حضرت رفاعہ ابن عبدالمنذر ابو لبابہ انصاری اوسی رضی اللہ عنہ

Maulana Qazi Muhammad Yousuf

Maulana Qazi Muhammad Yousuf
Maulana Qazi Muhammad Yousuf
Feb 12, 2025 - Eman Afroz Waqeyat
حضرت رفاعہ ابن عبدالمنذر ابو لبابہ انصاری اوسی رضی اللہ عنہ

حضرت رفاعہ ابن عبدالمنذر ابو لبابہ انصاری اوسی رضی اللہ عنہ

حضرت رفاعہؓ اصحابِ صفہ میں سے ہیں ۔ آپؓ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ بیعتِ عقبہ میں اپنے قبیلے کے سردار کی حیثیت سے حاضر ہوئے اور اپنے قبیلے کے نقیب مقرر ہوئے۔ ہجرتِ نبویؐ سے پہلے اکثر صحابہ کرامؓ نے مدینہ ہجرت کی۔ اکثریت نے قبا میں  حضرت ابولبابہؓ کے ہاں ہی قیام کیا۔ غزوۂ بدر میں شرکت کے لیے رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے تو ایک اونٹ پر رسول اللہؐ، رفاعہؓ اورعلیؓ تینوں باری باری سوار ہوتے تھے، جب آپ ﷺ کی پیدل چلنے کی باری آتی تو دونوں آفر کرتے کہ آپ سوار رہیں تو آپؐ فرماتے: ’’تم دونوں طاقت میں مجھ سے زیادہ نہیں اور راہِ خدا کی مشقت کے اجر و ثواب کا مَیں بھی محتاج ہوں ‘‘۔ 

آپؐ نے حضرت رفاعہؓ کو مقامِ بدر سے مدینہ کا امیر بنا کر واپس لوٹا دیا اور بدر کے شرکا میں شمار کر کے اجر و ثواب اور مال غنیمت میں ان کا حصہ مقررکیا۔ غزوۂ بنو قینقاع اور سویق کے موقع پر بھی رسول اللہ ﷺ نے انھیں مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا۔ ان دو غزوات کے علاوہ تمام غزوات میں آپﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ بالخصوص بیعتِ رضوان اور فتح مکہ میں شریک رہے اور فتح مکہ کے وقت اپنے قبیلہ بنو عمرو بن عوف کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔ آپؓ کی قبولیتِ توبہ کا واقعہ بھی بڑا مشہور ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو مسجدِ نبویؐ کے ستون کے ساتھ باندھ دیا تھا، جس وقت یہود بنوقریظہ نے آپؓ سے مشورہ مانگا تھا کہ ہم سعد ابن معاذ کو فیصل تسلیم کریں یا نہ کریں ، آپ کی رائے کیا ہے؟ تو اس وقت گردن کی طرف اشارہ کر کے انھیں ان کے قتل کا بتایا تھا، اس پر انھیں توجہ ہوئی کہ انھوں نے رسول اللہؐ کی رائے کے خلاف رائے دی ہے اور اپنے آپ کو ستون سے باندھ دیا۔ کئی دنوں کے بعد آپؓ کی توبہ قبول ہوئی اور مسجدِ نبویؐ کے اندر ’’ریاض الجنت‘‘ میں آج بھی ایک ستون ’’استوانہ ابولبابہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ سات دن کے بعد توبہ قبول ہوئی تو اُمِ سلمہؓ نے خوش خبری دی۔ انھوں نے قسم کھا لی کہ میں اپنے آپ کو نہ کھولوں گا جب تک خود نبی ﷺ اپنے دستِ مبارک سے میری رسی نہ کھولیں ۔ آپؐ تشریف لائے اور اپنے دستِ مبارک سے اس قیدی کو آزاد کر دیا۔ یہ دیکھ کر ابولبابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اس توبہ کی قبولیت کی خوشی میں اپنا علاقہ چھوڑنا چاہتاہوں اور اپنا سارا مال اللہ تعالی کے راستے میں صدقہ کردینا چاہتا ہوں ۔

آپؐ نے فرمایا: ابولبابہ! ایک تہائی مال تمھارے لیے کافی ہے‘‘، یعنی ایک تہائی مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کر دومگر علاقہ چھوڑنے سے منع کر دیا۔ حضرت ابولبابہؓ نے اسلام کی اجتماعی جدو جہد میں جانی، مالی اور ہر قسم کی قربانیاں دیں اور اجتماعی معاملے میں خود احتسابی کا مظہر بنے اور اپنے دینی و اجتماعی کردار کو شعوری طور پر قائم رکھا۔ حضرت علیؓ کے عہدِ خلافت میں آپؓ کی وفات ہوئی۔ (نسائی، حاکم، الاستیعاب، اسد الغابہ،تاریخ ابن کثیر)

Related Articles

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Oct 10, 2022

Hazrat Hakeem ibn Hizam al-Qurashi al-Asadi

Hazrat Hakeem ibn Hizam al-Qurashi al-Asadi, also known as Abu Khalid Maki, was deeply devoted to the Prophet Muhammad (peace be upon him). He embraced Islam during the…

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Jul 11, 2023

حضرت عثمان بن طلحہ بن ابو طلحہ قریشی عبدری الحجبی رضی اللہ عنہٗ

​​حضرت عثمان بن طلحہ قریشی رضی اللہ عنہٗ بہت سی انسانی خوبیوں اور بہترین اَخلاق اور انسانیت کے مظہر لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔آپؓ بیت اللہ الحرام کے حاجب یعنی کلید برداری کے …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf May 08, 2025

سیّدنا عبدالملک بن مروانؒ

پچھلے دنوں ایک دعائیہ تقریب میں ایک ’’عالمی مبلغ‘‘ نے جھوٹی اور موضوع روایات کا سہارا لے کر خلفائے بنواُمیہ کی کردار کشی کی اور ایسے جھوٹے واقعات …

Mufti Muhammad Ashraf Atif Jun 11, 2022