فتنوں کی اقسام اور اُن کی پہچان  (2)

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مئی 05, 2020 - افکار شاہ ولی اللہؒ
فتنوں کی اقسام اور اُن کی پہچان  (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’(4۔ فتنۂ ملت:) ملت ِ(اسلامیہ) کا فتنہ یہ ہے کہ نبی اکرمؐ کے صحابہؓ اور اُن کے خاص تربیت یافتہ افراد دنیا سے چلے جائیں۔ اُن کے بعد دینی معاملات نااہل لوگوں کے سپرد ہوجائیں؛ چناںچہ علما اور صوفیا‘ دین میں انتہا پسندی کو فروغ دیں، اُن کے حکمران اور جاہل لوگ دین کا نظام قائم کرنے میں سستی کریں۔ وہ عدل و انصاف اور دینی احکامات کا نظام نہ بنائیں اور لوگوں کو برائیوں سے روکنے کا بندوبست نہ کریں۔ اس طرح لوگ زمانۂ جاہلیت کی عادات و اطوار پر دوبارہ لوٹ جائیں۔ (اس سے ملت ِ اسلامیہ میں فتنہ و فساد واقع ہوجاتا ہے)، جیسا کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
’’اللہ تعالیٰ نے جب بھی مجھ سے پہلے کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا تو اس قوم میں سے کچھ لوگ اس نبی کے حواری (خاص تربیت یافتہ) اور صحابہ ہوتے رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے نبی کی سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہتے ہیں اور اُن کے دیے ہوئے احکامات کی پوری پابندی کے ساتھ اتباع کرتے ہیں۔ پھر اُن کے بعد نااہل لوگ جانشین بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ جو کچھ زبان سے کہتے ہیں، اس کے مطابق عمل نہیں کرتے، اور جو کام کرتے ہیں، انھیں اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ پس جو آدمی ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرے، وہ مؤمن ہے۔ اور جو آدمی اپنی زبان سے ایسے لوگوں کا مقابلہ کرے، وہ مؤمن ہے۔ اور جو آدمی ان سے اپنے دل سے نفرت رکھے اور مزاحمت کرے، وہ مؤمن ہے۔ ان تین آدمیوں کے علاوہ کسی میں ایمان کا ایک ذرہ بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (مسلم: 179) 
(5۔ فتنۂ انسانیت:) یہ ایسا فتنہ ہے، جو پوری انسانیت میں پھیل جاتا ہے، یہاں تک کہ لوگوں میں انسانیت اور اُس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے نظام میں تغیر و تبدل پیدا ہوجاتا ہے۔ اس طرح انسانی سسٹم کی خرابی کے نتیجے میں مندرجہ ذیل طبقے بن جاتے ہیں: 
(۱)     ایک طبقہ اپنے آپ کو زیادہ پاکیزہ اور متقی اور پرہیزگار سمجھتا ہے۔ یہ ایسے انتہا پسند لوگ ہوتے ہیں، جو اپنے جسمانی، طبعی اور مادی تقاضوں کا سِرے سے انکار کردیتے ہیں۔ اپنے حیوانی تقاضوں کی اصلاح کرنے کے بجائے انھیں جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیںکہ ماورائے مادہ روحانی چیزوں کی مشابہت اختیار کریں۔ اور کسی نہ کسی انداز میں خودساختہ روحانی اور جسمانی نزاکتوں کی طرف میلان رکھیں۔ 
(۲) دوسرا طبقہ عام لوگوں کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ (انسانیت کا بہتر سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے) خالص حیوانیت اور بہیمی عادات و اطوار کے عادی ہوجاتے ہیں۔ 
(۳) تیسرا طبقہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے، جو پہلے دو طرح کے لوگوں کے درمیان میں رہتے ہیں۔ نہ پورے طور پر اِس طرف اور نہ اُس طرف۔ 
(6۔ فتنۂ حوادث و واقعات:) چھٹا فتنہ وہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کو ڈرانے کے لیے ایسے عمومی اور پوری فضا میں پھیلے ہوئے واقعات وجود میں آئیں، جو انسانوں کی عمومی ہلاکت اور تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ مثلاً (قیامت کے قریب ہوائی اور سمندری) بڑے طوفانوں کا آنا، وباؤں کا پھیلنا، چیزوں کا زمین میں دھنس جانا، پوری زمین میں آگ کا لگ جانا وغیرہ۔ 
نبی اکرمؐ نے ان میں سے اکثر فتنوں کا تذکرہ فرمایا ہے: 
(۱)    آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے نقشِ قدم پر چلو گے، جیسا کہ ایک بالشت دوسری بالشت کے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر تم سے پہلے کوئی قوم کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئی تو تم بھی اس کے پیچھے داخل ہوگے۔‘‘ (مسلم: 6771) 
(۲) نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’یکے بعد دیگرے نیک لوگ دنیا سے چلے جائیں گے۔ اُن کے بعد پھوکٹ رہ جائے گا، جیسا کہ جَو الگ کرنے کے بعد اُس کے چھلکوں کا پھوکٹ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہوگی۔‘‘ (بخاری: 6434) 
میں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ: نبی اکرمؐ کو یہ علم تھا کہ جیسے ہی آپؐ سے زمانہ دور ہوتا جائے گا اور آپؐ کے صحابہؓ میں سے حواریّین دنیا سے چلے جائیں گے اور معاملات نااہلوں کے سپرد ہوجائیں گے تو لازمی طور پر اُن میں ایسی رسومات جاری ہوجائیں گی، جو نفسانی اور شیطانی جذبات کے مطابق ہوں گی۔ یہ تمام باتیں تمام لوگوں میں پھیل جائیں گی، سوائے اُن چند لوگوں کے، جنھیں اللہ تعالیٰ اس سے بچائے رکھے گا۔ 
(۳) نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’انسانی دلوں پر کچھ اس طرح سے فتنے آتے ہیں جیسا کہ چٹائی کی بُنتی کے وقت ہر ایک تنکے کے بعد دوسرا تِنکہ آتا ہے۔ پس جو دل ان فتنوں کا پانی پی لیتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اور جو دل ان فتنوں کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے تو اس کے دل میں سفید نقطہ لگ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کے دل دو طرح کے بن جاتے ہیں: (i) ایک دل سفید چکنے پتھر کی طرح صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔ جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، کوئی فتنہ ایسے دل کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (ii) دوسرے انسان کا دل سیاہ اور آلودہ کالی اُلٹی ہانڈی کی طرح ہوجاتا ہے۔ ایسا آدمی کسی نیک کام کی پہچان نہیں رکھتا اور کسی بُرے کام کو ناپسند نہیں کرتا۔ وہ اپنی خواہشات کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ: 5380) 
میں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ نفسانی خیالات اور شیطانی وسوسے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور بُرے اعمال انھیں گھیر لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں حق کی جانب کوئی سچی دعوت اُن پر اثر نہیں کرتی۔ ایسے غلط فتنوں کا انکار صرف وہی انسان کرسکتا ہے، جس کے دل میں فطری طور پر اُن فتنوں سے متضاد کیفیت اور قلبی ہیئت وجود میں آجائے۔ ایسے لوگوں کے علاوہ باقی تمام لوگوں کو نفسانی خیالات اور شیطانی وسوسے گھیر لیتے ہیں اور وہ اُن فتنوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘ (باب الفتن)

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ