قرآن حکیم ایک امانت ہے

قرآن حکیم ایک امانت ہے

19؍ مارچ 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے جامعہ خدیجۃُ الکُبریٰ بورے والا میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز دوستو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتابِ مقدس قرآن حکیم کو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ اقدس پر نازل کیا ہے۔ یہ اللہ کی ایک امانت ہے، جو نبی اکرمؐ کے سپرد کی گئی ہے۔ آپؐ نے یہ امانت اُمت ِمحمدیہ کے حوالے کی ہے۔ امانت کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ جس کے سپرد کی جائے، وہ پوری دیانت کے ساتھ اس امانت کے حقوق ادا کرے، اُن ذمہ داریوں کو پورا کرے، جو امانت رکھوانے والے نے کسی امین کے ذمہ لگائی ہیں۔ یہ وہ امانت ہے کہ جو سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو دی گئی، پھر حضرت ادریس علیہ السلام اور شیث علیہ السلام سے ہوتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کو ملی۔ یہی امانت حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام سے ہوتی ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک آئی۔ پھر جامع، کامل اور مکمل شکل میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قلب ِاطہر پر نازل ہوئی۔ پھر نبی اکرمؐ کے قلبِ اطہر سے صحابہ کرامؓ کے قلوب میں یہ امانت نازل ہوئی۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ یہ امانت مردوں کے دلوں میں منتقل ہوئی ہے۔ وہ اولوالعزم افراد جو واقعی مرد کہلانے کے قابل ہیں، اصل میں اُن کے قلوب کی گہرائیوں میں نازل ہوئی ہے۔ انھوں نے اسے سیکھا اور اس کی تعلیم دی۔ اس کی تعلیمات کو آگے منتقل کیا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6497) نبی اکرمؐ کی صحبت سے یہ کتابِ مقدس قرآن حکیم صحابہؓ کے قلوب میں اور صحابہؓ کے قلوب سے تابعین کے قلوب میں اور پھر تبع تابعین کے دلوں میں، ایسے ہی اولیاء اللہ کے قلوب سے ہوتے ہوئے قیامت تک مردوں کے دلوں میں یہ امانت منتقل ہوتی رہے گی۔

اس امانت کی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ نبی اکرمؐ پر یہ امانت نازل ہوئی تو اس کی عظمت اور ہیبت کی وجہ سے آپؐ پر وہ لرزہ طاری ہوا تھا کہ جو جبرائیل امینؑ کی پہلی وحی کے بعد آپؐ کپکپاتے ہوئے لہجے میں خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہتے ہیں کہ ’’زمّلونی زمّلونی‘‘(بخاری) ۔ مجھے چادر اوڑھاؤ، لحاف اوڑھاؤ۔ احساسِ ذمہ داری کا عالم یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ سے فرماتے ہیں کہ ’’خشیتُ علیٰ نفسی‘‘ (بخاری)، مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، خوف ہے، اتنی بڑی امانت میرے سپرد کی گئی ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے تسلی دی کہ ڈرنے کی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو رُسوا نہیں کرے گا۔ وہ ہمت اور طاقت دے گا۔ جس نے جو امانت آپؐ کے سپرد کی ہے، آپؐ اس اُمانت کو حق داروں تک پہنچائیں گے۔ اس لیے محمد ِمصطفی ْﷺ سے کہا گیا کہ: ’’اے رسولؐ! جو اللہ پاک نے آپ پر پیغام منتقل کیا ہے، اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے‘‘ (المائدہ: 67)۔

امانت اور دیانت داری کے تقاضے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’کتابِ مقدس قرآن حکیم کی امانت کا انسانوں میں منتقل کرنے کا صرف یہی مطلب نہیں کہ اُس کا کلام اور تلفظ لوگوں کو سکھا دیا جائے، بلکہ امانت جب دل کی گہرائیوں میں آتی ہے تو پورے وجود کو رنگین کردیتی ہے۔ انگ انگ اُس کی روشنی سے منور ہوجاتا ہے۔ پھر اُس کا اٹھنا، اُس کا بیٹھنا، اُس کا چلنا، اُس کا کام کاج کرنا، وہ اس امانت کی ذمہ داریوں کے مطابق ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اُس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ کسی نے آپ کو کسی کام کا امین بنایا ہو، کوئی کام آپ کے سپرد کیا ہو، کوئی ڈیوٹی لگائی ہو، تو آپ وہ کام کتنی ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں۔ جیسے ایک ملازمت ہوتی ہے تو ملازم جس سے تنخواہ وصول کرتا ہے، اس کے کاموں کا امین ہے۔ مزدور کا کام امانت کے ساتھ کام کرنا ہے۔

جب حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں نے اپنے والد ِگرامی سے یہ سفارش کی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مزدور رکھ لیا جائے تو فرمایا تھا کہ یہ قوی بھی ہے، طاقت ور بھی ہے۔ کام بھی کرسکنے کی اس میں صلاحیت ہے اور امانت دار بھی ہے۔ دونوں باتیں ہیں۔ جو آدمی کسی کام کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، اس کا فریضہ ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو اپنی صلاحیت و استعداد اور پوری دیانت داری سے ادا کرے۔

دنیا کے کاموں میں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں دیانت اور امانت کے ساتھ کام کرنا چاہیے، لیکن کلمہ طیبہ پڑھ کر، کتابِ مقدس قرآن حکیم پڑھ کر اُس امانت کو پوری دیانت کے ساتھ پورا کرنے کا تصور ہمارے ہاں عام طور پر نہیں پایا جاتا۔ قرآن حکیم کے پڑھنے پڑھانے کا یہ رویہ سراسر غلط ہے۔ یہ قرآن حکیم کی عظمت کی خلاف ورزی ہے کہ ہم نے اُس امانت کو پورا کرنے کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔ انبیا علیہم السلام، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، اولیاء اللہؒ، علمائے ربانیینؒ کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہوتی ہے کہ وہ قرآن حکیم کی اس امانت کو اپنے عملی کردار، اپنے نظم و نسق، اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کے جذبے سے ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے فکر و عمل کو قرآنی تعلیمات کے تناظر میں ڈھالتے ہیں اور اس کے مطابق کردار ادا کرتے ہیں۔

سورتِ ہود کے نزول پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ:

’’مجھے سورت ہود نے بوڑھا کردیا‘‘ (سنن ترمذی، حدیث: 3297)۔

اس سورت میں بہت ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ مجھے کہا گیا ہے کہفَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ(ہود: 112)، ثابت قدم رہنا، جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ خواہش پرستوں کی بات کی اتباع مت کرنا۔ ظالم لوگوں کے پیچھے مت چلنا۔ اُن کی طرف میلان ظاہر مت کرنا۔ جیسے حکم دیا گیا ہے، اس کے مطابق بالکل سیدھے رہنا۔ اُن لوگوں کی اتباع مت کرنا، جنھوں نے اپنی خواہش کو خدا بنا لیا ہے، جو اپنے کاموں میں ظالم ہیں، متکبر، بددیانت، بداَخلاق اور جھوٹے ہیں اور امانت میں خیانت کرتے ہیں‘‘۔

امانت کا تقاضا یہ ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قرآن حکیم کی عظیم امانت کو امانت نہیں سمجھا جاتا ہے۔ رٹا سسٹم کے تحت قرآن پڑھ لیا، حفظ کرلیا، تلاوت کرلی، اور سمجھ لیا کہ ہم نے بڑی نورانیت کے ساتھ رابطہ پیدا کرلیا۔ انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں کہ کب اس نورانیت کے نتیجے میں دولت کے انبار آئیں، کب ہمارے لیے انعامات کے راستے کھلیں، جب کہ دل میں تو چور بیٹھا ہے۔ دل تو بخل، ضد بازی، حسد اور کینے سے بھرا ہوا ہے۔ انسانی سسٹم میں ظلم موجود ہے۔ عظمتِ قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ آج قرآن حکیم پڑھنے پڑھانے، سننے سنانے والے اس امانت کو سب سے پہلے تو دل کی گہرائیوں میں اُتاریں۔ پھر اس کا اثر ان کے اَخلاق و کردار، ان کے مالی معاملات اور ان کے رہن سہن سے ظاہر ہونا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ اس امانت کی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے ملک و قوم کے، بلکہ بین الاقوامی نظام کے عدل و انصاف پر قائم کرنے کی جدوجہد اور کوشش کریں۔

آج ظلم و ستم کا مکمل نظام ہر انسان کو گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ ذرا کسان کا حال تو دیکھیں! وہ بے چارہ کاشت کار جو چھ مہینے ایک فصل سنبھالتا ہے، سرمایہ داروں کی مقرر کردہ قیمت پر کھاد ڈالتا ہے، اُن کی مقرر کی ہوئی قیمت کا بیج ڈالتا ہے، اُن کی دی ہوئی دوائیوں کو اُن کی قیمت پر سپرے کرتا ہے۔ جب چھ مہینے کی فصل تیار ہوتی ہے تو حکومت میدان میں آجاتی ہے۔ پچھلے سال جو کسانوں کے ساتھ ظلم ہوا، کسی جگہ سے اُس کے خلاف آواز اٹھی؟ خود کسانوں نے آواز اٹھائی؟ اسسٹنٹ کمشنر لاؤ لشکر کے ساتھ میدان میں آگئے اور ان کاشت کاروں سے چودہ سو روپے پر گندم اٹھائی۔ دو چار سرمایہ دار جیب میں ہیں، پولیس فورس کے ذریعے سے اُن کے گودام بھرے گئے۔ کہا گیا کہ کسان اپنے کھانے کی صرف بیس پچیس من گندم سٹاک کرے، اس کے علاوہ سب بیچ دے۔ اور جیسے ہی گندم کسانوں کے ہاتھ سے نکلی تو چوبیس سو روپے من ہوگئی۔ کیوں؟ کون سا مافیا ہے، جس نے یہ ظلم کیا۔

افسوس تو اُن گونگے مذہبی لوگوں پر ہے کہ جو اس کاشت کار سے زکوٰۃ اور عشر وصول کرنے اور چندہ وصول کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں، لیکن کبھی جمعہ کے خطبے میں اس کے خلاف آواز اٹھائی؟ قرآن پڑھنے والوں نے اس کے بارے میں کوئی بات کی؟ تمھیں کسان کی اس حالت کو نہیں دیکھنا؟ اس کو بچت کیا ہوتی ہے؟ اس کی محنت کتنی تھی؟ چھ مہینے کی محنت اور سرمایہ داروں، کمیشن ایجنٹوں، غلہ منڈی کے آڑھتیوں نے اپنی منہ مانگی قیمت پر کھاد بیج ڈالا، اس کا تو عوض ہی نہیں آیا۔ آج پھر حکومت سولہ سو روپے من گندم کا اعلان کرتی ہے، کس بل بوتے پر؟ مارکیٹ اگر اوپن ہے، سرمایہ دار مارکیٹ ہے، کوریا سے اور روس سے اٹھائیس سو روپے من گندم خرید کر یہاں لائی جا رہی ہے اور مقامی کاشت کار کو آج کہا جا رہا ہے کہ تم صرف سولہ سو روپے تک گندم بیچو۔ کیا یہ قرآنی تعلیمات پر مبنی امانت کا حق ادا کرنا ہے؟ امانت کی ذمہ داری تو یہ تھی کہ حکومتیں اپنے عوام سے ظلم دور کریں‘‘۔

قرآن ہر طرح کے ظلم کا انکار کرتا ہے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’یاد رکھیں! قرآن حکیم دو ٹوک ہے۔ جو آدمی لوگوں پر ظلم کرتا ہے، قرآن حکیم اس کی مذمت کرتا ہے۔ قرآن حکیم بددیانتی کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔ دیانت اور امانت‘ دین کا بڑا بنیادی تقاضا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ‘‘ (الاحزاب: 72) (ہم نے امانت نازل کی ہے)۔ اس انسان کو اس کی ضرورت ہے۔ کیوں ضرورت ہے؟ کیوں کہ یہ بڑا ’’ظلوم‘‘ اور بڑا ’’جہول‘‘ ہے۔ اس کی جہالت دور کرنے کے لیے ہم نے یہ امانت نازل کی، تاکہ یہ علم والا بنے، اپنا ظلم اور اپنی بداَخلاقی دور کرے۔

آج ہمارا سسٹم ظلم کا ہے۔ مافیاز سوسائٹی پر مسلط ہیں۔ آئی ایم ایف‘ پاکستان کی کابینہ کو آرڈر دیتا ہے کہ اپنے اسٹیٹ بینک کو آزادی دو۔ کیا دنیا کے ایک سو بانوے ملکوں میں کسی ملک کا بینک آئی ایم ایف کے عالمی غلامی پر مبنی آزادی کا حامل ہے؟ ملکوں کے بینک اپنے قومی مفادات کے تحت ازخود اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوا کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کی داخلی سیاسی پارٹیوں کی مداخلت سے آزاد ہوتے ہیں، بلکہ عالمی طاغوتی قوتوں کی غلامی سے بھی آزاد ہوتے ہیں۔ آج حالت یہ ہے کہ بینک کی آزادی کے نام پر آئی ایم ایف جو کرانا چاہے، ہمارے بینک کے مقتدر لوگوں سے کرلے۔ پورے ملک کا معاشی نظام جس بینک سے چلتا ہے، اس پورے بینکنگ نظام پر عالمی سرمایہ داری نظام کا قبضہ کرا دیا گیا۔ کیا یہ امانت ہے؟ کہا جاتا ہے کہ عوامی حکومت ہے، جمہوری حکومت ہے۔ یہ کیسی جمہوری حکومت ہے کہ جمہور کا گلا گھونٹ کر اُس کو مادر پدر آزاد قومی ریاست کے تمام دائروں سے آزاد کرکے عالمی سامراجی نظام کے آگے ڈال دیا گیا۔ یہ امانت ہے؟ کیا بددیانتی کی اس سے بڑھ کر کوئی انتہا ہوسکتی ہے؟

ستر سال ہوگئے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہوئے۔ جتنا اسلام ان بہتر سالوں میں مٹایا گیا ہے، جتنا قرآن کے خلاف یہاں بددیانتی اور بدنظمی کا نظام قائم کیا گیا ہے، انگریزوں نے بھی اتنا نہیں کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ قرآن کا وہ نظام جو دراصل کل انسانیت کے لیے فلاح و بہبود کا ہے، اسلام کا وہ نظام جو انسانوں کے نفو س کی تہذیب کے لیے ہے، اس کو آج ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ بس رسمی طور پر مدرسے بنے ہوئے ہیں، مسجدیں بنی ہوئی ہیں، قرآن رٹہ سسٹم کے تحت حفظ کرلیا، حافظ ہے، لیکن غلط کاریاں نہیں چھوڑتا۔ بددیانتی نہیں چھوڑتا۔ مولوی ہے، لیکن کاروبار میں آیا تو وہاں بھی وہی کام کر رہا ہے جو دوسرے کر رہے ہیں۔ سیاست میں آیا تو جو کام دوسرے کر رہے ہیں، وہی مولانا کر رہے ہیں۔ کیا فرق ہے؟ سوچنے کی بات ہے کہ تبدیلی کیا ہے؟ آج قرآن کے ساتھ بددیانتی کرنا ہی عذاب کا سبب ہے۔ عذاب سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ قرآن کی اس امانت کو سمجھا جائے اور اس امانت کو دیانت کے ساتھ ادا کرنے، اپنے آپ کو بدلنے، اپنے سسٹم کو بدلنے، اپنے ماحول کو بدلنے کے لیے کردار ادا کیا جائے‘‘۔

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ