صحیح علم اور معرفت ِالٰہی

صحیح علم اور معرفت ِالٰہی

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

7؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’معزز دوستو! مسلمانوں کی کامیابی اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کریں اور اُس کے ساتھ اپنا سچا تعلق قائم کریں۔ انسانیت کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ اس کائنات کے خالق و مالک ذاتِ باری تعالیٰ کی حکمرانی، اُس کی شہنشاہیت، اُس کے مالک الملک ہونے کی حقیقت کو بالکل گہرائیوں سے تسلیم کرے۔ یقین کامل پیدا کرے اور یہ سمجھے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ، اس کا عالم گیر نظام، اس کے چلانے، پیدا کرنے اور اس کے بنانے والی ذات صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے۔ کسی دوسری مخلوق کا اس میں براہِ راست کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی ذات کے ماتحت ہیں۔ اسی کے مطابق تمام امور سرانجام پاتے ہیں۔ اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھنا مسلمان کی اوّلین ضرورت اور تقاضا ہے۔ اللہ پر یقین رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جو اس کائنات میں عالم گیر نظام کے اصول اور ضابطے مقرر کیے ہیں، ان تمام کو مِن و عَن سمجھیں اور انھیں تسلیم کریں۔ 
یہ کائنات اللہ نے ایک سسٹم کے تحت پیدا کی ہے۔ یہاں کوئی بھی کام بغیر طے شدہ نظام اور طریقۂ کار کے نہیں ہو رہا۔ ہر چیز اپنے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہی سرانجام پاتی ہے۔ انسان پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ وہ ان گرد و پیش کے قوانین اور ضوابط کو سمجھے، تسلیم کرے اور اس کے مطابق اپنا نظام بنائے۔ کائنات پر غور و فکر اور تدبر کرے، جو اس کے گرد و پیش میں موجود تکوینی یا تشریعی نظام ہے، اس کی معرفت حاصل کرے۔ 
دنیامیں کون سا انسان ہے جو ترقی کا طالب نہ ہو؟ تنزلی اور ذلت، پیچھے رہنا، مغلوبیت کی حالت میں زندگی بسر کرنا، انسانیت کی اصل فطرت کے منافی ہے۔ اس ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کائنات کو بنانے والے نے اس کے جو بنیادی اساسی اصول وضع کیے ہیں، ان کا علم و شعور حاصل کرکے اس کے مطابق عملی نظام بنایا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بے علمی، جہالت اور لاشعوری کی بنیاد پر کوئی کام کیے جائیں اور سمجھا یہ جائے کہ یہ ترقی یافتہ کام ہیں۔ دنیا بھر کے تمام یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، کافروں اور مسلمانوں میں یہ بات طے شدہ ہے کہ علم ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ علم کے بغیر کسی بھی کام میں آدمی ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ ضرور خسارہ اٹھاتا ہے۔ علم صحیح اور پرفیکٹ ہو تو نتائج بھی صحیح اور درست آتے ہیں۔ علم ناقص اور ادھورا ہو یا سِرے سے علم موجود نہ ہو تو ہر طرح کا عمل خسارے کا باعث بنتا ہے۔ علم سے کورا جاہل آدمی غلط کام کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے۔ ایسا انسان اس خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ میں بہ ظاہر اچھا کام کر رہا ہوں۔ یہی جاہلانہ  خوش فہمی بڑی خرابی کی بات ہے۔‘‘ 
 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ