حضرت مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ

وسیم اعجاز
وسیم اعجاز
اگست 12, 2021 -
حضرت مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ

کسی بھی قوم کی آزادی کی تحریک یقینا ہمت حوصلے اور جرأت سے عبارت ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تحریکاتِ آزادی میں ٹھیک ایک صدی قبل جاری ہونے والی تحریکات میں بھی جن حریت پسند لوگوں اور خاص طور پر علمائے حق نے حصہ لیا، انھوں نے جدوجہد کا حق ادا کیا۔ ان تحریکات میں سب سے اہم تحریکِ ریشمی رومال، تحریکِ خلافت، تحریکِ عدم تعاون اور جمعیت علمائے ہند کا قیام وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ انھیں حریت پسندوں میں پانی پت کے علاقے کا ایک نام حضرت مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ بھی ہے۔ مولانا موصوفؒ 1890ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کو مخدوم جلال الدین کبیر الاولیاءؒ کی اولاد کی نسبت سے علاقے میں قدر و منزلت حاصل تھی۔ ابتدائی تعلیم پانی پت ہی میں حاصل کی۔ آبائی پیشہ زراعت تھا، لہٰذا اپنا ذریعۂ معاش بھی اسی کو بنایا۔ انھوں نے دیکھا کہ یہ دور سیاسی طور پر گہما گہمی کا دور ہے اور وطنِ عزیز کی حریت و آزادی کے لیے مسلمانانِ ہند اور خاص طور پرعلمائے کرام اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ چوں کہ وہ خود فطری طور پر بہادر اور جرأت کے حامل تھے، اس لیے اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا اپنا مذہبی فریضہ خیال کیا۔

ہندوستان کی ہمہ گیر تحریک‘ تحریکِ خلافت کی جب بنیاد رکھی گئی تو مولانا لقاء اللہؒ اس وقت بننے والی خلافت کمیٹی کے اراکین میں سے تھے۔ تحریکِ خلافت میں سر گرم کردار ادا کرنے کی پاداش میں انھیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے جمعیت علمائے ہند کے اجلاس کے خطبہ صدارت نومبر 1920ء میں جن علمائے کرام کی گرفتاری کی پُرزور الفاظ میں مذمت فرمائی تھی، ان میںمولانا ظفر علی خان، مولانا فاخر الٰہ آبادیؒ اور صوفی اقبالؒ کے ساتھ ساتھ مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ بھی شامل تھے۔ اسی خطبہ صدارت میں حضرت شیخ الہندؒ نے دیگر فرزندانِ ہند کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو مسلمانوں پر ظلم قرار دیا تھا۔

حضرت مولانا سیّد محمد میاںؒ تحریکِ خلافت میں مولانا لقاء اللہؒ کے کردار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’ تحریکِ آزادی کی تمہید تحریکِ خلافت تھی۔ اور تحریکِ خلافت کا پہلا مردِ میدان جس نے 1919ء اور 1920ء کے وحشیانہ جیل خانے کو سب سے پہلے آگے بڑھ کر آباد کیا، یہی خوش وضع، حسین و جمیل لقاء اللہ عثمانی تھا، جس کے دورِ شباب پر ہزاروں حُسن قربان ہوتے تھے‘‘۔ (بزرگانِ پانی پت)

28؍ دسمبر 1919ء کو جمعیت علمائے ہند کے قیام کے لیے امرتسر میں منعقد ہونے والے اجلاس میںبھی مولانا لقاء اللہؒ شریک تھے۔ یوں جمعیت العلمائے ہند کے بانی اراکین میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔ تحریکِ خلافت ہو یا تحریکِ عدمِ تعاون، جمعیت العلمائے ہند کا قیام ہو یا تقسیمِ ہند کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا، الغرض! ہر محاذ پر مولاناؒ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ حریت و آزادی کی اس بھرپور جدوجہد کے ساتھ ساتھ فتنۂ قادیانیت کے تدارُک کے لیے بھی انھوں نے علمی اور عملی کردار ادا کیا۔ اس پورے دورانیے میں ان کو ہندوستان کی مایۂ ناز ہستیوں کے ساتھ عملی کردار ادا کر نے کا موقع ملا، جن میں نمایاں نام حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا ابو الکلام آزادؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ اور دیگر حریت پسند حضرات شامل ہیں۔

حالات کی ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جس خطے کی آزادی کے حصول کے لیے مولانا لقاء اللہؒ نے دن رات ایک کر دیے اور کسی بھی مخالفت کی پرواہ نہیں کی، تقسیمِ ہندوستان کے وقت اس اپنے ہی وطن میں پردیسی اور اپنے ہی گھر میں اجنبی ہوگئے۔ تقسیمِ ہند کے وقت پورے ہندوستان کی طرح پانی پت میں بھی حالات بہت زیادہ سنگین صورت اختیار کرگئے تھے۔ پانی پت کی مسجد مخدوم صاحب پر شرنارتھیوں کا ناجائز قبضہ ہوگیا تھا۔ اس مسئلے کی وجہ سے مولاناؒ کو بہت تشویش تھی۔ اس کی بازیابی کے لیے 9 سال تک مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ بالآخر 1956ء میں اس قبضے کو ان کی مساعی سے مکمل طور پر چھڑا لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی پاکستان ہجرت کے عمل کے بعد پانی پت کے گنتی کے مسلمانوں پر جو ظلم و جبر روا رکھا گیا، اس کے مقابلے میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔ مولاناؒ کے استقلال کو دیکھتے ہوئے وہاں کے لوگوں میں بھی ہمت اور حوصلہ بیدار ہوا۔ موصوفؒ نے پانی پت کے مسلمانوں کی حفاظت اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے بھی بہت کردار ادا کیا۔

مولانا سیّد محمد میاںؒ 1947ء کے ہنگامہ خیز دور میں مولانا لقاء اللہؒ کی مساعی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’ہنگاموں کے ختم ہونے اور فضا کے ساکن ہونے کے بعد جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ مکمل انخلا کے باوجود مسلمان دیہاتوں میں موجود ہیں تو جمعیت علمائے ہند کے ذمہ داران کی طرف سے اصرار شروع ہوا کہ پانی پت میں دینی تعلیم کا سلسلہ از سرِنو شروع کیا جائے۔ اس تحریک کو حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ اور مولانا ابوالکلام آزاد کی تائید سے تقویت ملی‘‘۔ (پانی پت اور بزرگانِ پانی پت)

مولانا عبدالماجد دریابادیؒ‘ مولانا لقاء اللہؒ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’ہند وَ پاکستان کے مسلمانوں میں کوئی مجھ سے فرمائش کرتا ہے کہ 10 مخلص ترین انسانوں کے نام بتائو تو اس ننھی منھی فہرست میں میرے علم و یقین کے مطابق ایک نام مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتی کا ضرور آتا ہے۔ مخلص مسلمان نایاب نہیں، ماشاء اللہ! ابھی بڑی تعداد میں ہیں، لیکن لقاء اللہ عثمانی ان میں گلِ سرسبد تھے‘‘۔

مولانا لقاء اللہ عثمانیؒ نے۳؍ ذوقعدہ۱۳۱۹ھ / 23؍ جنوی1969ء کو داعیٔ اَجل کو لبیک کہا۔ ان کا مزار پانی پت کے محلہ مخدوم صاحب کی تاریخی مسجد مخدوم المشائخ محمد جلال الدین کبیر الاولیاء کے صحن میں مرجع خلائقِ ہے۔

شورش کاشمیری کا ایک شعر ان کے بارے میں کچھ اس طرح ہے:

یہ عقدہ کھل گیا مجھ پر لِقاء اللہ سے مل کر
زمانہ خواہ کیسا ہو، مسلماں ایسے ہوتے ہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

ٹیگز
متعلقہ مضامین
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری ؒکا سانحۂ اِرتحال

2؍ فروری 2021ء کو ایک افسوس ناک پیغام کے ذریعے یہ اطلاع ملی کہ ولی اللّٰہی تحریکات و شخصیات کے محقق ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے ہیں۔ إنّا للّٰہ و…

وسیم اعجاز جون 18, 2021

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بنتِ حارث

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قبیلہ قریش سے تھیں۔ آپؓ کے والدین نے آپؓ کانام ’’برّہ‘‘ رکھا تھا۔ جب حضورؐ کے نکاح میں آئیں تو آپؐ نے ان کا نام …

مولانا قاضی محمد یوسف جولائی 12, 2021

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ نقوشِ زندگی کا ایک مختصر خاکہ تحریر: مفتی عبدالخالق آزاد ٭ آپؒ کی پیدائش رجب 1344ھ / جنوری 1926ء کو حضرتِ اقدس…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری ستمبر 13, 2021