

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ - رضی اللّٰہ عنہ - قَالَ: بَیْنَمَا النَّبِیُّﷺ یُحَدِّثُ القَوْمِ، جَائَ أَعْرَابِیٌ فَقَالَ: مَتَی السَّاعَۃُ؟ فَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمَ: سَمِعَ مَا قَالَ فَکَرِہَ مَا قَالَ۔ وَقَالَ بَعْضُھُمْ: بَلْ لَمْ یَسْمَعْ، حَتّٰی إِذَا قَضٰی حَدِیْثَہٗ قَالَ ﷺ: أَیْنَ أُرَاہُ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟ قَالَ: ھَا أَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہ ِﷺ، قَالَ ﷺ: ’’فَإِذَا ضُیِّعَتِ الأَمَانَۃُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ‘‘، قَالَ: کَیْفَ إِضَاعَتُھَا؟ قَالَ ﷺ : إِذَا وُسِّدَ الأمْرُ إِلٰی غَیْرِ أَھْلِہِ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔ (الصّحیح البخاری، حدیث: 59)
(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ اپنی مجلس میں لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے کہ ایک اَعرابی نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی: قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہﷺ بدستور گفتگو فرماتے رہے تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ: حضور ﷺ نے اس کی بات ناپسند فرمائی ہے، جب کہ کچھ نے کہا کہ آپﷺ نے اس کی بات سنی نہیں ہے۔ جب حضورﷺ گفتگو فرما چکے تو فرمایا: ’’قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟‘‘ تو سائل نے عرض کیا: اے رسولِ خداﷺ! میں حاضر ہوں، فرمایا: ’’جب امانت ضائع کی جانے لگے تو قیامت کا انتظار کرنا‘‘، عرض کی کہ: امانت کا ضائع کرنا کیسے ہوگا؟ فرمایا: ’’جب ذمہ داری نااہلوں کے سپرد کردی جائے‘‘۔
امانت ضائع کرنے کا معنی ہے کہ کسی کی کوئی چیز، جان، عزت و آبرو، مال، حق، کوئی راز یا کوئی بھی ایسی چیز جو اس کے دیگر حقوق سے تعلق رکھتی ہو۔ وہ کسی کے پاس محفوظ ہو، یا کسی انسان پر کوئی قومی ذمہ داری ہو، تو اگر وہ لوگوں کے حقوق پورے نہ کرے، اپنے عہدے کا غلط فائدہ اُٹھائے، مال بٹورنے کے لیے لوگوںکو تنگ کرے تو یہ امانت کو ضائع کرنا ہے اور اس کام پر قیامت برپا کرنے کے مترادف ہے۔ زیرغور حدیث میں کوئی اجتماعی ذمہ داری کسی نااہل کے سپرد کرنے کا یہی مطلب ہے ۔
روزِمحشر مکمل حساب ہوگا، جب کہ اس حدیث کی روشنی میں قیامت سے مراد کسی کام کو نااہل کے سپرد کردینا ہے کہ اس سے وہ مقصد ضائع ہوجائے گا۔ نااہل ہونے سے مراد ہے کہ انسان کے سپرد کیے گئے کام کو سرانجام دینے کی صلاحیت ہی اس میں نہ ہو، یا فنی تربیت کی کمی کی وَجہ سے اس کام کو نمٹانے کی مہارت نہ رکھتا ہو۔ یا اس کی اَخلاقی تربیت نہ ہو، تو ایسے شخص کو جب ذمہ داری دی جائے تو وہ ہدف کو برباد کر دیتا ہے۔ گویا اس کام میں خرابی کی صورت میں قیامت برپا ہوجاتی ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں ان لوگوں کو منصب دینا چاہیے جو سپرد کیا گیا کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، مہارت اور اخلاقی معیار بلند ہونے کی بنا پر اس کام کو کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔ نااہل لوگ اپنی نااہلی سے قوموں کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں اور نظام کی خرابی انسانوں کے لیے ایک قیامت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔
Related Articles
معاہدۂ حِلفُ الفُضول کی اہمیت
عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بنِ عَوْفٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ’’شَھِدْتُ غُلَاماً مَعَ عُمُومَتِی حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ فَمَا اُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَالنَّعَمِ وَ انّی أَنْکُثُہُ‘‘۔ (حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے م…
مؤمنانہ فراست کا تقاضا
عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …
عذابِ جہنم سے بچانے والے اعمال
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ’’أَلا أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ یَحْرُمُ عَلَی النَّارِ، أو بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَیْہِ النَّارُ؟ عَلٰی کُلِّ قَرِیْبٍ، ھَیِّنٍ، سَھْلٍ‘‘۔ (ال…
نیک اعمال کا اَجر عقل کے مطابق
نیک اعمال کا اَجر عقل کے مطابقوَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضی اللّٰہ عنہما - قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷺ: ’’إِنَّ الرَّجُلَ لَیَکُوْنُ مِنْ أَہْلِ الصَّلٰوۃِ، وَالصَّومِ، وَالزَّکٰوۃِ، وَالْحَجِّ، وَالْعُمْرَۃِ‘‘۔ حَتّٰی ذَکَرَ سِہَاَم الْخَیْرِ کُلَّہَا،…
