رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
عن انس رضی اللہ عنہ، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین۔ (رواہ البخاری)
ترجمہ: ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (پورا) مؤمن نہیں ہوگا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہوجاؤں۔‘‘
محبت کا لغوی معنی امام راغب کے بقول کسی چیز کو اپنے حق میں بہتر جان کر حاصل کرنے کا ارادہ کرنا ہے، محبت کی کئی اقسام ہیں:
(۱) محبت ِطبعی: یعنی محبت کا منشا انسانی طبیعت ہو، یہ محبت غیراختیاری ہوتی ہے، جیسے والدین کی اولاد سے محبت۔
(۲) محبت ِاحسانی: کہ جس سے محبت کا منشا محسن کا احسان ہونا ہے۔
(۳) محبت ِجمالی: یعنی محبت کا منشا حسن و جمال ہو، خواہ سیرت کا حسن ہو یا صورت کا یا آواز کا۔
(۴) محبت ِکمالی: کہ محبت کا منشا کمالات ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے صاحب ِکمال محبوب بن جاتا ہے۔
(۵) محبت ِعقلی: جس میں محبت کا منشا عقلی ہوتا ہے، جیسے مریض کے لیے آپریشن کا عمل، گو طبعاً ناگوار ہے، لیکن سبب ِشفا ہونے کی وجہ سے عقل اسے پسند کرتی ہے۔
دائرۂ اسلام میں آنے کے لیے بنیادی طور پر مقصودِ ایمانی، عقلی محبت ہے، کہ ہر مسلمان یہ جان کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرے کہ چونکہ اس پر اللہ تعالیٰ کی محبت لازم ہے اور اس کی محبت کے لیے ضروری ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کی اتباع کی جائے، ساتھ ہی محبت احسانی کا تقاضا ہے کہ آپ کے انسانیت پر احسانات کو مستحضر رکھا جائے کہ آپ ہی کی وجہ سے معاشرہ دینِ فطرت اور فلاحِ ابدی کی منزل سے روشناس ہوا۔
نیز محبت ِکمالی کا منشا یہ ہے کہ آپؐ کے کمالات کو بھی پیش نظر رکھا جائے، بلکہ ہر مسلمان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اس حد تک ترقی دینی چاہیے کہ اس پر والدین اور اولاد سمیت تمام طبعی محبتیں قربان ہوجائیں، اس درجے کی محبت ہی کی ترغیب اِس حدیث میں دی گئی ہے، اور جب تک محبت کا یہ مقام نہ ہو تو وہ ناقص ہے۔ اعلیٰ اور کامل محبت کا اندازہ تاریخ میں لکھے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بے شمار واقعات سے لگایا جاسکتا ہے، مثلاً اس صحابیہ خاتون کا واقعہ جس کا بیٹا، باپ اور شوہر راہِ حق میں شہید ہوگئے، لیکن وہ اس کے باوجود آپ کی خیریت جاننے کے لیے بے تاب تھی اور آپ کی خیریت معلوم کر کے ہی اس کا اضطراب دور ہوا، اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر آپؐ کے وضو کے پانی کے حصول کے لیے صحابہؓ کی بے تابی اور چاہت کو دیکھ کر مشرکین مکہ بھی اس بات کے قائل ہوگئے کہ حضوؐر کی جماعت کو آپ سے کس قدر محبت اور عشق ہے۔
علاوہ ازیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت آپ کے اوصافِ ہدایت کے علاوہ آپ کی ذاتِ اقدس کی وجہ سے بھی ہونی چاہیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف بشری کمالات کے جامع ہیں بلکہ آپ کا ہر کمال اپنے آخری درجے تک پہنچا ہوا ہے، آپ کی سیرتِ مبارکہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح سامنے آجاتی کہ جو کمالات گزشتہ انبیا کرام علیہم السلام کو علاحدہ علاحدہ دیے گئے، وہ تمام کے تمام اکٹھے اور ساتھ ہی اپنے انتہائی اور فائق مقام کے ساتھ آپ کو عطا کیے گئے اور آپؐ کو جو مخصوص کمالات عطا کیے گئے ہیں وہ الگ سے ہیں.
حوالہ : ماہنامہ رحیمیہ لاہور ، مارچ 2010ء
End of issue
Back
