سلطان محمد فاتح: ایک مثالی حکمران

Mufti Muhammad Ashraf Atif
Mufti Muhammad Ashraf Atif
Jun 05, 2026 - Unforgettable
سلطان محمد فاتح: ایک مثالی حکمران


سلطان محمد فاتح: ایک مثالی حکمران

سلطان محمد فاتح کی قابلیت کے جوہر‘ رزم و بزم دونوں میدانوں میں نمایاں تھے۔ وہ نہ صرف عظیم فاتح تھے، بلکہ علم و ادب کے بھی رمز شناس وسرپرست تھے۔ انھوں نے اپنے دور کے بہترین اساتذہ سے انتہائی سرعت کے ساتھ علم حاصل کیا۔ وہ اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی، فارسی، عبرانی، لاطینی اور یونانی زبانوں پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ تاریخ و جغرافیے سے بھی پوری واقفیت تھی۔ وہ خود شاعر تھے اور شعر و سخن کے سرپرست تھے۔ ان کے دربار سے وابستہ شعرا کو گراں قدر وظائف ملتے تھے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے صوفی شاعر خواجہ جہاں اور ایران کے مولانا جامی کی خدمت میں بھی گراں قدر وظائف و تحائف بھجوائے جاتے تھے۔

سلطان محمد فاتح چوں کہ خود بھی علوم میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے، اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ ایک بڑی سلطنت کے قیام اور استحکام کے لیے جہاں عزم و ہمت، حکمت و دانائی اور فوجی قابلیت کی ضرورت ہے، وہاں تعلیم و تعلم کی اس سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ چناں چہ انھوں نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مدارس و مکاتب قائم کیے۔ ان کے اجداد میں ’’اَدَرخان‘‘ کو اسکولوں اور کالجوں کے قائم کرنے کا بڑا شوق تھا، لیکن سلطان محمد فاتح اس معاملے میں ان سب سے بڑھ گئے۔ انھوں نے اس کام کے لیے ایک شعبہ ’’سلسلۂ علما‘‘ کے نام سے قائم کیا، جس میں سلطنت کے مفتیوں اور قاضیوں (ججوں) کی تعلیم و تربیت کا نہایت عمدگی کے ساتھ اہتمام کیا گیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ عدالتوں کا نظم و نسق درست رکھنے کے لیے اور قاضیوں اور مفتیوں کی عزت و احترام کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم و دیانت سے آراستہ ہوں اور معاشی پریشانیوں اور وسوسوں سے محفوظ کر دیے جائیں۔

ان مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انھوں نے جو تعلیمی نظام مرتب کیا، وہ معقولات ومنقولات کے علاوہ سیاسی اہمیت کا حامل بھی تھا۔ مولانا شبلی نعمانی اپنی کتاب ’’مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:’’سلطان محمد فاتح نے جو تعلیمی نظام بنایا، وہ پولیٹیکل حیثیت رکھتا تھا۔ وہ سلطنت کے لیے لائق و فائق رجالِ کار تیار کرتا‘‘۔ چناں چہ سلطان محمد فاتح نے ہر قصبے اور دیہات میں حسبِ ضرورت مکاتب قائم کیے۔ اس کے علاوہ شہروں میں اونچے درجے کے مدارس (کالج) بھی قائم کیے اور ان کے ساتھ جائیدادیں بھی وقف کیں، تاکہ اخراجات میں وہ خود کفیل ہوں۔ ان مدارس میں تقریباً دس مضامین کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔ ان میں صرف، نحو، منطق، مابعد الطبیعیات (سائنس)، لسانیات، بلاغت، طرزِ تحریر (ہینڈ رائٹنگ)، اقلیدس (ریاضی و جیومیٹری) اور فلکیات‘ یہ سب مضامین پڑھائے جاتے۔ طلبا اِن علوم میں پوری مہارت حاصل کرتے، جو موجودہ دور کی یونیورسٹی کی ایم اے کے برابر ہوتی، لیکن علما کی جماعت کا رُکن بننے کے لیے ان علوم کے علاوہ قرآن و حدیث اور خصوصاً فقہ اور اصولِ فقہ کا نصاب مکمل کرنا ہوتا تھا۔ ان علوم کو حاصل کرنے والے ماہرین کو سلطنت کے اہم مناصب پر فائز کیا جاتا۔ مدارس اور کالجز کے مدرسین و اساتذہ بھی انھی ماہرین میں سے لیے جاتے۔

’’تاریخ ترکانِ عثمانی‘‘ کا برطانوی مصنف ایڈورڈ کریسی - جس کی تحقیق‘ قدیم تاریخی ماخذوں پر مبنی ہے - لکھتا ہے کہ: ’’عثمانیوں کے شرف و افتخار کا یہ واقعہ بھی ضبطِ تحریر میں لانا چاہیے کہ ان میں مدرسین اور ان تمام اشخاص کا احترام -جو خود علمی فضیلت میں ممتاز ہوں، یا اس کے حاصل کرنے والوں کی رہنمائی کا خاص ملکہ رکھتے ہوں -ہر عیسائی قوم سے زیادہ کیا جاتا ہے‘‘۔ (جلد اول، ص:172)

اس کے علاوہ اس کا ایک اہم ترین کارنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے سلطنت کا آئین مرتب کیا۔ اس کا‘ آئین کا خالق ہونا بھی اس کو دوسرے عثمانی سلاطین سے ممتاز کرتا ہے۔ اس آئین میں اس نے سلطنت کو ایک خیمے سے تشبیہ دی ہے، جو چار ستونوں پر قائم ہے اور وہ چار ستون یہ ہیں؛ انتظامیہ: یعنی وزیراعظم اور وزرائے سلطنت۔ سلطان کے زمانے میں وزرا کی تعداد صرف چار تھی۔ حکومت کی مہر بھی اس کے پاس ہوتی تھی۔ دوسرا ستون فوج کا محکمہ: اس شعبے کے بھی قواعد وضوابط مرتب کیے گئے۔ تیسرا ستون تعلیم: اسی کے ضمن میں عدل و انصاف کا محکمہ بھی تھا۔ اور چوتھا ستون: شعبۂ مالیات تھا۔ ان تمام شعبوں کی سلطان خود نگرانی کرتا۔ جہاں کہیں کوئی کمی بیشی ہوتی تو سلطان خود مواخذہ کرتا اور سزا دینے میں کوئی تامل نہ ہوتا، لیکن سلطنت کے باشندوں کا بلا تفریق مذہب و ملت اور رنگ و نسل ہر طرح سے خیال رکھا جاتا۔ ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی۔ آپ کا دَور رواداری اور برداشت کا دَور سمجھا جاتا تھا۔ بازنطینی -جو شکست کھا چکے تھے - کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ اسی طرح عثمانی سلطنت میں آباد مسیحی اور یہودی برادری کے ساتھ بھی مثالی سلوک کیا، جس کا یورپی مؤرخین بھی اعتراف کرتے ہیں۔ الغرض! سلطان محمد فاتح میں وہ تمام اوصاف اور خوبیاں موجود تھیں، جو ایک مثالی حکمران میں ہونی چاہئیں۔ع

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

Mufti Muhammad Ashraf Atif
Mufti Muhammad Ashraf Atif

مفتی محمد اشرف عاطف
جامعہ خیر المدارس ملتان سے فاضل، خلیفہ مجاز حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوریؒ  اور ماہر تعلیم ہیں۔ آپ کو حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ سے شرفِ بیعت حاصل ہے۔ آپ نے ایک عرصہ حضرت مولانا منظور احسن دہلویؒ کے دست راست کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ فرید ٹاؤن ساہیوال میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں۔ ساہیوال کے معروف دینی ادارے جامعہ رشیدیہ میں بطور صدر مفتی خدمات انجام دیں۔ 1974 کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں بھی بھرپور حصہ لیا ۔ تین دہائیوں تک سعودی عرب کے معروف تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ آج کل ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ٹرسٹ لاہور میں استاذ الحدیث و الفقہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ مجلہ رحیمیہ میں سلسلہ وار "تاریخ اسلام کی ناقابل فراموش شخصیات" کے تحت مسلم تاریخ سے متعلق ان کے وقیع مضامین تسلسل کے ساتھ شائع ہورہے ہیں۔

Related Articles

Hazrat Hakeem ibn Hizam al-Qurashi al-Asadi

Hazrat Hakeem ibn Hizam al-Qurashi al-Asadi, also known as Abu Khalid Maki, was deeply devoted to the Prophet Muhammad (peace be upon him). He embraced Islam during the…

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Jul 11, 2023

دینِ اسلام کی جامع تعلیمات

22؍ ستمبر 2023ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: ’’معزز…

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri Nov 14, 2023

حضرت عثمان بن طلحہ بن ابو طلحہ قریشی عبدری الحجبی رضی اللہ عنہٗ

​​حضرت عثمان بن طلحہ قریشی رضی اللہ عنہٗ بہت سی انسانی خوبیوں اور بہترین اَخلاق اور انسانیت کے مظہر لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔آپؓ بیت اللہ الحرام کے حاجب یعنی کلید برداری کے …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf May 08, 2025

امامِ انسانیت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوبؑ کی وصیت

گزشتہ آیات (-2 البقرہ: 131-130) میں ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ سے روگردانی کے حماقت پر مبنی بُرے نتائج سے آگاہ کیا گیا تھا۔ اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام …

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri May 09, 2025