رمضان کے بابرکت ایام اللہ سے سچا تعلق قائم کرنے کے دن ہیں

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مئی 05, 2020 - خطباتِ جمعتہ المبارک
رمضان کے بابرکت ایام اللہ سے سچا تعلق قائم کرنے کے دن ہیں

۱۸؍ رمضان المبارک ۱۴۴۰ھ / 24؍ مئی 2019ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’علم و شعور حاصل کرنے کے بعد سب سے بڑی ضرورت اس علم کو اپنے عمل میں ڈھالنے کی ہوتی ہے کہ اس علم کے تقاضوں کے مطابق اپنا عزم اور ارادہ بلند کرنے اور نتائج کے حصول کے لیے کمربستہ ہوا جائے۔ رمضان المبارک کے یہ بابرکت ایام قرآنی افکار و تعلیمات پر عمل کرنے، کمرِ ہمت کسنے، اپنے افکار و خیالات کو مجتمع کرنے اور اللہ کے ساتھ اپنا سچا تعلق قائم کرنے کے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں ہمارے خیالات و افکار کا درست ہونا، نظریات اور مقاصد کا متعین ہوجانا، اور اُن افکار و نظریات کے مطابق اپنے آپ کو بدلنے، اپنی سوسائٹی اور اجتماع کو بدلنے کے لیے پُرعزم ہوجانا آج ہماری زندگی کا لازمی تقاضا ہونا چاہیے۔ 
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمان بہ حیثیت ِمجموعی نااہلی، بزدلی اور کم ہمتی کا شکار ہے۔ بغیر کسی نظریے اور فکر کے زندگی بسر کرنے کا خوگر ہوچکا ہے۔ اس میں جمود اور ٹھہراؤ ہے۔ پستی کے ساتھ صلح ہے۔ غلامانہ ذہنیت اس پر مسلط ہوگئی۔ یہ ذلت میں خوش ہے۔ اسی پر قناعت اختیار کیے ہوئے ہے۔ عزم اور حوصلہ نہیں رہا۔ اگر کہیں عزم اور حوصلہ آتا ہے تو حالات کے دباؤ اور پریشر سے وہ ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ اپنے تئیں اپنی جدوجہد اور کوشش کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: آخر زمانے میں بڑی بڑی طاقتیں تم پر حملہ آور ہو کر تمھارے وسائل لوٹیں گی۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ کیا اُس زمانے میں ہم تھوڑی تعداد میں ہوں گے؟ حضوؐر نے فرمایا کہ: نہیں! تم مسلمان بہت کثیر تعداد میں ہو گے، لیکن تم میں ’’وہن‘‘ پیدا ہوچکا ہوگا۔ صحابہؓ نے پوچھا: وہن کیا ہے؟ تو حضوؐر نے فرمایا: ’’حُبُّ الدُّنْیَا وَ کَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ‘‘ (ابوداؤد: 2297) (دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند کرنا)۔ دنیا کی محبت تمھارے اندر غالب آجائے گی۔ دنیا کا لالچ، خواہشات، کھانے پینے کی لذات میں منہمک ہونے اور دنیوی مفادات اُٹھانے کی عادت بن جائے گی۔ دین کے غلبے کے لیے موت قبول کرنے سے تم بھاگو گے۔ اعلیٰ مقاصد کے لیے جان قربان کرنے کی تمھارے اندر عادت نہیں رہے گی۔ 
رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں اور برکت کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جو عمل کیا جائے، اس میں کئی گنا اضافہ ہوجائے۔ آج سے ہی ہم یہ ارادہ کرلیں کہ جن غلط افکار و خیالات اور وہن زدہ نظام کے زیراثر جو تمام بُرے کام ہم سے انجام پائے ہیں، ان سے ہم توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔ یہ عزم کریں کہ قرآن حکیم جو مقاصد ہمارے سامنے متعین کرتا ہے، روزے کے جو مقاصد و اہداف اور اس کے نتائج اور آثار ہیں، وہ ہماری زندگی کا حصہ بنیں گے۔‘‘ 
جب معاملات نااہلوں کے سپرد کردیے جائیں تو قیامت کا انتظار کیجیے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’مسلمان پچھلے دو ڈھائی سو سال سے ’’وہن‘‘ سے دوچار ہے۔ دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی کی حالت میں ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ شیاطین الانس و الجن پوری انسانیت پر مسلط ہوچکے ہیں۔ ظلم کا نظام ہے۔ انسانیت دشمنی کی حالت ہے۔ شیطانی اور طاغوتی قوتوں نے انسانیت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو مسلمان سے کہا تھا کہ تم ’’شُہَدَائَ عَلٰی النّاس‘‘ (القرآن 143:2) یعنی انسانیت کے نگران اور چوکیدار ہو۔ آج مسلمان انسانیت کا نگران کیا بنے، خود اس کی حالت یہ ہے کہ وہ بزدل ہے، بہادر نہیں۔ وہ انسانیت کی حفاظت کے لیے موت قبول کرنے سے ڈرتا ہے۔ ایسا چوکیدار رکھا جائے کہ جو بزدل ہو تو وہ چوری کرنے والوں سے مقابلہ کیسے کرے گا؟ موت کا اُسے خوف ہو اور دنیا کا لالچ اور محبت اُس میں پیدا ہوجائے تو چور ڈاکو نے جو چوری کی ہو، کچھ نہ کچھ اُس کے منہ میں بھی ڈال دیں، تو وہ تمھاری چوکیداری کیا کرے گا؟ 
حضوؐر سے سوال کیا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: قیامت اُس وقت آئے گی، جب امانتیں ضائع کردی جائیں گی۔ یعنی جس پر جو ذمہ داری عائد کی جائے اور وہ اس کو پورا نہ کرے۔ صحابہؓ نے پوچھا: آدمی ذمہ داری قبول کرے تو یہ ضائع کیسے ہوجاتی ہے؟ حضوؐر نے فرمایا: جب کسی قوم کے معاملات نااہلوں کے سپرد کردیے جائیں تو وہ قوم اپنی قیامت کا انتظار کرے۔ (صحیح بخاری: 59) نااہل قیادت، نااہل ذمہ دار کسی قوم کے لیے قیامت سے کم نہیں۔ اس قوم کی تباہی اور بربادی اسی کے نتیجے میں واقع ہوگی۔ ہم سب لوگ غور کریں۔ آپ جس پروفیشن میں ہیں، کیا اس پروفیشن کی پوری ذمہ داری ادا کر رہے ہیں؟ ایک ڈاکٹر، انجینئر، سیاست دان، ماہر معیشت، تاجر اور ایک عام شہری پر جو ذمہ داریاں عائد ہیں، کیا اس نے انھیں پورا کرنے کی اہلیت کا مظاہرہ کیا ہے؟ کیا ہم نے سوسائٹی کی دیگر اجتماعی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟ 
ذمہ داری کا ایک دائرہ ذاتی ہوتا ہے اور ایک ذمہ داریوں کا دائرہ اجتماعی ہوتا ہے۔ ذاتی ذمہ داری نہ پوری کی جائے تو اسے قرآن نے کہا ہے: ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ‘‘ (32:35) کہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر آدمی اپنے اوپر ظالم ہے تو دوسروں کے لیے عادل کیسے ہوگا؟ اجتماعی ذمہ داری پوری نہ کرنے سے متعلق قرآن نے کہا: ’’اَلَّذِیْنَ إذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً‘‘ (3:135) وہ لوگ جنھوں نے ایک فاحشہ کا کردار ادا کیا۔ ہم فاحشہ صرف ایک رنڈی کو سمجھتے ہیں، جو اجتماع کو توڑتی ہے۔ کیا فاحشہ وہ نہیں جو سیاست، معیشت، مذہب اور سوسائٹی کے اجتماعی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اجتماعی ڈسپلن توڑنا، اجتماعی تقاضوں کے منافی کام کرنا بھی فاحشہ والا کردار ہے۔ گویا اجتماعی گناہ، انفرادی گناہ کے مقابلے میں زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور اس کی سزا بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘‘ 
رمضان المبارک میں دو باتوں پر عمل کرنے کا حکم 
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’ایک مسلمان انفرادی ظلم و زیادتی کرے یا اجتماعی تقاضے توڑے، اس کے علاج معالجے کے لیے قرآن حکیم نے دو باتیں ضروری قرار دی ہیں: ایک کثرت سے اللہ کا ذکر (ذَکَرُوا اللّٰہَ)۔ اور دوسرا اپنے گناہوں سے مغفرت (فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوْبِہِمْ)۔ (3:135) یہ آیاتِ مبارکہ غزوۂ اُحد کے موقع پر نازل ہوئی ہیں۔ نبی اکرمؐ نے رمضان المبارک میں انھیں دو باتوں پر عمل کرنے کا زور دیا ہے کہ اے مسلمانو! کثرت سے استغفار اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو۔ ذکر کے نتیجے میں اللہ کی ہیبت و جلال ہمارے دل و دماغ میں منتقل ہو۔ اللہ کے حکم سے انسانیت کے وہ تمام امور دور کرنے کی فکر پیدا ہو، جن سے اللہ نے منع کیا ہے اور جن کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان کے کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اللہ سے تعلق اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی محبت پیدا کرنا، انقلاب کی ضرورت ہے۔ اللہ کے دین کے لیے موت قبول کرنے کا عزم پیدا ہو۔ موت کو قبول کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی خودکش دھماکہ کریں۔ مرنے کے لیے نہیں لڑنا، فتح حاصل کرنے کے لیے لڑنا ہے۔ کامیابی اور نتائج کے حصول کے لیے مزاحمت کرنی ہے۔ 
آج ہمارے معاشرے کی ضرورت انقلاب ہے۔ انقلاب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہمارے دلوں کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ ہمارے دماغوں پر نوک (knock) کر رہا ہے۔ ہمارے جسم کو غفلت سے جگا رہا ہے۔ قرآن کی تعلیمات کا انقلابی پیغام جو اس پورے رمضان میں آپ سن رہے ہیں، خود روزے کی اہمیت و مقاصد دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ اپنے دل کے دروازے کھولیے، دماغ کے بند غلاف توڑیے، جسم جن غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، اس سے آزاد کرائیے اور اس انقلاب کی آواز کو سنیے۔ آپ کو تبدیل ہونا ہے۔ ظلم کے نظام کے خلاف مزاحمت کرنی ہے۔ اپنے دل میں بیٹھے ہوئے چور کے خلاف جدوجہد اور کوشش کرنی ہے، جس میں دنیا کی لذتیں اور خواہشات ہیں، جس میں مفادات اور ظلم و زیادتی کے ساتھ سمجھوتہ ہے۔ غلط اجتماعی نظام کی آلہ کاری کا جذبہ ہے۔ ظلم کے نظام کے لیے استعمال ہونے کی سوچ ہے۔ 
یہ تبدیلی کا مہینہ، جس نے انقلابات پیدا کیے۔ رمضان المبارک میں غزوۂ بدر کے بعد مدینہ منورہ کی ریاست اور اس کی طاقت و قوت بدل گئی۔ انقلاب پیدا ہوگیا۔ اسی مہینے میں فتح مکہ ہوا تو ریاست ایک نئے فیز میں داخل ہوگئی۔ گویا اس ماہِ رمضان کے گزرنے کے بعد ہمیں بھی ایک نئے فیز میں داخل ہونا ہے۔ ایک نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ اجتماعی گناہوں اور اجتماعی ظلم کے نظام کی آلہ کاری سے توبہ کرنی ہے۔ اس سے برأت کا اعلان اور اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرنا ہے۔ تمام عبادات اور تمام دینی اعمال کا یہی لازمی نتیجہ نکلنا چاہیے۔ روزہ ہو، حج، نماز، تلاوت، ذکر یا تمام دیگر اعلیٰ اَخلاق کے امور ہوں، ان تمام کا مقصد یہ ہے کہ ہماری کایا پلٹ جائے، ہماری زندگی میں انقلاب آجائے، معاشرہ اور اجتماعیت بدل جائے۔‘‘ 
علمائے حق کا انقلابی جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت 
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’1909ء میں سب سے پہلے شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسنؒ نے موت ہتھیلی پر رکھ کر انگریز سامراج کے خلاف آزادی اور حریت کا نعرہ بلند کیا۔ آپؒ نے یہی سلگتا ہوا جذبہ مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ اور اپنے دیگر سینکڑوں شاگردوں میں منتقل کیا۔ پھر جیسے جیسے آزادی کی یہ آواز بلند ہوئی، ویسے ویسے یہاں کی ساری جماعتوں کو مجبوراً اس طرف آنا پڑا۔ تحریکِ خلافت ہو، تحریکِ سول نافرمانی ہو یا آزادی اور حریت کے لیے انگریز سامراج کے خلاف دیگر جماعتوں نے کوئی اقدام کیا ہو، یہ سب حضرت شیخ الہندؒ کے بعد کی تحریکات ہیں۔ 
انبیا علیہم السلام کے سچے وارث، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سچے جانشین، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جرأت کے حامل اور حضرت یوسف علیہ السلام کی سنت کے مظہر حضرت شیخ الہندؒ کے قلب میں امام الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا عکس تھا۔ حضرت مدنیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ الہندؒ کے سینے میں انگریز سامراج کے خلاف آزادی کی جنگ کے لیے آگ کی انگیٹھی اُبلتی تھی۔ جو بھی شیخ الہندؒ کی صحبت میں گیا، اس تک یہ آزادی و حریت اور سامراج کے خلاف انقلاب لانے کی آگ پہنچی۔ یہ ہے رمضان کے مہینے کا اثر۔ یہی وہ جذبہ ہے، جو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے ذریعے حضرت شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ میں بیدار ہوا۔ 1950ء میں شاہ سعیداحمد  رائے پوریؒ پاکستان آئے اور 2012ء میں حضرتؒ کا وصال ہوا۔ باسٹھ سال کی پوری زندگی سامراج کے خلاف آزادی اور حریت کی اُس انگیٹھی کو جلانے کے لیے ہر وقت تیار رہے، جو شیخ الہندؒ کے سینے میں تھی، جو شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے چلی آرہی تھی، جو انبیا علیہم السلام کے سینوں میں موجزن تھی کہ اٹھو! اپنی دنیا میں انقلاب برپا کرو۔ آزادی اور حریت کے لیے آگے بڑھو۔ غلامی کی زنجیریں توڑ دو۔ بزدلی ختم کرو۔ حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ بارہا یہ حدیث سناتے تھے کہ ’’حُبُّ الدُّنْیَا وَ کَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ‘‘، آج یہ دو مرض ہیں، ان کو توڑنے کی ضرورت ہے۔ موت کی ناپسندیدگی کو ختم کرو۔ اٹھو! اور اپنے اس معاشرے کو بدلو۔ انقلاب کا جذبہ پیدا کرو۔ آزادی اور حریت کے لیے آگے بڑھو۔ جتنی تمھارے اندر طاقت ہے۔ عدمِ تشدد کے اصول پر کام کرو۔ خود کش دھماکے، تشدد اور قتل و غارت گری کا راستہ نہیں، بلکہ عقل و شعور اور فہم و بصیرت کا راستہ اپناؤ۔ ٹھنڈے مزاج کے ساتھ اپنے عزم، ارادے اور ہمت میں قوت پیدا کرو۔ سامراج سے صلح نہ کرنے کا اصول اپناؤ۔ 
یہ جتنا بھی ہمارا اجتماع ہے، یہ دراصل حضرت شیخ الہندؒ کے اُسی جذبے کا تسلسل ہے۔ حضرت رائے پوریؒ ہی کی یادگار ہے۔ حضرتؒ کے طریقۂ تربیت کو منتقل کرنے کا عمل ہے۔ ہم سب اپنے آپ کو یہ سمجھیں کہ ہم شیخ الہندؒ، مولانا سندھیؒ، مولانا مدنیؒ، شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ اور ان تمام کی جامع شخصیت حضرت شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے کے اُس جذبۂ اِیمانی کو اپنے اندر زندہ کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔‘‘ 
 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ