فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 23؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 07؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48)
ترجمہ:۔ ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز خطاب
1:17 اجتماعیت‘ انسانی سماج کے لیے ناگزیر نیز قرآن حکیم کا انسانی سماج کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ایک مربوط نظامِ حیات
2:50 تعلق مع اللہ کی اساس پر انسانی سماج کے لیے صالح نظام کی ضرورت اور اہمیت
3:55 امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دین اسلام کے دو بڑے مقاصد: تہذیبِ نفس اور انسانی سوسائٹی کی سیاست
5:01 تہذیبِ اخلاق اور نظام المدینہ کے تناظر میں انسانی معاملات اور تعلقات کو درست خطوط پر نظام استوار کرنا ضروری
7:41 نظام کی حقیقت و ماہیت نیز سیاست کا مفہوم دائرہ کار؛ ریاستی نظام کی صحت اور مرض کی حالت کا جائزہ
11:09 سیاسةُ الفرس، سیاسةُ الجسم، سیاسةُ النفس اور سیاسةُ المنزل کے تناظر میں سیاست کے بنیادی مقصد و ہدف کی وضاحت
15:11 سیاسةُ المدینہ؛ مملکت کے نظام اور سیاست سے بحث کرنا‘ قرآنِ حکیم کا اہم ترین موضوع
17:55 خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود (اصحابِ حِجر) کے قومی نظام کے فساد اور اس کے نتیجے میں نازل ہونے والے عذاب کی وجوہات
20:50 قرآنی اصطلاح ’مدینہ‘ کی توضیح و تشریح؛ مستقل تہذیب وتمدن اور سیاسی و معاشی شناخت رکھنے والی ریاست
22:31 قومِ ثمود کی نو بڑی مؤثر شخصیات اور ان کا فسادی کردار
23:53 قرآنی اصطلاحات کی تشریح؛ ’رھط‘ کا مفہوم اور حضرت سندھیؒ کی تشریح کی روشنی میں ’الارض‘سے مراد‘ ریاست و مملکت
28:17 قومِ ثمود کی لیڈر شپ کے قائم کردہ معاشی و سیاسی نظام کی خرابیاں
30:14 سسٹم چلانے والی قوتوں کا مکر و فریب اور انسانیت دشمنی کے فسادی کردار کا اگلا شاخسانہ؛ (نعوذباللہ) حضرت صالحؑ کے قتل کا منصوبہ
36:32 حضورؐ کو درپیش قومی چیلنجز اور حضرت صالحؑ کو درپیش قومی چیلنجز میں مماثلت
37:36 تیسرا بڑا فساد؛ قومِ ثمود کا پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرنے کا مطالبہ
39:16 اونٹنی‘ دراصل ریاستی جرائم، مظالم اور قوم کے گناہوں کی تہہ در تہہ (compact) کی مجسم شکل میں قومِ ثمود پر اللہ کا عذاب بن کر ظاہر ہوئی
41:50 آج حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی طرح کرپٹو کرنسی اور آرٹیفیشل انٹیلجنس‘ قوم کے وسائل کھا رہی ہے
43:27 معجزے کا مطالبہ، اس کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کفر اور انکار پر قائم رہنا‘ معجزے کو فنا کرنے کے درپے اور عذابِ الہی میں گرفتار
45:05 اونٹنی کو قتل کرنے کے نتیجے میں پتھروں اور لینڈ سلائیڈنگ کا درد ناک عذاب
46:09 قران حکیم اور نبوی تعلیمات کا موضوع مملکت کا سیاسی نظام نیز دور کے سیاسی معاملات پر عقل و شعور کا حصول دینِ اسلام کا ایمانی تقاضا
47:16 قصص القرآن سے حاصل کردہ عبرت کے تناظر میں ’اصلاح فی الارض‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت سے مقصود موجود نظام پر بحث
49:36 نظام کی وضاحت نیز ہر نظام اپنے بنانے والی قوتوں کے فکر و نظریے کا عملی اظہار ہوتا ہے
55:47 مسلمان ایک فرد سے لے کر بین الاقوامی دائرے کا نظام‘ ملتِ مصطفویہ کے بیانیے کی اساس پر قائم کرتا ہے
1:01:07 بالائی نظام‘ ذیلی نظاموں پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے انسانی جسم کا مرکزی نظام اور اس کے ذیلی نظام
1:02:32 رسول اللہؐ نے مسلمانوں کو ایک جسم (ریاستی تمدّن کی شناخت) کی مانند قرار دیا ہے
1:04:25 امام شاہ ولی اللہؒ نے مختلف ملتوں کی اساس پر چاروں ارتفاقات کے چاروں دائروں کے نظام پر گفتگو کی ہے
1:06:28 ملتِ حنیفیہ کی اساس پر رسول اللہؐ کے چاروں ارتفاقات سے متعلق جامع احکامات اور عملی کردار
1:07:37 دین اسلام کے غلبے کے دور میں ملت حنیفیہ (قرآن و سنت) کی اساس پر ایک ہزار سال تک خیر پر مبنی ارتفاقاتِ اربعہ کا نظام قائم رہا
1:09:36 اجتماعی معاملات میں غور و فکر اور تدبیر کے خیر ہونے کی تین اساسیات: انسانی معروفات، صدقات، اصلاح بین الناس نیز اس کے متضاد شرّ کی تین بنیادیں
1:12:47 گزشتہ تین سو سال سے خیر کے بجائے فساد اور شرّ کی بنیاد پر غلامی کا بیوروکریٹک اور عدالتی نظام مسلط
1:16:38 صالح معیاری نظام کے چار رہنما اصول؛ آزادی، عدل، امن اور معاشی خوشحالی
1:18:30 نظام کی خرابی لیکن آئین کے درست ہونے کے داخلی تضاد کا جائزہ
1:31:44 درست نظام کے چار خط و خال نیز اغیار کے غلامانہ تعلیمی نظام، غیر ملکی زبان اور توہم پرستی مقننہ و عدلیہ وانتظامیہ کے فرد اور نظام پر اثرات
1:41:31 نئے انتظامی یونٹس (ضلعوں اور صوبوں) کی تشکیل جغرافیائی، سماجی اور فطری اصولوں کی بنیاد پراختیارات و ذمہ داریوں کا واضح تعین ضروری ہے
1:44:03 نئے نظام کے قیام کے لیے اپنے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہے
1:45:19 حقیقت پسندی کی اساس پر collapse نظام کا شعوری جائزہ اور نئے نظام کے قیام کے لیے ملتِ مصطفویہ کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہے
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا


