طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف
فروری 17, 2021 - ناقابلِ فراموش
طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

طارق بن زیاد خلافت ِبنی اُمیہ کے مسلم جرنیل تھے۔ وادیٔ تافنہ الجزائر میں ۵۰ھ / 670ء میں پیدا ہوئے اور دمشق میں 720ء میں تقریباً پچاس سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا افریقا کی جرأت مند قوم بربر سے تعلق تھا۔ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں موسیٰ بن نُصَیر افریقا کے گورنر تھے۔ انھوں نے طارق بن زیاد کی جرأت و دلیری کا اندازہ کرتے ہوئے انھیں فوجی خدمات پر مامور کردیا۔ کچھ عرصے بعد انھیں طنجہ (مراکش) کا گورنر بھی بنا دیا۔ مراکش سے متصل سمندر کے اس پار یورپ کا مشہور ملک اندلس (ہسپانیہ / سپین) ہے۔ اندلس کے بادشاہوں سے تنگ آئی عوام کے مطالبے پر اندلس پر حملے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے لیے موسیٰ بن نُصَیر نے اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک سے باقاعدہ اجازت لی۔ اس اہم ترین مہم کی سپہ سالاری کے لیے موسیٰ نے طارق بن زیاد کی جرأت و بہادری اور سیاسی بصیرت کے پیش نظر ان کا انتخاب کیا۔ 
اندلس پر حملے کا فوری سبب: اندلس پر حملے کے اسباب میں جہاں عوام کو وہاں کے حکمرانوں کے ظلم و استبداد سے نجات دلانا مقصود تھا، وہاں ایک فوری سبب یہ ہوا کہ اندلس میں اس زمانے میں سلطنت کے اُمرا  و عمائدین اپنے بچوں کو آداب و تہذیب سیکھنے کے لیے شاہی محل میں بھیجا کرتے تھے۔ یہ بچے یرغمال کے طور پر بادشاہ کے قبضے میں رہتے تھے اور بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہی اپنے گھروں کو بھیج دیے جاتے تھے۔ شمالی افریقا میں جب طنجہ (مراکش) تک کا علاقہ اسلامی اقتدار میں شامل ہوگیا تو ادھر سمندر کے اس پار ساحلی علاقے سپین کے بادشاہ کے زیرکنٹرول تھے۔ ان علاقوں کا گورنر اندلس کے بادشاہ کی طرف سے کاؤنٹ جولین تھا۔ اندلس کی روایت کے مطابق جولین کی لڑکی لورنڈا اندلس کے نئے حکمران راڈرک کے شاہی محل میں تعلیم و تربیت اور شاہی آداب سیکھنے کے لیے رہتی تھی۔ راڈرک نے اس کی عزت پر حملہ کیا اور اس کے شیشۂ عصمت کو چور چور کردیا۔ اس سے ایسی چنگاری اٹھی، جس سے نہ صرف راڈرک کا تاج و تخت جل کر خاکستر ہوگیا، بلکہ ملک میں ایسا انقلاب آیا کہ اس ملک کی تاریخ ہی بدل گئی۔ اس لڑکی نے اس حادثے کی خبر اپنے والد کاؤنٹ جولین کو دی۔ وہ یہ شرم ناک واقعہ سن کر انتہائی غضب ناک ہوا۔ غیرت و حمیت اور جوشِ انتقام میں راڈرک کو تاجِ شاہی سے محروم کرنے کا پختہ عزم کرلیا۔ چناںچہ جولین نے شمالی افریقا کی اسلامی حکومت سے اندلس پر حملہ آور ہونے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ شمالی افریقا پر موسیٰ بن نُصَیر جیسا بیدار مغز حکمران فائز تھا۔ اور طنجہ (مراکش) کا والی طارق بن زیاد تھا۔ جولین نے ان سے مراسم پیدا کیے۔ اسلامی حکومت کی اطاعت کے عزم کا اظہار کیا اور اندلس کے حکمرانوں کے مظالم کی وجہ سے وہاں کی عوام کو نجات دلانے کے لیے اسلامی حکومت کی ہر طرح سے مدد کرنے کا وعدہ کیا۔ اس نے طارق بن زیاد کے ذریعے موسیٰ بن نُصَیر تک یہ پیغام پہنچایا۔موسیٰ نے اس صورتِ حال سے اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کو آگاہ کیا اور اندلس پر حملہ کرنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر سات ہزار مجاہدین پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا گیا اور اس کی سپہ سالاری کے لیے طارق بن زیاد کا انتخاب ہوا۔ اس لشکر میں اکثریت بربر قوم کے افراد کی تھی۔ تین سو عرب تھے، باقی سب بربر۔ اسلامی لشکر ۵؍ رجب ۹۲ھ 28؍ اپریل 711ء اندلس کے ایک پہاڑ پر اُترا، جو بعد میں اسلامی سپہ سالار طارق بن زیاد کے نام سے ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے منسوب ہوا۔ انگریزی میں اسے ’’جبرالٹر‘‘ کہتے ہیں۔ 
 

مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف

استاذ الحدیث و الفقہ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور

متعلقہ مضامین
یورپ میں بنواُمیہ کی فتوحات اور علوم و فنون کی ترقی

تاریخ میں بنواُمیہ کا دورِ حکومت سیاسی اور دینی وحدت کے اعتبار سے سنہری اور فتوحات کا دور تھا۔ اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں موسیٰ بن نُصَیرافریقا کے گورنر تھے۔ طارق…

مفتی محمد اشرف عاطف فروری 17, 2021

سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم

حضرت زینبؓ آںحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپؓ بعثتِ نبویؐ سے دس برس پہلے پیدا ہوئیں۔ اس وقت آپؐ کی عمر 30 برس تھی۔ آپؓ اوّلین مسلمان ہونے والوں میں سے تھیں۔ مشرکین مکہ کی…

مولانا قاضی محمد یوسف فروری 17, 2021

حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا

حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی دوسری صاحبزادی ہیں، جو۳۳ھ قبل نبوت میں پیدا ہوئیں۔ حضوؐر اکرمؐ کے زیرسایہ آپؓ کی تربیت اکسیرِ اعظم تھی، جو کمالاتِ حیات کا موجب بنی۔ پہ…

مولانا قاضی محمد یوسف فروری 17, 2021

طارق بن زیاد؛ فاتح اَندلُس  (2)

طارق بن زیاد کی قیادت میں جب اسلامی لشکر جبل الطارق پر اُترا تو اس کے آس پاس کے جزیرے اور شہر بآسانی زیرنگیں ہوگئے۔ طارق نے ان شہروں کی فصیلوں اور قلعوں کو درست کرایا۔ وہ…

مفتی محمد اشرف عاطف فروری 17, 2021