عبدالرحمن الداخل - یورپ میں آزاد اُمَوی ریاست کے بانی  (1)

عبدالرحمن الداخل - یورپ میں آزاد اُمَوی ریاست کے بانی  (1)

یورپ میں آزاد اُمَوی ریاست کے بانی

جب مشرق میں بنواُمیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور بنوعباس برسرِ اقتدار آئے تو بنواُمیہ کے ایک نامور فرزند عبدالرحمن بن معاویہ بن ہشام نے اَندلُس میں مستقل حکومت قائم کی۔ اس سے پہلے اَندلُس  کے اکثر علاقے طارق بن زیادہ اور موسیٰ بن نصیر کے ہاتھوں فتح ہوچکے تھے۔ بنوعباس حکمران ہوئے تو انھوں نے بنواُمیہ کے چنیدہ افراد کی پکڑدھکڑ شروع کردی۔ اس دوران عبدالرحمن الداخل چھپتے چھپاتے دریائے دجلہ کو تیر کر پار کرتے ہوئے پہلے فلسطین پہنچے او رپھر وہاں سے افریقا کا رُخ کیا۔ افریقا میں خلافتِ بنواُمیہ کے زمانے کے گورنر عبدالرحمن بن حبیب الفہری تھے، جنھوں نے عبدالرحمن الداخل کو اپنے ہاں پناہ دی۔

ادھر اُموی خلافت کے سقوط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عبدالرحمن بن حبیب الفہری نے افریقا پر اپنی حکمرانی کو خودمختار بنا لیا۔ عبدالرحمن الداخل کو اپنی حکمرانی کے لیے خطرہ سمجھنے لگا۔ الداخل کو بھی اس کا احساس ہوگیا تو انھوں نے اَندلُس میں داخل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ پہلے اس نے اپنے ایک اہل کار کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے اَندلُس بھیجا، جس کا نام بدر تھا۔ اس نے حالات کے سازگار ہونے کی اطلاع دی تو عبدالرحمن ربیع الثانی۱۳۸ھ / 755ء میں ابنائے جبل الطارق کو عبور کرتے ہوئے اَندلُس میں داخل ہوئے۔ (البدایہ و النہایہ، حافظ ابن کثیر، ص: 330)

اَندلُس میں اُموی دور کی شاہی افواج موجود تھیں۔ بربر قوم جو کہ عبدالرحمن کے ننہیال ہوتے ہیں، انھوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ عبدالرحمن الداخل نے شاہی افواج میں بھی اپنا اثر و رسوخ پیدا کرلیا،یہاں تک کہ انھوں نے عبدالرحمن الداخل کو اپنا کمانڈر بنا لیا۔ اَندلُس کے مشہو رشہر اشبیلیہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اَندلُس کا گورنر یوسف جو عبدالرحمن الفہری کا بیٹا تھا، وہ مقابلے پر آیا تو اس کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔۱۰؍ ذی الحجہ۱۳۸ھ / 756ء کو الداخل نے قرطبہ دارالحکومت بھی فتح کرلیا۔ اس طرح پورا اَندلُس  ان کی حکمرانی میں آگیا۔ اس طرح بنواُمیہ کی حکومت یورپ کے اہم ترین ساحلی علاقے اَندلُس پر قائم ہوئی۔ تقریباً 800 سال اَندلُس پر اُمویوں نے حکومت قائم رکھی۔

عبدالرحمن الداخل __ جن کو ’’صقرِ قریش‘‘ (قریش کا باز) کا خطاب دیا گیا،یہ خطاب بھی ان کے سیاسی مخالف عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور نے دیا تھا __ نے اَندلُس پر کامیاب حکمرانی کی۔ ملک کا انتظام نہایت خوبی سے چلایا۔ علم و فن کی سرپرستی کی۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے۔ قرطبہ کی مشہور مسجد کی اپنے ذاتی پیسے سے تعمیر کرائی۔۱۷۰ھ / 786ء میں مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی اور تعمیر پر تقریبا 900 ہزار دینار خرچ کیے۔ نمازوں کی امامت خود کرتے، خصوصاً نماز ِجنازہ خود پڑھاتے۔        (جاری ہے۔۔۔)

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف

استاذ الحدیث و الفقہ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور

متعلقہ مضامین
یورپ میں بنواُمیہ کی فتوحات اور علوم و فنون کی ترقی

تاریخ میں بنواُمیہ کا دورِ حکومت سیاسی اور دینی وحدت کے اعتبار سے سنہری اور فتوحات کا دور تھا۔ اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں موسیٰ بن نُصَیرافریقا کے گورنر تھے۔ طارق…

مفتی محمد اشرف عاطف جنوری 09, 2021

طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

طارق بن زیاد خلافت ِبنی اُمیہ کے مسلم جرنیل تھے۔ وادیٔ تافنہ الجزائر میں ۵۰ھ / 670ء میں پیدا ہوئے اور دمشق میں 720ء میں تقریباً پچاس سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا افریقا ک…

مفتی محمد اشرف عاطف فروری 17, 2021

طارق بن زیاد؛ فاتح اَندلُس  (2)

طارق بن زیاد کی قیادت میں جب اسلامی لشکر جبل الطارق پر اُترا تو اس کے آس پاس کے جزیرے اور شہر بآسانی زیرنگیں ہوگئے۔ طارق نے ان شہروں کی فصیلوں اور قلعوں کو درست کرایا۔ وہ…

مفتی محمد اشرف عاطف مارچ 14, 2021