مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 14؍ ربیع الاول 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء
بمقام: جامع مسجد قباء، مانسہرہ
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1- وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَؕ-وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا (17 –بنى اسرائيل:105)
ترجمہ : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر“ ۔
2۔ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔
ترجمہ: ”اس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا “ ۔ (48–الفتح:28)
حدیثِ نبویﷺ:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)
ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز خطاب
2:01 ماہِ ربیع الاول کو سیرتِ رسول اکرمﷺ سے خصوصی نسبت حاصل
3:23 اقوامِ عالم کا دستور؛ قومی رہنماؤں کی سیرت و کردار کی یاد کے لیے دن مختص کرنا
5:00 اطاعتِ رسولؐ ہی دنیا و آخرت میں بھلائی اور کامیابی کی ضامن!
6:33 سیرتِ نبی اکرمﷺ پر گفتگو کے آداب، مقاصد و اہداف اور عملی تقاضے
8:42 منصبِ رسالت کے فہم کے تناظر میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے شہنشاہ مطلق اور مالک الملک ہونے پر تفصیلی گفتگو
10:00 ’رسول‘ کا حقیقی مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؐ کی عالمگیر حکمرانی کا اعلان
11:38 کائنات کا حقیقی بادشاہ اور شہنشاہِ مطلق‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے
26:09 دنیا میں احکاماتِ الٰہیہ کے نفاذ کی اتھارٹی کے طور پر شہنشاہِ مطلق کی جانب سے انبیاءؑ کی بعثت
27:59 حضورؐ سے پہلے تمام انبیاء ایک مخصوص قوم، جغرافیے اور زمانے کے لیے مبعوث ہوئے
32:04 رسول محض ڈاکیا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کے نفاذ کے لیے قوت نافذہ بھی لے کر آتا ہے
33:04 قرآنِ حکیم؛ انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے برحق پیغام
33:53 قرآن حکیم میں انسانی سماج اور اجتماعیت کی بنیادی اقدار کی دستوری ہدایات
34:47 نبی اکرمؐ کی اتھارٹی (قوتِ نافذہ) کے دو اہم لوازمات‘ بشیر اور نذیر ہونے کا حقیقی مفہوم
39:20 نبی کی اتھارٹی کا پہلا تقاضا‘ حکومت و بادشاہت
42:46 دورِ غلامی کے تصورِ رسالت میں اتھارٹی کا انکار اور دین کی حکومت کا تصور مفقود ہو گیا
54:31 حضرت محمدؐ کے معلمِ انسانیت ہونے کا حقیقی مفہوم، ریاستِ مدینہ کی تشکیل کی اساسیات اور نظامِ عبادات کی روشنی میں حکومت، اتھارٹی اور نظام کے قیام کی اہمیت
59:17 نبی اکرمؐ کی کتابِ ہدایت قرآنِ حکیم کے ساتھ بعثت نیز کتابِ ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اتھارٹی اور نظام کی ضرورت
1:02:13 دینِ حق؛ رسول اللہ کی ہدایات پر مشتمل سسٹم کی توضیح و تشریح؛ انسانیت کو ہدایت یافتہ بنانے کے لیے حکومتی اتھارٹی قائم کرنے، ماحول بنانے اور مواقع بنانے کی ضرورت ہے
1:06:36 حضورؐ کی جانب سے راستوں کو روکنے کی ممانعت نیز ’السلام علیکم‘ کا حقیقی تقاضا‘ لوگوں کو امن، مالی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی ہے
1:12:54 دینِ اسلام کے معاشی نظام میں دھوکہ دہی کی ممانعت نیز حضرت امام ابو حنیفہؒ کا معاشی لین دین میں دیانت و سچائی کا مشہور واقعہ
1:17:31 سیرتِ نبویؐ کا لازمی تقاضا‘ دینِ اسلام کے اجتماعی نظام کا قیام ہے
1:21:34 خلفائے راشدین کا دینِ اسلام کے استحکام، حکومتی رٹ قائم کرنے، ظالمانہ نظام کے خاتمے اور عادلانہ نظام کے قیام کےلیے بے لاگ کردار
1:26:19 خلافتِ بنو امیہ کے دور میں بلوچستان سے اٹک تک اور بنو عباس کے دورِ خلافت میں لاہور تک فتوحات
1:28:43 اولیاء اللہ کے نزدیک ظلم کی سیاست کی نفی اور دینِ اسلام کی سیاست کی ضرورت اور اہمیت
1:30:15 مولانا الیاس دہلویؒ کا شریعت، طریقت اور سیاست کی جامعیت پر مبنی تصورِ دین
1:32:19 یہودی اور عیسائی اپنے دین میں سود کی ممانعت کے باوجود سود خوری کرتے ہیں کیونکہ وہ انبیاء کو اتھارٹی نہیں مانتے
1:33:03 رسول اللہﷺ کے حکمران (اتھارٹی) ہونے کی حیثیت سے عادلانہ حکومت کے قیام کی ناگزیریت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا

