خُطباتِ خلافت
بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ
خُطبہ 79:
فصل ہفتم: خلافتِ راشدہ کی حقانیت کے عقلی دلائل
نکتۂ پنجم کی تکمیل:
شریعت، طریقت اور سیاست میں
خلفائے نبی ﷺ کی اہم خصوصیات کا تحقیقی مطالعہ
خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ: 25؍ رمضان المبارک 1446ھ / 26؍ مارچ 2025ء
بوقت: ڈھائی بجے دوپہر
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ فصلِ ہفتم کے سابقہ دروس سے ربط اور جامع خلاصہ
✔️ تشبہ بالنبیؐ کا معنی؛ نبیؐ اورغیر نبیؐ کے اوصاف وملکات میں فرق کی توضیح
✔️ نبیؐ کا خلیفہ اوصافِ پیغمبرؐ میں کچھ درجہ کم ہوتا ہے، نیز نبی معصوم اور خلیفہ محفوظ ہوتا ہے
✔️ اُمورِ سیاست و حکومت میں کار فرما دواعی
✔️ نبی اکرمﷺ اور آپؐ کے خلفاؓ کے اقدامات کے پیچھے داعیۂ اِلٰہیہ کارفرما
✔️ اللہ تعالیٰ کائناتِ کون ومکان کے سیاست دان
✔️ ہر دور کے داعیۂ اِلٰہیہ اور شان کے مطابق دینی و سیاسی جدوجہد کا تاریخی جائزہ؛ حضور ﷺ سے ولی اللّٰہی جماعت کا تاریخی تسلسل
✔️ سیاست وحکومت میں خلیفۂ خاص کی سات اہم خصوصیات:
1۔ پہلی خصوصیت: ہوش مندی اور فرد شناسی
2۔ دوسری خصوصیت: درست رائے کے مطابق صحیح فیصلہ سازی کا ملکہ
✔️ فیصلہ سازی میں سستی و کاہلی اور عجلت پسندی کے نتائج اور ابوجعفر منصور عباسی کا واقعہ
✔️ اہم امور کے وقت بروقت سیاسی فیصلوں کے لیے فراستِ المعیہ (انتہا درجے کی ذہانت) کی ضرورت واہمیت
✔️ خلافت میں فراستِ المعیہ پیدا کرنے کے لیے اہم ترین چیز صحبت ہے
3۔ تیسری خصوصیت: بخت و نصیبہ بہت اونچا ہو، فردوسی کے قصے سے وضاحت
✔️ بخت کی تشریح، اونچے درجے کے بخت کے حامل حکمران
✔️ بخت معلوم کرنے کا طریقہ اور اس کا صحیح وقت
✔️ نجومیوں کا بخت معلوم کرنے کا طریقہ درست نہیں ہے
4۔ چوتھی خصوصیت؛ شجاعت، نیز بہادری کے غیر متوازن رویے
5۔ پانچویں خصوصیت: حلم و بردباری
6۔ چھٹی خصوصیت: حکمت و دانائی، نیز غفلت اور منتشر طبیعت‘ حکمت کی متحمل نہیں ہوتی
7۔ ساتویں خصوصیت: عدالت
✔️ حبریت (علمی رسوخ) سے متعلق خلیفہ کی خصوصیات: 1۔ کتاب و سنت کا عالم ہو،2۔ اہلِ فہم ہو، 3۔ حکم کی حکمت و مصلحت جاننے والا ہو، 4۔ فقہ اور قانونی نظام کا عالم اور مجتہد منتسب ہو، 5۔ تعلیم وتربیت کا نظم ونسق بنانے والا ہو، 6۔ علومِ نبوت میں تحریفات کا دروازہ بند کرنے والا ہو
✔️ ملتِ محمدیہؐ میں حبر (علمی رسوخ رکھنے) کا معیار‘ میانہ روی ہے، نہ کہ باریک بینی اور تعمُّقات کا حامل
✔️ طریقت اور مرشدِ خلائق کے طور پر خلیفہ کی خصوصیات
✔️ جبلی ساخت کے مطابق فطرتِ انسانیت کو نکھارنے والا‘ مرشد کہلاتا ہے
✔️ خلیفۂ رسولؐ میں ارشادِ اُمت کے لیے قصدِ اعمال اور راہِ اعتدال کی ناگزیریت
✔️ تصوف اور حقائقِ کائنات کی اَبحاث سلوک و احسان کے راستے کی رکاوٹ
✔️ علم التصوف اور علم السلوک والاحسان دو الگ الگ علم ہیں
✔️ صفتِ احسان کا مقصد؛ انسان کی قوتِ عاملہ کی تہذیب کرنا ہے
✔️ خلفاؓ پر برکاتِ الٰہی کے نزول کا اہم ترین سبب‘ سبقتِ اسلام اور ہجرت ہے
✔️ حدیث میں نفحاتِ رب تبارک وتعالی کے تناظر میں برکات کے نزول کی لاجواب بحث
✔️ اجنبیتِ دین کے زمانے میں تعاونِ دین، موافق ماحول میں تعاون سے فائق و برترہے
✔️ سابقین اوّلین مؤمنین مہاجرین کی افضلیت کا ایک منفرد پہلو
✔️ صحابہؓ میں طبقاتِ فضیلت سمجھنے سے ظاہر بین کوسوں دور
✔️ نبوت اور خلافتِ نبوت سے مقصود‘ محض خاص جماعت کی تہذیبِ نہیں، بلکہ کل عالم کی تہذیب مراد ہے
✔️ مرضیٰ عالم کی صحت کے لیے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا کردار‘ امورِ تکونیات میں سے ہے
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا