انسانی معاشرے میں معاہدات کی اہمیت

انسانی معاشرے میں معاہدات کی اہمیت

5؍ فروری 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 
’’معزز دوستو! انسانی معاشرے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ انسانی سماج معاہدات کا مجموعہ ہے۔ قدم قدم پر انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے میں جڑا ہوا ہے۔ معاہدات تحریری ہوں، یا اجتماعی شعور کے تحت انسانوں کے درمیان معاہدات طے کرنے کی اقدار و اَخلاق ہوں، انسان دونوں ہی کا پابند بنتاہے۔ گھر کے نظام سے لے کر قومی اور بین الاقوامی نظام تک انسانی سماج میںمعاہدات ہوتے ہیں۔ اور معاہدات اس لیے کیے جاتے ہیں کہ مختلف انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والے تضادات اور اختلافات کا حل تلاش کیا جائے۔ 
یوں تو تمام انسانیت ایک ہے۔ وحدتِ انسانیت کا بنیادی نظریہ دین اسلام کی تعلیمات کی اساسیات میں سے ہے۔ علمی اور عقلی طور پر بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسانیت 99.9 کے حساب سے یعنی ایک ہزار میں سے 999.9 انسانیت ایک ہے۔ صرف ایک فی ہزار کا اختلاف ہے۔ اس فی ہزار کے اختلاف کے اندر ہی یہ قومیں، نسلیں، تہذیبیں، زبانیں اور ان کے درمیان تنوع پایا جاتا ہے۔ اس ایک فی ہزار اختلاف کے نتیجے میں جو انسانوں میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں، ان کو حل کرنے اور ان کو درست خطوط پر آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ جو 999 اس کے اندر اتفاق کی چیزیں ہیں، اس کے مطابق اس کو حل کیا جائے۔ یہ اختلاف زیادہ سے زیادہ رنگ و نسل کا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ اس رنگ و نسل کے اختلاف کی وجہ بھی قرآن نے بیان کردی کہ ’لِتَعَارَفُوْا‘ کہ یہ جو ہم نے تمھارے قبائل بنائے ہیں، نسلی امتیازات اور خصوصیات پیدا کی ہیں، ان کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرو۔ کیوںکہ انتظامی نظم و نسق کے لیے افراد کی شناخت کا ہونا ضروری ہے کہ کون آدمی کس منفرد شناخت کے ساتھ، کن خصوصیات کا حامل ہے یا کس خطے میں بس رہا ہے؟ کس قوم اور نسل سے تعلق رکھتا ہے؟ تاکہ اس کے مطابق نظم و نسق درست طریقے سے قائم ہوسکے۔
انتظامی نظم و نسق میں اہم اور بنیادی چیز انسانوں کے درمیان سماجی معاہدات ہیں۔ نظم و نسق اس کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا، جب تک کہ کوئی سوشل کنٹیکٹ نہ ہو اور افراد کے درمیان معاملات طے کرنے کا کوئی معاہدہ وجود میں نہ آئے۔ کیوں کہ معاہدات ہی کی بنیاد پر معاملات اور مسائل حل ہوں گے۔ گویا معاہدات کی بنیادی روح یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے اختلافات نمٹیں۔ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کے حوالے سے کسی بات پر متفق ہوں۔ انسانیت ترقی کرے۔ انسانوں میں عدل، امن، معاشی خوش حالی ہو۔ اسی لیے معاہدات امن کی ضمانت ہوتے ہیں، معاشی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ معاہدات کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی میں رحم دلی، تعلقات اور باہمی پیار و محبت استوار ہوتا ہے۔‘‘ 


معاہدات کی روح؛ اختلافات اور جھگڑے نمٹانا ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’ہماری فقہ کی کتابوں میں دین اسلام کی تعلیمات کا یہ بنیادی اُصول بیان کیا جاتا ہے کہ معاہدہ ایسا ہونا چاہیے کہ جس کے نتیجے میں جھگڑے نمٹیں۔ خاص طور پر خرید و فروخت کے معاملات میں یہ باتیں طے ہوں کہ بیچنے والا کیا چیز بیچ رہا ہے؟ کتنی مقدار میں بیچ رہا ہے؟ اور کس وقت دے گا؟ ابھی یا کچھ وقت ٹھہر کے۔ اس کی مکمل تعیین ضروری ہے اور اس کے بدلے میں جو خرید رہا ہے، وہ کیا چیز دے گا؟ چاندی کے سکے دے گا، سونے کے دے گا، یا بارٹر سسٹم کے تحت اَور کوئی جنس دے گا؟ اس کا بھی تعین ہونا ضروری ہے۔ اگر معاہدہ گول مول ہے، کچھ اتہ پتہ نہیں چل رہا، تو وہ ’’مفضی الیٰ المنازعہ‘‘ یعنی جھگڑے کی طرف لے جانے والا ہے۔ وہ بیع فاسد ہے۔ کیوںکہ معاہدے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہر ایک فریق اس اختلاف اور جھگڑے کو ختم کرکے اپنے اپنے حقوق و فرائض کے تحت کام کرے۔ 
خرید و فروخت میں بھی یہی ہے اور معاہدۂ نکاح کا بھی یہی قانون ہے۔ اسی طرح ایک قومی سطح کے سیاسی اور سماجی معاہدے میں بھی یہ طے کرنا ضروری ہے کہ حکمران کے کیا فرائض ہوں گے اور عوام کے کیا فرائض ہوں گے؟ جو حکومت میں ہیں، جن کے پاس نظم و نسق ہے۔ انھوں نے کون کون سے کام کرنے ہیں؟ اور کون کون سے کام عوام نے کرنے ہیں؟ اجتماعیت کے بنیادی تقاضے کیا ہیں؟ پھر حکومت کا نظم و نسق کس پیٹرن پر چلے گا؟ کیا طریقۂ کار ہوگا؟ انتظامی فیصلے کیسے ہوں گے؟ انتظامات پر عمل درآمد کے پروسیجرز کیا ہوں گے؟ پھر اس کو چیک کرنے کا عدالتی نظام کیا ہوگا؟ جب تک مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، تینوں شعبے اور اُن کے مکمل قوانین اور ضابطے وجود میں نہ آئیں تو معاہدۂ عمرانی (social contact) نہیں کہلا سکتا۔ پھر اس کے ذیل میں جتنے بھی نیچے تک کے معاہدات ہیں، خرید و فروخت کے ہوں، لین دین کے ہوں، شادی بیاہ کے ہوں، دیگر اُمور سرانجام دینے کے ہوں، قومی ہوں، یا ایک ریاست اور قوم دوسری ریاستوں سے یا اقوام سے جو معاملات طے کرے گی، اس کے قوانین اور ضابطے کیا ہوں گے؟ 
پھر اقوامِ عالم مل کر بین الاقوامی سطح پر اپنے معاملات، خارجہ تعلقات کس طریقے سے سرانجام دیں گے؟ اس کے لیے بھی قوانین اور ضابطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان تمام معاہدات کا بنیادی مقصد اور ہدف انسانوں میں وہ جو ایک فی ہزار اختلاف ہے، اس اختلاف کو حل کرکے وحدتِ انسانیت کے تقاضے کے مطابق انسانوں میں امن، عدل، خوش حالی اور ترقی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔ کتابِ مقدس قرآن حکیم نے انسانی سماج کا اس نقطہ نظر سے تعارف کرایا ہے۔ معاہدات کے حوالے سے پورے قرآن حکیم میں سینکڑوں آیات میں گفتگو کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَ کَانَ عَہْدُ اللّٰہِ مَسْئُوْلاً‘‘ (الاحزاب: 15) اللہ تعالیٰ کے نام پر کیے گئے معاہدوں کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ 


معاہدات توڑنے کا سامراجی کردار
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’مسلمانوں نے دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں گیارہ سو سال تک معاہدات کی پاسداری کی اساس پر انسانیت میں عدل، امن اور معاشی خوش حالی کا نظام قائم کیا۔ جب سے یورپین انسانیت پر مسلط ہوئے ہیں اور اس برعظیم پاک و ہند پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ ہوا تو ہر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ ہر معاہدے میں دباؤ ڈال کر ایسا پریشر پیدا کیا گیا، جس کے ذریعے سے اختلافات حل ہونے کے بجائے اختلاف کی خلیج کو بڑھایا گیا۔ 1757ء کی جنگ ِپلاسی سے پہلے سراج الدولہ سے ہونے والے معاہدے سے لے کر آج تک کے تمام معاہدات کی پوری تاریخ آپ کے سامنے رہنی چاہیے کہ ہر معاہدے کے پیچھے مسئلہ حل کرنا نہیں، بلکہ مسئلہ پیدا کرنا رہا ہے۔ 
آج 5؍ فروری کو جو یومِ کشمیر آپ منا رہے ہیں، اس کی اساسیات بھی ایک معاہدے سے جڑی ہوئی ہیں۔ برعظیم پاک و ہند میں ایک معاہدے کے تحت دو ملک وجود میں آئے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں جھگڑے نمٹنے چاہئیں تھے یا جھگڑے پیدا ہونے چاہئیں تھے؟ اگر ایک معاہدے کے نتیجے میں کوئی جھگڑا پیدا ہو اور اس کی وجہ سے ایک پوری نسل اذیت، تکلیف، غلامی اور پستی کی حالت میں ہو تو اس معاہدے کی عقلی طور پر کیا وقعت ہے؟ انسانی حقوق اور دین و شریعت کے اعتبار سے کیا حیثیت ہے؟ دین اسلام کی تعلیمات کے حوالے سے کیا اہمیت ہے؟ معاہدے کا مطلب تو جھگڑے نمٹانا ہے۔ اگر معاہدے کے نتیجے میں جھگڑے پیدا ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاہدہ نہیں ہے، وہ انسانیت سے دھوکا اور فراڈ ہے۔ دین سے اور انسانیت سے غداری ہے۔ دین میں افتراق و انتشار پیدا کرنے کا سبب ہے۔ 
جب آپ نے ایک فارمولا تسلیم کرلیا کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر برٹش انڈیا کے علاقے دونوں ملکوں میں تقسیم ہوں گے تو 565 ریاستوں کی حیثیت متعین کرنے میں یہ فارمولا کیوں توڑا گیا؟ کیوں یہ تسلیم کیا گیا کہ ریاستوں کے راجے مہاراجے، نواب اور نظام فیصلہ کریں گے کہ ہماری ریاست کدھر شامل ہو؟ اِدھر شامل ہو یا اُدھر شامل ہو؟ کیوں؟ اس کا مطلب یہ کہ جھگڑا کھڑا کرنا مقصد ہے۔ انتشار پیدا کرنا ہدف ہے۔ اسی لیے محققین کی اجتماعی رائے یہ ہے کہ اسی معاہدے کا ایک تسلسل ہے، جس سے کشمیر کی تباہی اور بربادی ہوئی۔ یہ اسی معاہدے کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب تقسیم کا ایک فارمولا طے ہوگیا تو ہر مسلم اکثریتی علاقہ اور ریاست پاکستان میں شامل ہو اور ہندو اکثریتی علاقہ ہندوستان میں شامل ہو۔ پھر کشمیر پاکستان کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا جو مسلم اکثریتی علاقہ ہے؟ کیوں اس معاہدے پر سائن کیے گئے، جس میں مہاراجہ کشمیر کو الگ سے معاہدہ کرنے اور اپنی ریاست کا الحاق کرنے کے اختیارات دیے؟ کیوں اس معاہدے پر سائن کیے گئے کہ جو نظام حیدرآباد کو یہ اختیار دیتا تھا کہ وہ اپنی حیدرآباد یا جونا گڑھ کی ریاست کو اپنی مرضی کے تحت جدھر چاہے شامل کرے؟‘‘ 


انسانی بنیادوں پر معاہدات کا تجزیہ ضروری ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’قرآن حکیم اس بات پر باربار زور دیتا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنا، معاہدات کے اندر جھگڑے پیدا کرنے کے حوالے سے شقیں اور شرائط رکھنا، دراصل معاہدے کے وجود کا انکار ہے۔ اسی لیے نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ہر معاہدہ جس میں اس کی روح کے خلاف کوئی بھی شرط لگائی گئی ہو تو وہ باطل اور غلط ہے۔ معاہدے کی اصل روح انسانیت ہے۔ اگر کسی معاہدے کے سبب سے انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے، انسانیت کو نقصان ہو رہا ہے، انسانیت بھیڑیوں کے حوالے ہو رہی ہے، انسانیت پر ظلم ہو رہا ہے تو اس معاہدے میں کتنی ہی شقیں رکھ لی جائیں، وہ تمام شقیں باطل اور غلط ہیں۔ 
ہمارے فقہا اور علما خرید و فروخت کے لین دین میں تو اس قانون اور شریعت کے اس حکم کو لاگو کرتے ہیں، لیکن سیاسی معاہدات میں، سماجی معاہدات میں، قومی اور بین الاقوامی معاہدات میں یہ شرط کیوں عائد نہیں کی جاتی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اس برعظیم پاک و ہند میں سیاسی شعور مسخ کردیا گیا۔ مسجد میں لکھ کر لگا دیا گیا کہ سیاست پر باتیں کرنا ممنوع ہے۔ سیاست پر گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ حکمرانوں کا کام ہے کہ وہ سیاست پر بات کریں، جیسے چاہیں اُلٹے سیدھے معاہدے طے کریں، معاملات طے کریں۔ نہیں! عوام کا بھی حق ہے کہ وہ معاہدات پر گفتگو کریں۔ 
کیا نبیؐ سے بڑھ کر اس دنیا میں کوئی طاقت ہے؟ آپؐ صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کرتے ہیں تو حضرت عمرفاروقؓ اس معاہدے پر سوالات اُٹھاتے ہیں۔ حال آں کہ نبیؐ نے اللہ کے حکم سے ایک فیصلہ کرلیا، لیکن اللہ نے کہا کہ جب آیاتِ رب پڑھ کر بھی سنائی جائیں تو اللہ کے بندے وہ ہیں، جو اس پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گر پڑتے، سمجھتے ہیں، عمر فاروقؓ سمجھنا چاہتے ہیں کہ بھئی! یہ معاہدہ کیوں کیا آپ نے؟ کیوں ہم یہ ذلت کی صلح قبول کریں؟ اس معاہدے پر سوال ہے۔ نبی اکرمؐ نے سمجھایا، حضرت ابوبکرؓ نے سمجھایا تو تب جا کر انھیں بات سمجھ میں آئی۔ اسی طرح حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے دور میں صاف طور پر فرمایا کہ ہمارے مالیاتی معاملات اور ہمارے انتظامی اختیارات پر تم عوام کو سوال کرنے کا حق ہے۔ تم مجھ سے پوچھو کہ میں نے مالیاتی معاملات اور معاہدات کیسے سرانجام دیے؟ 
آج قوم کو بھی سوال کرنا چاہیے کہ آپ نے کشمیر پر جو معاہدہ کیا تو اس معاہدے کی یہ فلاں فلاں شق کس بنیاد پر ہے؟ کیا منطق ہے اس کی؟ ایسی شقوں کو کیوں قبول کیا، جن کے نتیجے میں آج 72 سال ہوگئے کشمیریوںکا خون بہہ رہا ہے۔ وہ ذلت اور رُسوائی کی حالت میں ہیں۔ اپنی قومی نسلوں کو تباہ و برباد کردینے سے بڑا ظلم کیا ہوگا؟ اس سے بڑی خلاف ورزی کیا ہوگی کہ سامراج ایسی ہڈی چھوڑ کر چلا گیا کہ جس کے نتیجے میں لڑتے رہو، مرتے رہو، ایک دوسرے کا خون بہاتے رہو۔ اس لیے آج سمجھ داری عقل و شعور اور تدبر کی بڑی ضرورت ہے، جو دین اسلام ایک مسلمان جماعت میں پیدا کرنا چاہتا ہے‘‘۔ 

 

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ