طارق بن زیاد؛ فاتح اَندلُس  (2)

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف
مارچ 14, 2021 - ناقابلِ فراموش
طارق بن زیاد؛ فاتح اَندلُس  (2)

طارق بن زیاد کی قیادت میں جب اسلامی لشکر جبل الطارق پر اُترا تو اس کے آس پاس کے جزیرے اور شہر بآسانی زیرنگیں ہوگئے۔ طارق نے ان شہروں کی فصیلوں اور قلعوں کو درست کرایا۔ وہ اندلس کے شاہی لشکر سے مقابلے کی تیاری کرنے لگے۔ اُدھر جو چند شہر قبضے میں آئے تھے، وہاں کے باشندوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ اس علاقے کا گورنر اِن اجنبی حملہ آوروں کو ساحل پر دیکھ کر خوف زدہ ہوگیا۔ اس نے مقابلے کی جرأت کی، لیکن ایک ہی حملے میں پسپا ہوگیا۔ اس نے اندلس کے بادشاہ راڈرک کے پاس ایک تیز رفتار قاصد بھیجا اور اس کو اطلاع دی کہ ہماری زمین پر ایک بلا اُتری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ آسمان سے نازل ہوئی ہے یا زمین سے نکلی ہے۔ 
بادشاہ کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ اس ناگہانی افتاد سے سخت گھبرایا اور مقابلے کی تیاری شروع کردی۔ حملہ آوروں کو ملک سے نکالنے کی ملک و قوم اورمذہب کے نام پر اپیل کی۔ اپنے مخالفین کو بھی بلایا۔ طارق نے دشمن کی اتنی بڑی فوج کے جمع ہونے کا حال سنا تو موسیٰ بن نُصَیر کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ موسیٰ بھی متوقع صورتِ حال سے غافل نہ تھے۔ وہ کمک کے لیے پہلے سے ہی کشتیوں پر کشتیاں تیار کروا رہے تھے۔ طارق کی امداد کی درخواست پر انھوں نے پانچ ہزار فوج بھیجی۔ اس طرح اسلامی لشکر کی مجموعی تعدادی بارہ ہزار ہوگئی۔ راڈرک ایک لاکھ مسلح فوج لے کر مقابلے پر آیا۔ دوسری طرف مسلمان لشکر دشمن کی اتنی بڑی فوج سے مرعوب ہو رہا تھا۔ طارق نے اس صورتِ حال کو دیکھا تو مجاہدین کے خوف کو دور کرنے کے لیے جنگ شروع ہونے سے پہلی رات ایک پرزور اور مؤثر تقریر کی: ’’مسلمانو! خوب سمجھ لو! اب تمھارے بھاگنے کی جگہ کہیں نہیں۔ سمندر تمھارے پیچھے اور دشمن تمھارے آگے ہے۔ اللہ کی قسم اب سوائے ہمت و استقلال کے تمھارے لیے کوئی راستہ نہیں۔ یہی دونوں اوصاف ہیں، جو شکست نہیں کھا سکتے۔ تمھارا دشمن اپنی فوج اور سامانِ جنگ کے ساتھ مقابلے پر آچکا ہے۔ اس کے پاس سامانِ رسد کا ذخیرہ بھی وافر ہے، مگر تمھارے پاس کچھ نہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے دشمن سے یہ اسباب چھین کر حاصل کرلو۔ اگر تم نے کوتاہی کی اور بزدلی دکھائی تو تمھاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ میں تمھیں ایسے مقام پر لایا ہوں، جہاں سب سے سستی چیز انسانوں کی جانیں ہیں۔ سب سے پہلے میں اپنے آپ سے شروع کرتا ہوں۔ مجھے تم جو کچھ کرتا ہوا دیکھو، اسی کی پیروی کرو۔ اگر میں حملہ کروں تو تم بھی ٹوٹ پڑو۔ لڑائی کے میدان میں سب مل کر ایک شخص واحد کی صورت اختیار کرلو‘‘۔ اس پُرجوش تقریر سے فوج کے دل عزم و ہمت، جوش و خروش اور فتح و ظفر کی امیدوں سے معمور ہوگئے۔ یہ ۲۷؍ رمضان ۹۲ھ/ 19؍ جولائی 711ء کی یادگار صبح کا سپیدہ نمودار ہوا تو طبل جنگ بجایا گیا۔ حملے کی ابتدا ہسپانیہ کے لشکر کی طرف سے ہوئی۔ گھمسان کا رن پڑا۔ ۲۷؍ رمضان سے ۵؍ شوال تک جنگ جاری رہی۔ طارق اور اس کی بہادر فوج نے بالآخر جنگ جیت لی اور اندلس کا اکثر حصہ فتح ہوگیا۔ 
 

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف

استاذ الحدیث و الفقہ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور

متعلقہ مضامین
یورپ میں بنواُمیہ کی فتوحات اور علوم و فنون کی ترقی

تاریخ میں بنواُمیہ کا دورِ حکومت سیاسی اور دینی وحدت کے اعتبار سے سنہری اور فتوحات کا دور تھا۔ اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں موسیٰ بن نُصَیرافریقا کے گورنر تھے۔ طارق…

مفتی محمد اشرف عاطف مارچ 14, 2021

طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

طارق بن زیاد خلافت ِبنی اُمیہ کے مسلم جرنیل تھے۔ وادیٔ تافنہ الجزائر میں ۵۰ھ / 670ء میں پیدا ہوئے اور دمشق میں 720ء میں تقریباً پچاس سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا افریقا ک…

مفتی محمد اشرف عاطف مارچ 14, 2021