حضرت اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ ﷺ

مولانا قاضی محمد یوسف

مولانا قاضی محمد یوسف
مولانا قاضی محمد یوسف
نومبر 10, 2021 - ایمان افروز واقعات
حضرت اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ ﷺ

 

حضرت اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا‘ حضور اقدس ﷺ کی تیسری صاحبزادی تھیں۔ آپؓ بعثتِ نبویؐ سے 6 سال پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ حضوؐر کے اعلانِ نبوت کے بعد اسلام قبول کرنے والی خواتین میں اپنی والدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے ساتھ اپنی بہنوں اور دیگر اسلام قبول کرنے والی خواتین کے ساتھ نبی اکرمؐ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ گہوارۂ نبویؐ میں علم و اَخلاق اور پیکر ِحسنِ حیا کے عمدہ فطری ماحول میں پروان چڑھیں۔ تمام انسانی، دینی اور نسوانی خوبیوں کی حامل تھیں۔ مکی زندگی کی مشکلات میں دینِ حق اور اجتماعی تحریک میں صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ نبی کریمؐ میں صبر واستقامت کے ساتھ احیائے دین اور غلبۂ دین کی عظیم الشان جدوجہد میں اسوۂ کامل کا معیار ٹھہریں۔ حضوؐر کی معیت میں خاندان کے ساتھ تین سال کے قریب شعبِ ابی طالب کی مشکلات جھیلیں اور مکہ کے مشرکانہ نظام کے ظلم کا شکار رہیں۔

حضرت اُم کلثومؓ اپنی ماں حضرت خدیجہؓ کے ساتھ بہت مشابہت رکھتی تھیں۔ ان کے دل کاسرور اور آپﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھیں۔ اپنی دونوں بڑی بہنوں کی شادی کے بعد گھریلو سرگرمیوں میں ماں کا ہاتھ بٹاتیں اور اباجان کی آنکھوں میں مقامِ صدق و حیا کی تصویر تھیں۔ مکی زندگی کے آخری سالوں میں ماں کی جدائی کا صدمہ برداشت کیا۔ آپ ؐ اپنے دینی وعلمی کاموں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کا خیال بھی رکھتے تھے۔ ایک طرف سیّدہ اُم کلثوم ہیں، دوسری طرف جنت کی عورتوں کی سردار سیّدہ فاطمہؓ ہیں۔ گھریلو امور میں نگرانی، مشاورت، حفاظت، رہنمائی کے حوالے سے آپؐ اپنی بیٹیوں کے دلوں کی آواز شدت سے محسوس فرماتے اور ان کو اپنی شفقت سے فیضیاب فرماتے۔

حضرت اُمِ کلثومؓ کی نسبت ابولہب کے بیٹے عتیبہ کے ساتھ طے تھی۔ اس نے محض حضوؐر کو دُکھ پہنچانے کے لیے رخصتی سے قبل ہی حضرت اُمِ کلثومؓ کو طلاق دے دی۔ حضور اقدسؐ کی دوسری صاحبزادی حضرت سیّدہ رُقیہؓ حضرت عثمانؓ کے نکاح میں تھیں، ان کی وفات کے بعد ربیع الاوّل۳ہجری میں آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سابقہ مہر کی مقدار پر حضرت اُم کلثومؓ کا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے نکاح کردیا۔ حضرت اُمِ کلثومؓ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ 6 سال تک حضرت عثمانؓ کے ساتھ خوشگوار گھریلو زندگی بسر کرنے کے بعد شعبان۹ہجری میں حضرت اُم کلثومؓ کاانتقال ہوگیا۔ آپؓ کے غسل و کفن کے انتظامات کی حضوؐر نے خود نگرانی فرمائی، خود نمازِ جنازہ پڑھائی اورآپؓ کی مغفرت کی دعا مانگی۔ تمام صحابہ کرامؓ نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی ۔ آپؓ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔

سیّدہ اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات کا آپؐ کو سخت ملال ہوا۔ ’’صحیح بخای‘‘ میں ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک بار آپؐ ام کلثومؓ کی قبر پر تشریف فرما تھے اور آپؐ کی آنکھوں سے شدتِ غم کی وجہ سے آنسو جاری تھے۔

(ازالۃالخفاء عن خلافۃ الخلفاء، از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ، ج 3، بناتِ اربعہ از مولانا محمد نافع)

متعلقہ مضامین

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …

مولانا قاضی محمد یوسف اکتوبر 10, 2022

حضرت حکیم بن حِزام قرشی اسدی رضی اللہ عنہٗ

حضرت حکیم بن حِزام قرشی اسدی رضی اللہ عنہٗ کی کنیت ’’ابو خالد مکی‘‘ ہے۔ فاختہ بنت زہیر آپؓ کی والدہ اور اُم المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپؓ کی پ…

مولانا قاضی محمد یوسف جولائی 11, 2023

حضرت عثمان بن طلحہ بن ابو طلحہ قریشی عبدری الحجبی رضی اللہ عنہٗ

​​حضرت عثمان بن طلحہ قریشی رضی اللہ عنہٗ بہت سی انسانی خوبیوں اور بہترین اَخلاق اور انسانیت کے مظہر لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔آپؓ بیت اللہ الحرام کے حاجب یعنی کلید برداری کے …

مولانا قاضی محمد یوسف مئی 08, 2025

سیّدنا عبدالملک بن مروانؒ

پچھلے دنوں ایک دعائیہ تقریب میں ایک ’’عالمی مبلغ‘‘ نے جھوٹی اور موضوع روایات کا سہارا لے کر خلفائے بنواُمیہ کی کردار کشی کی اور ایسے جھوٹے واقعات …

مفتی محمد اشرف عاطف جون 11, 2022