتے رہے ہیں کہ جو سیاستِ اُمت کا نظم و نسق پیدا کرنے کے بجائے بدنظمی، بداَمنی، قتل و غارت گری، کوئی نہ کوئی جھگڑا، کوئی لڑائی، کوئی فتنہ، کوئی فساد پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ مہینہ ’’شہر المواساۃ‘‘ کا تھا، جس میں قتل و غارت گری اور خون کی ندیاں بہیں، انسانیت خوف زدہ ہوئی۔ اس کے بجائے انسانی ہمدردی کانظام ہونا چاہیے تھا۔
نبی اکرم ﷺ تو رمضان المبارک میں مکہ سے مدینہ منورہ جا کر یہودیوں، مشرکوں، اوس اور خزرج اور تمام قبائل کا ایک اجتماعی معاہدہ کرکے بلاتفریق رنگ نسل، مذہب امن و امان کا سسٹم بناتے ہیں۔ ریاستِ مدینہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ انسانوں کے درمیان مواسات اور باہمی خیرخواہی پیدا کرتے ہیں۔ صبر و استقامت اور حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ لین دین اور معاملات میں عدل و انصاف کا سسٹم بناتے ہیں۔ اور رمضان المبارک میں ہی مکہ مکرمہ کے ظلم کے نظام کو توڑ کر تمام ظالموں کو معاف کرتے ہیں کہ ’’لا تثریب علیکم الیوم‘‘۔ (-12 یوسف: 92) آج تم پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں ہے۔ میںتمھیں اُف بھی نہیں کہتا۔ جاؤ میں تمھیں معاف کرتا ہوں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہر رمضان المبارک میں ہمارا کردار کیا رہا ہے؟ اس کا احتساب کون کرے گا؟
نبی اکرم ﷺ عدمِ تشدد کے اُصول پر امن و امان کا ایسا منصفانہ نظام بناتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر وہی سردار جو کل تک کفر میں ڈوبے ہوئے تھے، کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمان کرلیں۔ آپؐ ان سے پوچھتے ہیں کہ پہلے دن مسلمان کیوں نہیں ہوئے؟ انھوں نے کہا: ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ آپ نے جو مکہ فتح کیا ہے تو آپ کے ساتھی انسانیت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ ہم نے دیکھا کہ آپ تو ہمارے لیے فرشتہ بن کر آئے ہیں۔ حال آں کہ ہم نے تئیس سال آپ کی مخالفت کی، آپ کو اذیتیں دیں، تکلیفیں دیں، اس کے باوجود آپ نے ہمیں معاف کردیا۔ صحابہؓ تو کہہ رہے تھے کہ ’’الیوم یوم الملحمۃ‘‘ آج گوشت کے کٹنے کا دن ہے، لیکن حضور ْﷺ نے فرمایا: نہیں! ’’الیوم یوم المرحمۃ‘‘۔ یہ تو رحمت کا دن ہے۔ رمضان کا مبارک مہینہ ہے۔ یہ پہلا عشرہ ہے رمضان کا اور آپ ﷺ رحمت کا اثر ظاہر کر رہے ہیں کہ انسانیت کے لیے شفقت اور رحمت ہی رحمت ہے‘‘۔
اس مہینے میں معافی کے ساتھ تجدید ِعہد کی ضرورت ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی روزہ رکھتا ہے اور روزہ رکھ کر جھوٹ بولنے اور جھوٹی بات پر عمل کرنے سے باز نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ کو ایسے روزے کی کوئی ضرورت نہیں۔ گویا کہ اُس نے صرف بھوک اور پیاس برداشت کی ہے۔ بس وہ بھوکا رہا ہے۔ اب بھوکا رکھنے کا تو ایک مقصد تھا کہ جس بھوکا رہنے سے جھوٹ بولنا رُک جائے، جھوٹ کے نظام کا ساتھ دینا چھوڑ دے، اس پر عمل کرنا چھوڑ دے۔ اگر ایسا نہیں کیا تو پھر اُس نے روزے سے کیا اثر لیا۔ اور اگر صبح سے شام تک بھوک پیاس برداشت کی، لیکن نہ جھوٹ کے نظام کا ساتھ چھوڑا، نہ غلط ماحول کا اثر چھوڑا، نہ باقی خرابیاں چھوڑیں تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو اس کے روزے کی ضرورت نہیں کہ وہ روزہ رکھے یا نہ رکھے۔ ایک ہی بات ہے۔ کیوں کہ اُس نے بڑی زیادتی کی ہے کہ روزے کا جو اصل مقصد تھا، وہ فوت کردیا۔
اسی طرح ایک آدمی نے رات کو جاگ کر عبادت کی، لیکن اُس نے فسق و فجور اور خرابیاں نہیں چھوڑیں، غلط فیصلے نہیں چھوڑے، وہ سیاستِ اُمت سے متعلق ہوں، یا تہذیبِ شخص اور تہذیبِ نفس سے متعلق ہوں، وہ نہیں چھوڑے تو اس کے رات کو جاگنے کا کیا فائدہ؟ جاگنا تبھی فائدہ مند ہے، جب اس کے نتیجے میں سوسائٹی کی ذمہ داریوں سے متعلق بہتر اثر ہو۔ ایک نتیجہ ظاہر ہونا چاہیے۔ ایک تبدیلی آنی چاہیے۔ کھرے کھوٹے میں تمیز پیدا ہوجائے۔ جھوٹ اور سچ میں تمیز پیدا ہوجائے اور جھوٹ، بددیانتی، حسد، کینہ، بغض، عداوت، انسان دشمنی کے اُمور سے انسان معافی مانگے۔ معافی یہ ہے کہ یہ لغزش یا غلطی یا اجتماعی جھوٹ اور اجتماعی نظام کا ہم حصہ دار رہے تو اس سے مغفرت مانگتے ہیں۔ آئندہ کبھی کسی جھوٹے نظام کا ساتھ نہیں دیں گے۔ کسی جھوٹی پارٹی میں نہیں جائیں گے۔ کسی جھوٹے نظام کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔ کسی جھوٹے فیصلے میں استعمال نہیںہوں گے۔ ہماری رائے کسی جھوٹ کے نظام کا حصہ دار نہیں بنے گی۔ پھر تو معافی ہے، اس استغفار کا ایک اثر اور نتیجہ ہوگا، لیکن اُسی سسٹم کے آلہ کار رہیں، اُسی سسٹم میں جھوٹ کا ساتھ دیتے رہیں، اُسی ظلم اور زیادتی کے نظام میں حصہ دار رہیں، اور روزے بھی رکھیں، تراویح بھی پڑھیں اور عبادات بھی کریں، اور بہ ظاہر تسبیحات بھی گھمائیں، استغفار بھی پڑھیں تو ایسے استغفار اور ایسے رمضان کے روزے کا کیا اثر ہوگا؟ رمضان المبارک کی عبادات اس عزم اور ارادے سے ہم ادا کریں کہ وہ باتیں جو نبی اکرم ﷺ نے رمضان المبارک کے متعلق ہمیں بتلائی ہیں؛ اعلیٰ اَخلاق، کردار، سیرت، نظریے کی بلندی، صبر و استقامت، مواسات، انسانی ہمدردی، خیرخواہی وغیرہ وغیرہ، یہ بھی ہم اس کے ذریعے سے پیدا کریں گے تو یقینا نبی اکرم ﷺ نے اس مہینے کی عظمت اور برکت کے حوالے سے جو بشارات بیان فرمائی ہیں، وہ ضرور حاصل ہوں گی‘‘۔
End of issue
Back
