سوسائٹی کی تشکیل کے لیے اُسوۂ حسنہ کی اہمیت

سوسائٹی کی تشکیل کے لیے اُسوۂ حسنہ کی اہمیت

 

سیرۃ النبی ﷺ کی اہمیت

مسلمان جماعت کے لیے نبی اکرمؐ کی سیرت اور آپ کی زندگی اُسوۂ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم الشان شخصیت ہیں، جو تمام انسانیت کے لیے نمونہ ہیں۔ آپؐ کی سیرت کو پیش نظر رکھ کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر و تشکیل کرنا انسانی فطرت کا بنیادی تقاضا ہے۔ قوموں کے رہنما اور لیڈر اپنی اپنی قوموں کے لیے رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ لیکن محمد رسول اللہ وہ عظیم الشان انسان ہیں، جنھوں نے انسانیت کی رہنمائی کی۔ گزشتہ انبیا ؑبھی اپنی اپنی قوموں کی طرف مبعوث ہوئے۔ لیکن نبی اکرم کی بعثت پوری انسانیت کی طرف ہے۔بخاری شریف میں حدیث ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایاکہ: تمام انبیا ؑاپنی اپنی قوموں کی طرف مبعوث ہوئے۔ لیکن میری خصوصیت یہ ہے کہ میں تمام انسانیت کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔ انسانیت کے لیے نمونہ اور معیار ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے انسانیت کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب اور تبدیلی کا تھا۔ آپؐ نے اپنی تیئس سالہ نبوت کے دور میں انسانی معاشروں میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے کے اصول، قاعدے اور ضابطے کی رہنمائی کی۔ کہ کیسے انسانی معاشرے منظم ہوں؟ کس طرح ان کی اجتماعیت قائم ہو؟ وہ آگے بڑھ کر اپنی تنظیمی اور اجتماعی طاقت سے اپنا سیاسی نظام کیسے بنائیں؟ نیز اپنا معاشی اور اقتصادی نظام کیسے تشکیل دیں؟ اپنے اختلافی مسائل کے حل کرنے کا کون سا میکنزم انسانیت کے سامنے رکھیں؟ آپؐ کی سیرت و کردار میں ان تمام امور کو واضح کیا گیا۔ ایک بہت ہی اہم بات، جو ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے، وہ یہ کہ انسانی معاشروں کی تنظیم و تشکیل کے لیے منظم اجتماعیت، سماجی و عمرانی تشکیل کے لیے بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ حجاز، جہاں بہت سے قبائل، بہت سی اقوام موجود تھیں، اور ان تمام لسانی، مذہبی اور قبائلی اختلافات میں بٹے ہوئے لوگوں کو ایک منظم معاشرے کی شکل دینا، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کا بہت اہم اور بلند پہلو ہے۔ عام طور پر اس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔

سیرۃ النبی ﷺ کو اختیار کرنے کا حقیقی مفہوم

ہم حضوؐر کی محض ذاتی خصوصیات تو بیان کرتے ہیں، اور عام طور پر وہ خصوصیات ایسی ہوتی ہیں، جو آپؐ کی ذات کے ساتھ ہی خاص ہوتی ہیں، وہ عام انسانوں میں پائی جانی ممکن نہیں، لیکن وہ عمل، جو بطورِ نمونے کے تمام انسانیت کے سامنے رکھنا ہے، اس پر ہم گفتگو اور بحث نہیں کرتے۔ آپ دیکھئے کہ پورے حجاز کا اگر سیاسی، معاشی اور عمرانی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو وہ ایک بکھرا ہوا اور منتشر معاشرہ تھا۔ قبائل کے درمیان جنگیں تھیں، لڑائیاں تھیں۔ تضادات تھے، اختلافات تھے۔ اگر کوئی معمولی سی منظم حکومت موجود تھی تو وہ صرف مکے کی تھی۔ قصی ابن کلاب کے زمانے سے مکے کی ایک مختصر اور چھوٹی سی حکومت موجود تھی۔ چند ایک شعبے اور محکمے وہاں کام کرتے تھے۔ دس، بارہ اس کے وزرا تھے۔ لیکن وہ ایک قبیلے (قریش) کی سیادت اور اقتدار کا نمونہ تو تھی، انسانی مسائل کے حل کرنے کا اس حکومت کا کوئی کردار نہ تھا۔ باقی پورے کا پورا معاشرہ منتشر اور بکھرا ہوا تھا۔جتنا بھی حجاز کا اثاثہ تھا، سماجی تہذیب کے حوالے سے، عمرانی نقطہ نظر سے، جو بھی مکے کا نظام تھا، جیسا بھی تھا، جو بھی اس معاشرے نے پچھلے تین سو سال سے ترقی کی تھی، اس ترقی کا جو آخری خلاصہ ابوجہل کی قیادت میں مکے کی حکومت کی صورت میں تھا، حضوؐر نے اس نظام کو چیلنج کیا۔ اس کی خرابیاں واضح کیں۔ اس میں پیدا ہونے والے تضادات اور اختلافات کی نوعیت کا تعین کیا۔ تو وہی حکومت اور نظام حضوؐر کے مقابلے پر آگیا۔ ایک تو وہ نظام خود ناکارہ تھا،اور مسائل کے حل کرنے کی صلاحیت سے عاری، اور دوسرے یہ کہ زیادہ ترقی یافتہ فکر اور سسٹم کے مقابلے پر، وہ لڑائی، تشدد، جھگڑے اور انتقام کے راستے پر اُتر آیا۔ اب مکے میں تو پھر بھی کسی درجے میں، سیاسی، معاشی تجزیہ یہ بتلاتا ہے، کہ ایک درجے میں حکومت موجود تھی، لیکن مدینہ منورہ، جسے یثرب کہا جاتا تھا، وہاں تو حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ چوبیس، پچیس قبائل، اور پھر یہ کہ یہودیوں کے الگ قبیلے، پھر یہودیوں میں آگے ان کے موالی، اور ان سے پھوٹنے والی مختلف شاخیں قبیلہ اوس، جو انصار کا ایک بڑا قبیلہ تھا، اور اس کی آگے شاخیں، قبیلہ خزرج اور پھر اس کی آگے شاخین، یہودی وہاں پر ہیں، مشرک وہاں پر ہیں، عیسائی وہاں پر ہیں، اور پھر قبائلی تضادات وہاں موجود، ایسے انتشار کے ماحول میں کہ جب یثرب قبائلی دور سے گزر رہا ہے، حضوؐر نے مدینہ پہنچ کر اس یثرب کو مدینہ بنا دیا۔

مدینۃ النبی ﷺ کے انتظامی خدوخال

یہ لفظ ِمدینہ، یہ مدنیت، شہریت، Civilisation پر دلالت کرتا ہے۔ عربی کا لفظ مدنیت، شہریت کے معنی میں ہے۔ اور مدینہ وہ کہ جس کو ایک شہر بنا دیا گیا۔ جس کو ایک سول سوسائٹی میں ڈھال دیا گیا۔ جس کا ایک نظام بنا دیا گیا۔ اس لیے اس یثرب کو مدینہ کہا جاتا ہے۔ اب ہمارے لیے مدینہ صرف گانے، اور اس کی نعتیں اور نظمیں پڑھنے اور آمد ینہ جا مدینہ کے درمیان رہ گیا۔ مدینے کی جو مدنیت کا تصور ہے، وہ سماجیات کا تصور ہے۔ سماجی تہذیب و تشکیل کا جو عنوان ہے، وہ عنوان ہمارے ذہنوں سے نکال دیا گیا۔ پستی اور غلامی کی حالت دیکھئے کہ ہمارا نظریہ بدل دیا گیا۔ محمد رسول اللہؐ نے یثرب کو مدینہ بنایا، یہ مدنیت عطا کرنا، یہ سول سوسائٹی کے بنیادی امور کی نشان دہی کرنا، اس کا عملی سسٹم بنانا، محمد الرسول اللہؐ کی جدوجہد کا نقطہ امتیاز تھا۔ آپؐ نے مدینہ کو جو اولین ریاست بنایا، اس کا آغاز ہی میثاقِ مدینہ سے ہوتا ہے۔ میثاقِ مدینہ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دستوری ریاست یا سوسائٹی کا بنیادی نقطہ آغاز ہے۔ اور دنیا کا پہلا تحریری دستور العمل ہے۔ سن ایک ہجری سے پہلے،اور اگر عیسوی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سن 623ء سے پہلے، دنیا میں آج تک جتنی بھی دستاویزات اور مکتوبات ملے ہیں، جتنے بھی قدیم نوشتے دستیاب ہوئے ہیں، ان میں اچھی سوسائٹی قائم کرنے کا وعظ تو کہا گیا ہے، عملی سسٹم قائم کرنے کی کوئی دستاویز، کوئی کتاب، کوئی نوشتہ، جس میں عملی سسٹم بنا کردیا گیا ہو، یعنی کسی سوسائٹی میں موجود تمام افراد کی آرا کو sum-up کرکے ان کے اتحاد و اتفاق کی بنیاد پر دستاویز تیار کی گئی ہو، اور جس میں اس سوسائٹی کے تمام قابل ذکر طبقات نے دستخط کیے ہوں، ایسی دستاویز نہیں ملتی۔ کنفیوشس نے یا افلاطون نے صرف اچھا وعظ کہا ہے۔ بابل کی قدیم تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، مصر کی آثارِ قدیمہ کے تمام نوشتے پڑھ لیجیے، ہندوستان، جس پر آشوکِ اعظم کی حکومت ہزار سال تک رہی، اس کے ’’منو‘‘ کے قوانین پڑھ لیجیے، فارس اور ایران کی عظیم شہنشاہیّتیں قائم رہیں، ان کی کتابیں اور وعظ سن لیجیے، وعظ میں اور سسٹم کے قیام میں بڑا بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ سوسائٹی کی تشکیل میں سسٹم بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

سیرۃ النبی ﷺ اور سیاسی،معاشی و عمرانی تقاضے

آج غلامی کے دور میں ہمارے ذہنوں میں یہ بات پیدا کردی گئی کہ بس اصلاحی وعظ کہنا کافی ہے۔آدم علیہ السلام سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک عام طور پر حکما، دانش وروں، رہنمایانِ قوم یا غیر سامی انبیا ؑکے درمیان جتنی بھی بحثیں اور گفتگو ہوئی، وہ اصلاحی تھی۔ انقلاب کا تصور ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے پیدا ہوتا ہے۔ اور اس انقلاب کے قومی سطح کے امور، حضرت یوسف، موسیٰ، اور عیسیٰ علیہم السلام نے انجام دیے۔ اور اس کا بین الاقوامی ڈھانچہ، دستور العمل، اس کا بین الاقوامی سسٹم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کے سامنے پیش کیا۔ آپؐ نے اس میثاقِ مدینہ کی بنیاد پر عملی نظام بنایا۔ اب یہود کے 24 قبیلے ہیں، بنو عوف ہے، بنوع قینقاع ہے، بنو نضیر ہے، بنوقریظہ ہے، ہر ایک کا قبلہ ایک دوسرے سے الگ ہے۔ اور پھر ایک اور بات یہ ہے کہ ہر قبیلے میں ایک گھر میں ایک آدمی یہودی ہے، دوسرے نے اسی قبیلے میں رہتے ہوئے عیسائیت اختیار کرلی اور تیسرے نے اسی میں سے اسلام قبول کرلیا۔ تو اب تینوں اپنی اپنی جگہ پر خانگی دائرے سے تو اکٹھے رہ رہے ہیں، لیکن سول سوسائٹی کی تشکیل میں یہ تمام لوگ کیسے کردار ادا کریںگے؟ اس کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟ اس کے لیے کیا نظم و ضبط قائم کیا جائے؟ اسی طرح اوس اور خزرج میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ مشرک بھی ہیں، حضوؐر پر ایمان لانے والے 85، 86 لوگ بھی ہیں۔ اور اسی طریقے سے اور لوگ بھی ہیں۔ منتشر و مختلف لوگ، آزاد بھی ہیں، غلام بھی ہیں۔ آپ دیکھئے ان تمام افراد کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنا اور ان سے رائے لینا کہ اس آبادی کی سیاسی، معاشی، عمرانی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ تمام قبیلوں کے سردار، نمائندوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا اور ان سے رائے لینا اور رائے لینے کے بعد اتفاقِ رائے سے سسٹم بنا دینا، اس سسٹم کا سربراہ کون ہے؟ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ مدینہ منورہ کی دس ہزار کی کل آبادی ہے۔ اور بچے عورتیں ملا کر کل 500 مسلمان ہیں۔ پانچ سو مسلمانوں کی تنظیمی طاقت، ان کا نظم اور ڈسپلن اور اس سسٹم چلانے کے حوالے سے ان کا کردار اتنا بہترین اور مضبوط ہے کہ معاشرے کے دس ہزار لوگ اپنا قائد اور رہنما حضرت محمدؐ کو مانتے ہیں۔

اب یہیں پر یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ تیسرے سال مکہ مکرمہ میں نبی اکرمؐ نے عمومی تبلیغ نہیں کی۔ عام آدمی کو اپنا مخاطب نہیں بنایا۔ آپؐ نے 13 سال میں ایک تنظیم بنائی۔ ایک نظریے پر ایک ایسی تربیت یافتہ مہارت رکھنے والی اعلیٰ اَخلاق کی حامل جماعت تشکیل دی ہے۔ جو بین الاقوامی سطح کی سوسائٹی چلانے کی اہلیت، صلاحیت اور مہارت رکھتی ہے۔ اور اس پر بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب تمام لوگ اعتماد کا اظہار کریں کہ اس کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ سسٹم چلانے والی، نظم و ضبط پیدا کرنے والی مشنری ایسی ہے کہ ہم اس پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ 13 سال میں آپؐ نے چنیدہ افراد پر محنت کی۔ بہادر، دلیر، مرعوب نہ ہونے والے، اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد تیار کیے۔ اور اللہ سے بھی دعا مانگی کہ باصلاحیت لوگ مجھے دے دیں۔ ایک آدمی میں قائدانہ صلاحیت ہے۔ وہ قیادت کی اہلیت رکھتا ہے۔ وہ افراد کو منظم کرنے، ان کو امور سونپنے، ان سے کام لینے، نتائج اور اہداف کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور ایک آدمی یہ صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کا مزاج یہ ہے کہ وہ ایک اچھا کلرک یا اچھا متبع بن کر صلاحیتوں کا مظاہرہ تو کر سکتا ہے، لیکن ادارے کا بوجھ اس کے ذمے ڈال دیا جائے تو اس کی صلاحیت اس میں نہیں ہوتی کہ وہ ان مطلوبہ مقاصد و اہداف کو حاصل کرے۔ حضوؐر نے فرمایا: لوگ ایسے ہی ہیں، جیسے سو اونٹ ہیں۔ اور ان سو اونٹوں میں بعض یا ایک بھی نہیں، جو سواری کے قابل ہو۔ اونٹ تو ہیں، لیکن یہ جنگل اور صحرا عبور کرنا ہے۔ کیا یہ اونٹ یہ صلاحیت رکھتے ہیں، جو یہ جنگل عبور کرکے منزلِ مقصود تک پہنچا دیں! انسان تو بہت ہیں، لیکن ان میں سے قابل، اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل کتنے ہیں؟ تو حضوؐر کا ہدف یہ ہے۔ حضوؐر اللہ سے مانگتے ہیں کہ اے اللہ! مجھے عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام دے دے۔ ابوجہل دلیر ہے، جرأت مند ہے، صلاحیت رکھتا ہے، لیکن غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اور عمر بن خطاب جو خود نبیؐ کو شہید کرنے کی نیت سے آتا ہے، اس کے ارادے بھی نیک نہیں، وہ بھی غلط سسٹم کا آلہ کار ہے۔ نبیؐ نے اللہ سے دعا کی کہ ان دونوں میں سے ایک دے دے۔ اب عمرؓ جب ایمان لاتے ہیں، اس سسٹم کا حصہ بنتے ہیں، تو یہ تنظیمی طاقت مضبوط ہوتی ہے، نتائج پیدا کرتی ہے۔ ابوبکرؓ ہیں، جن کا پوری سوسائٹی میں ایک احترام موجود ہے۔ مکے کا کوئی آدمی ابوبکرؓ کو ہلکا آدمی نہیں سمجھتا تھا۔ مکے کا لیڈر ابوجہل بھی سمجھتا تھا کہ ابوبکرؓ کا مقام کیا ہے! اس کی حیثیت کیا ہے! یہ سخی ہے۔ انسان دوست ہے۔ انسانی مسائل حل کرنے کی اس میں صلاحیت ہے۔ سوسائٹی کو کنٹرول کرنے اور منظم کرنے کی صلاحیت ہے۔ تمام صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔

نبیؐ کا اُسوہ یہ ہے کہ وہ ایک اعلیٰ اور رہنمائی کی صلاحیتوں کی حامل جماعت منظم کرتے ہیں۔ زیدؓ بن حارثہ، جو کسی آزاد قبیلے کے فرد ہیں، ان کو غلام بنا کر بیچ دیا گیا۔ حضوؐر کے پاس غلام ہونے کی حیثیت سے پہنچتے ہیں۔ آپؐ نے ان کو آزاد کردیا۔ اور انھیں اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ سن 9 ہجری میں رومۃ الکبریٰ کے مقابلے پر، جو فوج نبی نے بھیجی تھی، اس کی قیادت زیدابن حارثہ نے کی تھی۔ تو اس وقت لوگوں نے ان کی غلام زادہ ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا تھا۔ لیکن وہ گئے اور بڑی بہادری کے جوہر دکھائے۔ اب حضوؐر نے اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں دوبارہ ضرورت پیش آنے پر فوج بھیجی۔ تو آپؐ نے اس نقطہ نظر سے کہ پہلے روم میں جو سریہ گیا تھا، اس کی قیادت زیدؓ بن حارثہ نے کی تھی۔ اب غزوۂ موتہ کے لیے ان کے بیٹے اسامہ بن زیدؓ کو قیادت دی۔ تو لوگوں نے پوچھا، بلکہ اعتراضات کیے کہ اتنا بڑا لشکر ہے، اس میں ابوبکرؓ بھی ہیں، عمرؓ ہیں، عثمانؓ ہیں،، اس کا سربراہ اسامہ کو بنا دیا!۔ 21 سال کا نوجوان ہے۔ اور عربوں کے معاشرے کے مطابق آزاد کردہ غلام کا بیٹا ہے۔ حضوؐر نے فرمایا: تم نے اس سے پہلے اس کے باپ پر بھی اعتراضات کیے تھے۔ اور آج تمہیں اس پر بھی اعتراض ہے۔ حضوؐر نے غصے میں کہا: اللہ کی قسم! یہ اسامہ تو حکمرانی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے اندر اَمارت کی صلاحیت ہے۔ یہ اتنے بڑے بڑے لاؤ لشکر کو جمہوری بنیادوں پر، متحد رکھنے کی صلاحیت رکھتاہے۔

آپ ﷺ نے یثرب کو مدینہ بنا دیا۔ یہ دستاویزات اور معاہدے تو اس وقت کام میں آتے ہیں، جب منظم سوچ آپ کے پاس موجود ہو۔ آپؐ کی زندگی کا ایک تسلسل ہے۔ مکے کی تیرہ سالہ زندگی میں آپؐ نے ایک منظم جماعت تیار کی۔

دورِ حاضر میں سیرۃ النبی ﷺ سے راہنمائی

آج زوال کے زمانے میں ہم نبیؐ کی سیرت پر وعظ تو کہتے ہیں، آپؐ کے حلوہ کھانے، پگڑی باندھنے، کوئی اور اسی قسم کا کھانے پینے کا جو فائدہ ہو، اس کی سنتیں تو بڑی بیان کریں گے، لیکن آپؐ نے ایک سوسائٹی تشکیل دی، ایک عمرانی معاہدہ کیا، ایک بین الاقوامی سسٹم تشکیل دیا، انسانی مسائل کے حل کرنے کا طریقہ کار وضع کیا۔ سیاسی نظام، معاشی نظام بنایا۔ یہ تمام کردار نبی نے سرانجام دیے ہیں۔ جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔ اس ربیع الاول کے مہینے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان نبیؐ کی سیرت کے ان پہلوؤں کو، جو غلامانہ ذہنیت کے دور میں ہم سے دور کردیے گئے، اس سے نجات حاصل کریں۔ مرعوبیت ختم ہو، مایوسی ختم ہو، پستیٔ افکار و خیالات ختم ہو، دین اسلام کی اساس پر اپنا تعلیمی، تربیتی، سیاسی، معاشی سسٹم تشکیل دینے کے لیے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسی کے نتیجے میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے لیڈر، جن کی زندگیوں کے بہت محدود دائرے ہیں، وہ تو دنیا بھر کی اقوام کو اپنے پیش نظر رکھتے ہیں، امریکی لوگ ابراہم لنکن کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔ روسی لوگ مارکس، لینن کو اپنے پیش نظر رکھتے ہیں۔چائنا کے لوگ چواین لائی اور ماؤزے تنگ کو اپنے سامنے رکھتے ہیں۔ جن کی زندگی کے بہت ہی محدود اور سطحی دائرے ہیں۔ اور محمدالرسول اللہؐ، جنھوں نے کل انسانیت کے لیے ایک بین الاقوامی سسٹم دیا، آج ان کو ماننے والے صرف روشنیاں کرکے مطمئن ہوجائیں، جلوس نکال کر مطمئن ہوجائیں، حلوہ بانٹ کر مطمئن ہوجائیں، شیرینی تقسیم کرکے سمجھیں کہ ہم حضوؐر کے عاشق ہیں، وہ ان کا عملی، سیاسی، معاشی، عمرانی نظام قائم کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہ ہوں، اس سے بڑا زوال اور کیا ہوگا؟ ہمارے زوال کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ ہمارے دل سے نبیؐ کے تقدس کا وہ پہلو، جو سوسائٹی کی تشکیل کے حوالے سے رہنمائی کا کردار ادا کرتا تھا، وہ ختم ہوگیا۔ آج ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ دین کا یہ اعلیٰ شعور، دین کے حوالے سے یہ شعوری جدوجہد اور کوشش ہماری زندگی کا حصہ ہوگی۔ تو ہم اس زوال کی حالت سے نکلیں گے۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرپائیں گے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(مؤرخہ 18 فروری 2011ء، بمقام ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ، لاہور)     ضبط وتحریر: خرم شہزاد

حوالہ: ماہنامہ مجلہ رحیمیہ لاہور، مارچ 2011ء

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت

عن انس رضی اللہ عنہ، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین۔ (رواہ البخاری) ترجمہ: ’’حضرت انس ب…

ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن اکتوبر 17, 2021

آمد ِرسولؐ  ؛  اظہارِ محبت کے تقاضے

عزیزانِ ملت! ماہِ ربیع الاوّل کا ورود تمھارے لیے جشن و مسرت کا ایک پیغامِ عام ہوتا ہے۔ کیوںکہ تم کو یاد آجاتا ہے کہ اسی مہینے کے ابتدائی ہفتوں میں خدا کی رحمت ِ عامہ کا دنیا …

مولانا ابو الکلام آزاد اکتوبر 17, 2021