انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (1)

انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’جاننا چاہیے کہ ترقی اور کامیابی کے اس طریقے کے حصول کے اگرچہ بہت سے راستے ہیں، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے سمجھایا ہے کہ ان تمام راستوں اور طریقوں کا مرکز و منبع انسانیت کے چار بنیادی اَخلاق ہیں۔ ان چار اَخلاق پر عمل کی صورت میں انسان کا نفسِ ناطقہ (روحِ ملکوتی) اس کی بہیمیت پر اثرانداز ہوتا ہے اور اسے ملکوتی تقاضوں سے مناسبت پیدا کرنے کی طرف کھینچتا ہے۔ ان چار اَخلاق پر عمل کے نتیجے میں انسان میں ایسی حالت پیدا ہوتی ہے، جو ملائِ اعلیٰ کی صفات سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ اس طرح اُس میں اعلیٰ مقام تک پہنچنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے اور اُسے ملائِ اعلیٰ کے فرشتوں کی لڑی میں پرونے کا باعث بنتی ہے۔ 
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے یہ بات بھی سمجھائی ہے کہ: 
الف:     انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصد لوگوں کو انھی چار اَخلاق کی دعوت دینا ہے۔ 
ب:    انسانیت کو ان اَخلاق کے حصول کے لیے اُبھارنا ہے۔ 
ج:     تمام شریعتیں انھی چار اَخلاق کی تفصیل ہیں۔ 
د:    شریعتوں کے تمام احکامات کا مرکز اور منبع یہی چار اَخلاق ہیں۔ 
پہلا بنیادی خُلق؛ طہارت 
ان اَخلاق میں سے ایک طہارت ہے۔ اس کی حقیقت اس طرح سمجھئے کہ جب انسان کی فطرت صحیح سلامت ہو اور اُس کا طبعی مزاج صحت مند ہو، اس کا دل غور و فکر اور تدبر سے روکنے والے پست حالات مثلاً بھوک، پیاس اور شہوت وغیرہ سے بالکل فارغ ہو۔ ایسے انسان پر درجِ ذیل دو حالتیں طاری ہوتی ہیں: 
الف: ایسے انسان کے جسم پر اگر کوئی نجاست یا گندگی لگ جائے، یا پیشاب یا پاخانے کا تقاضا ہو، یا جنسی شہوت کا غلبہ ہوجائے تو وہ اپنے نفس اور روح میں انقباض اور گھٹن محسوس کرتا ہے۔ اُسے تنگی اور غم لاحق ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی روح اور قلب پر ایک طرح کا بوجھ اور حجاب محسوس کرتا ہے۔ 
ب:     ایسا فرد جب پیشاب پاخانے سے فارغ ہوجاتا ہے، اپنے جسم کو دھوتا ہے اور غسل کرتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا اور خوشبو لگاتا ہے تو اس کی دلی تنگی اور انقباض دور ہوجاتا ہے۔ اس کی طبیعت میں خوشی اور سرور پیدا ہوجاتا ہے اور اُس کا سینہ کھل جاتا ہے۔ ایسا وہ محض لوگوں کو دکھانے، یا عام لوگوں کی نقل کی غرض سے نہیں کرتا، بلکہ خالص اپنے نفسِ ناطقہ اور دل کے تقاضے سے کرتا ہے۔ 
پہلی حالت کو ’’حَدَث‘‘ کہتے ہیں اور دوسری حالت کو ’’طہارت‘‘ کہا جاتا ہے۔ 
دو طرح کے انسان 
لوگوں میں سے جو انسان ذہین ہوں اور ان میں نوعِ انسانیت کے (عقلی) اَحکام پورے طور پر ظاہر ہوں اور انسانی صورتِ نوعیہ کے مادی اور طبعی احکام بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ پائے جاتے ہوں تو ایسے انسان ان دونوں حالتوں کو اچھی طرح ایک دوسرے سے ممتاز طور پر پہچان لیتے ہیں اور ہر ایک حالت کی دوسرے سے الگ نوعیت کو سمجھ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ طبعی طور پر اُن میں سے ایک (یعنی طہارت) سے محبت رکھتے ہے اور دوسری (حدث) سے بغض اور نفرت رکھتے ہیں۔ 
لوگوں میں سے جو آدمی غبی اور کمزور ذہن ہوتا ہے، وہ بھی اگر اپنی بہیمیت کو کچھ کمزور کرلے اور طہارت حاصل کرنے کی خوب جدوجہد کرے اور طہارت اور حدث کی دونوں حالتوں کی پہچان پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہوجائے تو ضرور اُسے بھی ان کے درمیان واضح طور پر فرق محسوس ہوجاتا ہے۔ 
طہارت کے فوائد اور ثمرات
طہارت کا خُلق انسانی روح میں ایسی صفات پیدا کرتا ہے کہ جس سے اُس میں  ملائِ اعلیٰ کے حالات سے بہت زیادہ مشابہت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ ملائِ اعلیٰ کے حالات بہیمیت کی گندگیوں سے بہت دور ہیں۔ ایسی صورت میں انسانی روح    ملائِ اعلیٰ کے نور سے خوشی اور لذت محسوس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طہارت انسانی نفس میں قوتِ عملیہ کے اعتبار سے بڑا کمال پیدا کرتی ہے۔ 
حدث کے بد اَثرات
حدث کی حالت جب کسی انسان میں پیدا ہوجائے اور اسے ہر طرف سے گھیر لے تو وہ انسان میں شیطانی وسوسوں کو قبول کرنے کی بُری استعداد پیدا کردیتی ہے۔ یہاں تک کہ حدث کی حالت زیادہ دیر تک رہے تو انسان کی حسِ مشترک (باطنی قوت) شیطانوں کو دیکھنے لگ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اُسے وحشت ناک خواب نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے نفس ناطقہ (روح) پر ظلمت اور اندھیروں کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ بدبخت اور ملعون قسم کے جانوروں کی شکلیں اور صورتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ 
طہارت کے بہترین اثرات
جب کسی انسان پر طہارت کی حالت پختہ طور پر پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اُسے گھیر لیتی ہے، ہر وقت اُسے طہارت یاد رہتی ہے اور دلی میلان، پاکیزگی اور طہارت کی طرف ہوجاتا ہے تو ایسے انسان میں فرشتوں کو دیکھنے اور اُن کے الہامات کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔ اُسے اچھے اور عمدہ خواب نظر آنے لگتے ہیں۔ اُس پر انوارات ظاہر ہوتے ہیں۔ پاکیزہ اور عمدہ چیزوں کی شکلیں اور صورتیں سامنے آتی ہیں اور اس پر انتہائی عظمت والی اور مبارک اشیا اور چیزوں کا ظہور ہوتا ہے۔ 
(باب الاصول التی یرجع الیہا تحصیل الطریقۃ الثّانیۃ) 
 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ