حضرت رائے پوری رابعؒ (یادوں کے دریچے)

عبدالرحمن را ئو
عبدالرحمن را ئو
ستمبر 27, 2021 -
حضرت رائے پوری رابعؒ (یادوں کے دریچے)

حضرت رائے پوری رابعؒ (یادوں کے دریچے)

 ڈاکٹر عبدالرحمن رائو
(مضمون نگار حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے چھوٹے بھائی راؤ رشیداحمد مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ جنھوں نے بچپن سے ہی اپنے دادا حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی آغوش میں آنکھ کھولی اور اپنے تایا حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی صحبت سے مستفید ہوئے۔ انھوں نے اس حوالے سے اپنی یادوں کے دریچے کھولے ہیں اور اس میں سے کچھ تأثرات صفحۂ قرطاس پر بکھیرے ہیں۔ حضرت اقدسؒ کے خاندان کے ایک فرد کے شگفتہ قلم سے لکھے ہوئے تأثرات نذرِ قارئین ہیں۔   مدیر) 
وہ تو وہ ہیں تمھیں ہو جائے گی اُلفت مجھ سے

تم ذرا اِک نظر میرا محبوبِ نظر تو دیکھو
حضرت رائے پوری رابعؒ ایک تعارف :

محترم داداجان حضرت اقدس مولاناشاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ جیسی بابرکت ہستی کی بدولت ہماراگھرانہ سیاسی، سماجی اوردینی مجالس کامرکز رہتاتھا۔ خاندان، برادری،دین و سیاست غرض ہرشعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والی قدآورشخصیات کی خوب آمدورفت ہوتی تھی، اگرچہ ان میں سے ہرایک اپنی شخصیت میں کسی نہ کسی امتیاز کوسموئے ہوتاتھا،مگرایک شخصیت جسے دیگر تمام افراد سے انتہائی منفرداور ممتاز پایا‘ وہ محترم تایاجان حضرت اقدس مولاناشاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی شخصیت تھی۔

آپؒ سب بھائیوں سے بڑے تھے۔ راجپوت خاندان سے تعلق تھا، مگر روایتی راجپوتوں والی اکڑاور سختی آپؒ کی طبیعت سے کوسوں دورتھی۔ آپؒ ایک عظیم مرشد کے خَلف الرشید تھے، مگر خدمت کروانے کی بجائے خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ایک جلیل القدر ہستی کے خلیفہ تھے، مگر روایتی پیروں والی کوئی بات آپؒ کی شخصیت کاحصہ نہیں تھی۔ ایک ممتاز عالم دین ہونے کے باوجود کسی طرح کا بے جا علمی زعم نہ رکھتے تھے۔قومی سطح کے لیڈرتھے، مگرکسی خودنمائی سے ہرممکن گریزاں رہتے تھے۔

محبت وشفقت، تواضع، سادگی، اپناکام خودکرنے کی عادت،مقصد کی لگن،ہمہ وقت متحرک، مدلل گفتگو،جرأت وہمت‘ یہ وہ چند اوصاف ہیں جن سے آپؒ کی ہمہ گیرشخصیت آراستہ تھی۔ آپؒ کاحلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔ان سے میل ملاقات کے لیے آپؒ اکثر تو پیدل ہی گھومتے، بہت زیادہ بھی ہوتوسائیکل پر۔ اکثراوقات گھرکا سامان بھی خودہاتھ میں اٹھائے چلے آتے تھے۔نہ گاڑیوں میں گھومنے کی طلب،نہ تھانے کچہری کی سیاست میں دلچسپی، نہ کسی سے انفرادی سطح پرالجھنا، نہ چودھراہٹ کاشوق، نہ بے جانکتہ چینی، نہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کی عادت،نہ بڑے لوگوں سے تعلقات کی لگن، آپؒ میں روایتی بڑے لوگوں والی کوئی بھی عادت تونہیں تھی۔
عام آدمی جس سے کوئی ملناپسند نہیں کرتاتھا‘ آپؒ اس کے قریب بیٹھتے، دسترخوان پر جب دوسرے لوگ بڑے آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے، آپؒ انھیں اپنے قریب بٹھاتے۔معاشرتی وعلمی مقام سے قطع نظر ہروہ شخص آپؒ کی توجہ کامرکزہوتا‘ جسے آپؒ اپنی بات سمجھاناچاہتے۔

ہمہ وقت متحرک اورچاق وچوبند،کبھی خانقاہ میں آنے والے مہمانوں کی خاطرمدارت میں مصروف،توکبھی علماکے ساتھ تبادلۂ خیال میں مشغول، کبھی نوجوانوں کواپنی بات سمجھانے میں وقت صرف کرتے، تو کبھی خانقاہی معمولات سیکھنے کے لیے آنے والے احباب کوتلقین کرتے نظرآتے۔ کبھی کسی جلسے میں خطاب فرما رہے ہیں توکبھی کسی مسجد میں بیان۔بعض اوقات تومہینوں سفرپررہتے اورملک بھرکے دورے کرتے۔ ہماری تائی امّاں کہاکرتی تھیں کہ جب کبھی آپ مہینوں کے راشن کے ساتھ لدے پھندے گھرمیں داخل ہوتے توہم سمجھ جاتے کہ اب جناب کاطویل عرصے تک گھر سے غائب رہنے کاارادہ ہے۔

خانقاہ میں آنے والوں کی تمام ضروریات کاخیال رکھنااپنافرض سمجھتے تھے، خصوصاً نوجوانوں کی طرف آپؒ کی توجہ زیادہ رہتی۔ محترم داداجانؒ بھی آنے والوں کو آپؒ ہی کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ اپنے والد بزرگوارکی وسیع وعریض جائیداد کے باوجود اپنے اور اپنے اہل خانہ کے وسائل کا بندوبست خوداپنے ذرائع سے کرتے۔

حضرت رائے پوری رابعؒ سے متعلق کچھ یادیں :
ایک بار جب میں بہت چھوٹاتھاتوگھٹنوں کے بل چلتاچلتاگلی میں دورنکل گیاتھا، تقریباً گم ہو ہی گیاتھاکہ آپؒ کی نظرپڑگئی اورگھرلے آئے( اللہ تعالیٰ کی طرف سے)یہ ذمہ داری آپؒ پرکچھ ایسی پڑی کہ پھرزندگی بھر آپؒ ہی ہمیں گمراہی سے بچاتے رہے۔ والدہ بتاتی ہیں کہ آپؒ کے مرشد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ آپؒ سے بہت محبت کرتے تھے،اس درجہ کہ خاندان کے بہت سے بزرگوں کویہ گمان ہوتاتھا کہ ان کے جانشین آپؒ ہی ہوں گے۔ 

آپؒ کے واضح اوردوٹوک مؤقف، جرأت مندانہ رائے کی وجہ سے بہت سے لوگ آپ سے  اختلاف بھی کرتے رہے۔ اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حاسدین آپؒ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔ میں آٹھویں جماعت کاطالب ِعلم تھا‘ جب محترم داداجانؒ کے مری میں قیامِ رمضان کے موقع پر وہاں جانے کااتفاق ہوا۔ ایک روز تایاجانؒ قیام گاہ کے باہر کھڑے کچھ لوگوں سے جہادِ افغانستان کے موضوع پر گفتگوفرمارہے تھے کہ یہ روس اور امریکا کی جنگ ہے۔ یہ مہاجرین کاسیلاب تمھاری معیشت کوبرباد کر دے گا اور ایک وقت آئے گا کہ تم ان کو نکالنے کی کوشش کروگے اوریہ نہیں نکلیں گے۔ آپؒ کایہ تجزیہ میرے ذہن پر نقش رہا اور نہایت حیرانی کاباعث بھی کہ آپؒ کایہ تجزیہ کتنا درست تھا۔ 

درحقیقت محترم تایاجانؒ کاتعلق علمائے ہند کے اس طبقے سے تھا، جس کی سامراج دشمنی کی وجہ سے پاکستان کاسسٹم اور رجعت پسند مذہبی طبقہ یک زبان ہو کر مخالفانہ پروپیگنڈے میں مصروف تھا۔ اس پروپیگنڈے کی شدت سے گھبرا کر اکثر علما نے تو گوشۂ عافیت میں پناہ ڈھونڈ لی۔ اس کے برعکس یہ خانقاہِ رائے پور ہی تھی، جس نے حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوری ؒ کی سرپرستی میں اپنے اکابرین کے نقطہ نظر کو ڈٹ کر پیش کیا۔ چوںکہ محترم تایاجانؒ اس جدوجہد کے سرخیل تھے‘ اس وجہ سے تمام پروپیگنڈا اورمخالفت کا رُخ بھی آپؒ ہی کی جانب ہوگیا۔ ان مخالف قوتوں نے خانقاہ میں بھی اثرورسوخ پیدا کرنے اور خاندان کو بھی متأثر کرنے کی حکمت ِ عملی پرکام شروع کیا۔ جب کہ محترم تایاجان اپنی خانقاہی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں اکثر و بیش تر سفر پر رہتے تھے تو محترم داداجانؒ کی بیماری سے فائدہ اٹھاکرسرمایہ دار طبقے نے ان کے علاج اورخدمت کے نام پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی باقاعدہ حکمت ِعملی تیار کی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محترم دادا جانؒ کا جسمانی عارضہ بڑھتا گیا اوراس طبقے کی خانقاہ میں مداخلت بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ محترم تایاجانؒ کی آزمائشوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ حاسدین‘ محترم تایاجانؒ کوتکلیف پہنچانے کے نت نئے طریقے اختیار کرتے۔ اس طبقے کے بغض و حسد کے بہت سے مظاہر باربار دیکھنے کو ملے۔ درحقیقت محترم تایاجانؒ سے میرے قریب ہونے اور ان سے متأثر ہونے کی بڑی وجہ بھی انھی افراد کا غلط طرزِ عمل اور اس کے مقابلے میں محترم تایاجانؒ کے کردار کی بلندی، آپؒ کی ہمت و استقامت اورمقصد کی لگن تھی۔ آپؒ کاتحمل، طبیعت کی شگفتگی اورہمیشہ قائم رہنے والی مسکراہٹ حاسدین کی تمام شرارتوں کا مُسکِت جواب ہوتی تھی،لیکن حاسدین تھے کہ حسد کے مارے آپؒ کو تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ 

مری میں اسی قیام کے دنوں کا ایک اور واقعہ پیش آیا‘ جس کی تکلیف میں آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ رمضان المبارک کے اختتام پر محترم داداجانؒ کی معیت میں شمالی علاقہ جات کے سفر کا پروگرام بنایا گیا۔ اس سفرمیں اتفاقاً میں بھی ہمراہ تھا۔ جس گاڑی میں ہم سوار تھے‘ اس کوفیصل آباد والے حاجی اویس صاحب کا ڈرائیور چلا رہا تھا اور پچھلی نشستوں پر لاہور سے ہلال انجینئرنگ والے اصحاب موجود تھے۔ دورانِ سفر محترم تایاجانؒ فرنٹ سیٹ پر تشریف فرما تھے۔ پہاڑی سفرتھا اور طویل بھی۔ محترم تایاجانؒ کو اگر اونگھ آجاتی تو پچھلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے افراد ڈرائیور کو اشارہ کرتے۔ وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھا کراس کو اچانک بریک لگاتا۔ محترم تایاجانؒ کا سر جھٹکے سے گاڑی کے ڈیش بورڈ سے ٹکراتا اور یہ لوگ آپؒ کی تکلیف سے خوش ہوتے اور حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرتے۔ 

میں بہت حیران ہوا اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ ایساکیوں ہوا! کئی سالوں کے مشاہدے نے مجھے اس نتیجے تک پہنچنے میں مدد دی۔ میں دیکھتا تھا کہ کچھ لوگ تایاجانؒ سے حسد کرتے ہوئے ان کی بے جا مخالفت کرتے ہیں۔ اپنی نجی مجلسوں میں ان کا مذاق اُڑاتے ہیں اور پھبتیاں کستے ہیں۔ امیرطبقے سے تعلق رکھنے والے یہ فیکٹری مالکان ہمارے خاندان کے بعض افراد سے قریبی تعلق رکھتے۔ ان کو نوازتے اور ان کی آشیرباد سے تایاجانؒ کو تکلیف پہنچانے پر کمربستہ رہتے۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ اس حقیقت کوبہت بعد میں سمجھنے کے قابل ہوسکا۔

ان حاسدین کی شرارتوں کے برعکس محترم تایاجانؒ کے لیے تیزی سے جو چیز پروان چڑھ رہی تھی‘ وہ محترم دادا جانؒ کی آپؒ پر عنایات تھیں۔ آپؒ نماز کی امامت کے لیے ہر ممکن حدتک محترم تایاجانؒ کا انتظار فرماتے۔  اسی طرح سے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں داخل ہونے والوں کو بیعت کے کلمات کہلوانے کے لیے محترم تایاجانؒ کا بعض اوقات کئی دنوں تک انتظار کیا جاتا۔ کسی نئی جگہ پرقیام کے لیے محترم داداجانؒ سب سے پہلے دریافت فرماتے کہ ’’بھئی! بھائی مولانا (محترم داداجانؒ آپ کو احتراماً ’’بھائی مولانا‘‘ ہی کہتے) اوران کے ساتھیوں کا کمرہ کون سا ہے؟‘‘ حاسدین محترم داداجانؒ سے ایک دوسرے کی خدمات جتلاتے ہوئے باری باری ایک دوسرے کے لیے خلافت کی فرمائشیں کرتے رہتے، تو ادھر سے بس ایک ہی جواب ملتا کہ ’’بھائی خدمت اور چیز ہے اور اہلیت کچھ اور۔‘‘ 

ایک بار کلورکوٹ ضلع بھکر میں خاندان کی ایک شادی کے موقع پر جب کہ خاندان کے تمام بزرگ بھی جمع تھے اورحضرت مولانا خوا جہ خان محمدؒ اور حضرت مولانا ارشدمدنی  ؒ(صاحبزادہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ) بھی موجود تھے توحضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ نے حضرت مولانا ارشد مدنی ؒ اور حاضرین کو متو جہ فرما کر کہا کہ: ’’یہ میرے بڑے صاحبزادے ہیں‘ جو اپنے اکابر کی امانت اٹھائے ہوئے ہیں۔ دعاکریں کہ اللہ قبول فرمائے۔‘‘ یہ اس امر کا کتنا واضح اشارہ تھاکہ آپؒ ہی پر اس سلسلے کے فروغ کی ذمہ داری پڑنے والی ہے اور یہ بھی کہ آپؒ کے بزرگ آپؒ پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔

غالباً 1988ء کا آغاز تھا اور میری میڈیکل کی تعلیم کے ابتدائی سال تھے کہ آپؒ محترم داداجانؒ کے ہمراہ انڈیا کے سفر پر تشریف لے گئے۔ اسی دوران رائے پور سے خبر پہنچی کہ حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ نے آپؒ کوسلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا آئندہ جانشین نامزد فرما دیا ہے۔ چند ہی دنوں کے بعد محترمہ پھوپھو جان، جو سفر میں ہمراہ تھیں‘ کاخط بھی پہنچ گیا، جس میں اس مبارک اعلان کا تفصیلی تذکرہ تھا۔ سب اہل خانہ بہت خوش تھے۔ خصوصاً قبلہ والد صاحب (راؤ رشیداحمد) کی خوشی تو دیدنی تھی۔ انھوں نے خاص طور پر اس خط کی کاپیاں تمام عزیز و اقارب کو بھجوائیں۔
ایک مرتبہ جب محترم تایاجانؒ طویل سفر سے واپسی پر گھر تشریف لائے تومحترمہ دادی جان نے مبارکباد دی اوراپنے چھوٹے صاحبزادے کی خواہش کو بھانپتے ہوئے ازراہِ مذاق کہا کہ عبدالقادر کوبھی خلافت دے دینا۔ تو آپؒ نے فرمایا کہ ’’آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ رائے پور کی خلافت تو لوہے کے چنے چبانا ہے۔ اس کے لیے تو بڑی اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ 

کالج کے زمانے تک میں آپؒ کی کسی بزرگی وغیرہ کا کچھ زیادہ قائل نہیں تھا۔ آپؒ میرے لیے ایک تایاجان ہی تھے۔ اس وقت تک تو آپؒ کی شفقت و محبت ہی ہمیں آپؒ کی طرف کھینچتی تھی۔ اسی اثنامیں آپؒ کے دفتر -56 میکلوڈ روڈ لاہور میں آمدورفت شروع ہوئی تو آپؒ کی مجالس میں بھی شرکت کا موقع ملا۔
حضرت رائے پوری رابع ؒ کا دعوتی میدان:
میرے لیے یہ نہایت حیرت انگیز تھا کہ آپؒ نے اپنے میدانِ عمل کے لیے ایسے نوجوانوں کا انتخاب کیا، جن میں سے اکثر کالج و یونیورسٹی اور مدارس سے تعلق رکھتے تھے۔ کالج و یونیورسٹی کا نوجوان عام طور پر مذہب سے بیگانہ اور خصوصاً علما و مشائخ سے بیزار تھا۔ مدارس کا نوجوان تو آپؒ کے حوالے سے بدترین مخالفانہ پروپیگنڈے کا شکار تھا، لیکن آپؒ اپنے مریدین اور متعلقین کے درمیان رہتے، جو ہمہ وقت آپؒ کو سر آنکھوں پر بٹھانے اور ہاتھ چومنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ جب کہ یونیورسٹی اورکالج کے نوجوان آپؒ کوبزرگ سمجھنا تو کجا‘ ابتداً اپنے برابر کی حیثیت دینے پربھی آمادہ نہیں ہوتے تھے، مگروقت گزرنے کے ساتھ یہ نوجوان علمائے حق کے بے پناہ گرویدہ اور آپؒ سے عشق کرنے لگتے۔

ایک نوجوان کواپنے اکابر کا نظریہ منتقل کرنے کی تڑپ حد درجہ آپؒ میں موجود تھی۔ بارہا ایسا ہوتا کہ ایک نوجوان کوبات سمجھاتے رات کا طویل دورانیہ بیت جاتا۔ پھر اس نوجوان کے مکمل آرام کا اہتمام کرکے آپؒ دوسرے نوجوانوں کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ اس طویل دورانیے میں حضرتؒ کے مخاطب نوجوانوں میں سے شایدہی کسی نے حضرتؒ سے یہ الفاظ سنے ہوں کہ ’میرے آرام کا وقت ہے۔‘ 
مخالف یاموافق کوئی بھی فرد ہوتا‘ آپؒ اس کو اسی کامل تندہی سے بات سمجھانے میں مشغول رہتے۔  بعض اوقات تومحفل میں موجود افراد مخاطب کے حوالے سے سخت بیزار ہوتے کہ آپ کس کم عقل کوبات سمجھارہے ہیں، مگر آپؒ کی محنت ومشقت مسلسل جاری رہتی۔ اس ضمن میں ایک واقعے کابھی تذکرہ فرماتے کہ ایک شاہ زادہ حضرت نظام الدین اولیا ؒ کی مجلس میں آنے لگا۔ بادشاہ نے بلابھیجا کہ کیا آپ اس کوبھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں تو حضرت نظام الدین اولیاؒ نے جواباً کہلا بھیجا کہ ’’اپنے سے بھی بہتر بنانا چاہتا ہوں۔‘‘    

محترم تایاجان اپنے نوجوانوں کی تربیت کے لئے ہرلحظہ فکرمنداورمتحرک رہتے۔ ایک نوجوان کی سطح پراترکراس کی استعداد، اس کے مزاج اور اس کی عزت نفس کو ملحوظ رکھتے ہوئے تربیت کرنا حضرت کاکمال تھا۔ہمارے عمومی ماحول میں روایتی اساتذہ یاعلماسے پڑھنے والے نوجوان اس اندازِ تربیت کا ذرا بھی اندازہ نہیں کرسکتے۔

ہم نوجوان اکثرحضرت اقدس ؒ کاتقابل کالج اور یونیورسٹی کے اپنے اساتذہ سے کرتے تھے،جن کومحض معلومات کی فراہمی سے غرض ہوتی۔ جب کہ تربیت سِرے سے ان کاموضوع ہی نہیں ہوتا تھا۔ جو جتنا صاحب ِفن ہوتا‘ اتنا ہی مغرورومتکبر۔ خودکواپنے طلبہ سے انتہائی فاصلے پررکھنے والے یہ اساتذہ بہت زیادہ بھی کریں تواتنا کہ وقت پرلیکچر کے لیے تشریف لے آئے اورزیادہ سے زیادہ ایک یادولیکچر دیے اوربس۔ بہت سے اساتذہ توبرملا یہ اظہارکرتے کہ ہمارے ایک لیکچرکی قیمت توآپ طلبہ سے ڈالروں میں وصول کرنی چاہیے۔ہمہ وقت اپنی  پیشہ ورانہ عظمت کے گُن گانے والے یہ اساتذہ کہاں اورحضرت اقدس ؒ کی شفقت و محبت کہاں! کسی دنیاوی فائدے کے بغیر کیسے ایک ایک نوجوان کوتوجہ اور محبت دے کر،گناہوں کی دلدل سے نکالنا آپؒ کا مشغلہ تھا۔ اکابرین کے مشن سے وابستہ کرنا اوردین کی سمجھ اورمحبت اس کے دل میں اجاگر کرنا‘ یہ حضرت ؒ کاہی کمال تھا۔
حضرت رائے پوری رابعؒ کی گفتگو کا انداز :
آپ کی گفتگوانتہائی سادہ ہوتی،قرآن وحدیث کی بات ہویاتصوف وسیاست کامیدان آپ اتنے سادہ اورعملی انداز میں بات سمجھاتے کہ عقل دنگ رہ جاتی اور بات دل کی گہرائیوں تک اترجاتی تھی۔اکابر کے بنیادی نظریات کوسمجھانے پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز رکھتے اور اسی کو باربار دہراتے، لیکن اس کے باوجود آپؒ کے اندازِ بیان کی چاشنی میں کچھ فرق نہ آتاتھا۔ آپ باربار فرماتے: ’’بھئی! میراکام تو نوجوانوں کو اپنے بزرگوں سے جوڑنا ہے، جن سے انھیں سامراج نے کاٹ دیاہے۔‘‘ 
ایک بار سرگودھامیں آپؒ کے جمعیت طلبا اسلام کے دور کے ایک ساتھی نے اپنے ہاں مدعو کیا کہ کچھ لوگوں سے آپ کی ملاقات کروانی ہے۔ ہم بھی ساتھ تھے۔ جب وہاں پہنچے تو میزبان اور ان کے ملازمین کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ ہمیں بہت کوفت ہوئی۔ خیر! تھوڑی دیرمیں میزبان کسی ایک اشتہاری کو پکڑلائے کہ یہ سرگودھا کے قریشیوں (سیاسی نمائندوں) کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں اشتہاری ہیں۔ ہماری کوفت شدیدغم اورغصے میں بدل گئی، لیکن آپؒ نے پورے انہماک سے اس اشتہاری سے بات کرنا شروع کردی اور اس کو کہا ہم بھی ظالموں، وڈیروں اورجاگیرداروں کے خلاف ہیں۔ اور ذرا بھی ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔

کتنی تعجب خیز ہے یہ بات کہ تربیت کے اس سارے عمل میں آپ نے کبھی رعب،غصے یا تقدس کا سہار انہیں لیا۔ کبھی کسی کی دل شکنی نہیں کی، بلکہ شوق پیداکیا، حوصلہ افزائی فرمائی، ہمت بندھائی اورنہایت غیرمحسوس اورعمومی انداز سے اصلاح کی حکمت عملی کواختیارکیا۔
محترم تایاجانؒ سے ہماری نظریاتی وابستگی ابھی نئی ہی تھی کہ ہمیں معلوم ہواکہ آپؒ اپنے کسی پروگرام کے سلسلے میں سکھر تشریف لے جارے ہیں۔ ہمیں بھی دعوت ملی توہم کچھ نوجوان بھی ساتھ چل پڑے۔ کچھ نصیحت حاصل کرنے کا خیال نہیں تھا، محض سیرسپاٹے کی نیت تھی۔ ریل گاڑی کے ڈبے میں حضرت کے ساتھ کئی سینئر احباب بھی تھے اورکچھ ہم نوجوان بھی۔تمام راستے ہم الگ اپنی خوش گپیوں میں مصروف رہے، مگرآپ نے اشارتاً بھی منع نہیں فرمایا۔

ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ’’ہم نے ساری زندگی نظریے کومقدس رکھا اوراس کے راستے میں کسی خونی رشتے کو کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔‘‘ اس نشست میں ہم بھی موجود تھے۔ ہم نے بھی دل میں کہاٹھیک ہے، بڑے میاں آج سے ہماراتعلق بھی نظریے اورتربیت کاہی ہوگا۔ آج سے آپ ہی ہمارے مرشد ہوں گے۔ اس دن سے ہم نے تو انھیں تایاجان سمجھنا چھوڑدیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اچھے مرید نہ بن سکے اوروہ مسلسل اچھے تایا بھی رہے اورمرشد بھی۔

اسی طرح فرماتے تھے کہ: ’’جس نے ہمارے بزرگوں سے تعلق رکھا اس سے ہم نے تعلق رکھا اورجس نے ان سے تعلق نہیں رکھا ہم نے ان سے تعلق نہیں رکھا۔‘‘ اورعملاً اس پرساری زندگی کاربند رہے۔اپنے نظریے اورمشن کے راستے میں کبھی کسی ذاتی یاخاندانی تعلق کوحائل نہیں ہونے دیا۔
حضرت اقدس ؒ کی تجزیاتی مہارت :
محترم تایاجان کی تجزیہ کرنے کی صلاحیت حیران کن تھی۔ اس کی یقینا اوربہت سی وجوہات ہوں گی، مگرایک وجہ یہ بھی تھی کہ آپ حقائق پرگہری نظر رکھتے، ہرنئی چیزکوسمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کرتے۔ اس کے لیے اس شعبے کے ماہر لوگوں سے معلومات حاصل کرنے میں آپ نے کبھی عار محسوس نہیں کی۔ کسی بھی شعبے کاماہرفن ملاقات کے لیے آتاتواس سے ان کے شعبے سے متعلق تازہ ترین معلومات پرضرورتبادلہ خیال کرتے تھے۔ حتیٰ کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی آپ کی معلومات عام نوجوانوں سے کہیں زیادہ ہوتی تھیں۔ سامراج دشمن ہونے کے باوجود ان ذرائع ابلاغ کی طرف بھی متوجہ رہتے، جن سے سامراج  کی سوچ کا براہِ راست اندازہ ہوتا ہو، مثلاً بی بی سی نیوز باقاعدگی سے سنتے۔

حقائق جاننے کی آپؒ کی جستجو کس درجہ کی تھی‘ اس کااندازہ ایک واقعہ سے بخوبی ہوسکتا ہے۔ محترم تایاجانؒ ایک بارمیرے پاس کنگ ایڈورڈکالج لاہور کے ہوسٹل میں تشریف لائے۔ آپؒ کے ہمراہ ہم پیدل باہر نکلے تو پی ٹی سی ایل کے دفترکے قریب ہی ایک حجام کی دکان میں تشریف لے گئے۔ فرمانے لگے ’’یہ میرابہت اچھادوست ہے۔‘‘ اس کی دکان میں بیٹھے اور چائے پی۔ اس دوران فرمانے لگے کہ ’’بھئی یہ سامنے چرچ میں عیسائیوں کاسالانہ اجتماع ہوتاہے تو میں یہاں آکر بیٹھ جاتاہوں اور ان کی سب کارروائی سنتا ہوں۔ اس سے ان کے ارادوں اورسوچ کااندازہ ہوجاتاہے۔‘‘ 

آپؒ کے تجزیہ کی یہ صلاحیت افرادکے حوالے سے بھی نہایت مثالی تھی۔ آپ فوری طور پر محض سنی سنائی بات پر کسی بھی فرد کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے بھی آپ کی رائے ہمیشہ بڑی نپی تلی اورصائب ہوتی تھی۔ مثلاً ایک مرتبہ سرگودھا تشریف لائے تو خاندان کے بعض افراد کا تذکرہ ہوا،جن کی عاجزی وانکساری سے ہم بھی متأثر تھے۔ آپؒ نے فرمایا: ’’بھئی! بعض لوگ منافقت سے بھی ایساکرتے ہیں۔ دیکھنے میں توبڑے عاجز اور منکسر المزاج ہوتے ہیں، مگراندرسے متکبرہی رہتے ہیں۔‘‘ اسی طرح سے فرماتے کہ ’’لوگوں کی لمبی لمبی نمازوں اورعبادات کی کثرت سے متأثر نہیں ہوناچاہیے، بلکہ ان کے معاملات کودیکھنا چاہیے۔‘‘
اپنے متعلقین میں ایک ایک فرد کے ذاتی مسائل میں دلچسپی لیتے تھے۔ کسی نے جب بھی کسی ذاتی مسئلہ کے حوالے سے حضرت سے تذکرہ کیا تو انھیں اپنے سے بڑھ کراس کے لیے فکرمند پایا۔ چناںچہ ملاقات ہوتے ہی سب سے پہلے اس مسئلے کے بارے میں دریافت فرماتے اور فکرمند رہتے۔ حضرتؒ کایہ طرزِ عمل اپنے تمام احباب کے لیے ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نوجوان اپنے ذاتی، خاندانی، تعلیمی اورکاروباری مسائل کے لیے بھی حضرتؒ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ 
ہمیشہ مثبت اندازِفکر کواپناتے، مشکل ترین حالات میں بھی مثبت انداز کو دوستوں کے سامنے رکھتے اوران کاحوصلہ بڑھاتے۔ مثلاً جب بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے بے جا مخالفانہ پروپیگنڈا ہونے لگاتوآپؒ نے فرمایا ـ ’’بھئی! یہ توآپ کا تعارف کروا رہے ہیں۔ جہاں تک ہماری پہنچ نہیں تھی‘ وہاں تک انھوں نے ہماراتعارف پہنچادیا۔‘‘ 
حضرت اقدس کا اپنے مدعوئین کے ساتھ سلوک :
اپنے ساتھیوں کی بے حد حوصلہ افزائی فرماتے۔ اکثر دوسروں کے سامنے اس انداز سے تذکرہ فرماتے کہ ’’بھئی! اصل کام تو یہ لوگ کررہے ہیں۔‘‘ جس سے انھیں حوصلہ بھی ملتا اور ساتھ احساس بھی کہ اصل توتمام محنت حضرتؒ کی ہی ہے اورآپؒ کی کس درجہ عظمت ہے کہ اپنی نفی فرمارہے ہیں۔ ظاہری طورپر بارعب شخصیت کے مالک نظرآنے والے اکثر حضرات اپنی شخصیت کومزید بھاری بھرکم بنانے کے لیے مصاحبوں اورظاہری شان وشوکت کاسہارالیتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ان کے قریب ہوتے جائیں ان کی ملمع کاری اُترتی جاتی ہے اوران کے باطن سے ایک نہایت چھوٹا انسان برآمدہوتاہے، مگر حضرت اقدسؒ جیسے اہل اللہ کامعاملہ دوسراہوتاہے۔ اپنی سادگی اور تواضع کے باعث پہلی نظر میں توایک عام آدمی دکھائی دیتے ہیں، لیکن جیسے جیسے قریب سے دیکھنے کاموقع ملتاہے ان کی عظمت اورکردارکی بلندی عقل کومبہوت کرتی جاتی ہے۔ ذہن یہی سوچ کر حیران رہتاہے کہ انسانی زندگی کے اتنے مختلف پہلوئوں پر گرفت اورکمال پیدا کرنا کتنا حیرت انگیز ہے۔
بھلاکون سا لیڈر آپؒ جیساہوگاجواپناکام خودکرے،زندگی کے آخروقت تک اپنے ذرائع سے روزگارکابندوبست کرے۔ جواپنے کارکنوں کوسائیکل کے پیچھے بٹھاکر خود اسٹیشن تک چھوڑنے جائے۔ جوراتوں کوخودجاگے اورمریدین کے آرام کابندوبست کرے۔ کارکن اگر کراہت کامظاہرہ کرے توخود ٹوائلٹ صاف کردے۔ کارکنوں کے بسترخودترتیب سے رکھے۔ دفترکی صفائی خودکرنے میں عارمحسوس نہ کرے۔ دوران سفراپناکرایہ خود ادا کرے۔ اگراس کاکارکن رات کے دوبجے بھی فون کرکے اپنا مسئلہ بیان کرے تووہ اس وقت بھی اسے دستیاب ہو۔ جس کے مونہہ سے کبھی کسی نے یہ نہ سناہوکہ میرے آرام کاوقت ہوا ہے۔ جو خود بھی عمومی دسترخوان پرشریک ہواوراپنے سے زیادہ اپنے ساتھیوں کی خوراک کاخیال رکھے۔ جونہ منع کرے، نہ ڈانٹے اورنہ غصہ کرے۔    ؎

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے ، وہ لوگ
آپ نے شاید دیکھیں نہ ہوں ، مگر ایسے بھی ہیں

محترم تایاجان(حضرت اقدس مولاناشاہ سعیداحمدرائے پوری ؒ)کی پوری زندگی ایک طرف توان نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے، جو آپ کے مقصد ِزندگی سے خودکوہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں۔ یقیناوہ اس جذبے سے سرشاربھی ہیں کہ وہ اپنے قائد اوررہنما کی مکمل اتباع کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ دوسری طرف ان حاسدین اورمخالفین کی شکست کااعلان بھی ہے کہ حضرتؒ نے صبرواستقامت، عفوودرگزر اوربردباری ومتانت کے ہتھیاروں کے ذریعے سے ان کے فتوئوں اورگمراہ کن پروپیگنڈے کامقابلہ کس خوب صورتی سے کیا اورآج وہ مخالفین شدیدمایوسی کے عالم میں مونہہ چھپائے پھرتے ہیں۔

محترم تایاجانؒ کی وفات کے بعداگرکسی فرد میں یہ احساس پایاجاتاہوکہ یہ وراثت اب ان کے خاندان میں نہیں رہی تو انھیں محترم داداجانؒ کے اسوہ کواپنے پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح سے حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری ؒ کانواسہ ہونے کے باوجود، حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوری ؒ نے نہ  صرف خود کو مکمل طورپر اپنے مرشد حضرت شاہ عبدالقادررائے پوری ؒ کی تربیت میں دے دیا، بلکہ اپنے صاحبزادے (شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ) کوبھی ان کے حوالے کردیا تھا۔ محترم تایا جان بھی اپنے والد کے اسوہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے بعد ایک جماعت تیار کرکے گئے ہیں۔ اور اپنے تربیت یافتہ خلفا کی ایک کثیر تعداد چھوڑ کر گئے ہیں۔ اس جماعت نے محترم تایا جان کے طرزِ فکر و عمل کی بنیاد پر سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے اگلے جانشین پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ آج اس پورے سلسلے کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ چلا رہے ہیں۔ خاندانی وراثت سے ہٹ کر یہ سلسلہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بڑی خوبی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ 
اپنی آزادی پسند،سامراج دشمن اورعوام دوست کردار کی بدولت خانقاہِ رحیمیہ رائے پور ہمیشہ سے عوام وخواص کامرجع رہی ہے توسامراج دوست اورسرمایہ پرست عناصر کی سازشوں کانشانہ بھی۔  چناںچہ سسٹم کے اشارے اورسرمایہ دار طبقے کے تعاون سے ان بزرگوں کے خاندانوں سے ہی حُبِّ جاہ اور حُبِّ مال سے سرشار طبیعتوں کواپناآلہ کار بنایا جاتا ہے۔ تصنع، بناوٹ اورریاکارانہ طریقوں سے لوگوں کوگمراہ کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ خاص طور پر ایک جانشین کے دنیاسے رخصت ہوتے ہی یہ کوشش زورپکڑجاتی ہے، لیکن اللہ کے فضل وکرم سے طریقت، شریعت اورسیاست کی جامع اس خانقاہ کے یہ عظیم المرتبت بزرگ پورے تسلسل کے ساتھ اپنے فکروعمل کی روایات کواتنا پختہ کرچکے ہیں کہ انھیں بہ آسانی دھندلایا نہیں جاسکتا۔ ایسی خواہش رکھنے والے یقینا آج بھی موجود ہیں کہ وہ محض خاندانی نسبت کی بنیادپرخود کو جانشین کہلوا، سکیں مگرسوال یہ ہے کہ علم وتقویٰ کا جو معیار،شعوروحکمت کاجواُسلوب اورجدوجہد کا جو سلیقہ ان بزرگوں کی میراث ہے، کیامحض خاندانی تعلق کی بنیاد پراس کو پہنچا جاسکتا ہے؟      ؎ 
ایں سعادت بزور باز نیست

متعلقہ مضامین
حضرتِ اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا طریقۂ تعلیم و تربیت

حضرتِ اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا طریقۂ تعلیم و تربیت از: حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر سعیدالرحمن اسلام کے اخلاقی نظام کا مطمح نظر: اس دنیا میں انسانی معاشرے کی …

ڈاکٹر مفتی سعید الرحمن ستمبر 15, 2021

حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کے مشن کی اہمیت

دنیائے انسانیت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ اقدس سے کوئی بڑا نہیں ہوا اور نہ ہوگا ۔ آپ دونوں جہانوں کے سربراہ ہیں۔ آپ ﷺ پر شریعت اُتری ، کتاب اتری ۔ آپ ﷺ کی ذاتِ …

مفتی عبدالمتین نعمانی ستمبر 21, 2021

ہمارے مربی ومحسن (حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ )

ہمارے مربی ومحسن حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ از: مولانا مفتی عبدالقدیر، چشتیاں حضرتِ اقدس ؒ سے ابتدائی تعارف: …

مفتی عبدالقدیر ستمبر 22, 2021

امام حکمت وعزیمت حضرت اقدس شاہ سعید احمد  رائے پوری ؒ

امام حکمت وعزیمت حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ از: مولانا محمد مختار حسن حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ نے اپنی پوری زندگی نوجوانوں میں اپنے بزرگ…

محمد مختار حسن ستمبر 27, 2021