عقل و شعور کا تقاضا؛ کتابِ الٰہی پر عمل

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
اکتوبر 18, 2020 - دروس القرآن الحکیم
عقل و شعور کا تقاضا؛ کتابِ الٰہی پر عمل

أَتَأمُرونَ النّاسَ بِالبِرِّ وَتَنسَونَ أَنفُسَكُم وَأَنتُم تَتلونَ الكِتابَ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ

(کیا حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا، اور بھولتے ہو اپنے آپ کو؟! اور تم تو پڑھے ہو کتاب۔ پھر کیوں نہیں سوچتے ہو؟)

بنی اسرائیل کی خرابیوں کا سلسلۂ بیان جاری ہے۔ اُن کی چند بنیادی خرابیوں کے بیان کے بعد علمائے یہود کی ایک اہم خرابی اس آیت ِمبارکہ میں بیان کی جا رہی ہے۔ یہاں اُن کے علما سے سوال کیا جا رہا ہے کہ خود عمل کیے بغیر دوسروں کو نیکیوں کی دعوت دینا، خود عمل نہ کرنا اور اپنے آپ کو بھلا دینا کیا خلافِ عقل و دین نہیں ہے؟

أَتَأمُرونَ النّاسَ بِالبِرِّ: علمائے سو اور رہنمایانِ بدکردار سے پوچھا جا رہا ہے کہ تم عام لوگوں کو ’’بِرّ‘‘ (نیکی) کا حکم کرتے ہو؟ ’’بِرّ‘‘ کیا ہے؟ اس کی جامع حقیقت بیان کرتے ہوئے حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ تحریر فرماتے ہیں:

’’بِرّ کی حقیقت میں: (الف) ہر وہ عمل داخل ہے، جو انسان ملائِ اعلیٰ کی فرماں برداری اختیار کرتے ہوئے کرتا ہے اور اللہ کے احکامات اور حق تبارک و تعالیٰ کی مراد کو پورا کرنے کے لیے خود فنا ہوجاتا ہے۔ (ب) ہر وہ عمل جس پر دنیا یا آخرت میں اچھا بدلہ دیا جائے۔ (ج) ہر وہ عمل جو اُن تمام ارتفاقات کو درست کرے کہ جن پر انسانیت کا نظام استوار ہے۔ (د) ہر وہ عمل جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے فرماں برداری کی حالت کے لیے مفید ہو اور اُس راہ میں حائل (طبعی، رسمی اور عقلی) حجابات کو دور کرے۔‘‘

نیکیوں کے یہ امور ایسے ہیں کہ جن پر تمام مذاہبِ الٰہیہ اور انسانیت کے عقل مندوں میں اتفاق پایا جاتا ہے۔ علمائے یہود کی کتاب ’تورات‘ میں بھی انھی اصولی نیکیوں کی دعوت دی گئی ہے۔ علمائے اہلِ کتاب بھی لوگوں کو انھی کاموں کے کرنے کا حکم دیتے تھے۔ بہ ظاہر ان احکامات اور نیکیوں کی مخالفت نہیں کرتے تھے، لیکن خود انھوں نے ان احکامات کو عملی طور پر نظرانداز کرتے ہوئے بھلا رکھا تھا۔ انھی اصولوں کی روشنی میں آج کتابِ مقدس قرآن حکیم حق کا پیغام لایا ہے تو اُسے بھی یہ لوگ نظرانداز کرتے ہیں۔

وَتَنسَونَ أَنفُسَكُم: حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’بعض علمائے یہود یہ کمال کرتے تھے کہ اپنے لوگوں سے کہتے تھے کہ یہ دینِ اسلام اچھا ہے اور خود مسلمان نہ ہوتے تھے۔ اور نیز علمائے یہود، بلکہ اکثر ظاہر بینوں کو اس موقع پر یہ شبہ پڑ جاتا تھا کہ جب ہم تعلیمِ احکامِ شریعت میں قصور (کمی) نہیں کرتے اور حق پوشی بھی نہیں کرتے تو اس کی ضرور ت نہیں کہ ہم خود بھی احکام پر عمل کریں۔ جب ہماری ہدایت کے موافق بہت سے آدمی اعمالِ شریعت بجا لاتے ہیں تو بحکمِ قاعدہ ’’الدّالُّ علٰی الخیرِ کَفاعلہٖ‘‘ (نیکی کے کام کی رہنمائی دینے والا اُسے کرنے والے کی طرح ہے) وہ ہمارے ہی اعمال ہیں۔ تو اس آیت میں دونوں کا بطلان فرما دیا گیا۔ اور آیت سے مقصود یہ ہے کہ واعظ کو اپنے وعظ پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔ یہ غرض نہیں کہ فاسق کسی کو نصیحت نہ کرے۔‘‘ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’کسی کتاب کا صحیح طور پر پڑھانا اُسی مدرّس کے لیے ممکن ہوتا ہے، جو اُسے اچھی طرح سیکھے، سمجھے اور عمل کرے۔ اسی طرح ہر داعی کو کسی خُلق کی دعوت دینا تبھی مناسب ہے، جب وہ خود اُس خُلق پر عمل کرے۔ نیز کسی آدمی کے لیے نیکی کے اعمال پر لوگوں کو اُبھارنا اُسی وقت اثرانگیز ہوگا، جب وہ اُس نیکی پر خود عمل پیرا ہو۔ ان شرائط پر عمل نہ کرنے والے لوگوں پر یہ آیت صادق آتی ہے۔ یہود کے علما اسی طرح کی غلطیوں کا ارتکاب کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں متنبہ کیا۔‘‘

وَأَنتُم تَتلونَ الكِتابَ: کتابِ الٰہی کی تلاوت کرنا اور اُس کے احکامات پر عمل نہ کرنا، اُس میں بیان کردہ اَخلاق اپنے اندر پیدا نہ کرنا‘ بہت بڑی خرابی ہے۔  کتبِ الٰہیہ میں موجود احکامات لوگوں کو صرف اس غرض سے سنائے جائیں کہ اُس کے ذریعے سے اپنا مذہبی بھرم رکھا جائے اور انھیں ڈرا دھمکا کر مفادات اُٹھائے جائیں۔ لوگوں کے سامنے ایسی بے روح تلاوت کی جائے، جس کا کوئی اثر خود تلاوت کرنے والے کے حلق سے نیچے نہ اُترا ہو۔ جیسا کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: ’’یخرج ناس من قِبلِ المشرق، و یقرؤن القرآن، لا یجاوز تراقِیَہُم‘‘ (کچھ لوگ مشرق کی جانب سے نکلیں گے اور قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ اُن کی حلق سے نیچے نہیں اُترے گا)۔ (صحیح بخاری: 7562)

قوموں پر جب زوال آتا ہے تو وہ اپنی کتابِ الٰہی کے حوالے سے اسی طرح کے پست رویوں کے حامل بن جاتی ہیں۔ وہ لوگوں کو اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں اور خود داعیین اُس پیغامِ الٰہی کے مطابق اپنا معاشرہ تشکیل نہیں دیتے۔ انسانی ترقی کے اعلیٰ اَخلاق چھوڑ دیتے ہیں۔ ارتفاقات کا نظام فاسد اور فرسودہ بنا دیتے ہیں۔ دین پر عمل پیرا رہنے والے اچھے انسان تیار کرنے میں رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے طبعی، رسمی اور عقلی حجابات کی وجہ سے اللہ کی طرف رجوع اور انسانیت کی خدمت کے اعلیٰ نظامِ فکر و عمل کو قائم نہیں کرتے، بلکہ اُس کے راستے میں سد ِسکندری بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔

أَفَلا تَعقِلونَ: قرآن حکیم نے زوال پذیر قوموں کے علما اور رہنماؤں سے مذکورہ بالا سوال کرنے کے بعد اُن کی عقل و شعور کو جھنجھوڑا ہے۔ کیا یہ عقل کے خلاف بات نہیں کہ خود عمل نہ کرو اور دوسروں کو ظاہری طور پر عمل کی دعوت دو؟ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان جس خُلق اور عمل کو اچھا سمجھتا ہے، سب سے پہلے اُس پر خود عمل کرے۔ پھر اُس پر جماعت بنائے۔ اُس کے ذریعے سے معاشرے میں عملی نظام قائم کرے۔ اگر اُس نے اپنی ذاتی زندگی میں تبدیلی نہیں کی تو وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر انسانیت میں کیا انقلاب برپا کرے گا؟ وہ تو عالمی قیادت سے محروم ہوگیا۔ اس آیت میں واضح کیا گیا کہ یہودیوں کا فکر و عمل قابلِ تقلید نہیں رہا، بلکہ قرآن حکیم کی تعلیمات اور اُن پر عمل کرنے والی سچی اور متقی جماعت قائم کرنے کی ضرورت ہے، جو الٰہی تعلیمات کی ہر طرح سے پابند ہو۔

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ