انعاماتِ الٰہیہ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دسمبر 12, 2020 - دروس القرآن الحکیم
انعاماتِ الٰہیہ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے

يا بَني إِسرائيلَ اذكُروا نِعمَتِيَ الَّتي أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَنّي فَضَّلتُكُم عَلَى العالَمينَ   47:2

(اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے احسان جو میں نے تم پر کیے اور اس کو کہ میں نے تم کو بڑائی دی تمام عالم پر۔) 


گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کی اہم خرابیوںکا اجمالی تذکرہ تھا۔ اس رکوع کی اس آیت (47) سے آیت (121) تک بنی اسرائیل کی گمراہیوں اور خرابیوں کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ پہلے ان پر ہونے والے انعامات کا مفصل تذکرہ ہے۔ پھر اس کے مقابلے میں ان کی طرف سے ان انعامات کی ناشکری اور کج روی کو بیان کیا گیا ہے۔ 
یا بَني إِسرائيلَ اذكُروا نِعمَتِيَ الَّتي: گزشتہ آیات میں صبر و استقامت اور نماز جیسی عظیم عبادت سے مدد حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا حصول عام طور پر بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہر حالت میں قلب کا جماؤ اور پوری توجہ اور دھیان کے ساتھ نماز جیسی عبادت ادا کرنا لوگوں کو بھاری لگتا ہے۔ اس لیے اس کی کمی کو دور کرنے کے لیے اس آیت میں نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بنی اسرائیل کو وہ تمام نعمتیں یاد دلائی جا رہی ہیں، جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں عطا کی تھیں۔ 


الَّتي أَنعَمتُ عَلَيكُم: آیت (47) سے (121) تک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ ان انعامات اور خرابیوں کا تذکرہ کیا ہے، جو بنی اسرائیل پر کی گئیں اور انھوں نے وقتاً فوقتاً ان کی ناشکری کی۔ چناںچہ ان آیات میں انعامات کے ضمن میں بنی اسرائیل کی ناشکری پر مبنی تین بڑی خرابیاں خاص طور پر بیان کی گئی ہیں: 


(1)     فرعونوں کے غلام بننے کے زمانے سے بنی اسرائیل دینِ حق کے خلاف بغاوت اور سرکشی کے مرض میں مبتلا رہے ہیں۔ حال آںکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انھیں غلامی سے نجات اور آزادی اور حریت کی نعمت دی تھی۔ اس سے متعلق ان کے حالات و واقعات ان آیات کے شروع حصے میں بیان کیے گئے ہیں۔ 


(2)     اس کے بعد ان آیات میں بنی اسرائیل کے ایسے حالات اور واقعات بیان کیے گئے ہیں کہ باوجود بڑی دینی اور دنیاوی ترقیات حاصل کرلینے کے‘ وہ سرکشی اور تکبر کے اس مرض سے شفا یاب نہیں ہوسکے۔ انھوں نے ان خرابیوں سے نجات حاصل نہیں کی۔ اس سے متعلق بنی اسرائیل کے چند واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ 


(3)     بنی اسرائیل کی یہ خرابیاں بیان کرکے مسلمانوں پر لازمی قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ان کی ان بداَخلاقیوں سے اجتناب برتیں اور ان کے ساتھ میل جول ختم کریں۔ ان سے کسی خیر اور بھلائی کی اُمید نہ رکھیں۔ اپنے کاموں میں انھیں شریک نہ بنائیں۔ یہ اس قابل نہیں ہیں کہ انسانی معاشروں کے اُمور میں سے کسی کام میں ان کی اتباع اور پیروی کی جائے۔ 


اس طرح بنی اسرائیل پر معاشی حوالے سے نعمتوں کا تذکرہ اور اُن کی ناشکری کے واقعات بیان کرکے یہ بات واضح کردی گئی کہ وہ اب دنیا کی رہنمائی کے قابل نہیں رہے۔ دنیا میں انسانی سماج دو بنیادی دائروں میں ترقیات کرتا ہے: ایک معاشی حوالے سے انسانی احتیاجات کی تکمیل کے بہترین ترقی یافتہ نظام کا وجود پذیر ہونا۔ اس حوالے سے ہر طرح کی نعمتوں کا حاصل ہونا۔ دوسرا سیاسی حوالے سے حکومت اور اقتدار کا حاصل ہونا۔ معاشی اور سیاسی طاقت سے ہی انسانی معاشرے ترقیات کی منازل طے کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت میں ان دونوں انعامات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ معاشی حوالے سے نعمتوں کا تذکرہ اس جملے میں کیا گیا ہے اور سیاسی حوالے سے اُن کی فضیلت کا بیان آیت کے آخری حصے میں کیا گیا ہے۔ چناںچہ ارشادِ ربانی ہے: 
وَأَنّي فَضَّلتُكُم عَلَى العالَمينَ : بنی اسرائیل کو اقوامِ عالم پر جاہ و مرتبت اور حکومت و سیاست کے حوالے سے برتری عطا کی گئی تھی۔ ’’عالمین‘‘ سے مراد تمام اُمتیں او راقوام ہیں۔ چناںچہ بنی اسرائیل کے وجود سے لے کر قرآن حکیم کے نزول تک دنیا میں ان کو فضیلت حاصل رہی۔ 
قومیں تبھی ترقی کرتیں ہیں جب وہ اپنی سیاسی اور معاشی تاریخ محفوظ کرلیتی ہیں۔ وہ تاریخی حوالے سے انسانی معاشروں میں موجود افکار و خیالات اور سیرت و کردار کو نکھارنے کا سلیقہ اور طریقہ اپناتی ہیں۔ بنی اسرائیل دنیا میں ایک ایسی منفرد قوم رہی ہے کہ جس کی تاریخ تورات اور انجیل کے ذریعے سے محفوظ کی گئی تھی۔ انبیائے بنی اسرائیل پر نازل ہونے والی کتابوں نے ان کی تاریخ کی حفاظت کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی زمانے میں زوال سے دوچار ہوئی تو انبیا علیہم السلام کی تعلیمات کے زیراثر انھوں نے دوبارہ اپنی سیاسی اور معاشی قوت پیدا کرلی اور اقوامِ عالم پر افضلیت حاصل کی۔ چناںچہ قرآن حکیم نے دوسری جگہ پر ارشاد فرمایا: ’’یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر جب پیدا کیے تم میں نبی اور کردیا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں‘‘۔ (القرآن 20:5) بنی اسرائیل کو اس حوالے سے فضیلت حاصل ہے کہ تقریباً چار ہزار انبیا علیہم السلام ان میں مبعوث ہوئے۔ ہر نبیؑ نے آ کر اُس قوم کی تاریخ کو دوبارہ یاد کرایا۔ اور انھیں اللہ سے جوڑکر دنیا میں ترقیات کا راستہ دکھایا۔ سیاسی حوالے سے ان میں بادشاہ اور حکمران پیدا کیے گئے، جنھوں نے اس قوم کی سیاسی طاقت کو چار چاند لگائے۔ 


الغرض! تقریباً نصف پارے کے قریب ان آیات (47 تا 121) میں بنی اسرائیل پر ہونے والے ہمہ جہتی انعامات اور دیگر اقوام پر فضیلت سے متعلق واقعات اور      بنی اسرائیل کی طرف سے وجود میں آنے والے تکبر، غرور اور باطنی امراض بیان کرکے یہ واضح کردیا گیا کہ اب اس دور میں وہ اس قابل نہیں رہے کہ وہ اقوامِ عالم کی قیادت کرسکیں اور انسانیت کی رہنمائی کے لیے کوئی مثبت کردار ادا کرسکیں۔ اس دور میں قرآن حکیم کی تعلیمات کی اساس پر ایک ایسی نئی جماعت بنانا ضروری ہے، جو دین حق کو تسلیم کرکے اُس کے غلبے کے لیے ہمہ جہتی کردار ادا کرے۔ 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ