

نیک اعمال کا اَجر عقل کے مطابق
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضی اللّٰہ عنہما - قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷺ: ’’إِنَّ الرَّجُلَ لَیَکُوْنُ مِنْ أَہْلِ الصَّلٰوۃِ، وَالصَّومِ، وَالزَّکٰوۃِ، وَالْحَجِّ، وَالْعُمْرَۃِ‘‘۔ حَتّٰی ذَکَرَ سِہَاَم الْخَیْرِ کُلَّہَا، ’’وَمَا یُجْزٰی یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ إلِاَّ بِقَدْرِ عَقْلِہٖ‘‘۔
(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما -سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: ’’آدمی نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، عمرہ کرنے والوں میں سے ہوتا ہے۔‘‘ یہاں تک کہ حضورؐ نے بھلائی کے تمام کاموں کا تذکرہ کیا۔ پھر فرمایا: ’’قیامت کے دن اُسے اُس کی عقل کے بہ قدر ہی بدلہ دیا جائے گا‘‘۔)(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 5065)
زیرِنظر حدیث کی روشنی میں نماز، روزہ، حج اور عمرہ کی ادائیگی کا اجر انسان کو اس اصول پر ملے گا کہ اس نے اس عمل کو کتنی سمجھ کے ساتھ کیا ہے۔ نماز کے مقاصد و اہداف اور اس کے سماجی اَثرات کو اس نے کتنا سمجھا ہے۔ روزے کے شخصی تربیت اور معاشرے پر کیا اَثرات مرتب ہونے چاہئیں۔ حج اور عمرہ دونوں میں انسان شعائراللہ اور حمت وبرکات کی جگہوں پر جاتا ہے۔ اس کا فہم پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ان عبادات اور ان کے علاوہ دیگر نیکیوں کے بارے میں فرمایا کہ انسان جب ان اعمال کو جتنی عقل و فہم کے ساتھ کرتا ہے، اس نے جتنا اس کو سمجھا ہوتا ہے، روزِقیامت اس کو اس کے مطابق اجر ملے گا۔ ہر عمل سے پہلے نیت کا حکم بھی دراصل اس عمل کو سمجھ کر اور اخلاص کے ساتھ کرنے کے لیے ہے، جتنی اونچی نیت اتنا زیادہ اس کا اجر۔
سورت فرقان میں قرآن مؤمنین کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مؤمنوں کا مزاج یہ ہے کہ: ’’ان کو جب اللہ کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو یہ اندھے بہرے ہو کر نہیں چل پڑتے‘‘، بلکہ اس نصیحت میں غور و فکر کرتے ہیں۔ عقل و شعور استعمال کر کے دینی فہم پیدا کرتے ہیں اور عمل کے لیے اس کو بنیاد اور اساس بناتے ہیں۔ پہلی اُمتوں میں بھی انبیاعلیہم السلام اس طرف توجہ دلاتے رہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو کہتے ہیں کہ: ’’اے ابا جان! آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ کوئی نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں‘‘۔ ابراہیم علیہ السلام نے جب ان کے بت توڑے تو ان سے کہا کہ ان سے پوچھو کہ ان کے ساتھ یہ رویہ کس نے اپنایا ہے؟ تو ان کے اس جواب پر کہ: ’’آپ کو تو پتہ ہے، یہ بولتے نہیں ہیں‘‘، اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ: عقل کرو! جو بولتے نہیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بھی بیان نہیں کر سکتے تو آپ ان سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟ ان کی عبادت کیسے کرتے ہیں؟ اس لیے شریعتوں سے ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے کہ دینی فہم عقل و شعور کی روشنی میں حاصل کرنا چاہیے۔ ہمارے حضرت مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ ہمیشہ اس طرف متوجہ کرتے رہے کہ شعور حاصل کرو، عقل پیدا کرو، گردوپیش کے حالات کو سمجھو۔
Tags

Maulana Dr Muhammad Nasir
پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمد ناصرعبدالعزیز ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے ممبر ایڈوائزری بورڈ اور حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے مجازین میں سے ہیں۔ درسِ نظامی کی مکمل تعلیم جامعہ خیر المدارس ملتان سے حاصل کر کے 1989ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ 1994ء میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) سے ایل ایل بی آنرزشریعہ اینڈ لاءکیا۔ ازاں بعد پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے بطور استاد وابستہ ہوگئے۔ اس دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پی۔ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی۔ آج کل گورنمنٹ گریجویٹ کالج جھنگ کے شعبہ اسلامیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسرہیں اور مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ انوار العلوم عثمانیہ ریل بازار جھنگ صدر کے اہتمام و انصرام کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رحیمیہ نظام المدارس کے ناظم امتحانات بھی ہیں۔ "ماہنامہ رحیمیہ" میں درسِ حدیث کے عنوان سے سلسلہ وار لکھ رہے ہیں۔
Related Articles
مؤمنانہ فراست کا تقاضا
عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …
عذابِ جہنم سے بچانے والے اعمال
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ’’أَلا أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ یَحْرُمُ عَلَی النَّارِ، أو بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَیْہِ النَّارُ؟ عَلٰی کُلِّ قَرِیْبٍ، ھَیِّنٍ، سَھْلٍ‘‘۔ (ال…
اچھے اور بُرے انسان کی پہچان
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ؛ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ: خَیْرُکُمْ مَنْ یُرْجٰی خَیْرُہٗ وَ یُؤْمَنُ شَرُّہٗ، وَشَرُّکُمْ مَنْ لَّا یُرْجٰی خَیْرُہٗ وَلَا یُؤْمَنُ شَرُّہٗ۔ (الجامع للتّرمذی، حدیث 2263) (سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، رسول الل…
معاہدۂ حِلفُ الفُضول کی اہمیت
عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بنِ عَوْفٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ’’شَھِدْتُ غُلَاماً مَعَ عُمُومَتِی حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ فَمَا اُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَالنَّعَمِ وَ انّی أَنْکُثُہُ‘‘۔ (حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے م…
