حضرت آدمؑ کے زمین پر آنے کا سبب

حضرت آدمؑ کے زمین پر آنے کا سبب

فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطانُ عَنها فَأَخرَجَهُما مِمّا كانا فيهِ ۖ وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُم فِي الأَرضِ مُستَقَرٌّ وَمَتاعٌ إِلىٰ حينٍ (36:2)
(پھر ہلا دیا شیطان نے ان کو اس جگہ سے، پھر نکالا اُن کو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے۔ اور ہم نے کہا تم سب اُترو، تم سب ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ اور تمھارے واسطے زمین میں ٹھکانا ہے۔ اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک۔) 
گزشتہ آیت میں ذکر تھا کہ حضرت آدمؑ کو خلافت دینے کے بعد جنت میں پُرسکون ماحول میں کھانے پینے کی سہولت عطا کی گئی۔ نیز اُن سے کہا گیا کہ: ’’وہ گندم یا انگور کے درخت کے قریب نہ جائیں، ورنہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوں گے۔‘‘ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرائی۔ تب حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ نے اللہ کے سامنے دل سے ندامت اور توبہ کی۔ اللہ نے معاف کرکے خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے زمین پر بھیج دیا۔ 
فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطانُ عَنها فَأَخرَجَهُما مِمّا كانا فيهِ ۖ : حضرت آدمؑ کو سجدے سے انکار کرنے کے سبب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ذلیل اور رُسوا کر کے وہاں سے نکال دیا تو اُس کے دل میں حضرت آدمؑ کے خلاف حسد، کینہ اور بغض اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس لیے کہ وہ خود زمین پر اللہ کا خلیفہ بننا چاہتا تھا، جب کہ اس کے اندر چھپی بداَخلاقی کے سبب وہ اس اعزاز کا مستحق نہیں تھا۔ حضرت آدمؑ کو اس عزت سے محروم کرنے کے لیے شیطان موقع کی تلاش میں تھا۔ اُس نے انھیں دھوکے سے بہکایا۔ 
سورت الاعراف میں اس طرح ہے:ـ ’’پھر شیطان نے اُن کے دل میں وسوسہ ڈالا، تاکہ اُن کی شرم گاہیں __ جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں __ اُن کے سامنے کھول دے۔ اور کہا: تمھیں تمھارے ربّ نے اس درخت سے نہیں روکا، مگر صرف اس لیے کہ کہیں تم فرشتے ہوجاؤ، یا ہمیشہ کے لیے رہنے والے ہوجاؤ۔ اور ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ البتہ میں تمھارا خیرخواہ ہوں۔ پھر انھیں دھوکے سے مائل کرلیا۔ پھر جب ان دونوں نے درخت کو چکھا تو اُن پر اُن کی شرم گاہیں کھل گئیں۔ اور وہ اپنے اوپر بہشت کے پتے جوڑنے لگے۔‘‘ (7:20-21) ان آیات سے معلوم ہوا کہ شیطان نے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی چھپی ہوئی شرم گاہیں کھلوانے کے لیے اُن کے دل میں وسوسہ ڈالا اور انھیں دھوکا دیا۔ اس پر انھوں نے گندم یا انگور کا ممنوعہ درخت کھا لیا، جس کے نتیجے میں ان دونوں میں جنسی جذبات پیدا ہوئے۔ اس سے مغلوب ہو کر جنسی تعلق کے سبب اُن کی شرم گاہیں کھلیں۔ اس طرح حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی طبعی بہیمیت کا اظہار ہوا۔ 
حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک تقریب پیدا کی کہ حضرت آدمؑ کو زمین پر بھیجا جائے، تاکہ خلافت کے جس کام کے لیے پیدا ہوئے ہیں، وہ سرانجام دیں۔ چناںچہ اُن کی طبیعت پر شہوت کا غلبہ ہوگیا۔ اس حالت میں انھیں سچے علم اور باطل کے درمیان اشتباہ پیدا ہوگیا۔ حق بات یہ ہے کہ جنت میں رہنے کے مخصوص زمانے میں اللہ کا ایک سچا حکم یہ تھا کہ: ’’یہ درخت کھانا حرام ہے۔ ایسا کرنا جنت سے نکلنے اور بھوک، پیاس اور مشقتوں کا باعث بنے گا۔‘‘ ایک دوسرا صحیح علم یہ الہام کیا گیا تھا کہ: ’’یہ درخت کھانا نوعِ انسانی کی بقا کا ذریعہ اور خلافت سے متعلق ارادۂ الٰہیہ کو پورا کرنے کا باعث ہے۔‘‘ حضرت آدمؑ کی طبیعت پر جب یہ دونوں علم نازل ہوئے تو انھیں اشتباہ پیدا ہوا۔ وہ حیران و پریشان رہے۔ شیطان کے وسوسہ ڈالنے اور اُس کی طرف سے قسمیں اٹھانے پر وہ یہ سمجھے کہ یہ درخت کھانے سے وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اس طرح صحیح علم میں باطل کی ملاوٹ ہوگئی۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: ’’آدم بھول گئے اور ہم نے اُن میں پختہ عزم نہیں پایا‘‘ (115:20)  (تاویل الاحادیث، ص:14) اس غفلت پر حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ نے اللہ سے گڑگڑا کر معافی مانگی۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی اور انھیں زمین پر جانے کا حکم دے دیا۔ 
وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ : حضرت آدمؑ نے خلافت کے لیے درکار اعلیٰ علمی صلاحیت کا فرشتوں کے سامنے اظہار کرکے اپنی مَلَکی قوت کی صلاحیت ظاہر کی تھی۔ اب اگرچہ شیطان نے حسد اور کینہ رکھتے ہوئے اپنے خیال کے مطابق دشمنی کی تھی کہ حکمِ الٰہی کی خلاف ورزی سے آدمؑ بھی راندۂ درگاہ ہوں گے، لیکن اُس کی کارستانی ناکام ہوگئی۔ بلکہ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے طبعی تقاضوں کی تکمیل کا موقع پیدا ہوگیا۔ اب یہ ضروری تھا کہ انھیں خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے زمین پر بھیجا جائے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم نیچے زمین پر چلے جاؤ۔ اب جن انسانوں میں مَلَکیت کی اعلیٰ درجے کی صلاحیت ہوگی اور وہ اپنے طبعی تقاضوں کو بہ قدرِ ضرورت پورا کریں گے ، انھیں ترقی اور کامیابی ملے گی۔ اور جو لوگ شیطان کے زیراثر اپنی بہیمیت کے تقاضوں سے مغلوب ہوں گے اور مَلَکیت کو بالکل بھول کر شیطان کے پیروکار بنیں گے، ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہمیشہ دشمنی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ 
وَلَكُم فِي الأَرضِ مُستَقَرٌّ وَمَتاعٌ إِلىٰ حينٍ : اس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیج دیا گیا۔ دوسری جگہ ارشادِ ربانی ہے کہ: ’’تمھارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے۔ اور ایک وقت تک نفع اٹھانا ہے۔ فرمایا: تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔‘‘ (7:25) اس طرح حضرت آدمؑ اور اُن کی اولاد کو زمین پر زمان و مکان کی پابندی کے ساتھ خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے اور علم و عدل کی بنیاد پر کردار ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے لیے ہر انسان کے واسطے ایک خاص زمانۂ حیات (life time) اور ایک مخصوص ’’مستقر‘‘ اور مقام (space) مقرر کردیا۔ وہ زمین پر اپنی زندگی میں مقرر کردہ زمانے اور موجودہ مقام میں اعتدال اور توازن برقرار رکھے۔ اپنی شخصیت میں، اپنے خاندان اور عائلی نظام میں، ملکی ریاست اور قومی نظام میں اور کل انسانیت کے حوالے سے عدل و انصاف کا ایسا ماحول اور نظام قائم کرے، جس میں انسانوں کے درمیان دشمنی کے بجائے امن و امان، معاشی خوش حالی پیدا ہو۔ وہ اس دنیا اور آخرت میں ترقی اور کامیابی کا مستحق بنے۔ 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ