مؤمنانہ فراست کا تقاضا

Maulana Dr Muhammad Nasir

Maulana Dr Muhammad Nasir
Maulana Dr Muhammad Nasir
Aug 10, 2021 - Dars-e-Hadith
مؤمنانہ فراست کا تقاضا

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔(صحیح البخاری: 6133)

(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا‘‘۔)

مؤمن کو عقل مند اور دانا ہونا چاہیے اور کسی بھی اِنفرادی، اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی امر کا فیصلہ حالات و واقعات کے پسِ منظر اور پیشِ منظر کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔ کسی سے باربار دھوکہ کھانے کی عادت مؤمنانہ فراست کے خلاف ہے۔ کسی کو باربار ظلم اور استحصال کرنے کا موقع دینا مؤمن کی خوبی نہیں ہوسکتی۔ مؤمن عدل و انصاف کو قائم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور جو عیاری سے اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو مؤمن اسے یہ عمل باربار نہیں کرنے دیتا۔

ابوعزہ شاعر جو حضرت مصعب ؓبن عمیر کا بھائی تھا، وہ نبی ﷺ کے مخالف ان سرکردہ لوگوں میں سے تھا، جو حضورﷺ کے خلاف سازشیں تیار کرتے تھے۔ ابوعزہ توہینِ رسول ﷺ پر مبنی اشعار کہہ کر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے لیے تکلیف کا باعث بنتا تھا۔ یہ غزوۂ بدر میں گرفتار کرلیا گیا تو اس نے معافی طلب کی اور یہ کہا کہ مَیں آئندہ آپ کو نہیں ستائوں گا۔ لیکن رہائی پاتے ہی اس نے پھر حضور ﷺ کے بارے میں توہین آمیز اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز اشعار کہنے شروع کردیے۔ غزوۂ اُحد میں یہ دوبارہ پکڑا گیا۔ یہ پھر کہنے لگا کہ آپؐ تو بڑے مہربان اور بڑے بردبار ہیں، آپؐ مجھے چھوڑ دیں ۔ مَیں آپؐ کو پھر نہیں ستائوں گا۔ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے یہ گراں قدر جملہ ارشاد فرمایا کہ: ’’مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا‘‘۔

ہمارے خطے کو انگریز سے آزاد ہوئے 74 سال ہوگئے ہیں۔ آزادی کے لیے ہمارے بزرگوں نے اپنا خون دیا۔ انگریز کے خلاف جدوجہد کا مقصد آزادی کا حصول تھا اور کسی قوم کی آزادی کا مطلب اس کی معاشی ترقی، سیاسی وحدت، سماجی استحکام، امن و امان کا قیام اور قومی خودمختاری و سا  لمیت کا قیام ہوتا ہے۔ مگریہ خواب تاحال شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ ہماری مقتدرہ اور لیڈرشپ پون صدی سے قوم کو حقیقی آزادی کے حوالے سے دھوکہ دیتی چلی آرہی ہے۔ اور ہم قومی مسائل کو شعوری بنیادوں پر تاحال سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے۔

یہ حدیث مبارکہ اس امر پر غور کرنے کی ضرورت کا احساس دِلاتی ہے کہ ہم مقتدرہ کے جھوٹے دعوئوں اور نعروں کی گونج کے سحر سے باہر نکلیں۔ اور اس بات کی رہنمائی دیتی ہے کہ ہم آزادی کے حقیقی مفہوم کو سمجھیں اور باربار دھوکہ دینے والوں اور عہدشکن لوگوں کو پہچانیں۔ اور وطنِ عزیز میں آزادی کی حقیقی روح کو قائم کرنے کے لیے دھوکہ بازوں سے بچنے کی راہ اپنائیں۔

Related Articles

حیا کی اہمیت

​عَنْ اِبن مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّﷺ: ’’إِنَّ مِمَّا أَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافعَلْ مَاشِئْتَ‘‘۔ (صحیح بخاری، حدیث: 3483)(حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے، …

Maulana Dr Muhammad Nasir Sep 11, 2025

علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ (2)

عَن ابنِ عبّاسؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ’’إنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِيْ سَیَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّیْنِ، وَ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُوْلُونَ: نَأتِي الْأُمَرَائَ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاھُمْ، وَ نَعْتَزِلُہُمْ بِدِیْنِنَا، وَ لَا…

Maulana Dr Muhammad Nasir Nov 11, 2023

عبادات اور اَخلاقیات کا باہمی ربط

عَنْ أبِي ہُرَیْرَۃَ، أِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ’’أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟‘‘ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِینَا مَنْ لا دِرْھَمَ لَہُ، وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: ’’إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي، یَأْتِي یَ…

Maulana Dr Muhammad Nasir Feb 11, 2022

Virtues of the first ten days of Dhul Hijj

Maulana Dr Muhammad Nasir Jun 07, 2024