دنیا کی سامراجی میراث اور آج کی دنیا

Anees Ahmed Sajjad
Anees Ahmed Sajjad
Jun 03, 2026 - Shuzraat
دنیا کی سامراجی میراث اور آج کی دنیا


دنیا کی سامراجی میراث اور آج کی دنیا

حالیہ دنوں امریکی کانگریس میں شاہ چارلس سوم کے خطاب کو مغربی میڈیا نے ایک بڑی سفارتی اور تہذیبی مثال کے طور پر پیش کیا۔ ان کی گفتگو میں آئینی روایت، اجتماعی مشاورت اور ادارہ جاتی توازن کا ذکر نمایاں تھا، لیکن تاریخ کا دوسرا رُخ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ جس برطانیہ کو آج جمہوریت، پارلیمان اور آئینی ارتقا کی علامت بنایا جاتا ہے، اُسی برطانیہ نے صدیوں تک دنیا بھر میں استعمار، لوٹ مار اور سیاسی تباہی کا ایک ایسا نظام قائم رکھا، جس کے اثرات سے آج بھی دنیا پوری طرح آزاد نہیں ہو سکی۔

برِعظیم ہندوستان اس ظلم کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کے نام پر آئی، مگر جلد ہی پورے ہندوستان پر قابض ہو گئی۔ ہندوستان کی معیشت، صنعت اور تجارت کو دانستہ تباہ کیا گیا، تاکہ برطانوی مصنوعات فروخت ہوسکیں۔ بنگال کا قحط - جس میں لاکھوں لوگ مر گئے -سامراجی پالیسیوں کا نتیجہ تھا، جسے متعدد مؤرخین ایک عظیم انسانی المیہ قرار دیتے ہیں۔ برطانیہ نے ہندوستان کے وسائل لوٹے، مقامی صنعت کو کمزور کیا اور ایک خوش حال خطے کو غربت اور پس ماندگی میں دھکیل دیا۔

پھر تقسیمِ ہند کا سانحہ‘ برطانوی استعمار کی ایک اور الم ناک میراث بن گیا۔ جاتے جاتے ایسی سرحدیں کھینچی گئیں، جنھوں نے لاکھوں انسانوں کے لیے ایک وسیع انسانی المیے کو جنم دیا۔ کشمیر کا تنازع، پاک بھارت کشیدگی اور جنوبی ایشیا کی مستقل بے چینی اسی غیر ذمہ دارانہ تقسیم کے اثرات ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بھی برطانیہ نے اپنے مفادات کے لیے ایسی پالیسیاں اختیار کیں، جنھوں نے پورے خطے کو عدمِ استحکام میں مبتلا کر دیا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سائیکس پیکو معاہدے کے تحت مصنوعی سرحدیں بنائی گئیں۔ فلسطین کے مسئلے میں بالفور اعلامیہ(Balfour Declaration)، جو 2؍ نومبر 1917ء کو برطانوی وزیرِ خارجہArthur James Balfourنے جاری کیا تھا۔ اس اعلامیے میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے ’’قومی وطن‘‘(National Home)کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ یہ خط برطانوی حکومت کی جانب سےLord Rothschildکو لکھا گیا تھا اور اسی کی بنیاد پر بعد میں 14؍ مئی 1948ء کو اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس اعلامیے نے ایک ایسی آگ بھڑکائی جس کی لپیٹ میں آج تک پورا خطہ جل رہا ہے۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور خطہ مسلسل جنگوں، بداعتمادی اور نفرتوں کا شکار ہو گیا۔افریقا میں ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت نسلی اور قبائلی اختلافات کو ہوا دی گئی۔ غلام تجارت کے ذریعے افریقی انسانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر منڈیوں میں فروخت کیا گیا۔ نوآبادیاتی نظام نے انسان کو صرف منافع کا ذریعہ سمجھا، بلکہ آج بھی افریقا کے کئی سیاسی اور معاشی بحران اُسی سامراجی دور کی باقیات ہیں۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ نے دنیا کو ریلوے، عدالتیں اور جدید ادارے دیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے زیادہ تر سامراجی اقتدار کے تحفظ اور وسائل کی منتقلی کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ ریلوے خام مال بندرگاہوں تک پہنچانے کے لیے تھی، تعلیم ایسے افراد تیار کرنے کے لیے تھی جو سامراجی مشینری چلا سکیں اور قانون مقامی آبادی کو قابو میں رکھنے کا ذریعہ تھا۔آج دنیا جن بڑے تنازعات، سرحدی جھگڑوں اور سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے، اُن میں برطانوی سامراجی پالیسیوں کا عکس واضح دکھائی دیتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی بداَمنی، جنوبی ایشیا کی دشمنیاں اور افریقا کی سیاسی کمزوری‘ سب اُس استعماری سیاست کے نتائج ہیں، جس نے طاقت اور مفاد کو انصاف اور انسانیت پر ترجیح دی۔

اس تاریخ کا مقصد صرف ماضی پر نوحہ کرنا نہیں، بلکہ سبق حاصل کرنا ہے۔ قومیں اُس وقت محفوظ رہتی ہیں، جب اُن کے پاس مضبوط ادارے، سیاسی بصیرت، علمی خودمختاری اور معاشی استقلال موجود ہو۔ ورنہ طاقت ور قوتیں ہمیشہ کمزور معاشروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی رہتی ہیں۔ برطانیہ کی سامراجی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت اگر اَخلاق، انصاف اور انسانیت سے خالی ہو جائے تو وہ تہذیب کے نام پر بھی تباہی ہی لاتی ہے۔

کتاب کا قتلِ عام اور ایک قوم کی خاموش خودکشی

پاکستان میں کتاب سے دوری اب محض ایک ثقافتی یا تعلیمی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک گہرے قومی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایک ایسا بحران جو خاموشی سے ہماری فکری بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آہستہ آہستہ کتاب، مطالعے اور فکر کے اس پورے کلچر کو ختم کر دیا ہے، جو کسی بھی زندہ اور باشعور معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم ایک قوم کے طور پر کتاب کا قتلِ عام کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنی فکری خودکشی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام نے علم کو شعور، تحقیق اور فکری تربیت کے بجائے صرف امتحان، نمبروں اور ملازمت تک محدود کر دیا ہے۔ طالب علم کی کامیابی کا معیار‘ اب اس کی سوچ، مطالعے یا تخلیقی صلاحیت نہیں، بلکہ اس کے گریڈز اور ڈگریاں بن چکے ہیں۔ نتیجتاً کتاب ایک زندہ فکری رفیق کے بجائے محض نصابی ضرورت بن کر رہ گئی ہے۔ غیر نصابی مطالعہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ لائبریریاں ویران ہیں اور نوجوان نسل کا تعلق سنجیدہ علمی روایت سے ٹوٹتا جا رہا ہے۔

سمسٹر سسٹم کے نام پر جو تعلیمی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے، اس نے علم کو گہرائی کے بجائے رفتار کا اسیر بنا دیا ہے۔ آج کا طالب علم ایک ایسے مسلسل امتحانی دباؤ میں زندگی گزار رہا ہے، جہاں اس کے پاس سوچنے، رُکنے اور کتاب کے ساتھ وقت گزارنے کی مہلت ہی نہیں۔ یہ نظام دراصل ’’فکری جنک فوڈ‘‘ پیدا کر رہا ہے۔جس طرح جنک فوڈ کھانے میں لذیذ ہوتا ہے، مگر جسم کو کوئی غذائیت نہیں دیتا، بلکہ نقصان پہنچاتا ہے، بالکل اسی طرح فکری جنک فوڈ ذہن کو لمحاتی مزہ تو دیتا ہے، لیکن سوچنے کی صلاحیت، توجہ اور وقت سب کو برباد کر دیتا ہے۔

اس کی سب سے بڑی مثالیں سوشل میڈیا پر بے مقصد سکرولنگ، بے فائدہ وائرل ویڈیوز، گپ شپ اور افواہیں اور سطحی بحثیں ہیں، جن سے نہ علم بڑھتا ہے نہ کوئی مثبت تبدیلی آتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان مصروف تو رہتا ہے، لیکن اس مصروفیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور آہستہ آہستہ گہری سوچ اور توجہ کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔

اسی ماحول نے طالبِ علم کو ایک ایسے دوڑتے ہوئے گھوڑے میں تبدیل کر دیا ہے، جسے ہر وقت دوڑایا تو جا رہا ہے، مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ منزل کہاں ہے۔ اس کے ہاتھ میں ڈگری ہے مگر ذہن میں سوال نہیں، حافظے میں معلومات ہیں، مگر شخصیت میں فکر نہیں۔ تعلیم ایک شعوری سفر کے بجائے محض ملازمت کے حصول کی دوڑ بن چکی ہے۔

یہ بحران صرف اداروں تک محدود نہیں، بلکہ معاشرتی ترجیحات بھی اس میں برابر کی شریک ہیں۔ والدین بچوں کو کتاب سے زیادہ کیریئر کی طرف دھکیلتے ہیں۔ ایک نوجوان اگر اعلیٰ ملازمت حاصل کر لے تو اسے کامیاب سمجھا جاتا ہے، خواہ اس کا ذہنی و فکری اُفق کتنا ہی محدود کیوں نہ ہو۔ سوشل میڈیا اور مختصر معلوماتی مواد نے بھی سنجیدہ مطالعے کی روایت کو شدید متاثر کیا ہے۔ نئی نسل معلومات کے ہجوم میں رہتے ہوئے بھی فکری گہرائی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو قومیں کتاب سے اپنا رشتہ توڑ دیتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ سوچنے، سوال کرنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت بھی کھو دیتی ہیں۔ کتاب‘ انسان کے اندر شعور، تحمل، بصیرت اور فکری آزادی پیدا کرتی ہے۔ جب معاشرے میں مطالعہ ختم ہو جائے تو وہاں سطحیت، جذباتیت اور ذہنی جمود جنم لیتا ہے۔

اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے محض رسمی اصلاحات کافی نہیں ہوں گی۔ ہمیں کتاب اور مطالعے کو دوبارہ قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں لائبریری کلچر کو زندہ کرنا، غیر نصابی مطالعے کی حوصلہ افزائی کرنا اور امتحانی نظام کو رٹے سے نکال کر فکری وتجزیاتی بنیادوں پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔ اساتذہ، والدین، تعلیمی اداروں اور ریاست‘ سب کو اس فکری بحران کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا۔کیوں کہ کتاب صرف کاغذ پر لکھی ہوئی سطریں نہیں، بلکہ قوموں کی فکری زندگی کی بنیاد ہوتی ہے اور جب کتاب مرنے لگے تو قومیں بھی اندر سے مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔

Anees Ahmed Sajjad
Anees Ahmed Sajjad

Administrater Rahimia Institute of Quranic sciences, Lahore

Related Articles

دینِ اسلام ایک نظام ہے

12؍ مارچ 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز …

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri Apr 27, 2021

عالمی معاہدات کی صریحاً خلاف ورزیاں

(نینسی پیلوسی کا دورۂ تائیوان) چینی اخبار گلوبل ٹائم کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی رات کی تاریکی میں تائیوان کے دارلحکومت تائے پی شہر میں 2؍ اگ…

Mirza Muhammad Ramzan Sep 11, 2022

بداَخلاقی اور گناہوں کو چھوڑنے کا عظیم اَجر

​بداَخلاقی اور گناہوں کو چھوڑنے کا عظیم اَجرعَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْھُمَا، عَنِ النَّبِیِّﷺ، قَالَ؛ ’’الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہٖ وَ یَدِہٖ، وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ‘‘۔ …

Maulana Dr Muhammad Nasir Jul 02, 2026

احکام و مسائل رمضان المبارک

۱۔ ہر مسلمان مرد وعورت، عاقل، بالغ پر رمضان المبارک کے روزے رکھنا فرض ہے۔ ۲۔ شریعت میں روزے کا مطلب ہے کہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک روزے کی نیت…

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri Mar 15, 2024