حضرت آدمؑ کی توبہ اور اُس کی قبولیت

حضرت آدمؑ کی توبہ اور اُس کی قبولیت

فَتَلَقّىٰ آدَمُ مِن رَبِّهِ كَلِماتٍ فَتابَ عَلَيهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ  (37:2) 
(پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے ربّ سے چند باتیں۔ پھر متوجہ ہوگیا اللہ اس پر۔  بے شک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان۔) 
گزشتہ آیت میں بتلایا گیا کہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواؑ کو پھسلایا اور انھیں جنت سے نکلوایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک وقت کے لیے زمین پر رہنے کا حکم دیا۔ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ جنت سے نکلنے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کے دل میں توبہ کے جامع کلمات ڈالے۔ انھوں نے وہ کلمات پڑھ کر اللہ کے سامنے پوری ندامت کے ساتھ توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی۔ پھر زمین پر جاکر رہنے اور خلافتِ ارضی کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا حکم دیا۔ 
فَتَلَقّىٰ آدَمُ مِن رَبِّهِ كَلِماتٍ : کلمہ ایسے لفظ کو کہا جاتاہے، جو انسانی دل و دماغ میں موجود حالت اور کیفیت کو پوری جامعیت کے ساتھ الفاظ ادا کرے۔ چوںکہ حضرت آدمؑ اعلیٰ مَلَکیت پر پیدا ہوئے تھے، اس لیے اس غلطی کے سرز دہونے پر اُن کے دل و دماغ پر ندامت اور شرمندگی کی ایک کیفیت اور معنوی حالت طاری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حالت کے اظہار کے لیے خود اللہ نے ہی اُن کے قلب میں جامع کلمات ڈالے۔ اس طرح حضرت آدمؑ نے اپنے ربّ سے توبہ کے کلمات سیکھ کر توبہ کی۔ 
سورت الاعراف میں حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے اُن کلماتِ توبہ کا ذکر ہے کہ: (7:23) (ان دونوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور اگر تُو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے۔) اللہ تعالیٰ کی جانب سے توبہ کے یہ کلمات بہت جامعیت لیے ہوئے ہیں۔ انسان کا شرف اور اُس کی عزت اسی میں ہے کہ وہ ذاتِ باری تعالیٰ کے سامنے اپنی طرف سے ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف کرے اور انتہائی ندامت کے ساتھ اُس کے سامنے گڑگڑا کر توبہ کرے۔ 
انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیوانیت اور مَلَکیت کے درمیان اعتدال اور توازن قائم رکھے۔ کسی ایک طرف ایسا جھکاؤ، جس سے دوسری طرف کے تقاضوں کی ادائیگی میں کوتاہی پیدا ہو، ’’ظلم‘‘ ہے۔ بہیمی تقاضوں کے غلبے اور مَلَکی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کی اس غفلت پر حضرت آدمؑ کے سامنے عدل اور ظلم کی علمی حقیقت کھلی۔ یوں اپنے نفس کی مَلَکیت اور بہیمیت کے درمیان توازن و اعتدال قائم کرنے کی ذمہ داری کا فہم حاصل ہوا۔ اپنی غلطی سے ایک اہم علم سیکھنے اور سمجھنے کا دروازہ کھلا۔ انسان کا اپنی غلطیوں سے سیکھ کر صحیح راستے کا بہتر علم اور شعوری عمل اختیار کرلینا کامیابی کا راستہ ہے۔ 
حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ نے سب سے پہلے اپنی جان پر ہونے والے اس ظلم کی حقیقت کا ادراک کیا کہ نفسِ انسانی اپنے اندر توازن اور اعتدال پیدا کرنے کے بجائے خالص بہیمیت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مشغول ہوا اور ملکیت کے تقاضے چھپ کر رہ گئے۔ توبہ کے ان کلمات کے ذریعے سب سے پہلے انھوں نے اپنے نفس پر کیے ہوئے ظلم کا اعتراف کیا۔ پھر اس سبب سے اپنے نفس پر ہونے والے غلط اثرات کے تدارُک کے لیے اللہ تعالیٰ سے پردہ پوشی اور مغفرت کی درخواست کی اور اُس کی رحمت اور شفقت کے طالب ہوئے۔ حضرت آدمؑ کی اس جامع توبہ اور دعا نے مستقبل میں بھی غفلت سے سرزد ہونے والے گناہوں اور مظالم سے نجات حاصل کرنے اور اللہ کا خلیفہ اور نائب بن کر صحیح کردار اد اکرنے کا علمی اور عملی منہج واضح کردیا۔ انسان کی کامیابی تبھی ہے کہ اُس کے نفس پر غفلت سے گناہ اور ظلم کے اثرات پیدا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اُس کی طرف سے مغفرت کے سبب سے ہی نفس میں اعتدال پیدا ہوتا ہے۔ اللہ رحمن و رحیم کی صفتِ رحمت کا انسانی نفس پر ظہور‘ عدل و انصاف کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس دعا سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ خلافت کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے انسانی نفوس پر ہونے والے مظالم سے بچنا اور انسانوں کو رحمت کے عدل و انصاف کے ماحول کی طرف لانا ہے۔ 
فَتابَ عَلَيهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ : جب حضرت آدمؑ کا دل اللہ کی طرف ندامت سے متوجہ تھا تو اللہ تعالیٰ بھی اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں معاف کردیا۔ اور اپنی خاص رحمت کا اظہار اس طرح کیا کہ تجلیاتِ الٰہیہ نے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی طرف متوجہ ہو کر اُن کے قلوب کو گھیر لیا۔ اس موقع پر جو فہم اور سمجھ انھیں حاصل ہوا تھا، اسے آئندہ بروئے کار لانے کی صلاحیت اور استعداد پیدا کی۔ اس طرح زمین پر خلافت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کو عدل و انصاف کا رحمت پر مبنی ایسا نظامِ فکر و عمل سکھا دیا، جس سے نہ صرف اُنھیں دنیا میں درپیش معاملات اور ارتفاقات کی ادائیگی میں عدل و اعتدال پیدا ہوگیا، بلکہ اسی کے ساتھ قربِ بارگاہِ الٰہی حاصل کرنے کے طریقہ ہائے عبادت بھی عیاں ہوگئے۔ 
اس آیت میں خاص طور پر اللہ کی دو صفات ’’التّوّاب‘‘ اور ’’الرّحیم‘‘ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ وہ توّاب ہے، یعنی ذاتِ باری تعالیٰ انسانوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اگر انسان اپنی غلطی سے سیکھ کر آئندہ اُس سے بچنے کا سامان کرے اور اُس کی طرف متوجہ ہو رہے تو وہ سیدھے راستے پر قائم رہتا ہے۔ ان کی توبہ قبول کرکے انھیں آئندہ بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کا دوسرا وصف ’’الرّحیم‘‘ ہے۔ یہی صفتِ رحمت انسانیت کو اپنی آغوش میں لے کر آئندہ کے لیے سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ اسی صفتِ رحمت کا اظہار انبیا علیہم السلام کی بعثت اور کتبِ مقدسہ کے نزول کی صورت میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ اگلی آیت میں اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی نبویؐ تعلیمات اور ہدایات کا ذکر ہے، جو اُس کی صفتِ رحمت کا انسانیت کے لیے اظہار ہے۔ 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ