رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور

تفصیل

رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ

خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 07؍ ربیع الاول ۱۴۴۸ھ / 21؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبویہﷺ:
آیتِ قرآنی:
وَ مَا اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21 –الانبیاء:107)
ترجمہ : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر“ ۔
احادیثِ نبویہﷺ:
1۔ ”إنما أنا رحمة مهداة“. (تفسير ابن كثير :5/ 388)
ترجمہ: ” بے شک میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے لیے) سراپا رحمت اور انہیں سیدھا راستہ دیکھنے ولا ہوں“۔
2۔ ”قال: والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون، إني رحمة بعثني الله ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه، لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب“. (كنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال :11/ 464)
ترجمہ: ”نبی اکرمﷺنے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کو ضرور قتل کروں گا، اور انہیں ضرور سولی پر لٹکاؤں گا، اور میں انہیں ضرور ہدایت دوں گا خواہ وہ اسے ناپسند ہی کریں۔ بیشک میں سراپا رحمت ہوں، اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا جب تک اللہ اپنے دین کو غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، اور احمد ہوں، اور میں 'ماحی' (مٹانے والا) ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹا دے گا، اور میں 'حاشر' (اکٹھا کرنے والا) ہوں، میرے قدموں میں لوگوں کو (قیامت کے دن) اکٹھا کیا جائے گا، اور میں 'عاقب' (سب کے آخر میں آنے والا) ہوں۔"
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ماہِ ربیع الاول کی اہمیت
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے پانچ موطن (نشأتیں)
✔️ آپؐ‘ وجہِ تخلیقِ کائنات، رحمتِ عالم اور نورِ ہدایت
✔️ نبی اکرمؐ کی ذاتِ قدسی‘ نورِ عرش سے ارضی فرش تک تمام مخلوقات کے لیے سراپا رحمت
✔️ آپؐ کا انسانیت کو ظالموں اور طاغوتی قوتوں سے نجات دلانا‘ ’’رحمة للعالمین‘‘ ہونے کے منافی نہیں!
✔️ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر کی روشنی میں ’’رحمة للعالمین‘‘ کا درست معنی و مفہوم
✔️ رحمت کے تین دائروں؛ رحمتِ عقلی، قلبی اور طبعی کی وضاحت اور احادیث سے استدلال
✔️ رسول اللہؐ کی تین عالمگیر حیثیتیں؛ بادشاہِ عالَم، متبحّر عالم (قانون ساز) اور مرشدِ عالم
✔️ نبی اکرمؐ کی رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے جامع حکمتِ عملی کا مطالعہ
✔️ آپؐ کی ریاستِ مدینہ اور حکمرانی کی حکمتِ عملی کی صدائے بازگشت‘ دار الندوہ میں ابوجہل کی زبانی
✔️ ابوجہل کی خوفزدگی کی حالت میں پلاننگ کی اطلاع کے موقع پر آپؐ کا سیاسی غلبے کے اظہار اور رحمت و شفقت پر مبنی ارشادات
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور سیرتِ مقدسہ کا بنیادی ہدف و مقصد
✔️ ’رحمة للعالمین‘ کے عامیانہ و انتہاء پسندانہ تصورات اور منفی اثرات‘ دورِ غلامی کا شاخسانہ
✔️ سیرتِ النبیؐ کا سب سے اہم تقاضا؛ انسانی سماج کی حالتِ مرض اور حالتِ صحت کا جائزہ لے کر رحمت کے نظام کا قیام
✔️ دورِ غلامی کا المیہ؛ آپؐ کی سیرت کے اہم پہلو‘ بادشاہِ عالم، رحمتِ سیاست اور طاغوت کے خلاف جدوجہد کا مطالعہ مفقود و عنقاء
✔️ آپؐ کی جانوروں پر رحمت و شفقت سے ظالموں اور انسانیت دشمنوں کے لیے رحم دل ہونے کا استدلال درست نہیں!
✔️ انسانیت دشمن طاقت سے مقابلہ اور مزاحمتی شعور بھی رحم دلی ہے
✔️ عدم تشدد کے پہلے بنیادی نکتے کی سیرت النبیؐ کی روشنی میں وضاحت؛ ظالم کے خلاف نظریہ مزاحمت کی اساس پر مستقل و مستحکم جدوجہد
✔️ عدم تشدد کا دوسرا مرحلہ؛ نظریے کی اساس پر نظم و ضبط، جماعت سازی اور اجتماعیت کا قیام
✔️ رحمة للعالمین کا تقاضا‘ سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر دینِ اسلام کو باطل ادیان پر غالب کرنا
✔️ رحمة للعالمین کے مظاہر سے مسلمہ امت کی پہلو تہی
✔️ عصری تقاضا؛ رحمت للعالمین کا درست فہم اورانسانی سماج کی تعمیر نو کے لیے شعوری مزاحمت اور جدوجہد کی ناگزیریت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا

پلے لسٹس
خطباتِ
وقت اندراج
اگست 22, 2026