انسانی ترقی اور حقیقی کامیابی کا نبویؐ طریقۂ کار  (2)

انسانی ترقی اور حقیقی کامیابی کا نبویؐ طریقۂ کار  (2)

(امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس باب کے شروع میں انسان کی ترقی اور کامیابی کے حوالے سے دو طریقہ ہائے کار کی نشان دہی کی تھی: ایک یہ کہ انسان اپنی حیوانیت کو سِرے سے ختم کردے اور صرف اپنی ’’مَلَکیت‘‘ کو ترقی دے۔ دوسرا طریقۂ کار یہ کہ حیوانی تقاضوں کی اصلاح کرتے ہوئے مَلکی تقاضوں کی تکمیل کی جائے۔ اس دوسرے طریقۂ کار کے بارے میں شاہ صاحبؒ نے بتلایا کہ یہ انبیا علیہم السلام کا طریقۂ ترقی ہے اور انسان کی یہی حقیقی ترقی اور کامیابی ہے۔ 
اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں :) 
’’اس کی تفصیل یہ ہے کہ اپنی حیوانیت کو سِرے سے ختم کرنے کا پہلا طریقۂ کار مجذوب لوگ اختیار کرتے ہیں۔ اور اُن کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ 
[کامیابی کے پہلے طریقے کے نقصانات]
(نیز اس طریقۂ کار میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:) 
1۔     یہ طریقۂ کار بڑی مشقت والی ریاضات برداشت کرنے، دنیا کی ہر چیز سے بہت زیادہ بے تعلق اور فارغ رہنے کا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ 
2۔     اس طریقۂ کار کے اہم رہنما وہ لوگ ہوتے ہیں، جنھوں نے اپنی معاشی زندگی کو فضول اور مہمل بنا کر رکھ دیا۔ اُن کے لیے دنیا میں کوئی کشش اور چاہت نہیں ہوتی۔ 
3۔     یہ لوگ اُس وقت تک اس طریقۂ کار کو اختیار نہیں کرسکتے، جب تک کہ دوسرے طریقۂ کار کے مطابق کچھ نہ کچھ اپنے کھانے پینے اور معاش کا انتظام نہ کریں۔ 
4۔     پھر یہ لوگ کامیابی کے درجِ ذیل دو راستوں میں سے ایک راستے کو بالکل مہمل چھوڑ دیتے ہیں: 
    (الف)     کامیابی کا ایک راستہ؛ دنیا میں ارتفاقات کی اصلاح کا ہے۔ 
    (ب)     دوسرا راستہ آخرت کے لیے اپنے نفس کی اصلاح کا ہے۔ 
5۔     پھر یہ بھی ہے کہ اگر مجذوبوں کے اس طریقۂ کار کو اکثر لوگ اختیار کرلیں تو دنیا کا سارا نظام خراب ہو کر رہ جائے گا۔ 
6۔     اگر تمام لوگوں کو اس طریقۂ کار کا پابند بنایا جائے تو ایسا کرنا انھیں ایک ناممکن بات کا پابند بنانا ہوگا۔ اس لیے کہ ارتفاقات انسانی جبلت کا بنیادی حصہ ہیں۔ 
[حقیقی کامیابی کے دوسرے طریقے کے فوائد و ثمرات]
انسانی ترقی کے دوسرے راستے کی درجِ ذیل خصوصیات اور فوائد ہیں: 
1۔     اس طریقۂ کار کے رہنما اور ائمہ ’’مُفَہَّمون‘‘ (سمجھ دار لوگ) ہوتے ہیں۔ ان کی ملکیت اور بہیمیت میں باہمی مصالحت ہوتی ہے۔ 
2۔     یہ سمجھ دار لوگ بہ یک وقت دین اور دنیا دونوں کی حکمرانی اور ریاست قائم کرتے ہیں۔ 
3۔     انسانیت میں ان کی دینی دعوت بہت زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ 
4۔     ان کے جاری کردہ طریقۂ کار کی ہی عام طور پر اتباع کی جاتی ہے۔ 
5۔     اس طریقۂ کار پر عمل کرنے سے ملکیت اور بہیمیت میں مصالحت کے حامل لوگوں کے کمالات منحصر ہوتے ہیں، جو دینی کاموں میں سبقت لے جانے والے اور دائیں ہاتھ میں نامۂ اَعمال لینے والے ہیں۔ ایسے لوگ اکثریت میں ہوتے ہیں۔ 
6۔     یہ طریقۂ کار ایسا ہے کہ ایک ذہین اور کند ذہن آدمی بھی اس پر عمل کرکے کامیاب ہوجاتا ہے۔ نیز معاشی سرگرمیوں میں مشغول اور فارغ رہنے والا فرد بھی اس  طریقۂ کار سے مستفید ہوتا ہے۔ اس سے انھیں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ 
7۔     یہ طریقۂ کار ایک بندے کو درجِ ذیل اُمور میں بہت کافی ہوتا ہے: 
    (الف) اس سے استقامتِ نفس پیدا ہوتی ہے۔ 
    (ب)     اس کے ذریعے سے وہ اپنے نفس کی کجی اور کوتاہی دور کرلیتا ہے۔ 
    (ج)     وہ آخرت میں متوقع مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچ جاتا ہے۔ 
    اس لیے کہ ہر انسانی نفس کے کچھ ایسے مَلکی افعال ہوتے ہیں کہ اگر انھیں کیا جائے تو انسان کو لذت کی نعمت حاصل ہوجاتی ہے۔ اگر اُن افعال کو وہ نہ کرسکے تو اُس کے نفس کو تکلیف اور اذیت حاصل ہوتی ہے۔‘‘ 
[دوسرے طریقۂ کار پر ایک سوال کا جواب]
(سوال: دوسرا طریقۂ کار اختیار کرنے سے معاشی اُمور میں آدمی ایسا اُلجھ جاتا ہے کہ اُسے ماورائے مادہ عالَم کی طرف پوری توجہ نہیں رہتی۔ وہ معاشی ارتفاقات میں مشغول ہو کر ذاتِ باری تعالیٰ میں پورا استغراق حاصل نہیں کرسکتا۔ اور اُسے وہاں کے علوم حاصل نہیں ہوپاتے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں:) 
’’باقی رہا ماورائے مادہ عالَم کے احکامات اور علوم کہ جنھیں انسان اپنی جبلت کے سبب نہیں جان پاتا، تو وہ عنقریب قبر اور حشر کے مختلف مراحل میں اُس کے سامنے کھل کر آجائے گا، اگرچہ کچھ زمانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے: 


ستُبدی    لک    الأیّامُ    ما    کُنتَ    جاہلاً
و   یأتیک     بالأخبار     من     لم   تُزوّدٖ


(عنقریب تجھ پر (آئندہ آنے والے) دنوں کی اصل حقیقت ظاہر ہوجائے گی کہ جن سے تو جاہل ہے۔ اور جن باتوں سے تُو باخبر نہیں ہوا، وہ باتیں تیرے سامنے آکر رہیں گی۔) 
خلاصہ یہ ہے کہ خیر کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا اور تمام علوم پر حاوی ہونا اکثر لوگوں کے لیے قطعی طور پر محال ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ (آنے والے عالَم کے بارے میں) ’’جہلِ بسیط‘‘ یعنی مطلق جہالت نقصان دہ نہیں ہوتی۔ و اللہ اعلم‘‘ 
(باب توزُّع النّاس فی کیفیۃ تحصیل ہٰذہٖ السّعادۃ) 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ