انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (2)

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
ستمبر 01, 2020 - افکار شاہ ولی اللہؒ
انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (2)


امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
دوسرا بنیادی خُلق؛ اِخبات للہ تعالیٰ 
’’ان اَخلاق میں سے دوسرا خُلق اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا اور خشوع اختیار کرنا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ جس انسان کی فطرت سلامت ہو اور وہ تمام کاموں سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور اُس کی صفات کی طرف متوجہ ہو اور ان میں خوب اچھی طرح دھیان دے تو اُس کے نفسِ ناطقہ (روح) میں ان آیاتِ الٰہی اور صفاتِ خداوندی کی طرف جھکاؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے حواس اور جسم میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و انکساری پیدا ہوتی ہے۔ اس کی روح اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک کر تھکی ماندی ہوجاتی ہے۔ اس کے دل میں ذاتِ باری تعالیٰ کی مقدس جناب کی طرف میلان پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے، جیسا کہ حکمرانوں کے سامنے ایک عام آدمی پر عجز کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ وہ اپنے دل میں انتہائی عجز و انکساری ملاحظہ کرتے ہیں اور کسی چیز کو دینے یا نہ دینے میں اُس کی طاقت اور قوت کو تسلیم کرتے ہیں۔ 
انسان کی قوتِ نسمہ (روحِ حیوانی) کی یہ حالت ملائِ اعلیٰ کے فرشتوں کی حالت کے زیادہ مشابہ اور قریب تر ہوتی ہے۔ فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ باری تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور اس کے جاہ و جلال کو پوری طرح تسلیم کیے رہتے ہیں۔ وہ اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ انسان میں اخبات کی اس حالت کا پیدا ہونا اس میں کمالِ علمی کی استعداد پیدا کرتا ہے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ ایسی حالت میں انسانی ذہن کی تختی پر معرفت ِالٰہیہ نقش ہو کر رہ جاتی ہے اوراُسے کسی نہ کسی پہلو سے حضرتِ الٰہیہ میں حضوری کی ایسی کیفیت حاصل ہوتی ہے، جس کے بیان کرنے سے قلم عاجز ہے۔ 
تیسرا بنیادی خُلق؛ سماحت 
تیسرا بنیادی خُلق سماحت ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسانی نفس ایسا ہوجائے کہ وہ قوتِ بہیمیہ کے تقاضوں کا فرماں بردار نہ بنے اور نہ ہی اُس میں حیوانی عادات کے نقوش پختہ ہوں اور نہ ہی حیوانیت سے متعلق کاموں کا اثر اور رنگ پایا جاتا ہو۔ 
اس کی تفصیل یہ ہے کہ انسانی نفس جب اپنے معاشی اُمور میں مصروف ہوتا ہے، اُسے عورتوں کی خواہش ہوتی ہے، لذات حاصل کرنے کا تقاضا پیدا ہوتا ہے، یا کھانے پینے کا تقاضا پیدا ہوتا ہے تو وہ اُس کے حصول کے لیے کوشش کرکے اپنا تقاضا پورا کرلیتا ہے۔ یہاں تک کہ اُس کی مطلوبہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جب انسانی نفس غضب ناک ہو، یا کسی چیز کی محبت میں مبتلا ہو تو لازمی سی بات ہے کہ اُسے ایک وقت کے لیے اس کیفیت اور حالت میں مشغولیت ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں اُس کی نظر اپنے کھانے پینے کی ان لذات کے تقاضوں سے ہٹ کر کسی اور طرف نہیں ہوتی۔ 
پھر جب انسان اپنے اس نفسانی تقاضے کو پورا کرلیتا ہے اور اُس کی یہ حالت دور ہوجاتی ہے(مثلاً بھوک لگی تھی، کھانا کھالیا تو اُس کی بھوک دور ہوگئی)۔ اس کے بعد: 
(الف: سمیح انسان) اگر یہ انسان سماحت کے خُلق کا حامل ہے تو وہ اپنے نفس کے تقاضوں سے اس طرح فارغ ہوجاتا ہے کہ گویا وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ 
سماحت ِنفس کے حامل ایسے انسان کی روح جب جسم سے جدا ہوگی اور وہ تہہ بہ تہہ ظلمانی دنیاوی تعلقات سے آزاد ہوجائے گی اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرے گی تو اپنی مَلَکیت کے مخالف دنیا سے متعلق کسی چیز اور تعلق کو اپنے اندر نہیں پائے گی۔ اس طرح اُسے یہاں دنیا سے جانے کے بعد اُنس و سرور حاصل ہوگا اور وہ بہت عمدہ اور ہمیشہ رہنے والے عیش میں رہے گی۔ 
(ب: شحیح انسان) اگر وہ سماحت کے خُلق کا حامل نہیں ہے تو نفسانی تقاضوں کے پورا ہونے کے بعد بھی وہ اُن لذتوں اور کیفیتوں میں اُلجھا رہے گا۔ اس کی وہ نفسانی لذت اُس کے نفس میں ایسے منقش ہو کر رہ جائے گی، جیسے نقش کا کوئی سانچہ کسی موم پر منقش ہوجاتا ہے (ایسا انسان مثلاً کھانا کھانے کے بعد اُس کی لذت اورچاہت میں ایسے مشغول ہوجاتا ہے کہ وہ دل پر نقش ہو کر رہ جائے)۔ جس انسان کی روح پر دنیاوی لذات اور تعیشات کے نقش موجود ہوں گے اور وہ ’’شحیحۃ النّفس‘‘ (خُلقِ سماحت سے خالی بخیل روح) ہوگا تو وہ تمام بداَخلاقی کے نقوش مرنے کے بعد اُس کے سامنے آئیں گے۔ 
(ان دونوں رویوں کو اس طرح سمجھئے!) یہ ایسا ہی ہے، جیسا کہ تم اپنے گردو پیش میں بعض لوگوں کو دیکھتے ہو کہ ان کا عمدہ مال چرالیا گیاہو تو اگر وہ شخص سخی دل ہوتا ہے تو اُسے اس چوری کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور اگر وہ شخص کمزور نفس ہوتا ہے تو وہ اپنے عمدہ مال کے چوری ہونے پر ایک طرح سے مجنون اور پاگل ہوجاتا ہے۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت وہ مال رہتا ہے۔ 
خُلق سماحت اور اُس سے متضاد رویے
اشیا اور چیزوں کی نسبت سے خُلقِ سماحت اور اُس کے مخالف بداَخلاقیوں کے بہت سے نام اور القابات ہیں: 
1۔     مال سے متعلق اَخلاق میں خُلقِ سماحت کا نام ’’سخاوت‘‘ ہے اور اس کی ضد ’’بخل‘‘ ہے۔ 
2۔     جنسی شہوت کے داعیے سے متعلق خُلقِ سماحت کا نام ’’عفت‘‘ (پاک دامنی) ہے 

اور اس کی ضد ’’شِرّہ‘‘ (جنسی خواہشات کو پورا کرنے کی عادت) ہے۔ 
3۔     رفاہیت کے حصول کا داعیہ اور مشقتوں سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے خلقِ سماحت کا نام ’’صبر‘‘ ہے اور اس کی ضد ’’بے صبراپن‘‘ ہے۔ 
4۔     شریعت کے ممنوعہ گناہوں کے داعیہ کے حوالے سے خُلقِ سماحت کا نام ’’تقویٰ‘‘ ہے اور اس کی ضد ’’فسق و فجور‘‘ ہے۔ 
جب کسی انسان میں سماحت کا خُلق پختہ ہوجائے تو اُس کا نفس دنیاوی شہوات سے بالکل خالی ہوجاتا ہے اور وہ بلند روحانی لذات کی استعداد حاصل کرلیتا ہے۔ الغرض! سماحت انسان کی ایسی حالت ہے، جو علمی اور عملی طور پر مطلوب کمالات کے مخالف بداَخلاقیوں سے باز رہنے اور رُکنے کی استعداد پیدا کرتی ہے۔‘‘ 
(باب الاصول الّتی یرجع إلیہا تحصیل الطّریقۃ الثّانیۃ) 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ