

خاتم النبیین ﷺ اور حق کی ابدی جدوجہد
27؍ مارچ 2026ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! دینِ اسلام‘ انسانیت کی ہدایت، فلاح اور بقا کا مکمل نظام پیش کرتا ہے، جس کا اصل سرچشمہ قرآن حکیم، فرامینِ نبوی ﷺ اور اسلامی خلافت و معاشرتی نظام ہے۔ جب تک اسلامی خلافتیں اور مسلم حکومتیں قائم رہیں، انسانیت کے بنیادی اصول؛ عدل، اخلاق اور اجتماعی بھلائی کا نظام بھی دنیا میں قائم رہا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے 23 سالہ دورِ نبوت میں اور خلفائے راشدین نے اپنے دورِ خلافت میں اسلام کے عملی نظام کو نافذ کرکے انسانیت کے لیے ایک مثالی معاشرہ قائم کیا، جسے بعد کے ادوار میں بھی مختلف اسلامی خلافتوں نے برقرار رکھا۔
انسانی معاشرے ہمیشہ کمزوریوں اور اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ جیسے انسان جسمانی بیماریوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا، اسی طرح معاشروں میں بھی اخلاقی اور سماجی خرابیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن جب یہ خرابیاں حد سے بڑھ کر مستقل اور خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انسانیت کی اصلاح کے لیے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتا ہے۔ تاریخ انسانیت میں انبیاء علیہم السلام نے ایسے ہی ادوار میں انسانیت کی رہنمائی کی، جب ظلم، فساد اور گمراہی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔
سابقہ انبیا مخصوص قوموں کی طرف بھیجے گئے تھے، لیکن نبی اکرم ﷺ پوری انسانیت کے لیے مبعوث ہوئے۔ آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا، لیکن انسانیت کی اصلاح اور حق کی حفاظت کا عمل ختم نہیں ہوا۔ خاتم النبیین کا مطلب بھی یہی ہے کہنبی اکرم ﷺ کی اتباع میں ایک سچی جماعت، طائفہ منصورہ، حق پر قائم ایک جماعت، جو انبیاء کے طرز پر انسانیت کی بقا کے لیے کردار ادا کرتی رہے گی۔ حدیثِ نبوی ﷺ ’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ (علما‘ انبیا کے وارث ہیں) کا مفہوم بھی یہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے متبع علمائے ربانیین، اہل اللہ، انبیاء علیہم السلام کی وراثت کے حامل، جامع شریعت و طریقت و سیاست اولیاء اللہ‘ اپنی اپنی اقوام میں انسانیت کی بقا کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ ہر فرعون کے مقابلے میں ایک موسیٰ پیدا ہوتا رہے گا، ایک جالوت کے مقابلے میں داؤد اور سلیمان پیدا ہوتے رہیں گے، نمرود کے مقابلے پر ابراہیم پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس طرح انبیا علیہم السلام کی وراثت -علمائے ربانیین- کا سلسلہ قیامت تک برقرار رہے گا۔ دنیا میں مزاحمت، جدوجہد اور حق و باطل کا مقابلہ انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ اگر ظالم قوتوں کے مقابلے میں مزاحمتی قوتیں موجود نہ ہوں تو عبادت گاہیں، انسانی اقدار اور دینی تعلیمات سب مٹ جائیں۔ اس لیے جو جماعت یا قوم ظلم و فساد کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، وہ درحقیقت انبیا علیہم السلام کی جدوجہد کی نمائندہ ہوتی ہے‘‘۔
ہر طرح کے فساد کا آغاز‘ معاہدات شکنی سے ہوتا ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ریاستیں اور انسانی معاشرے ہمیشہ معاہدات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ ان معاہدات کو نقصان پہنچانے والے ہمیشہ پستی اور ذلت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ’’جو عہد اللّٰہ(اللہ کے عہد) کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں، اور ملک میں فساد کرتے ہیں، وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘ (-2 البقرہ: 27)۔ مدینہ منورہ میں نبی اکرم کی آمد سے پہلے بھی ایک سماجی و ریاستی ڈھانچہ موجود تھا، جس میں یہودی قبائل، اوس و خزرج اور قریش اپنی خاندانی و سماجی روایات کے مطابق ریاستی معاملات چلاتے تھے۔ ’’عہد اللّٰہ‘‘ دراصل وہ معاہدات ہیں جو انسان‘ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کرتے ہیں۔ تاریخ میں معاہدات ہمیشہ خدا کے نام پر کیے جاتے رہے، جیسے ’’حِلْفُ الفُضول‘‘ اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘۔ میثاقِ مدینہ میں انسانی جان، مال، عزت اور اجتماعی دفاع کے اصول طے کیے گئے تھے۔ قرآن کہتا ہے کہ جو لوگ ان معاہدات کی توثیق کے بعد انہیں توڑتے ہیں، وہ دراصل انسانیت کے اجتماعی نظام کو تباہ کرتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے فرمایا کہ وہ ان رشتوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس آیت کے ذیل میں خاندانی، قومی، ریاستی اور بین الاقوامی تعلقات سب شامل ہیں۔
ہر طرح کے فساد کا آغاز معاہدات توڑنے اور انسانی رشتے ختم کرنے سے ہوتا ہے۔ قرآن نے فساد کی دو بنیادی شکلیں بیان کی ہیں: قومی وسائل کو تباہ کرنا اور نسل انسانی کو ہلاک کرنا۔ (2 - البقرہ: 205) جو لوگ ظلم، تکبر اور طاقت کے نشے میں معاہدات کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہی فرعونیت، نمرودیت اور منافقت کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ قرآن نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا: ’’یہی لوگ حقیقی خسارے میں ہیں‘‘، کیوں کہ انسانیت کا زندہ ضمیر‘ ظلم اور فساد کو کبھی قبول نہیں کرتا۔
جب بھی دنیا میں فساد پھیلتا ہے تو اس کے مقابلے میں مزاحمتی قوتیں ضرور پیدا ہوتی ہیں۔ اگر پوری انسانیت ظلم کے سامنے خاموش ہو جائے تو دنیا کی تباہی یقینی ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ انسانیت کی بقا کا انتظام فرماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی طاقتیں، جو اپنے آپ کو ناقابل شکست سمجھتی تھیں، وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوگئیں، جب کہ اسلام کی اجتماعی قوت ایک ہزار سال تک انسانیت کی بقا کی جدوجہد کرتی رہی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانی حقوق، ریاستوں کی حدود اور عالمی معاہدات طے کیے گئے۔ لیکن انہی معاہدات کی خلاف ورزی بڑی طاقتوں نے کی، جنہوں نے فلسطین، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک کے حقوق پامال کیے۔ یہ ’’نقضِ عہد‘‘ (عہد توڑنا) اور ’’فساد فی الأرض‘‘ (زمیں میں فساد) کی جدید شکل ہے، جہاں طاقت ور ممالک عالمی معاہدات کی توثیق کے باوجود کمزور قوموں کے حقوق سلب کرتے ہیں‘‘۔
رافضیت کا اصل مفہوم اور عالمی طاقتوں کا فساد فی الارض
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
سورۃ البقرہ کی آیت ’’ینقضون إلخ‘‘ میں ’’نقض‘‘ سے مراد بنیادی قانون، معاہدے اور ضابطے کی ضد ہے۔ جیسے انسان اور لاانسان ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ جب کہ ’’رِفض‘‘ یہ ہے کہ معاہدہ موجود ہو، اس کو مانا بھی جائے، لیکن پھر کسی حیلے بہانے سے اس کو چھوڑ دیا جائے اور اپنی من مانی تشریح اور توجیہ کی جائے۔ انسانی سوسائٹی میں جب نقضِ عہد یا رفضِ عہد پیدا ہوتا ہے تو یہی فساد کی سب سے بڑی جڑ بنتا ہے۔ اجتماعیت کو بظاہر تسلیم کرنا مگر اس کے بنیادی اصولوں کو توڑ دینا ہی رفض ہے۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی اجتماعیت، جماعتِ صحابہ اور خلافت کی شکل میں قائم اجتماعی نظام کو بہ ظاہر مانا جائے، مگر من پسند بنیادوں پر کچھ چیزوں کو چھوڑ دیا جائے اور کچھ کو اختیار کیا جائے تو یہ ’’رفض‘‘ کہلاتا ہے۔ حضرت امام زید بن علی زین العابدینؒ نے ’’رِفْض‘‘ کا لفظ سب سے پہلے ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جو جماعتِ صحابہ کی اجتماعیت کو توڑتے تھے، اور اسی سے ’’رافضی‘‘ کی اصطلاح مشہور ہوئی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رافضیت صرف مذہبی مسئلہ ہی نہیں، بلکہ اس کا اصل تعلق سیاسیات سے ہے۔ جو کسی معاہدے، نظام یا اجتماعیت کو مان کر پھر اس کے خلاف کام کرے، وہ سیاسی رافضی ہے۔ اسی تناظر میں مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے ان تحریکوں کو’’رافضی‘‘ کہا جو خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سامراجی مفادات کے لیے کام کر رہی تھیں۔ یمن، نجد اور خلیج فارس میں برطانوی مفادات کے لیے چلنے والی تحریکوں کو اس لیے مولانا سندھیؒ نے ’’چھوٹا رافضی‘‘ فرمایا، کیوں کہ وہ بہ ظاہر خلافت کا انکار نہیں کرتی تھیں، مگر اندر سے اس کے خلاف سازشوں میں شریک تھیں۔ برطانیہ کے نمائندوں؛ مصر میں میکموہن، بصرہ میں کرنل لارنس اور کویت میں پرسی کاکس کے ذریعے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف تحریکیں چلائی گئیں اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو توڑا گیا۔
آج اقوام متحدہ کے معاہدات پر 193 ممالک کے دستخط موجود ہیں اور ہر ملک کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے، مگر ان معاہدات کی خلاف ورزی کرنے والے اصل رافضی امریکا، اسرائیل اور ان کے حامی ہیں، جنھوں نے اقوامِ متحدہ کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کے بہت سے معاہدات کو روند ڈالا ہے۔ جب کہ ایران نے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ اپنی قومی آزادی کی جنگ لڑی۔ اسرائیل یا امریکی بیسز پر حملوں میں بھی پہلے اطلاع دی جاتی ہے تاکہ انسانیت کا نقصان نہ ہو۔ اس کے برعکس امریکا اور اسرائیل ایسے بے شرم رافضی ہیں، جو معاہدات توڑتے، قوموں کے منتخب نمائندوں کو حراست میں لیتے اور ملکوں کو سپریم لیڈروں کو قتل کرتے ہیں اور دنیا بھر میں فساد فی الارض پھیلاتے ہیں۔ جب کہ ایران نے آئینی اور دستوری حقوق کے تحفظ کے ذریعے اپنی قوت پیدا کی اور امریکا کی بدمعاشی کا چالیس سال سے مقابلہ کیا اور آج بھی کر رہا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں اصل میں ’بڑا رافضی‘ کون ہے۔
مزاحمت، اجتماعیت اور دجالی فتنوں کا شعور
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے مظلوم اقوام اور افراد کو ظلم کے خلاف مزاحمت، مقابلہ اور جدوجہد کا حق عطا کیا ہے۔ (42 - الشوریٰ: 41) مؤمن اپنی جان اور مال کے بدلے جنت کا سودا کرتا ہے، جب کہ کچھ لوگ دین اور اصولوں کو بیچ کر دنیاوی مفادات حاصل کرتے ہیں، جو دراصل خسارے کا سودا ہے۔ اس کی مثال آج کی دنیا میں وہ طاقتیں ہیں، جو اپنے تحفظ کے لیے بڑی عالمی قوتوں پر انحصار کرتی تھیں، ان کی کمزوری آشکار ہو چکی ہے اور ان کے مقابل مزاحمت کی نئی تحریکیں اجتماعیت کی بنیاد پر ابھر رہی ہیں۔
آج مسلمانوں کو انفرادیت، بزدلی اور محض زبانی مخالفت کے بجائے اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ انبیاء علیہم السلام کے وارثین کا کام یہ ہے کہ وہ حق و باطل کی پہچان کرائیں اور انسانیت کی بنیاد پر مزاحمت کی تاریخ کو زندہ رکھیں۔ اسی اصول کے تحت یہ دیکھا جائے گا کہ عہد شکنی، ظلم اور زمین میں فساد کون پھیلا رہا ہے۔ طاقت ور ممالک کمزور اقوام کے حقوق کس سفاکیت کے ساتھ پامال کرتے ہیں، جب کہ اپنے مفادات کے لیے الگ اصول اختیار کرتے ہیں۔
آج ہمیں سوچنا ہے کہ ہماری رائے، ہمارا شعور، ہمارے گرد و پیش کے بنیادی حقائق کا فہم، دین کی تعلیمات کے اساس پر ہیں یا دجل و فریب سے آلودہ ہو چکے ہیں۔ دجالی آرا کی آلودگی سے اپنے آپ کو بچانا اور دین کے بنیادی اساسی اصولوں کو انسانیت کی بنیاد پر اپنے سینے سے لگانا، یہ ایک مسلمان کی سچی علامت ہے۔ کوئی شیطان، کوئی دجال اس کو ختم نہیں کر سکتا اور یہ بات بالکل درست ہے۔ زیادہ سے زیادہ کسی دجال کا آخری کام ہوتا ہے مؤمن کو شہید کر دینا۔ شہید مؤمن وہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں تھا تو اس کا لباس دنیاوی تھا، شہادت کے بعد اس پر عالم برزخ کا لباس ہوتا ہے، جنت کا لباس ہوتا ہے۔ اس کا لباس بدلتا ہے، روح تو وہی ہے۔ یہی آخرت پر یقین کی پختگی ہے۔ دجال یہ تمھارے جسم کو فنا کر سکتا ہے، اس کی بنیاد پر بزدلی اور آلہ کاری کا پیدا ہونا، درست بات نہیں ہے۔
ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ استقامت کے ساتھ قرآن کی تعلیمات کے ساتھ وابستہ ہو، نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو حرزِ جان بنائے، آپؐ کے لائے ہوئے نظام کو آخری، حتمی، یقینی تسلیم کرے، اور دنیا کے سرمایہ دار نظام، دنیا کے انسانیت دشمن، فسادی نظام سے برأت کا اعلان کرے۔ ہمارے دلوں پر بزدلی اور خوف پیدا کر کے سرمایہ دار نظام کا رعب پیدا کیا جاتا ہے، ایک مؤمن اس رعب کو اپنے دل سے نکال دے۔ گویا شعور اور استقامت کے ساتھ دین کے سسٹم پر قائم رہنا، یہ مسلمان کی شان ہے، اس کی شناخت ہے، اس کی عزت ہے، اس کا وقار ہے، اس کی ترقی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!
Tags

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri
Spiritual Mentor of Khanqah Aalia Rahimia Qadiria Azizia Raipur
Chief Administrator Rahimia Institute of Quranic Sciences
Related Articles
اَحبار و رُہبان کی دین فروشی اور فاسد کردار
12؍ اگست 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: ’’معزز…
اسلام کی تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد
14؍ جنوری 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز دوستو! دی…
مؤمنانہ فراست کا تقاضا
عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …
بداَخلاقی اور گناہوں کو چھوڑنے کا عظیم اَجر
بداَخلاقی اور گناہوں کو چھوڑنے کا عظیم اَجرعَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْھُمَا، عَنِ النَّبِیِّﷺ، قَالَ؛ ’’الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہٖ وَ یَدِہٖ، وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ‘‘۔ …
