جھوٹ اور پروپیگنڈے کے اثرات کا دائرہ

جھوٹ اور پروپیگنڈے کے اثرات کا دائرہ

27؍ مارچ 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں آن لائن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: 
’’معزز دوستو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو عقل و شعور کے ساتھ صحیح رائے قائم کرنے، حقائق کا ادراک کرنے اور درست لائحۂ عمل اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی یہ بات واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انسانوں کا فیصلہ اُن کی عقل کی بنیاد پر فرمائیں گے۔ عقل بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا استعمال کرنا اس سے بڑی نعمت ہے۔ عقل ہو اور اُسے انسانیت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا نام سامراجیت ہے۔ عقل ہو اور اللہ کے تعلق سے انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال میں لائی جائے تو اس کا نام ایمان اور یقین ہے۔ اس لیے عقل کے منافی جو کام کیا جاتا ہے، وہ دراصل نہ تو دین ہے اور نہ انسانیت کی ترقی کا کوئی پروگرام ہے۔ 
جہاں عقل کا استعمال نہیں ہوتا، وہاں پروپیگنڈے کا استعمال ہوتا ہے۔ جھوٹ کو فروغ دیا جاتا ہے، جو حقائق کے منافی ہے۔ پھر جس درجے کا جھوٹ ہوتا ہے، اُسی درجے کے نتائج آتے ہیں۔ ایک آدمی نے اپنی ذات کے ساتھ جھوٹ بولا، حقائق کچھ ہیں، زبان سے کچھ اَور ادا کر رہا ہے تو دراصل یہ اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔ ایک آدمی اپنی بیوی بچوں سے جھوٹ بولتا ہے، اس کا اثر اُس کے خاندانی نظام پر پڑ تا ہے۔ ایک آدمی اپنے دفتر میں اور اپنی کمپنی میں جھوٹ بولتا ہے، کاروبار یا اپنے کام سے متعلق بنیادی حقائق چھپاتا ہے تو اس کے جھوٹ کا اثر پورے دفتر اور کمپنی پر پڑتا ہے ۔ ایک آدمی کسی ملّی، اجتماعی یا قومی کام میں جھوٹ بولتا ہے، یا حکومتی اور ادارتی نظام میں حقائق چھپاتا ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنے جھوٹ میں شامل کرکے اس کو پروپیگیٹ کرتا ہے تو اس کا اثر پوری قوم پر پڑتا ہے۔ 
ایک جھوٹ وہ ہے، جو بین الاقوامی سطح پر بولا جائے۔ اقوامِ عالم کے اندر پروپیگنڈا کیا جائے۔ قرآن حکیم نے اس کے لیے لفظ استعمال کیا ہے: ’’اِفک‘‘ یعنی جھوٹ کا طوفان باندھنا۔ ایک فرد، ایک خاندان یا ایک چھوٹی سی کمپنی یا ادارے کے جھوٹ بولنے والے تمام افراد کا اثر زیادہ سے زیادہ اُسی دائرے تک محدود رہتا ہے، لیکن جب جھوٹ قومی نظام کے دائرے میں ہو، کسی جماعتی نظام میں ہو، بین الاقوامی سطح پر ہو تو اُس جھوٹ کا اثر ان تمام پر پڑے گا۔ اگر ملک اور قوم کے حکمران طبقے جھوٹ بولیں، اس کا پروپیگنڈا کریں تو قوم اور ملک پر اس کا اثر پڑے گا۔ اور بین الاقوامی سطح پر پوری انسانیت میں جھوٹ بولا جائے تو اس کا اثر کل انسانیت پر پڑے گا۔ سچائی کی بنیاد پر عقل کا استعمال نہ کرنا اور جھوٹ کو فروغ دینا بھی ایک فتنہ ہے۔ جتنا بڑا جھوٹ ہوگا، اتنا بڑا وہ فتنہ اور اِفک ہوگا۔ اس لیے قرآن حکیم نے ہر طرح کے فتنے، جھوٹ اور اِفک سے بچتے ہوئے عقل کی بنیاد پر حقائق کا ادراک کرنے کی رہنمائی دی ہے۔‘‘ 
ہر دور اور قوم کا ایک سامری ہوتا ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’حضرت موسیٰ علیہ السلام اور سامری کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تیری قوم کو تیرے بعد ہم نے آزمائش میں ڈال دیا ہے اور انھیں سامری نے گمراہ کردیا ہے۔‘‘ (85:20) حضرت موسیٰ علیہ السلام طُور پہاڑ پر تورات لینے گئے تھے۔ وہاں انھیں اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی کہ تم تو یہاں آگئے۔ تمھاری قوم کو تو ہم نے فتنے (امتحان) میں مبتلا کردیا اور سامری نے انھیں گمراہ کردیا۔ قرآن حکیم نے اس واقعے کی تفصیل سورت طٰہٰ میں بیان کی ہے کہ سامری نے لوگوں کے زیورات اکٹھے کر کے، انھیں پگھلا کر اُن سے ایک بچھڑا بنایا اور اس کے اندر کوئی چیز پھونکی تو اُس میں سے گائے کی طرح کی آواز نکلنا شروع ہوگئی۔ گائے پرستی مصر کے اندر بہت تھی، جس کا بنی اسرائیل پر بھی اثر تھا۔ اس لیے انھوں نے سامری کے کہنے پر اس بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ 
حضرت موسیٰؑ نے سامری سے پوچھا: اے سامری! تُو نے کیا حرکت کی؟ اُس نے جواب دیا: ’’‘‘ (96:20) میں نے وہ اَن دیکھی چیز دیکھ لی، جسے عام لوگ نہیں دیکھ پاتے۔ میں نے وہ چیز وہاں سے اُٹھا لی اور بچھڑے میں ڈال دی، جس سے اُس میں سے آواز نکلنے لگی۔ سامری حضرت موسیٰؑ کی جماعت کے منافقین میں سے تھا۔ آپؑ کی لیڈرشپ میں بنی اسرائیل کی قائم اجتماعیت کو توڑ کر اپنا اقتدار اور سامری راج حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے اُس نے بچھڑے کو خدا بنا کر بنی اسرائیل کو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ سامری کی اس حرکت پر اللہ تعالیٰ نے اُسے یہ سزا دی۔ سامری سے فرمایا کہ تم انسانی اجتماعیت سے الگ ہو کر تنہا ہوجاؤ۔ اب تم مرض کی وجہ سے ہر کسی کو کہو گے کہ ’’‘‘ (97:20)  (مجھے کوئی نہ چھونا)۔ جو تمھیں ہاتھ لگائے گا وہ مرض میں مبتلا ہوجائے گا۔ تم اور تمھارے سب حواری دس دس فٹ کے فاصلے پر بکھر بکھر کر بیٹھو، تمھارا ایک دوسرے سے فاصلہ ہونا ضروری ہے۔ جب بھی کوئی سامری اور اُس کے حواریوں کے قریب آتا تو انھیں تکلیف ہوتی اور وہ چیختے چِلّاتے۔ 
غالباً ’سامراج‘ لفظ سامری سے ہی بنا ہے۔ آج کی سامراجیت بھی سامری راج ہی ہے۔ پچھلے ڈھائی سو سال میں جب سے ادیان اور مذہب کی بنیاد پر قائم حکومتیں ختم ہوئی ہیں، سامراج نے اپنا مذہب محض مادی سائنس کے چند ادھورے افکار و نظریات کو بنا لیا ہے۔ یہاں تک کہ آج سامراج میڈیکل سائنس کو اپنے سیاسی و معاشی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جب سے ان قوتوں نے ایک وائرس دریافت کیا ہے، اُس کے مقابلے کے نام پر انسانوں کی فکری آزادی سلب کی جا رہی ہے، اُن کی سیاسی اور معاشی اجتماعیت کو پارہ پارہ کیا جا رہا ہے۔ وہ بھی سامری کی طرح ایک اَن دیکھی چیز کو ایک ڈراؤنا خواب بنا کر انسانیت میں تفریق پیدا کرنے اور علاج معالجے کے نام پر قوموں کی آزادی سلب کرنے کے درپے ہیں اور ’’‘‘ کا راگ الاپ رہے ہیں۔‘‘ 
سائنس کا بحقِ سامراج استعمال 
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’پچھلے دو ڈھائی سو سال سے مذہب اور دین کی حکمرانی نہیں رہی۔ 1922ء کے بعد سے سسٹم سامری راج (سامراج) کی بنیاد پر بن رہے ہیں ۔ آج کے مادی نظاموں میں سائنس کو مذہب کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اس کی بنیاد پر جس وائرس کی دریافت اور اس کے انسانیت پر جو ممکنہ اثرات بیان کیے جا رہے ہیں، اس کے بارے میں سامری کی طرح یہ کہنا کہ: ’’‘‘ (ہماری بصیرت نے اُسے دیکھ لیا ہے)کافی نہیں ہے۔ اس پر بہت سے سنجیدہ سوالات اُٹھتے ہیں۔ بہ ظاہر ابھی وائرس آئے چند دن ہوئے ہیں، جب کہ اس پر 2011ء سے فلمیں، لٹریچر، ناولز اور بیانات کے تسلسل سے بہت سے سوالات پیدا ہورہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ پہلے سے تیار کر کے رکھا ہوا تھا؟ گویا ’’اِفک‘‘ یعنی جھوٹ کاطوفان ہے۔ حال آںکہ دنیا میں وائرس بنتے رہتے ہیں، ٹوٹتے رہتے ہیں۔ انسان کی قوتِ مدافعت اور وِل پاور ایسی ہے کہ جب تک دنیا قائم ہے، وہ اپنی انسانیت کی بقا کے لیے کردار ادا کرتی رہے گی۔ 
قومی حکومتوں کا حال یہ ہے کہ وہ عالمی سامری اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے پر بے بس ہیں، حتیٰ کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت رکھنے والا امریکی صدر ٹرمپ بھی شور مچاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کرنے سے امریکا کی معیشت تباہ ہوجائے گی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ تم کو وائرس کا پتہ نہیں، ہمیں پتہ ہے، اس لیے ساری دنیا میں لاک ڈاؤن کرو۔ لوگ خواہ اس وائرس سے مریں یا نہ مریں، لیکن ملک بند ہونے، غربت و افلاس اور بھوک سے مر جائیں تو ان ظالمانہ قوتوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ کیوں کہ اس کی آڑ میں انھوں نے اپنے مالی مفادات اٹھانے ہیں۔ اس وائرس کے خوف کو عالمی میڈیا کے ذریعے اتنا پروپیگیٹ کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے مذہبی رہنما، علما، پوپ، مندروں اور گوردواروں کے پجاری، قومی حکومتیں اور سیاسی لیڈر عقل و شعور سے عاری ہو کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بھی اپنے اپنے مذہب کی حقیقی تعلیمات اور قومی مفادات کے بجائے اس سامراجی پروپیگنڈے پر اعتبار کرلیا اور انسانی سماج میں فاصلے پیدا کرکے اپنی اجتماعیت توڑنے اور شرعی عبادات کی اصل حالت اور کیفیت کو تبدیل کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ 
آج حکومت مذہب کی نہیں، مادی سائنس کی ہے۔ مذہب کا تو نظام ہی نہیں ہے تو مذہب پر کیسے الزام لگایا جاسکتا ہے؟ اس دور میں دینِ اسلام کا نظام نافذ نہیں ہے، نہ کسی اَور مذہب کی تعلیمات کا کوئی نظام قائم ہے۔ اس دور میں موہوم خطرات کی بنیاد پر صحیح عقل و شعور کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ جھوٹ کو پروپیگیٹ کیا جا رہا ہے۔ جیسے پہلے دور میں طاقت ور طبقے مذہب فروشی کرکے لوگوں کو لوٹتے تھے، بالکل ویسے ہی آج طبی سائنس کے نام پر طاقت ور سامراجی طبقے بڑے منظم طریقے سے صحت کے حوالے سے اَن دیکھے خطرات پھیلا کر سات آٹھ ارب کی آبادی کو مفلوج کیے ہوئے ہیں۔‘‘ 
آج کی خوف زدہ دنیا حضرت موسیٰؑ کے واقعے سے رہنمائی لے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’حضرت موسیٰ علیہ السلام اور سامری کے واقعے کو ایک مسلمان کو غور سے پڑھنا چاہیے۔ قرآن حکیم نے اس واقعے کے ضمن میں اُصولی باتیں بیان کردیں، تاکہ اگر تمھارے زمانے میں اُس سے ملتے جلتے کوئی واقعات ہوں تو تمھیں تجزیہ کرنے کے لیے آسانی ہو۔ اس کو تذکرہ اور عبرت کہتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (2:29) (اے عقل مندو! عبرت حاصل کرو) عبرت اور اعتبار یہ ہے کہ قرآن کے بیان کردہ واقعے کے اصولوں کی روشنی میں اپنے دور کے واقعات پر غور و فکر کرو۔ 
آج دنیا طاقت ور طبقے کے حکم سے مفلوج ہوکر رہ گئی۔ اس وقت چار پانچ ارب کی آبادی گھروں میں ایک ایسے خوف کی وجہ سے بند ہے، جس کا پروپیگنڈا کیا گیا۔ چند نادیدہ لوگوں کی اَن دیکھی باتیں بیان کی جا رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ تمھیں گھروں میں رہنا ہے۔ دنیا میں اس وقت مادی مفاداتی سائنس کا نظام مسلط ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس کے دعوؤں کو مذہبی لوگ احادیث و آیات سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آج آیات و احادیث کا نظام نافذ ہے کہ ایسے نظام کو ثابت کرنے کے لیے آیات و احادیث کے مفاہیم بدلے جا رہے ہیں؟ پھر شرعی حکم تو شریعت کے احکامات کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ مادی تجربات کی بنیاد پر۔ اس لیے کہ سائنس آج ایک تجربہ کرتی ہے تو کل کو دوسرا تجربہ ہوتا ہے۔ دین اس طرح کے تجربات سے آزاد ہے۔ وہ سائنس دانوں کے بدلتے تجربات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ وہ دینِ قیم کے اصولوں کی بنیاد پر شرعی احکامات بیان کرتا ہے۔ 
آج ساری دنیا کو عالمی ادارۂ صحت W.H.O نے ڈر کے نرغے میں پھنسا رکھا ہے۔ سب سے پہلے اسی ادارے نے میڈیا کے ذریعے دنیا کو یرغمال بنانے کے لیے جھوٹ اور خوف مسلط کیا تھا۔ اس کے بعد تمام اداروں نے یہی خوف بانٹا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ’’‘‘ (11:24) جھوٹ کے طوفان میں جس نے بھی جس درجے کا حصہ ڈالا، پروپیگنڈا کیا، اُس خوف کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کیا، اس کو ضرور گناہ ملے گا۔ اس لیے ہمیں اس گناہ سے بچنا ہے۔ 
ان حالات میں ہمیں خوف کے بجائے دینی عقل و شعور سے کام لینا ہے۔ اس مرض کے مقابلے کے لیے حوصلہ پیدا کرنا ہے۔ آج سامری نما سامراج کا مقصد یہی ہے کہ ’’لامساس‘‘ کی اساس پر انسانوں کی اجتماعیت ٹوٹ جائے۔ لوگوں کے سماجی تعلقات توڑ کر انھیں گھروں میں قید کردو، انھیں انفرادیت کا شکار بنا دو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت خطرے میں نہیں ہے۔ انسانیت کو ابھی باقی رہنا ہے۔ انسانیت تبھی باقی رہے گی کہ جب اس کا ہر سطح کا نظام‘ اجتماعیت کے اصولوںپر اُستوار ہو۔ آج ہمیں تمام اجتماعی گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جھوٹ کے اس طوفان میں بہنے اور سامراجی مقاصد کے لیے آلہ کار بننے اور اس شر اور فتنے کا حصہ بننے سے بچائے اور حقائق کے تناظر میں رائے قائم کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)‘‘ 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ