سلطنتِ عثمانیہ کے آٹھویں حکمران؛ سلطان بایزید ثانی

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف
جولائی 06, 2026 - ناقابلِ فراموش
سلطنتِ عثمانیہ کے آٹھویں حکمران؛ سلطان بایزید ثانی

سلطنتِ عثمانیہ کے آٹھویں حکمران؛ سلطان بایزید ثانی

سلطان محمد فاتح کے دو بیٹے تھے، جو مختلف صوبوں کے گورنر تھے۔ ایک بیٹا بایزید ثانی اماسیہ کا حاکم تھا تو دوسرا بیٹا جمشید کرمانیہ کا۔ بایزید کا رجحان مذہب و فلسفہ کی طرف تھا۔ وہ سادہ مزاج حلیم الطبع اور شریعت کا پابند تھا۔ شاعری سے بھی خاصی دلچسپی تھی۔ ان تمام خوبیوں کے باوصف وہ فنِ حرب و ضرب اور شجاعت و بہادری میں بھی ممتاز تھا۔دوسرے لڑکے شہزادہ جمشید میں اپنے باپ سلطان محمد فاتح کے زیادہ تر اوصاف پائے جاتے تھے۔ وہ شجاعت و بہادری میں باپ کی طرح تھا۔ حکمرانی و جہاں بانی کی اہلیت خدا داد تھی۔ شاعری کا بھی بہترین ذوق تھا۔سلطان محمد فاتح کا جب انتقال ہوا تو سلطنت کے وزیرِ اعظم نے سلطان کی وفات کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی، تاکہ شہزادہ جمشید قسطنطنیہ پہنچ جائے۔ وزیرِ اعظم‘ شہزادہ جمشید کا حامی تھا اور وہ اس کو تختِ سلطنت پر بٹھانا چاہتا تھا، جب کہ فوج بایزید ثانی کی حامی تھی۔ والد کی وفات کی خبر سن کر شہزادہ بایزید قسطنطنیہ پہنچ گئے اور فوج (ینی چری) کی حمایت سے تختِ سلطنت پر براجمان ہوگئے۔ اُدھر سلطنت کے وزیرِ اعظم کو فوج نے قتل کر دیا۔ اس جرم کی پاداش میں کہ اس نے اپنے منظورِ نظر شہزادے کو تخت پر بٹھانے کے لیے سلطان محمد فاتح کی وفات کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی۔

فوج نے بایزید ثانی کو سلطان کے منصب پر فائز کرنے کے صلے میں تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مراعات کا مطالبہ کر دیا جو بایزید کو مجبوراً پورا کرنا پڑا۔ اس کے بعد تین سو سال تک فوج کی یہ خودسری اور بے جا مطالبات کی روایت جاری رہی۔ یہ روایت جہاں شاہی خزانے پر بار تھی، وہاں عثمانی سلاطین کے لیے باعثِ خفت بھی تھی۔

عثمانی خاندان کی روایت چلی آرہی تھی کہ کوئی شہزادہ تاج و تخت سے کم پر راضی نہ ہوتا تھا۔ اس لیے سلطان محمد فاتح کے انتقال پر اس کے بیٹوں میں اقتدار کے لیے رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اس صورتِ حال میں بایزید ثانی اگرچہ تختِ سلطانی پر بیٹھ چکا تھا اور فوج اور دیگر اربابِ سلطنت نے اس کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا تھا، لیکن شہزادہ جمشید نے بغاوت کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے اس نے یہ تجویز پیش کی کہ سلطنت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ عثمانی سلطنت کا وہ حصہ جو یورپ میں ہے اس پر بایزید کی حکومت ہو اور ایشیائی صوبوں پر جمشید کی حکومت تسلیم کر لی جائے، لیکن بایزید نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ اس پر دونوں میں محاذ آرائی شروع ہو گئی۔پہلے مرحلے میں عثمانی سپہ سالار احمد کدک نے شہزادے جمشید کی اس بغاوت کو فرو کیا۔ شکست کھانے پر شہزادہ بھاگ کر مصر چلا گیا اور مصر کے بادشاہ کے یہاں پناہ حاصل کر لی۔ مصر پر اس وقت مملوکوں کی حکومت تھی۔اگلے سال مصر کی فوجی مدد کے ساتھ اور ایشیائے کوچک کے بعض ترک سرداروں کی حمایت سے پھر مقابلے کے لیے کمر بستہ ہوا تو اس بار بھی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

اب کی بار شہزادہ ’’روڈس‘‘ (یونان کا مشہور جزیرہ جو بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں ترکی کے ساحل سے قریب ہے) پہنچا۔ وہاں کا عیسائی حکمران انتہائی چالاک و عیار تھا۔اس نے ایک طرف تو شہزادہ جمشید کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور دوسری طرف سلطان بایزید ثانی سے رابطہ کرکے شہزادے کو اپنی تحویل میں رکھنے کا پینتالیس ہزار ڈوکاٹ (سونے کا سکہ) کا معاوضہ طلب کیا۔ چناں چہ کئی برس تک یہ شہزادہ ان کی تحویل میں رہا۔ پھر فرانس میں کچھ عرصہ رہا۔ اس وقت یورپ کے یہ حکمران شہزادے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے سلطنتِ عثمانیہ کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ ان منصوبوں میں وہاں کا کلیسا بھی شامل تھا۔

شہزادہ جمشید کے ان حالات پر مشہور برطانوی مؤرخ و مستشرق اسٹینلے لین پول لکھتا ہے کہ: ’’اس وقت دنیائے مسیحیت میں ایک بھی ایسا ایمان دار بادشاہ نہ تھا، جو قیدی پر ترس کھاتا اور کوئی ایسا حکمران جو پوپ اور چارلس ہشتم (شاہِ فرانس) کی عبرت ناک اور ضمیر فروشانہ سازشوں پر نفریں کرتا‘‘۔ اس وقت سے لے کر آج تک یورپ کے ان بھیڑیوں کا یہی سازشی کردار رہا ہے۔ برعظیم کی تاریخ اور دیگر وہ ممالک جہاں یہ قابض ہوئے، وہاں کے حالات و واقعات ان کی بربریت، عہد شکنی اور سازشی رویوں کے عکاس ہیں۔شہزادہ جمشید کو جب یورپ کے ان حکمرانوں اور مذہبی رہنماؤں کے ان ارادوں کا علم ہوا تو اس نے مرتے وقت یہ دعا کی: ’’اے میرے رب! اگر دینِ حق کے یہ دشمن چاہتے ہیں کہ میری ذات کو آلہ کار بنا کر ان منصوبوں کو پورا کریں، جو انھوں نے مسلمانوں کی بربادی کے بنا رکھے ہیں تو آج کے بعد مجھے زندہ نہ رکھ اور میری روح کو اپنی طرف اٹھا لے‘‘۔ اور اس طرح فاتحِ قسطنطنیہ کا یہ جوان ہمت بیٹا 36 سال کی عمر میں قیدِ فرنگ اور قیدِ حیات دونوں سے آزاد ہو گیا۔ سلطان بایزید ثانی نے اس کی میت کو یورپ سے منگوا کر شاہی اعزاز و اکرام کے ساتھ ’’بروصہ‘‘ میں سپردِ خاک کیا۔

سلطان بایزید ثانی کے عہدِ حکومت کا دورانیہ 1481ء سے 1512ء پر مشتمل ہے۔ ان کا طرزِ حکومت اس لحاظ سے منفرد تھا کہ انھوں نے صلح، امن اور علم و حِلم سے رعایا کے دلوں پر حکمرانی کی۔1492ء میں جب سپین کے صلیبیوں نے اندلس کے مسلمانوں اور یہودیوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی اور ان کو سپین سے نکالنا شروع کیا تو اس وقت کی دیگر سلطنتیں آج کی طرح خاموش تھیں، لیکن سلطنتِ عثمانیہ کے اس حکمران نے خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ ایسے وقت میں مسلمانوں اور یہودیوں کی مدد کی۔ اپنی بحریہ کے ذمہ داروں کو حکم دیا کہ وہ ان مظلوموں کو سپین سے نکال کر عثمانی علاقوں میں آباد کریں۔ چناں چہ انھیں قسطنطنیہ، ازمیر اور دیگر شہروں میں آباد کیا گیا۔ ان کے ہنرمندوں کے ہنر سے فائدہ اٹھایا گیا، جس سے عثمانی سلطنت میں معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ بایزید کے دورِ حکومت میں بہت سے علمی ادارے قائم ہوئے، مساجد، ہسپتال اور کارواں سرائے تعمیر ہوئیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے دور میں سلطنت مستحکم ہوئی، تاہم اندرونی خانہ جنگی کی وجہ سے مشکلات بھی پیش آئیں۔

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف

مفتی محمد اشرف عاطف
جامعہ خیر المدارس ملتان سے فاضل، خلیفہ مجاز حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ  اور ماہر تعلیم ہیں۔ آپ کو حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ سے شرفِ بیعت حاصل ہے۔ آپ نے ایک عرصہ حضرت مولانا منظور احسن دہلویؒ کے دست راست کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ فرید ٹاؤن ساہیوال میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں۔ ساہیوال کے معروف دینی ادارے جامعہ رشیدیہ میں بطور صدر مفتی خدمات انجام دیں۔ 1974 کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں بھی بھرپور حصہ لیا ۔ تین دہائیوں تک سعودی عرب کے معروف تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ آج کل ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ٹرسٹ لاہور میں استاذ الحدیث و الفقہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ مجلہ رحیمیہ میں سلسلہ وار "تاریخ اسلام کی ناقابل فراموش شخصیات" کے تحت مسلم تاریخ سے متعلق ان کے وقیع مضامین تسلسل کے ساتھ شائع ہورہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

خلافتِ بنو عباس؛ نظام و کارنامے

خلافتِ بنو عباس کا زمانہ بھی خلافتِ راشدہ اور خلافتِ بنواُمیہ کی طرح خیر و برکت کا زمانہ تھا۔ ابتدا میں اسلام اور عربی رنگ غالب تھا، لیکن فتنوں کے ظہور اور متوکل علی اللہ کے…

مفتی محمد اشرف عاطف ستمبر 15, 2023

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …

مولانا قاضی محمد یوسف اکتوبر 10, 2022

خلافتِ راشدہ کے نظام میں وسیع تر بامعنی مشاورت اور آج کی جمہوریت

وطنِ عزیز کی سیاست اپنے روز ِقیام ہی سے مختلف نعروں سے عبارت رہی ہے، جیساکہ ہم نے گزشتہ ماہ کے شذرات میں یہاں اسلامی نظام کے نمائشی نعروں کے برعکس چند سنجیدہ گزارشات …

مولانا محمد عباس شاد نومبر 11, 2021

حضرت ثابت بن قیس بن شماس اَنصاریؓ ’خطیبُ النبیؐ‘

حضرت ثابت بن قیس بن شماس خزرجیؓ اَنصار کے اور رسول اللہ ﷺ کے ’’خطیب‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ فصاحت و بلاغت اور خطابت میں آپؓ کو بڑی مہارت حاصل تھی، اس …

مولانا قاضی محمد یوسف مارچ 16, 2023