انبیا ؑکا مشن انسانیت کو عدل و انصاف پر قائم کرنا ہے

انبیا ؑکا مشن انسانیت کو عدل و انصاف پر قائم کرنا ہے

6؍ نومبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’معزز دوستو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانیت کی کامیابی کے لیے انبیا علیہم السلام کی دنیا میں بعثت کا سلسلہ شروع کیا ہے اور انسانی ہدایت کے لیے ان پر کتابیں نازل کی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد اور ہدف یہ قرار دیا کہ کل انسانیت کو عدل و انصاف پر قائم کیا جائے۔ انسانیت دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرلے۔ ظلم، ناانصافی، غرور، تکبر اور انسان دشمنی کے رویوں سے انسانیت آزادی حاصل کرلے۔ آج ہم مسلمانوں کے سامنے انبیا علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد دھندلا گئے ہیں۔ اس حوالے سے ہم بہت ہی غفلت کا شکار ہیں۔ اعمال کی کثرت پر تو زور ہے اور اعمال بھی ہم عام طور پر اپنی خواہشات کے مطابق کرتے ہیں، لیکن جو ٹوٹے پھوٹے اعمال کرتے بھی ہیں، یعنی نماز جیسا عمل ہم عام طور پر کرتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں یا دیگر اسلامی رسومات و معاملات طے کرتے ہیں اور ان کی اہمیت کو اپنے سامنے رکھتے ہیں، لیکن ان تمام اعمال و افعال کے پیچھے جو مرکزی اور محوری بنیادی فکر اور نظریہ، مقصد اور ہدف ہے، وہ ہماری نظروں سے عام طور پر اوجھل رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اعمال کثرت سے کرنے کے باوجود ہم ان مقاصد اور اہداف کے حصول میں ناکام ہیں، جو انبیا علیہم السلام کی بعثت کے لیے متعین کیے گئے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ انبیاؑ کی بعثت کا مقصد بھی سامنے ہو اور خاص طور پر امام الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد اور آپؐ کی بعثت کے مقاصد اور اہداف بھی واضح ہوں۔ 
آج جدید سائنٹفک دور میں مختلف علوم کے حوالے سے انسانی زندگی میں کیے جانے والے اعمال، ان کے ذہنوں میں پنپنے والے افکار، ان کے جسموں سے صادر ہونے والے افعال کا جب ہم علمی طور پر مطالعہ کرتے ہیں تو ہر علم اور اس سے متعلق اعمال و افکار اور افعال و کردار کے پیچھے بنیادی نظریے اور ہدف کو تلاش کرتے ہیں۔ ہر فکر و عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی مصلحت، کوئی نہ کوئی فلسفہ، کوئی نہ کوئی ہدف اور مقصد ِزندگی ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنسز ہوں، انجینئرنگ ہو، فزکس اور کیمسٹری ہو، حتیٰ کہ تاریخ بھی جو ماضی میں گزر چکی ہے، اس کو بھی ہم فلسفے کے تناظر میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں نے فلاں عمل کیا تو اس کے پیچھے کیا فلسفہ کارفرما تھا؟ فلاں نے فلاں افعال اور افکار پیش کیے ہیں، تو ان افکار کا بنیادی مطمح نظر کیا ہے؟ لیکن جب دین اسلام کی بات آتی ہے تو وہاں ہمارے بڑے بڑے مفکرین، فلاسفرز، دانش ور، واعظین، مقررین، لیکچررز کی زبانیں کیوں گنگ ہوجاتی ہیں کہ وہ دین کے مقصد ِزندگی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ وہاں ہم کہتے ہیں کہ بس فلاں اعمال کیے جاؤ، کسی پر کسی ایک عمل کا غلبہ ہوجائے تو اس کے مطابق وہ عمل سرانجام دیتا رہے، لیکن مقاصد و اہداف کے حصول پر توجہ نہیں ہے۔‘‘ 


جامع دینی نظریہ اور وحدتِ فکر کی اہمیت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’خلفائے راشدینؓ کے زمانے سے لے کر مسلمانوں کے غلبے کے زمانے تک بڑے بڑے محققین علمائے ربانیین، محدثین، مفسرین، فقہا، مؤرخین، سیاست دان اور دین کے جتنے بھی اہلِ علم رہے ہیں، ان کی پوری گفتگو مربوط ہوتی تھی۔ وہ ایک فکر اور فلسفے کے تحت اور گرد گھومتی تھی۔ آج غلامی کے اس زمانے میں ایسا کیا ہوگیا کہ دینی علم پڑھنے والوں کی گفتگو میں انتشار ہے، ان کے افکار بکھرے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ انتشار دین کے نام پر اپنا تعارف کرانے والے علما اور مفکرین میں ہے۔ اگر سیاست کے حوالے سے سوال کیا جائے کہ دین اسلام کا سیاسی نظام کیا ہے؟ تو جتنے منہ اُتنی باتیں۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ آمریت ہے، کہیں کہا جاتا ہے کہ ڈکٹیٹر شپ اور وَن مین شو ہے اور کہیں کہا جاتا ہے کہ خلافت کا مطلب ایک فرد کی حکمرانی ہے۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ نہیں جی جمہوریت ہے۔ پھر جمہوریت بھی مخصوص طبقے کی ہے۔ معیشت کے میدان میں آئیں تو جتنے علما اور جتنے فقہ سے مناسبت رکھنے والے ہیں، ہر ایک کا اپنا معاشی نظام ہے، اسی تناظر میں معاشیات پر ان کی گفتگو ہوتی ہے۔ یہ تو دو بڑے اہم شعبے وہ ہیں، جن کے بغیر کوئی انسانی سماج تشکیل پذیر نہیں ہوتا۔ اور اگر افکار کی دنیا کی بات کی جائے تو فلسفہ بھی ہر کسی کا اپنا ہے۔ فلسفۂ نماز بھی ہر عالم یا ہر فرقے کا الگ، فلسفہ روزہ بھی الگ، فلسفہ حج بھی الگ، فلسفہ دین بھی الگ۔ یہ انتشار کیوں ہے؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انبیاؑ اور بالخصوص امام الانبیا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے جو بنیادی مقاصد اور اہداف ہیں اور اس کا بنیادی نقطہ ہے، اس کو نہ سمجھنے کی کوشش کی ہے اور نہ سمجھا ہے۔ نہ اس کو سامنے رکھ کر اپنے اعمال و افکار اور خیالات کا جائزہ لیا ہے۔ جب کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا علیہم السلام کی تمام مذہبی تعلیمات کا ایک بنیادی فلسفہ اور فکر ہے۔ ایک بنیادی نظریۂ زندگی ہے۔ 
اسے واضح کرتے ہوئے قرآن حکیم میں اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ ہم نے اپنے انبیا اور رسول بھیجے ہیں اور اُن پر ہم نے کتابیں نازل کی ہیں۔ حق و باطل میں فرق اور تمیز کے لیے ہم نے میزان اور ترازو بھی اُتاری ہے۔ اس کائنات کا ایک توازن بھی قائم کیا ہے، جس کے نتیجے میں عدل قائم ہونا ہے۔ یہ چیزیں ہم نے متعین طور پر نازل کی ہیں۔ انبیاؑ مبعوث کیے ہیں۔ ان تمام کا ایک بنیادی ہدف اور مقصد خود اللہ نے واضح کردیا کہ ’’تمام انسانیت عدل اور انصاف پر قائم ہوجائے‘‘ (القرآن 25:57)۔ عدل بنیادی ہدف ہے۔ اس عدل کا اظہار خالق و مخلوق کے رشتے میں بھی ہو اور انسانوں کے درمیان وقوع پذیر ہونے والے تمام معاملات، معاہدات، لین دین، سیاسی تعلقات، معاشی اقدامات، فکری خیالات میں بھی عدل و توازن کا بنیادی ہدف پیش نظر رہے۔ اس سے انحراف نہ ہو۔ تمام انبیا علیہم السلام نے اسی عدل کو قائم کرنے کے لیے کردار ادا کیا۔‘‘ 


رسول اللہؐ کی اتھارٹی کا انکار بغاوت ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’انبیا ؑکی اتھارٹی انسانوں پر ایسی حکمرانی ہے کہ جن کی حکومت کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ رسالت کا بنیادی ہدف حکومت قائم کرنا اور سسٹم بنانا ہے۔ ایسی اتھارٹی کے طور پر کام کرنا ہے کہ جس کی خلاف ورزی قابل گرفت اور سزا کی مستوجب ہے۔ دنیا کا دستور ہے کہ دنیا میں جتنی بھی حکومتیں ہوتی ہیں، ان کی اتھارٹی کو، ریاستی رِٹ کو چیلنج کیا جائے تو ریاست ایسے باغیوں کے خلاف اقدامات کا حق رکھتی ہے۔ اپنے زمانے کا ہر رسول اپنے دور کے انسانوں پر اتھارٹی اور حکومت رکھتا ہے۔ اس لیے اس کی خلاف ورزی دنیا میں سزا کی مستوجب ہے۔ باقی انبیا ؑکے بارے میں تو حضوؐر نے فرمایا کہ اُن کی رسالت اور اتھارٹی ایک قوم کی طرف تھی، جس قوم میں وہ آئے۔ اپنی اپنی قوموں کی طرف مبعوث کیے گئے۔ لہٰذا اپنی اپنی قوموں کی مخالفت کے نتیجے میں صرف انھی قوموں کو سزا دی گئی۔ لیکن نبی اکرمؐ جو اقوامِ عالم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں، ان کی اتھارٹی ہر انسان پر قائم ہے۔ کوئی کالا، کوئی گورا، کوئی مشرقی، کوئی مغربی، کوئی یورپی، کوئی امریکی، کوئی ایشیائی، کوئی افریقی اس سے ماورا نہیں ہے۔ 
رسول اللہؐ کی یہ اتھارٹی کیسے قائم ہوگی؟ جو تو اس دین کو قبول کرلیں اور ایمان لے آئیں، وہ اُمت ِاجابت ہے کہ اُس نے حضوؐر کی دعوت قبول کرکے کلمہ پڑھ لیا لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ اُسے اپنے آئین، قانون، سیاست، معیشت، سماج، عقیدے اور ہر شعبۂ زندگی میں رسول اللہؐ کی اتھارٹی قائم کرنی ہے۔ آپؐ کے قائم کیے ہوئے نظامِ حکمرانی کو اپنے اپنے معاشروں میں قائم کرنا‘ رسالت اور نبوت کو ماننے کا بنیادی ہدف ہے۔ جو انسان اُمت ِدعوت ہیں، یعنی جن کو اسلام کی دعوت دی گئی اور انھوں نے دعوت قبول نہیں کی۔ عقیدے میں وہ مسلمان نہیں ہیں تو اُن کے لیے حضوؐر کی اتھارٹی یہ ہے کہ وہ اپنے داخلی نظام میں عدل و انصاف کا نظام برقرار رکھیں گے۔ اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے بھی اُن کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ ظلم، ناانصافی، بددیانتی، بداَخلاقی، انسانیت دشمنی کا نظام برقرار رکھیں۔ ہاں! اگر وہ عدل قائم نہیں کرتے تو ایسے ظالموں کے خلاف سچی جماعت کو اقدامات کرنے ہیں۔ انسانی حقوق کی اساس پر، انسانیت کے لیے عدل، امن اور معاشی خوش حالی کا نظام قائم کرنا اُن کی ذمہ داری ہے۔ اللہ نے انسانیت مکرم اور معظم بنائی ہے۔ کسی مزدور کا استحصال نہیں کیا جاسکتا۔ کسی کسان اور غریب کے حقوق توڑے نہیں جاسکتے۔ سوسائٹی میں انسانیت کو بداَمنی کے جہنم میں دھکیلا نہیں جاسکتا۔ تشدد اور قتل و غارت گری مسلط نہیں کی جاسکتی۔ انسانی حقوق پورا کرنا اُن غیرمسلموں پر بھی لازمی ہے۔ اگر وہ یہ حقوق پورے نہیں کرتے تو پھر اُن سے قتال ہے، جہاد ہے، لڑائی ہے، مقابلہ ہے، مزاحمت ہے۔ رسول اللہؐ کی اتھارٹی کم از کم اس دائرے کے اندر تو ضرور ہے کہ اپنے ہی عقیدے کے مطابق، اپنے ہی نظریے کے مطابق انسانی حقوق کو پورا کرو۔ اسی کو قرآن نے کہا: ’’لیقوم الناس بالقسط‘‘ تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوجائیں۔‘‘ 


قرآن کا نظریۂ عدل اور انبیا ؑکی سیرتِ مبارکہ
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب تمام انسانوں کے لیے عدل قائم کرنے کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے رسول اللہؐ دنیا میں تشریف لائے اور آپؐ کے تمام خلفا نے اس نظریے کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی کے تمام اعمال کیے۔ نماز پڑھی پڑھائی تو اس ہدف کو سامنے رکھ کر، روزہ رکھا کر تو عدل کے نظریے پر۔ کیا آج نماز کے نتیجے میں ہمارے اندر وہ خلق اور عادت پیدا ہوئی، جس سے انسانی معاشرے میں عدل قائم کیا جاسکے؟ کیا ہمارے روزہ رکھنے کے نتیجے میں عدل کا مقصد حاصل ہوتا ہے؟ ہم نے حج کا اتنا بڑا اجتماع کیا، کیا اس اجتماع سے انسانیت میں عدل قائم کرنے میں کوئی مدد ملی؟ جمعہ کا بڑا اجتماع قائم کیا، تو کیا اس اجتماع سے عدل قائم کرنے میں کوئی مدد ملی؟ کوئی نظریۂ عدل سامنے آیا؟ پانچ وقت ہم نے مسجد میں جماعت قائم کی تو اس جماعت کا نتیجہ عدل کی صورت میں کوئی ظاہر ہوا؟ جب کہ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہؐ کی اس رسالت کے مقصد کو سمجھا اور صدقِ دل کے ساتھ اس پر عمل کیا۔ 
عدل و انصاف کے نظریے سے تمام اجتماعی اعمال دین نے متعین کیے۔ آج یہ عدل کا نظریۂ زندگی نہیں ہے تو نہ محلے کی مسجد کی جماعت میں وہ رونق ہے اور نہ شہر کی جامع مسجد میں جمعہ کی رونق ہے۔ نماز باجماعت کی ادائیگی رسمی بن گئی۔ نبی اکرمؐ کی سیرت کے حوالے سے سیمینار منعقد کیے، جلسے جلوس نکالے، اس میں مقصد ِزندگی جو قرآن بیان کر رہا ہے، اس پر گفتگو نہیں ہے۔ تو ہدف کیسے حاصل ہوگا؟ 
آج بڑی ضرورت ہے کہ انبیا علیہم السلام کی سیرت کی جو قرار واقعی حیثیت ہے، اسے سمجھا جائے اور اس کی اساس پر وہ نظریۂ عدل جو قرآن حکیم بیان کر رہا ہے، اس کے مطابق کردار ادا کیا جائے۔ قرآن حکیم کی سینکڑوں آیات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے عدل کے جس نظریے، مقصد ِزندگی اور جس ہدف کو بیان کیا ہے، آج مجموعی طور پر ہم اس سے منحرف ہیں۔ اس پر بات چیت نہیں، گفتگو نہیں، اپنے اعمال کا جائزہ نہیں۔ 
یہی وہ سب سے بڑی غفلت ہے کہ کثرتِ اعمال کے باوجود نتیجہ ظاہر نہیں ہو رہا اور اس نتیجے کے حصول کے لیے اجتماعیت قائم کرنا، نظم و ضبط قائم کرنا، تنظیم بنانا، سیاسی شعور پیدا کرنا، معاشی اقدامات کرنا، افکار و خیالات کو منظم کرنا، دین کی افہام و تفہیم اس نقطہ نظر سے کرنا ہماری سوسائٹی سے نکل گیا۔ اس غفلت کے ماحول کا نتیجہ ہے کہ ہم ذلت اور رسوائی میں ہیں۔ دوسروں کے تابع ہیں۔ سیاسی اور معاشی حوالے سے دریوزہ گری کرتے ہیں۔ کوئی اجتماعی طاقت نہیں بناتے کہ رسول اللہؐ کی اتھارٹی قائم کرکے خود بھی چین اور امن سے رہیں اور انسانیت کے لیے بھی چین اور امن کا راستہ متعین کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسالت اور نبوت کا صحیح مقصد سمجھنے اور اس کے مطابق کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)‘‘ 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ