پاکستان میں غلبۂ دین کے عصری تقاضے

محمد عباس شاد
محمد عباس شاد
مارچ 14, 2021 - شذرات
پاکستان میں غلبۂ دین کے عصری تقاضے

ہم نے گزشتہ مہینے انھیں صفحات پر پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی جدوجہد کے تناظر میں دو اہم سوالوں کے جوابات کے ضمن میں دو انتہاؤں کا جائزہ لیاتھا کہ وہ کیوں کر غلط ہیں۔ آج ہمارے پیشِ نظر ایک تیسری انتہا ہے، جس میں پاکستان جیسے اکثریتی مسلمان ملک میں اپنی قومی و دینی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے اگر کوئی اپنی سماجی اور سیاسی جدوجہد کو دین کا عنوان دے دے تو اسے ایک جرم تصور کرلیا جاتا ہے ۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں غلبۂ دین کی جدوجہد از بس ہے تو اس پر ایک مخصوص حلقے کی طرف سے ایک طوفان بپا ہوجاتا ہے کہ یہ تھیوکریسی کی بات کی جارہی ہے، جو آج کے دور میں کسی بھی طرح روا نہیں رکھی جاسکتی۔ اس کی وجہ ہمارے ہاں مسلمہ دینی و سیاسی تصورات کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیاں ہیں۔ ان میں سے ایک غلط فہمی خود غلبہ دین کے تصور بارے پائی جاتی ہے۔ اس سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ شاید دین کے نام پر قائم کسی گروہ کی بالادستی کا نام غلبۂ دین ہے، حال آںکہ ایسا نہیں ہے۔ 
دینِ اسلام اللہ اور لوگوں‘ اور بندوں کے آپسی درست تعلقات کے تشریحی نظام کا نام ہے۔ انسانی زندگی مادے اور روح دو چیزوں سے مرکب ہے۔ اگر دین کی روح کو سامنے رکھا جائے تومذہب کا ایک پہلو انسان کی باطنی زندگی اور دوسرا اس کی خارجی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ جب تک ان دونوں پر کامل رہنمائی نہ موجود ہو تو انسانی معاشرے کامل ترقی سے محروم رہتے ہیں۔ آثارِ قدیمہ، علم الاخلاق اور جغرافیائی تحقیقات نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ قوموں کی جماعتی، قومی اور تہذیبی زندگی دین اور مذہب کی کسی نہ کسی شکل سے ہمیشہ وابستہ رہی ہے۔ دنیا کے جمہور انسانوں کے ہاں مذہب اور دین کو ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ لہٰذا ہمیں پہلے یہاں غلبۂ دین سے متعلق غلط فہمی دور کرلینی چاہیے کہ وہ معروف معنوں میں کوئی مذہبی حکومت (theocracy) نہیں ہے، بلکہ وہ اسلام کے اصولوں کے غلبے کا نام ہے۔ وہ انسانیت کے اجتماعی اَخلاق اور مسلمہ اقدار ہیں، جیسے عدل و انصاف، شورائیت، مساوات، اراکینِ حکومت کی جواب دہی اوراستصوابِ رائے وغیرہ۔ 
دینِ اسلام ظلم اور استحصال پر قائم اداروں اور نظاموں کو بدلنے کی بات کرتا ہے۔ قرآن حکیم نے ظلم پر قائم نظام اور اس کے محافظ انسانوں کے گروہ کو ’’طاغوت‘‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے، جس کا اطلاق ہر دور کے ظالم نظام پر ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں اس کے ہاں عقیدے کا اشتراک بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کے ہاں جنگ اور جدوجہد کا پیمانہ ظلم ہے، کیوں کہ ظلم اور شرک سے گروہتیں وجود میں آتی ہیں، جس سے معاشرے آگے بڑھنے کے بجائے جمود کا شکار ہوجاتے ہیں۔گویا مذہب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانیت کے ارتقا کے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔ خواہ وہ داخلی اَخلاقِ ذمیمہ کی شکل میں ہوں، یا خارجی طور پر غلط نظام اور رسم و رواج کی شکل میں ہوں۔ غلبۂ دین ہمارے دینِ اسلام کا بنیادی تصور ہے، کیوں کہ جب وہ باطن کے ساتھ ساتھ خارج کے ماحول کو بھی انسانی ترقی کے لیے سازگار بنانا چاہتا ہے تو وہ اپنا ماحول بھی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے مفکرین کے ہاں اَخلاق محض جاننے سے نہیں، بلکہ ماحول سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے دین اپناماحول اور نظام بھی پیدا کرتا ہے۔ 
وہ اپنی سیاست بھی قائم کرے گا تو قومی اور بین الاقوامی سیاست پر ظالم، طاغوت کے قبضے کو چیلنج کرے گا۔ جب معیشت میں مساوات قائم کرنا چاہے گا تو معیشت پر قارون صفت سرمایہ داروں کا قبضہ بھی چھڑائے گا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’کسریٰ اور قیصر تباہ وبرباد ہوگئے اور ان کے خزانے راہِ خدا میں تقسیم ہوجائیں گے‘‘ (بخاری)۔ کوئی بھی نظام جب اپنے فکر میں غلبے کا تصور رکھتا ہے تو مزاحمت اس کی جدوجہد کا لازمی حصہ ہوتی ہے، لیکن یہ مزاحمت مخالف عقیدے کے خلاف نہیں، بلکہ ظالم نظام اور طاغوت کے خلاف ہوتی ہے۔ اسلام کے غلبے کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ اس کے سیاسی معاشی اُصولوں کے غلبے کے ثمرات سے غیرمسلم بھی پوری طرح فیض یاب ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنے ہاں بسنے والے سب انسانوں کے حقوق کا تحفظ بلاتفریق مذہب و عقیدہ کرتا ہے۔ اس لیے اس معنی میں اسلام کا غلبہ دراصل انصاف اور راستی کا غلبہ ہے، جو سب انسانوں کی یکساں ضرورت و احتیاج ہے۔ 
ہمارے ہاں دانش وروں کی ایک قسم مغربی معاشروں کے تناظر میں لکھے جانے والے تجزیوں کو مِن و عَن اپنے ہاں منطبق کرنے کی روِش پر عمل پیرا ہے، جو درست روِش نہیں۔ مثلاً وہاں مسخ شدہ مذہب کی تباہ کاریاں ہوں، مطلق العنان شہنشاہیت کے نمونے یا ظالم جاگیرداری کی کارستانیوں کے نتائج ہوں، ان کو اپنے ہاں کے قومی حالات پر چسپاں کرکے قیاس آرائیاں کرنا ہمارے مسائل کے حل کا راستہ نہیں۔ قوموں اور خطوں کے درمیان جزوی مماثلت ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن کسی بھی علاقے اور خطے کا اپنا معروض ہوتا ہے، اسے نظر انداز کرکے درست حقائق تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ 
جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا دین ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام کا نقیب ہے۔ وہ آمریت پر مبنی شہنشاہیت اور ظالم جاگیرداری کا دشمن ہے تو ہم ایسے مظاہر کے خلاف جدوجہد کو ایک اکثریتی مسلمان ملک ہونے کے ناطے دینی عنوان کیوں نہیں دے سکتے؟ ہر خطے کی اقوام نے اپنی حریت و آزادی کی تحریکات اور سیاسی جدوجہد میں اپنی زمین سے پھوٹنے والے فکر، قومی روایات اور اپنے تہذیب و کلچر کے سہارے ہی اپنی منزل تک پہنچنے کا راستہ کھوجا ہے۔ ہم اپنے گزشتہ مہینے کے اداریے میں یہ عرض کرچکے ہیں کہ رجعت پسند مذہبی قوتوں کے بیانیے اور رویے ہمیں غلط راہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ہمیں دینِ اسلام کے حقیقی نظریے سے رہنمائی لینی ہے۔ 
لہٰذا ہمیں پاکستان میں اپنے حقوق کی جدوجہد کو اسلام سے منسوب کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے بزرگوں نے اس خطے کی آزادی کو اسی راہ سے حاصل کیا تھا اور انھوں نے اس کی معاشی اور تمدنی ترقی کے خواب بھی اسی نظریے میں دیکھے تھے، جن کو تعبیر دینا ہمارا ملّی اور قومی فریضہ ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو!        (مدیر) 

محمد عباس شاد
محمد عباس شاد

مدیر ماہنامہ رحیمیہ لاہور