ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری ؒکا سانحۂ اِرتحال

وسیم اعجاز
وسیم اعجاز
جون 18, 2021 -
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری ؒکا سانحۂ اِرتحال

2؍ فروری 2021ء کو ایک افسوس ناک پیغام کے ذریعے یہ اطلاع ملی کہ ولی اللّٰہی تحریکات و شخصیات کے محقق ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے ہیں۔ إنّا للّٰہ و إنّا إلیہ راجعون۔ پاکستان میں تحریکاتِ آزادی کے رہنمائوں، ان کے اَفکار و خیالات اور قومی، ملّی و ادبی خدمات کو اپنی تحاریر کی صورت میں ہر خاص و عام سے متعارف کروانے میں ماضی قریب میں جن دانش وروں اور محققین نے انتہائی اہم کردار ادا کیا، ان میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوریؒ کا بھی ہے۔   ولی اللّٰہی تحریک سے تعلق رکھنے والی تقریباً تمام شخصیات پر ان کے قلم نے سفر طے کیا۔

موصوف شاہجہانپور میں محمد حسین خاں کے ہاں 30؍ جنوری 1940ء کو پیدا ہوئے۔ اصل نام تصدق حسین خاں تھا۔ مدرسہ شاہی مراد آباد سے قرآنِ حکیم حفظ کیا اور عربی و فارسی کی کتابیں پڑھیں۔ 1951ء میں ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے۔ محض 17؍ سال کی عمر میں ہی لکھنے کا آغاز کیا۔ اپنا قلمی نام ’ابوسلمان الہندی‘ اور بعد ازاں ’ابوسلمان شاہجہانپوری‘ اور متعدد تحریروں میں ’ابوشاہد‘ بھی استعمال کیا۔ مطالعے کی عادت موصوف کو اپنے ماموں مقصود حسن خاں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ ان کے ہاں اخبار ’’مدینہ‘‘ بجنور اور اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی باقاعدگی کے ساتھ آتا تھا۔ لکھنے کا شوق موصوف کے چچا محترم مولانا محمد عبدالہادی خاں (شاگرد مفتی کفایت اللہ دہلویؒ) کی وجہ سے پروان چڑھا۔ انھیں کی بدولت ولی اللّٰہی جماعت کے اکابرین سے محبت کا تعلق پیدا ہوا۔ ان پر ان کے متعدد مضامین اور کتب شائع ہوچکی ہیں۔ ان حضرات میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے لے کر مولانا ابو الکلام آزادؒ اور امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ تک تقریباً تمام رہنما شامل ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ پر کثیر تعداد میں تحقیقی مقالہ جات اور تحاریر لکھنے کی وجہ سے موصوفؒ کو پاکستان میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

ڈاکٹر ابوسلمان مرحوم کا ولی اللّٰہی تحریک سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ1980ء میں پی ایچ ڈی کے لیے جو عنوان منتخب کیا، وہ بھی ’’تذکرۂ خانوادۂ ولی اللّٰہی‘‘ تھا۔ تمام عمر درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ انجمن ترقیٔ اُردو پاکستان، شاہ ولی اللہ اکیڈیمی حیدرآباد، مدرسہ تعلیم القرآن، ہولی قرآن سوسائٹی، نیشنل کالج کراچی کے علاوہ متعدد تعلیمی اداروں میں خدمات سرانجام دیں۔ تحقیق و تدوین کے لیے جو ادارے خود قائم کیے، ان میں ادارہ تحقیقات افکار و تحریکاتِ ملّی کراچی، مولانا ابوالکلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کراچی پاکستان، مکتبہ شاہد، علی گڑھ کالونی کراچی اورادارہ تصنیف و تحقیق پاکستان قابل ذکر ہیں۔ ان اداروں سے گراں قدر تحاریر اور کتب شائع ہوتی رہیں، جن میں مولانا ابو الکلام آزادؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ  کی شخصیات اور تحریکات کے تعارف کے علاوہ بے شمار کتب شامل ہیں۔ 100 سے زائد کتب تحریر اور مدوّن کیں، جن میں انتہائی اہم کام شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ کی سیاسی ڈائری قابلِ ذکر ہے، جو کم و پیش 7000 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ 1986ء میں موصوفؒ کی رہائش گاہ علی گڑھ کالونی میں کچھ شر پسند عناصر نے گھروں کو آگ لگا دی تو اس میں آپ کی قیمتی کتابوں کا ذخیرہ اور نادر مخطوطات کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کی دستاویزات بھی جل کر راکھ کا ڈھیر ہوگئیں۔ یقینا یہ صدمہ بہت دکھ انگیز تھا، لیکن آپؒ کے ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحقیق نے ہمت نہیں ہارنے دی اور ایک بار پھر سے کتابوں کو جمع کرنا شروع کردیا۔

ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہان پوریؒ ہر اُس فرد کا احترام کرتے تھے، جو ولی اللّٰہی خانوادے اور ان کی تحریکات سے لگائو رکھتا تھا۔ ولی اللّٰہی اکابرین کے سلسلے میں ہونے والے متعدد سیمینارز میں شرکت کی غرض سے ملکِ عزیز کے علاوہ ہندوستان کے بھی اسفار کیے۔ پاکستان میں ولی اللّٰہی افکار پر جدوجہد کرنے والی جماعت تنظیم فکر ولی اللّٰہی پاکستان کے بانی حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ساتھ انتہائی عقیدت کا تعلق تھا۔ جب بھی کبھی حضرتِ اقدسؒ کراچی کے دورے پر تشریف لاتے تو خود چل کر حاضر ہوتے اور اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتے تھے۔ متعدد بار ایسا ہوا کہ تحریکاتِ آزادی اور حریت پسند اکابرین کی خدمات کے بارے میں موصوف اور حضرتِ اقدسؒ کے درمیان گھنٹوں نشست جاری رہتی۔ اپنے قریبی دوست مولانا عطاء الرحمن شیرازی صاحب سے حضرتِ اقدسؒ کی آمد کے بارے میں دریافت کرتے رہتے تھے۔

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے وصال کے بعد خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ سے بھی اسی طرح عقیدت کا تعلق رکھتے تھے۔ اپنی ترتیب دی ہوئی کتب بھی حضرت رائے پوری کو پیش کرتے رہتے تھے۔ جب انھیں حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب اور امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی کتاب ’’التّمہید لتعریف أئمّۃ التّجدید‘‘ کا ترجمہ پیش کی گئی تو بہت خوش ہوئے اور دیر تک ان حضرات کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ آخری عمر میں باوجود اس کے کہ یاد داشت ساتھ نہ دیتی تھی، لیکن مولانا ابو الکلام آزادؒ اور حضرت مدنیؒ کے سیاسی تصورات اور ان کی خدمات کے بارے میں بڑے اعتماد کے ساتھ گفتگو جاری رکھتے۔ ولی اللّٰہی تحریک کے ان اکابرین کا نام سنتے ہی ان کی آنکھوں میں خاص چمک آجاتی تھی۔ غرض! یہ کہ موصوف نے تحقیق اور تدوین کے میدان کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ وہ اس میدان کے شہ سوار تھے۔ آخری عمر میں ضعف بڑھ گیا تھا۔ آپ کی زندگی کا علم، ادب اور تحقیقی و تصنیف سے بھر پور یہ سفر 2؍ فروری2021ء کو پورا ہوا اور آپؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو قبول فرمائے۔ (آمین!)

ٹیگز
متعلقہ مضامین
اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بنتِ حارث

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قبیلہ قریش سے تھیں۔ آپؓ کے والدین نے آپؓ کانام ’’برّہ‘‘ رکھا تھا۔ جب حضورؐ کے نکاح میں آئیں تو آپؐ نے ان کا نام …

مولانا قاضی محمد یوسف جولائی 12, 2021

حضرت مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ

کسی بھی قوم کی آزادی کی تحریک یقینا ہمت حوصلے اور جرأت سے عبارت ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تحریکاتِ آزادی میں ٹھیک ایک صدی قبل جاری ہونے والی تحریکات میں بھی جن حریت پسند لوگوں…

وسیم اعجاز اگست 12, 2021

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ نقوشِ زندگی کا ایک مختصر خاکہ تحریر: مفتی عبدالخالق آزاد ٭ آپؒ کی پیدائش رجب 1344ھ / جنوری 1926ء کو حضرتِ اقدس…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری ستمبر 13, 2021