کسی مالی مفاد کے بغیر قرآن حکیم پر ایمان لاؤ

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
اگست 01, 2020 - دروس القرآن الحکیم
کسی مالی مفاد کے بغیر قرآن حکیم پر ایمان لاؤ

وَآمِنوا بِما أَنزَلتُ مُصَدِّقًا لِما مَعَكُم وَلا تَكونوا أَوَّلَ كافِرٍ بِهِ ۖ وَلا تَشتَروا بِآياتي ثَمَنًا قَليلًا وَإِيّايَ فَاتَّقونِ (41:2) 
(اور مان لو اس کتاب کو جومیں نے اُتاری ہے۔ سچ بتانے والی ہے اس کتاب کو جو تمھارے پاس ہے۔ اور مت ہو سب میں اوّل منکر اس کے۔ اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا۔ اور مجھ ہی سے بچتے رہو۔) 
گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل کی اصولی خرابیوں اور گمراہیوں کا سبب نعمتوں کی ناشکری اور معاہدات کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ اس آیت میں واضح کیا جا رہا ہے کہ تمام تر نعمتوں کا تقاضا ہے کہ قرآن حکیم پر صدقِ دل سے ایمان لائیں۔ اللہ سے کیے ہوئے معاہدات کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے اوّلین منکر نہ بنیں اور اللہ کی آیات کو چند دنیاوی مفادات کے بدلے میں فروخت نہ کریں۔ 
وَآمِنوا بِما أَنزَلتُ مُصَدِّقًا لِما مَعَكُم: اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے سب سے پہلے (1) اپنی نعمتوں کو یاد کرنے اور پھر (2) معاہدات کی پاسداری کرنے کے بعد (3) تیسرا حکم یہ دیا کہ جو کتابِ مقدس؛ قرآن حکیم کی صورت میں نازل کی گئی ہے، اس پر صدقِ دل سے ایمان لاؤ۔ اس لیے کہ یہ کتاب تمھارے پاس موجود کتاب تورات کی تصدیق کرتی ہے۔ اس طرح یہ اُصولی حقیقت واضح کی ہے کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لیے کہ یہ کتابیں بنیادی عقائد اور اُصولوں میں وحدتِ فکر و عمل رکھتی ہیں۔ تمام انبیا علیہم السلام اپنی اُصولی تعلیمات کے سبب گویا کہ ایک نبی کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ چناںچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ خوش خبری دی تھی کہ ’’میں ایک رسول کی خوش خبری دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا اور اُس کا نام احمد ہوگا‘‘۔ (القرآن 6:61) اس طرح قرآن حکیم پر ایمان لانا دراصل تمام کتابوں پر ایمان لانا ہے اور اس کا انکار کرنا تمام کتابوں کے انکار اور کفر کے مترادف ہے۔ 
حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ اس حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: ’’جاننا چاہیے کہ احکامِ قرآنی دربارہ اعتقادات، اور اَخبارِ انبیاؑ،و احوالِ آخرت، و اَوامر و نواہی (احکامات و ممنوعات میں) تورات وغیرہ کتبِ سابقہ کے موافق ہیں۔ ہاں ! بعض اوامر و نواہی میں نسخ (تغیر و تبدل) بھی کیا گیا ہے، مگر وہ تصدیق کے مخالف نہیں ہیں۔ تصدیق کے مخالف تکذیب (جھٹلانا) ہے اور ’’تکذیب‘‘ کسی کتابِ الٰہی کی ہو، بالکل کفر ہے۔‘‘ 
وَلا تَكونوا أَوَّلَ كافِرٍ بِهِ ۖ : یہ مدینہ منورہ میں موجود یہودیوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم قرآن حکیم کا انکار کر کے اس کتابِ مقدس کے پہلے کافر مت بنو۔ حضرت شیخ الہندؒ تحریر فرماتے ہیں: ’’قرآن کی دیدہ دانستہ تکذیب کرنے والوں میں اوّل مت ہو کہ قیامت تک کے منکرین کا وبال تمھاری گردن پر ہو۔ مشرکینِ مکہ نے جو (قرآن حکیم کا) انکار کیا ہے، وہ جہل اور بے خبری کے سبب کیا ہے، دیدہ دانستہ ہرگز نہ تھا (اس لیے کہ ان پر اس سے پہلے کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ کتب ِالٰہی کے علم کے باوجود ) اس میں تواوّل تم ہی ہوگے اور یہ کفر پہلے کفر سے سخت تر ہے۔‘‘ 
بنی اسرائیل پر تسلسل سے کتابیں نازل ہوتی رہیں۔ اس لیے ان کی جانب سے قرآن حکیم کے انکار سے یہ ہوگا کہ بنی اسماعیل اور دیگر اقوام __ جن پر پہلے کبھی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی __ تمھیں دیکھ کر اس کتاب کا انکار کریں گے۔ اس طرح تم اوّلین کافر بن کر اُن کے کفر کا باعث بنوگے، جو عذابِ شدید کا سبب بنے گا۔ 
وَلا تَشتَروا بِآياتي ثَمَنًا قَليلًا: اس آیت میں دوسری جس بات سے منع کیا جا رہا ہے، وہ اللہ کی آیات کے بدلے میں دنیاوی مال و مفادات اُٹھانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اہل علم اپنے علمی تقاضوں سے انحراف کرتے ہیں اور دنیاوی زندگی کی لذتوں اور مالی مفادات کے حصول کے چکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ کے احکامات کو عملی طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح گویا کہ وہ اللہ کی آیات کو ’’ثمنِ قلیل‘‘ یعنی معمولی قیمت کے عوض فروخت کردیتے ہیں۔ دنیا کی ساری دولت آیاتِ الٰہی کے عوض میں جمع کرلی جائے، تب بھی وہ ’’ثمنِ قلیل‘‘ ہی شمار ہوگی۔ اس لیے کہ وہ احکاماتِ الٰہی، جن پر دنیا اور آخرت کے انعامات حاصل ہوتے ہیں، کے بدلے میں ساری دنیا کی دولت بھی ہیچ ہے، کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ ان احکاماتِ الٰہیہ کا بہت معمولی معاوضہ اور قیمت ہے۔ 
اس آیتِ مبارکہ میں بنی اسرائیل کے علما کی اَخلاقی حالت کی خرابی اور نقص واضح کیا گیا ہے۔ علمائے یہود کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنی طرف سے احکامات بیان کرکے اللہ کی طرف منسوب کردیتے تھے اور اس کے بدلے میں مال و دولت حاصل کرتے تھے۔ چناںچہ ان لوگوں کی حالت بیان کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’سو افسوس ہے اُن لوگوں پر جو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اُس سے کچھ روپیہ کمائیں۔‘‘ (72:2) اسی طرح حضور اقدس ﷺ نے مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ’’جو آدمی ایسا علم __ جس سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے __ دنیا کے ساز و سامان اور مفادات کے لیے حاصل کرتا ہے، وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک بھی نہیں سونگھے گا۔‘‘ (سنن ابوداؤد) اسی لیے نبی اکرمؐ نے مسلمان اہل علم کو علمائے یہود کی اتباع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ 
وَإِيّايَ فَاتَّقونِ: بنی اسرائیل کی خرابیاں بیان کرنے کے بعد اُنھیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ قرآن حکیم کا انکار اور آیاتِ الٰہی کی فروخت کے بجائے اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈریں اور تقویٰ اختیار کریں۔ تقویٰ کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ کتابِ مقدس قرآن حکیم پر صدقِ دل سے ایمان لائیں اور جو احکامات نبی اکرمؐ بیان فرما رہے ہیں، اُن کی پوری اتباع کریں۔ اُس متقی جماعت کا حصہ بنیں، جو دین کو غالب کرنے اور خلافت ِالٰہیہ کا نظام قائم کرنے کے لیے نبی اکرمؐ تیار کر رہے ہیں۔ احکاماتِ الٰہیہ کا عملی نظام قائم کرنے سے ہی خلافت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوا جاسکتا ہے۔ چند مالی مفادات اور مال و دولت کی محبت اور اس کے حصول کے لیے کفر و نفاق اختیار کرنا درست نہیں۔ 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ