رسالتِ نبوی ﷺ کی حقانیت پر مبنی بعثت

گزشتہ آیات (-2 البقرہ: 117-116) میں یہود و نصاریٰ کے اہلِ علم لوگوں کے غلط عقیدے کا ردّ تھا کہ وہ اپنے انبیا علیہم السلام کو ’’بدیع‘‘ (نئے طریقے سے پیدا ہونے کی وجہ سے) اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے، حال آں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام آسمانوں اور زمینوں کو بدیع طریقے سے ہی پیدا کیا ہے۔ وہ جو قضا اور فیصلہ جاری کرتا ہے، اس کے مطابق عمل ہوتا ہے۔ اسی قضا کے تحت اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔
ان آیات (-2 البقرہ: 119-118) میں بت پرست لوگوں اور اہلِ کتاب میں سے جاہلوںکی بے سر و پا باتوں اور مطالبات کا ردّ کیا جا رہا ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو ایسے لوگوں کو نظر انداز کرنے اور اپنی بعثت کے اصل مقاصد کو پیش نظر رکھنے کا کہا جا رہا ہے۔
﴿وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ﴾
(اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے: کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ؟ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی آیت؟ ) : علم سے ناآشنا جاہل لوگوں کے یہ دو مطالبے کہ ایک انسان کو رسول بنانے کے بجائے براہِ راست اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ گفتگو کیوں نہیں کرتا؟ یا رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کے لیے ہمارے پاس کوئی عجیب و غریب نشانی کیوں نہیں بھیجتا؟ یہ دونوں مطالبات سراسر غلط ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا اُن کے اندر یہ استعداد اور صلاحیت ہے کہ وہ براہِ راست اللہ تبارک و تعالیٰ سے مکالمہ کرسکتے ہیں؟ یا انسان میں یہ استعداد ہے کہ وہ تجلی کی صورت میں نازل ہونے والی کسی نشانی کو برداشت کرسکے؟ کائنات کے عالمگیر نظام کا علم نہ رکھنے والے جاہل لوگ اس طرح کے مطالبے کرتے ہیں، کائنات کا حقیقی طور پر مطالعہ رکھنے والے اہلِ علم اس طرح کی بات نہیں کرسکتے۔ ایسی گفتگو سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ علم و شعور کے ساتھ اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔
﴿كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ﴾ اسی طرح کہہ چکے ہیں وہ لوگ جو اِن سے پہلے تھے اِنھیں کی سی بات، ایک سے ہیں دل ان کے ): ایسی جہالت کی باتیں ان سے پہلے بھی گزشتہ قوموں کے لوگ کرچکے ہیں۔ انھوں نے بھی اسی طرح کے مطالبات اپنے دور کے انبیا علیہم السلام کی تعلیمات سے روگردانی کرکے کیے ہیں۔ ایسی جاہلانہ باتیں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ علم سے دوری اور جہالت میں ان سب لوگوں کے دل ایک دوسرے سے پوری مشابہت رکھتے ہیں۔
﴿قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴾ (بے شک ہم نے بیان کردیں نشانیاں ان لوگوں کے واسطے جو یقین لاتے ہیں):جہاں تک یہ جاہل لوگ نشانی مانگتے ہیں تو ہم نے نبی اکرم ﷺ کے برحق ہونے کی واضح نشانیاں بیان کردی ہیں۔ اور وہ قوم جو ذہنی اور قلبی عقل و شعور کے ساتھ یقینی علم تک رسائی حاصل کرنے کی استعداد اور صلاحیت رکھتی ہے، انھوں نے ان نشانیوں کو مانتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی رسالت کو برحق تسلیم کرلیا ہے۔ وہ ایمان و یقین کی دولت سے مشرف ہوچکے ہیں۔ اور جو لوگ اس کے باوجود ضد اور عناد پر اڑے ہوئے ہیں، اُن کے انکار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ﴾ بے شک ہم نے تجھ کو بھیجا ہے سچا دین دے کر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا): سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ آپؐ کو ’’دینِ حق‘‘ پر مبنی فکر و عمل اور ’’بشیر‘‘ (خوش خبری سنانے والا) اور ’’نذیر‘‘ (ڈرانے والا) بنا کر بھیجا ہے۔ کسی قوم کی ترقی کے پروگرام کی حقانیت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ دینِ حق کی اَساس پر صحیح فکر و عمل کے ساتھ اپنی سوسائٹی اُستوار کرتے ہیں، لوگوں کو اللہ کے ساتھ صدقِ دل سے جوڑتے ہیں، انسانی معاشروں کے اجتماعی مسائل حل کرتے ہیں، انھیں امن و عدل اور خوش حالی فراہم کرتے ہیں، ان کے لیے اللہ کے پیغمبر دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت سنانے والے ہیں، یعنی ’’بشیر‘‘ ہیں۔
جس قوم میں بددینی کی اَساس پر غلط فکر و عمل رواج پذیر ہوجائے، اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ واحد کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے، اس کے بھیجے ہوئے سچے نبی کو ماننے کے بجائے اُن کی رسالت کا انکار کیا جائے، سوسائٹی میں اجتماعی مفاد کے بجائے انفرادی مفاد کے اَسیر لوگ حکمران بن جائیں، امن کے بجائے خوف، عدل کے بجائے ظلم اور معاشی خوش حالی کے بجائے بھوک و افلاس اور مسکنت طاری ہوجائے تو ایسے ظالم حکمرانوں اور قوموں کے لیے اللہ کے پیغمبر کی بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرائے، دنیا کی ذلت اور رُسوائی اور آخرت کی تباہی سے آگاہ کرے۔ حقانیت پر مبنی ’’دینِ حق‘‘ لے کر اور ’’بشیر‘‘ و ’’نذیر‘‘ بن کر آنے والے نبی کی ان نشانیوں سے بڑھ کر اَور کیا نشانی ہوگی۔ عجائبات و غرائبات کی صورت میں نشانی مانگنا جہالت کی علامت ہے۔ انسانی اجتماعیت اور سوسائٹی سے متعلق علم و شعور رکھنے والے ایسی نشانیوں کا مطالبہ نہیں کرتے، بلکہ پورے یقین کے ساتھ فلاحِ انسانیت کا کام کرتے ہیں۔
﴿وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ ﴾ اور تجھ سے پوچھ نہیں دوزخ میں رہنے والوں کی) : جو یہود و نصاریٰ اور جاہل لوگ آپ ﷺ سے دشمنی، عناد اور جہالت کی وجہ سے آپؐ کی دعوت قبول نہیں کر رہے، آپ ﷺ سے ان کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے مسلمان ان سے بحث مباحثے میں نہ پڑیں۔ ایسے لوگ جہنم کے سخت عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ وہ دنیا میں بھی سزا یاب ہوں گے اور آخرت میں بھی دوزخ کے سخت عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ ایسے معاند لوگوں کو تکلف کے ساتھ دین حق کی دعوت دینے اور اپنی توانائیاں اس سلسلے میں خرچ کرنے سے بسا اوقات ان کی خرابیوں کی ظلمتیں اور خرابیاں عام مسلمانوں میں سرایت کرسکتی ہیں اور یہودیوں کے جھوٹے سچے دعوؤں سے عام مسلمان متأثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کو معاندین کو دعوت دینے سے روک دیا گیا۔ اس کا مزید ایک سبب اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ دشمنی کی ایسی حد پر جاچکے ہیں کہ وہ اپنے غلط فکر و نظریے کو قبول کیے بغیر آپؐ سے راضی نہیں گے۔
بعثتِ نبویﷺ اور حسنِ خلق

عَنْ مَالِکؒ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ قَالَ:
’’بُعِثْتُ لأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلاَق‘‘۔ (المُوَطّأ، حدیث: 1628)
)امام مالکؒ بیان کرتے ہیں کہ: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’مجھے اچھے اَخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیاگیا ہے‘‘۔(
نبی اکرمﷺ کے مقاصدِ نبوت میں سے ایک اہم مقصد؛ اَخلاق کی خوبی کو واضح کرنا تھا۔ اَخلاق ’’خُلق‘‘ کی جمع ہے۔ خُلق انسان کا وہ ملکہ ہے، جو مسلسل اچھے یا بُرے اعمال کرنے کے نتیجے میں انسان میں پیدا ہوتا ہے۔ اچھے اعمال کے نتیجے میں اچھے اَخلاق اور بُرے اعمال کے نتیجے میں بُرے اَخلاق۔ اَخلاقِ حسنہ (اچھے اَخلاق) اور اَخلاقِ رذِیلہ (بُرے اخلاق) کی تقسیم اسی بنا پر ہے۔ نبی اکرمﷺ کی اوّلین ذمہ داری کل انسانیت کی تربیت تھی۔ اس تناظر میں حضور ﷺ نے عربوں کے لیے خصوصیت سے اور بالعموم تمام انسانیت کے لیے یہ بات کی ہے۔ عرب خود کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیروکار کہتے تھے۔ اس نسبت سے بعض ابراہیمی اَخلاق ان میں رائج تھے، مثلاً مہمان نوازی، عہد کی پاسداری اور جرأت و بہادری وغیرہ، لیکن ان میں کچھ اَخلاق غلط بھی رواج پاگئے تھے۔ اس بنا پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مجھے اَخلاق کی خوبی کو ٹھیک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
رسول اللہﷺ انسانی اوصاف میں ممتاز تھے۔ آپؐ کا مزاج مبارک اپنی مثال آپ تھا۔ اسی وَجہ سے آپؐ کے بارے میں کہا گیا: ’’وانک لعلی خلق عظیم‘‘ (آپؐ اَخلاق کے اونچے مقام پر فائز ہیں)۔ آپؐ کے اَخلاق اور رویے مخلوقِ خدا کے لیے باعثِ اطمینان، ان کی آسانی، راحت، عزت اور ترقی کا باعث بنتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ عمومی اَخلاق میں تو منفرد تھے ہی، مگر دوسروں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے اپنے مخاطب کی نفسیات اور مقام و مرتبے کا خاص خیال رکھتے تھے۔ کسی کے لیے بھی عموماً اور بالخصوص صاحبِ منصب آدمی کے بارے کوئی ایسا جملہ نہیں بولتے تھے، جس سے وہ اپنی بے عزتی اور ذلت محسوس کرے۔ رسول اللہﷺ لوگوں کے سماجی اور خاندانی مناصب ومراتب کا خیال رکھتے تھے۔ اس لیے ایک موقع پر فرمایا: ’’انزلوا النّاس منازلھم‘‘ ( رواہ ابودائود) کہ لوگوں کے ساتھ ان کے مقام اور مرتبے کے مطابق سلوک کرو۔ اس حسنِ خلق کی وَجہ سے ہر صحابی ؓاس بات کا شدت سے احساس رکھتا تھا کہ حضور ﷺ اس کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ یہ اُمور انسان کے اَخلاق کو بھی سنوارتے ہیں اور لوگوں میں معتبر بھی کرتے ہیں۔ کسی انسان کی عزت کا لحاظ کرنا یا مایوس انسان کو حوصلہ دینا بہت بڑا خُلق ہے اور یہ حضور ﷺ کا نمایاں وصف تھا۔ اسی پسِ منظر میں آپؐ نے سماجی زندگی میں ایک عظیم انقلاب برپا کردیا۔
حضرت ولید بن عقبہ بن ابی معیط اُموی قرشی رضی اللہ عنہٗ

حضرت ولید بن عقبہ بن ابی معیط اُموی قرشی رضی اللہ عنہٗ حضرت عثمان بن عفان کے اَخیافی (ماں شریک) بھائی ہیں، حضور اکرم ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے ہیں، گویا ان کے بھانجے ہیں۔ حضرت ولیدؓ نے نوجوانی میں فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور عظیم ماحول میں تربیت و ترقی حاصل کی۔ آپؓ قریش میں کریم النفس، ظریف الطبع، حلیم، بہادر، ادیب اور پسندیدہ شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ اپنی ذاتی و طبعی لیاقت پر کئی اوصاف کے مالک تھے۔ آپؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ وحضرت عمرفاروقؓ کے دورِ خلافت میں اہم ذمہ دار اور معتمد لوگوں میں سے ایک تھے ۔
حضرت ولیدؓ نے عہد صدیقی میں۱۲ھ (633ء) میں ہونے والے ’’معرکہ مذار‘‘ میں جنگی حالات کے متعلق خفیہ خطوط پہنچانے کی ذمہ داری نبھائی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے ایک لشکر کے قائد عیاض کی مدد کے لیے آپؓ کو بھیجا۔۱۳ھ میں بنو قضاعہ کے صدقات کی وصولی پر مامور ہوئے۔ بہ حیثیت کمانڈر مشرقی اُردن کی طرف گئے۔
پھر دور فاروقی میں۱۵ھ میں بلاد بنو تغلب اور جزیرۃ العرب کے امیر مقرر ہوئے۔ اپنی امارت کے دور سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس علاقے میں جہادی اور دعوتی سرگرمیوں کے ذریعے یہاں کی اقوام سے مکالمے کا حکیمانہ طریقہ اختیار کر کے انھیں قبولِ اسلام پر آمادہ کر لیا۔ عہدِ عثمانی میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو ولایتِ کوفہ سے معزول کرکے حضرت ولیدؓ کو آپؓ کی تابناک ماضی اور عسکری و انتظامی صلاحیتوں اور خدمات کی وجہ سے کوفہ کا گورنر بنایا گیا۔ آپؓ ہر دل عزیز، نرمی برتنے والے گورنر تھے۔ گورنری کا 5 سالہ دور گزارا اور کبھی ان کے دروازے پر دربان مقرر نہیں ہوا۔ ہر کسی کو بلا روک ٹوک اندر آنے کی اجازت تھی۔ آپؓ کی معزولی پر لونڈیوں نے ماتم کیا کہ ولیدؓ لونڈیوں، غلاموں میں بھی اَموال تقسیم کرتے تھے۔ دورِ عثمانی کی فتوحات میں آپؓ کا اہم کردار رہا۔
آذربائیجان اور ’’رے‘‘ کے علاقے حضرت ولیدؓ نے دوبارہ فتح کیے اوریہ کوفہ کے زیر انتظام رہے۔ امام شعبیؒ کے سامنے کسی نے مَسلَمَہ بن عبد الملک کی جنگی کامیابیوں کا ذکر کیا تو امام شعبیؒ نے کہا: کاش تم ولیدؓ کی امارت اور غزوات دیکھ لیتے۔ وہ جب تک گورنر رہے نہایت کامیابی سے جہاد کرتے رہے۔ وہ کبھی کمزور نہ پڑے اور نہ کسی نے ان کے خلاف بغاوت کی جرأت کی۔ آپؓ پر کوفہ کی سازشی قوت نے شراب پینے کا جھوٹا الزام لگایا اور اس پر آپؓ کے خلاف جھوٹی گواہی دی، جس پر آپؓ کو شراب کی حد لگائی گئی اور معزول کردیا گیا، جب کہ آپؓ نے قسم اُٹھا کر انکار کیا اور اصل صورتِ حال سے آگاہ بھی کیا۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: ’’ہم حدودُ اللہ کا نفاذ کریں گے اور جھوٹی گواہی دینے والا اپنے جرم کی پاداش میں جہنم میں جائے گا، لہٰذا میرے بھائی صبر کرو!‘‘۔ حضرت ولیدؓ نے شہادتِ عثمانؓ کے بعد جزیرے کے علاقے رقہ میں اپنی زرعی زمین پر زندگی بسر کی جوکہ دورِ فاروقی میں فتح ہوئی تھی۔۶۱ھ میں اسی جگہ آپؓ نے وفات پائی۔ (اسد الغابہ، طبری، الاصابہ )
پاکستان کی داغ داغ سیاست

77سال قبل جب پاکستان کی ریاست وجود میں آئی تو تقسیم کی لکیر کے اس پار سے جوق در جوق لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے یہاں پہنچے، لیکن گزشتہ ستتر سالہ حوادث و واقعات نے ان کی آنکھیں کھول دیں کہ یہ پاکستان ان کے خوابوں کی ہرگز تعبیر نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک جو قوتیں نظام پر مسلط ہیں، وہ مسلسل آج بھی اسلامی نظام، جمہوریت، روٹی کپڑا، مکان اور انصاف کے خواب قوم کو بیچتی رہتی ہیں، لیکن قومی زندگی کے پے درپے واقعات اب اس فریب کا پردہ چاک کر چکے ہیں، لیکن یہاں کی ’’سیاسی قوتیں‘‘ اور ان کے نمائندے اب بھی اپنے ڈگر سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ قوم کو اس فریب خوردگی کے نت نئے حربوں کا پے در پے شکار رکھنا چاہتی ہیں، جس میں آج تک قوم مبتلا ہے۔
اگر ہم گہرے شعور سے اس بات کا جائزہ لینا چاہیں کہ یہاں موجود سیاسی گروہوں کا نظریہ، اساسِ فکر اور منتہائے مقصود کیا ہے؟ جس پر وہ اس ملک کی ترقی کی دیوار چننا چاہتے ہیں تو ہمیں آسمانِ سیاست کا مطلع ابر سیاہ سے آلودہ نظر آتا ہے، کیوں کہ یہاں موجود جملہ قوتوں کا آخری مقصد‘ اقتدار کے ذریعے ذاتی مفادات اور مالی منفعت کے سوا کچھ نہیں اور ان کی اس خواہش نے میدانِ سیاست اور منظرِ ریاست کو اتنا گدلا کردیا ہے کہ کوئی سمجھ دار انسان اس میدان میں قدم رکھنے کو گناہِ کبیرہ سے کم تصور نہیں کرتا۔
سیاست و حکمرانی کی اس رَوِش نے ملک کے پورے نظام کو تہہ و بالا اور تمام قومی اداروں کے مزاجوں کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ بدعہدی، وعدہ شکنی، کرپشن، قانون شکنی اور فریقانہ جانب داری کا ’’ارذلی‘‘ نمونہ بن چکی ہے۔ یہاں کسی نظریے کی سچائی کے بجائے قوت و استبداد کی اَساس پر فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی آئینی ادارے کا فیصلہ پسند نہ آئے یا اس پر عمل درآمد میں فریقانہ پاسداری متأثر ہوتی ہو تو اپنے من پسند عزائم کے تحت وجود میں لائی گئی پارلیمنٹ سے اس فیصلے کے محرک قانون ہی کو بدل دیا جاتا ہے اور اس کو مؤثر بہ ماضی قرار دے کر دنیائے قانون کو حیرت زدہ کردیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری موجودہ سیاست کے بگاڑ کی بنیاد 1947ء ہی میں رکھی گئی تھی جس نے اس وقت کی استعماری اسٹیبلشمنٹ کی شہہ پر موجود سیاست پر قابض خاندانوں کے آباؤ اجداد اور سیاسی مدر پارٹی نے قومی سیاست کے چہرے کو داغ دار کیا تھا، جس کی پرچھائیاں آج کے سیاسی چہرے پر مزید نمایاں ہیں۔ گویا منافقت، بے اصولی اور قول و فعل کا تضاد اور عہدوپیماں سے گریز کی رَوِش اسی دور کی پیداوار ہے۔ اس دور ہی میں ہماری سیاسی شطرنج کا ایک ایسا چوکھٹا تیار کرلیا گیا تھا کہ جو اس کے اندر سما جائے اسے نظام قبول کرلیتا ہے اور جو نامناسب بیٹھے اسے فنا کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے۔ آج تک ہماری سیاست میں یہی طریقہ رائج ہے، جس کی پاسداری پاکستانی سیاست کے سبھی فریق کررہے ہیں۔ وہ جہاں کہیں بھی کھڑے ہوں، اسی استعماری سیاست کے چوکھٹے کے کونے کھدرے ہیں، اس سے باہر کوئی نہیں۔
چناں چہ وطنِ عزیز پاکستان کے قیام پر پون صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے، مگر اس ملک کے ناگفتہ بہ اجتماعی حالات اسی استعماری سیاست کے چوکھٹے میں موجود کرداروں _ سیاسی و مذہبی قیادتوں اور سول و ملٹری بیوروکریسی _ کی کارستانیوں کا منہ بولتا نمونہ ہیں، جن کے ہاں صالح قومی فکر اور سیاسی بصیرت کا ہمیشہ فقدان رہاہے، جس کی وجہ سے ہماری قومی سیاست ہمیشہ وقتی جذبات و ہیجانات کی اسیر رہی، جس میں نتائج وعواقب پر نظر رکھنے کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور انتقامی کارروائیوں نے قوم کوبے نتیجہ سیاست کی بادیہ پیمائی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی ملک کا صحت مند اجتماعی سیاسی کلچر نئے عہد کے سیاسی تقاضوں سے نبردآزما ہونے کے لیے بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ آج ہمارے گردوپیش دنیا کی قومیں آزادی کا ایک دور گزارنے کے بعد اپنے نئے سیاسی تقاضوں سے نمٹنے کے لیے اپنی نئی سیاسی نسل کی تربیت کرچکی ہیں، لیکن جہاں سامراجی نظام کے شکنجے کو اسی قوم کی پُرانی سیاسی قیادت رنگ و روغن فراہم کرے، وہاں اسی پُرانے سیاسی ڈھانچے کے مطابق ذہنی، اَخلاقی اور سیاسی سانچہ تیار ہوتا ہے، جس میں مستقبل کی آلۂ کار سیاسی لیڈرشب پُرانے گملوں میں سینچی جاتی ہے۔ اس ملک کی ابتدائی سیاسی قیادت نے اپنے سانچے سے تیار شدہ سیاست کے جاگیرداروں اور مارشل لاؤں کے ذریعے زرداروں اور شریفوں کو جنم دیا۔ اگر کوئی بڑی تبدیلی نہ آئی تو خدا نخواستہ قوم ان کی ’’سیاست‘‘ کی تباہ کن قیمت چکائے گی۔ موجودہ نظام اپنے مخصوص سانچے میں ڈھلے ِسکے ّہی بازارِ سیاست میں چلاتا ہے، اپنے ٹیکسال میں ڈھلے پُرزوں کو اقتدار کے لیے خود ساختہ سیڑھیاں فراہم کرتا ہے اور قومی حقیقی سیاسی سوچ پر پہرے بٹھا دینے کو قانون کی بالادستی قرار دیتا ہے۔ ہمارے سیاسی تاریخی تسلسل کا یہی نچوڑ اور خلاصہ ہے۔
آج ہماری نئی نسل کو اس پر یکسو ہونا ہوگا کہ وہ اس سیاسی ڈھانچے سے باہر رہتے ہوئے اپنے آزاد قومی سوچ کے پودے کو تن آور درخت بنانے پر کمربستہ ہو، کیوں کہ آج حقیقی آزادی سے ہم کنار قوموں نے اسی راستے سے گزر کر ہی اپنی حقیقی آزادی کے تن آور درختوں سے قومی باغ لگائے ہیں۔ پھر انھیں اپنے خون پسینے سے سینج کر باغات کے عظیم سلسلے میں بدل کر ترقی کی شاہراہ آراستہ کرچکے ہیں اور آزاد اقوام آج اس کے سائے میں آسودگی کے ساتھ آگے بڑھتی جارہی ہیں۔ اسی تجربے میں ہی ہماری قومی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ (مدیر)
End of issue
Back
