تنازعۂ فلسطین کا حالیہ مظہر

مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان
نومبر 13, 2023 - عالمی
تنازعۂ فلسطین کا حالیہ مظہر

نباتاتی زندگی اپنے اندر ایک مربوط اور مضبوط نظام رکھتی ہے، جس کا اَساسی تعلق اس کی جڑوں سے ہوتا ہے، جو زمین میں مخفی ہوتی ہیں۔ یہ نظام انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اگرچہ اس کا ظاہری حصہ ہر انسان کو نظر آتا ہے، اس لیے اس پر اظہارِ خیا ل بھی ہوتا ہے۔ درخت اس زندگی کا عملی مظہر ہوتا ہے، جو اپنی طبعی عمر گزار نے کے بعد لڑکھڑانا شروع کردیتا ہے۔ پہلے اس کی جڑیں کھوکھلی ہوتی ہیں۔ زمین اور جڑوں کے درمیان ایک باریک پردہ حائل ہوتا ہے، جو طبعی عمر کو پہنچ کر آہستہ آہستہ دونوں سے علاحدگی اختیار کرنے لگتا ہے۔ ظاہر میں اظہار پتوں کی رنگت میں تبدیلی سے ہوتا ہے، جس کا اثر اس کی شاخوں اور پھولوں پر پڑتا ہے۔ سب سے آخر میں تنا بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ طویل عرصے تک وہ لوگوں کی نظروں میں تو رہتا ہے، لیکن مزید شاخیں اور پتے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ جو ا س درخت کی بڑھوتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کیوں کہ جب جڑیں کھوکھلی ہوجائیں تو پھر تنا بھی خشک ہوکر بڑھوتری کے عمل سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے۔ مسافروں، راہگیروں اور پھل سے مستفید ہونے والوں کے لیے تنا مفید ہونے کے بجائے مسائل، مشکلات اور رُکاوٹیں پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ بالآخر معاشرہ تنگ آکر اسے راستے سے ہٹا دیتا ہے۔ اسی قسم کا طریقۂ کار اور انداز معاشرے میں انسا نوں کے تشکیل کردہ سماجی نظا م کے ساتھ ہوتا ہے۔ ذیل میں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ 
ایران نے 10؍ اکتوبر 2023ء بروز منگل سے ’’مد افعان آسمان ولایت‘‘ ایئر ڈیفنس فوجی مشقوںکا آغاز کردیا ہے، جس میں ایران کی برّی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ائیر ڈیفنس فورس کے مختلف یونٹ حصہ لے رہے ہیں۔ نمائش میں ایرانی ماہرین کے تیار کردہ میزائل ڈیفنس سسٹم، ریڈار، الیکٹرانک جنگی اور مواصلاتی آلات اور وسائل کا استعمال دکھایا گیا ہے۔ (سحر نیوز، 10؍ اکتوبر 2023 ء) 
ایک رپورٹ کے مطاابق ایران نے طویل فاصلے پر زمین سے زمین تک مار کرنے والے (ہائی پر سونک میزائل جس کی سپیڈ 18 ہزر کلو میٹر فی گھنٹہ ) میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ تجربہ بین ا لاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ: ’’اس میزائل کے تجربے نے امریکا کی میزائل دفاع شیلڈ کی اہمیت کو اُجاگر کردیا ہے‘‘۔ (الجزیرہ، 7؍ جون 2023ء)یمن کے وزیرِ دفاع نے صنعا میں مسلح افواج کی فوجی پریڈ کی عظیم الشان تقریب میں اعلان کیا ہے کہ: ’’ملک کی فوج آنے والے دنوں اور ہفتوں میں اپنی جنگی تیاریوں کو دوگنا کرے گی‘‘۔ (فارس نیوز، 21؍ ستمبر 2023 ء)
غزہ کی حکمران جماعت اور مزاحمتی تنظیم حماس نے ’’ طوفان الا قصیٰ‘‘ آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ کارروائی کا آغاز 6؍ اکتوبر سے کیا گیا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب یہودیوں نے مقدس ترین ’’یوم کیپور‘‘ مناتے ہوئے 6؍ اکتوبر 1973ء کو مصر، شام اور ان کے اتحادیوں کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، جو 26؍ اکتوبر تک جاری رہی تھی۔ حماس نے ٹھیک 50 سال بعد اسی دن کا انتخاب کر کے اسی حملے کا جواب دیا ہے۔ یا د رہے یہودیوں کا مقدس ترین یوم کیپور ’’عشرۂ توبہ‘‘ کے آخری روز منایا جاتاہے۔ اس روز سورج ڈوبنے سے اگلے دن سورج غروب ہونے تک طویل روزہ رکھا جاتا ہے، جس کا مقصد سال بھر کی توبہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی روز یہودی ایک دوسرے سے معافی مانگتے ہیں، ناراضگیاں دور کرتے ہیں۔ یوم کیپور کے ایام ہر سال اکتوبر یا ستمبر میں آتے ہیں اور 1973ء میں یہ دن 6 اکتوبر کو آیا تھا۔ (ایکسپریس نیوز 8؍ اکتوبر 2023ء)
 استعماری قوتوں نے اپنے غلبے سے مشرقِ وسطیٰ کو مستقل بداَمنی کا شکار کر رکھا ہے۔ خطے کی نمائندہ قوتوں کو غلامی کے طوق میں جکڑا گیا، جسے برقرار رکھنے کے لیے مستقل آگ کا جلاؤ جلایا گیا۔ جس میں ایندھن جھونکنے کا مستقل بندو بست ہوتا رہا۔ گزشتہ 70 سالوں سے آگ کے گولے برسنے اور خون کی ندیاں بہنے سے پورا مشرقِ وسطیٰ کوئلوں کا ڈھیر بن چکا تھا۔ ایسی سرزمین سے پھول پیدا ہونے کی توقع کرنا بھی عبث کہلاتا ہے۔ عدمِ تشد د کی حکمتِ عملی پر کام کرنے والوں کو حرفِ غلط کی طرح صفحۂ زیست سے مٹا دیا گیا۔ دوسری اہم بات یہ کہ استعمار کے مقابلے کی عالمی قوت کے ناپید ہونے کے باعث یہ غنڈہ گردی بلا تعطل جاری تھی۔ یہ قوتیں اتنی بے دھڑک اور بے خوف تھیں کہ انھیں اپنے ظلم کی پردہ پوشی کے لیے بھی کسی حکمتِ عملی کی ضرورت نہ تھی۔ علاقائی قوتیں جب تک کمزور رہیں، عسکریت پسند طبقے بھی ناتواں رہے۔ 
آج دنیا نئی کروٹ لے رہی ہے۔ ایران ایسی تما م قوتوں کا نمائندہ بن کر سامنے آیا ہے جس کی حمایت میں استعمار دشمن طاقتیں جمع ہیں۔ اس نے مستقل دباؤ میں رہنے کے گُر سیکھ لیے ہیں۔ مشکل حالات میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے ناممکن حصول کو ممکن کرکے دکھایا۔ جوہری ٹیکنالوجی کے آلات کایوکرین جنگ میں استعمال اور اپنے ملک میں مظاہرے سے طاغوتی طاقتوں کی نیند یں حرام کردی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا یہ کہنے پر مجبو ر ہوگیا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے دفا ع کے لیے دفاعی شیلڈ کا اہتمام کرنا ضروری ہوگیا۔ جنگ یورپ میں ہو یا ا یشیا اس کی جولان گاہ بنے، سامراج چت ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ استعمار ی مرکز کے ارد گرد بسنے والی اقوام آج حملہ آور ہونے کا عندیہ دے رہی ہیں۔ سامراجی نظام انسانیت پر ظلم ڈھانے کے باعث اپنی جڑیں کھوکھلی کرچکا ہے۔ اس کے پتے اور شاخیں رنگت بدل رہی ہیں۔ ایران کا یہ کہنا کہ جنگ کی نوعیت کیاہوگی؟! اس کا دارومدار اسرائیلی اقدامات پر منحصر ہے۔ گویا ایر ان نے ایک ہی پیغام سے امریکاکو میزائل بنا کراور اسرائیل کو مشاہدے سے چیلنج کر دیا ہے کہ میدانِ جنگ اور آلاتِ جنگ جس کا انتخاب اسرائیل کرنا چاہے ، ایران تیار ہے۔ آج غزہ کی جنگ انسانیت پر ہونے والے تاریخی ظلم ،زیادتی، دہشت گردی، خوف و ہراس اور نا انصافی کا عملی مظہر ہے۔

 

مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان

مرزا محمد رمضان نے ساہیوال میں 1980 کی دہائی کے آغاز میں حضرت مولانا منظور احسن دہلویؒ کی مجالس سے دینی شعور کے سفر کا آغاز کیا اور پھر حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ سے ان کی رحلت تک تعلیم و تربیت کا تعلق استقامت کے ساتھ استوار رکھا۔ اب حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ سے وابستہ ہیں۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے معاشیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور 33 سال تک پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے ادارہ آئی بی پی میں پانج سال تک معاشیات، اکاونٹس اور بینکنگ لاز میں تعلیم دیتے رہے۔ معیشت کے ساتھ ساتھ آپ قومی و بین الاقوامی امور و حالات حاضرہ پر مجلہ رحیمیہ میں گزشتہ کئی سالوں سے "عالمی منظر نامہ"کے سلسلہ کے تحت بین الاقوامی حالات  حاضرہ پر  مضامین لکھ رہے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

اقوامِ عالم کی ترقی کے لیے دو قرآنی اُصول

20؍ اگست 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز دوس…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری ستمبر 10, 2021

نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی   (3)

( مسئلہ یو کرین کا پس منظر) ملک میں ایمر جنسی نافذ کردی جاتی ہے۔ فوجیں ماسکو میں پہنچنا شروع ہوجاتی ہیں۔ وہاں ان فوجوں کا سامنا انسانی ہاتھوں سے بنی ہوئی زنجیر وں سے …

مرزا محمد رمضان جون 11, 2022

ایشیائی طاقتیں اور مستقبل کا افغانستان

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے بہ قول ’’مغلوں کے دور میں ہندوستان پوری دنیا کی مجموعی پیدا وار کا 24 فی صد حصہ اکیلا پیدا کرتا تھا، لیکن برطانیہ نے اسے لوٹ …

مرزا محمد رمضان ستمبر 10, 2021

ایشیا سے امریکی اِنخلا کا آغاز؛ افغانستان

عالمی اَخبارات کی فراہم کردہ خبریں دنیا میں خبر کا معیار سمجھی جاتی ہیں۔ خطے میں تربیت یافتہ صحافی اور اَخبارات اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ امریکا کی کسی بھی ناکامی کو کامیاب…

مرزا محمد رمضان جولائی 08, 2021