مشترکہ جامع اقدامات کا منصوبہ 2015

مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان
اپریل 27, 2021 - عالمی
مشترکہ جامع اقدامات کا منصوبہ 2015

 سرمایہ پرست طاقتوں کی کوئی اَخلاقیات نہیں ہوتیں۔ سرمایہ اور اس کا حصول ان کی زندگی کا منشا و مقصود اور محور رہتا ہے۔ یہ طاقتیں دنیا میں کبھی کسی سے کوئی معاہدہ کرتی ہیں تو محض اس تأثر کو پھیلانے کے لیے کہ لوگوں کو لگے کہ یہ بڑے اصول پرست ہیں۔ معاہدات کی پابندی کرنے والے ہیں۔ تہذیبی اقدار کے حامل ہیں۔ امن کے متوالے اور دعوے دار ہیں۔ ان سے زیادہ کوئی معاہد ات کی اتباع کرنے والا نہیں ہے، لیکن جونہی کبھی کہیں انھیں چیلنج کرنے والی قوت کو تقویت ملنا شروع ہو، فوراً ان کا کھوکھلا پن کھل کر سامنے آجا تا ہے۔ خون خوار پنجوں میں تنائو پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بہروپیا پن جھٹ چھٹ جاتا ہے۔

دنیاکی چھ بڑی طاقتوں نے 2015ء میں اوباما ایڈمنسٹریشن کے عہد میں تین سال کے طویل دورانیے کے مذاکرات کے بعد ایران کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے عدم پھیلائو کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے نتیجے میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے عمل کو مستقل طور پر ختم کرنا تھا۔ بدلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر عائد گزشتہ تمام پابندیوں کو ختم کرنا تھا۔ بعد میں نئی پابندیوں کا ایک نیا مجموعہ عائد کیا، جو ایران کے اس معاہدے کی پاسداری کے دوران خود بہ خود تین مراحل میں ختم ہوجانا تھا۔ ایرانی اقدامات کی پاسداری کی تصدیق عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے باقاعدہ طور پر کردی تھی۔ چھ بڑی طاقتوں کے علاوہ یورپی یونین نے بھی اس عمل میں شریک ہوکر اس معاہدے پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت کی تھی۔ 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے اس معاہدے سے علاحدہ ہونے کا اعلان کردیا۔ الزام یہ لگایا کہ ایران ایک ایسے جوہری منصوبے پر کام کررہا ہے، جس سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کے عالمی نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ معاہدے سے نکلتے ہی امریکا نے یک طرفہ طور پر ترقی پذیر ممالک کے کاروباری اداروں پر دبائو ڈالنا شروع کردیا اور عدمِ تعاون کی صورت میں اپنی اصلیت دکھاتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ ایران نے امریکا کے اس اقدام کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، البتہ اس نے جوہری معاہدے کی پاسداری کو جاری رکھا اور دعویٰ کیا کہ اس نے متنازع معاہدے کے تصفیے کا حل تلاش کرلیا ہے اور اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مرحلوں پر آہستہ آہستہ عمل درآمد شروع کردیا۔

ڈیلی سنگر کی 27؍ اگست 2020ء کی رپورٹ کے مطابق ’’ایران کے ساتھ جوہری  ہتھیاروں کے معاہدے کے تحت جس میں برطانیہ چین، فرانس، روس، جرمنی اور امریکا شامل ہیں، اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ تہران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے اس کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بدلے میں ایران پر عائد پابندیاں بہ تدریج اٹھا لی جائیں گی‘‘۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 20؍ اگست 2020ء کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کو ذاتی طور پر بتایا تھا کہ امریکا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231، جس کا تعلق 2015ء کے جوہری معاہدے کو بین الاقوامی قانون کا تحفظ دینے سے ہے، ایک طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھانا چاہتا ہے، اور ایران پر 2006ء سے عائد پابندیوں کودوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے۔ سلامتی کونسل کے حالیہ صدر دیان تریانسیان دجانی نے کہا ہے کہ ’’پندرہ رکنی کونسل میں ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں بحال کرنے پر اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے اور وہ امریکا کے اس مطالبے پر کوئی ایکشن نہیں لیں گے، جس میں ایران پر پابندیاں دوبارہ لگانے یعنی ’’سنیپ بیک‘‘ کرنے کو کہا گیا ہے۔

ایران گزشتہ چار دہائیوں سے سامراج کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے۔ آئے دن نت نئے ہتھکنڈوں کا سامنا کررہا ہے۔ حالات کے جبر نے ایرانیوں کو سفارت کاری کا ماہر بنا دیا ہے۔ انھوں نے چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ تین سال کے طویل ترین عرصے میں جو معاہدہ کیا تھا، اس کا منہ بولتا ثبوت امریکا کی بے بسی ہے، جس کا عملی اظہار ڈونلڈ ٹرمپ  کا منصوبے سے علاحدہ ہونا ہے۔ نئے امریکی صدر نے حلف اٹھاتے ہی یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ دوبارہ معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

امریکی مقتدرہ کا معاہدے سے علاحدہ ہو نا بہت بڑی غلطی تھی۔ اس کے ا قدام سے اقوامِ عالم میں اس کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ وہ دنیا میں معاہدات کی پرواہ کرنے کے بجائے اپنے گروہی مفادات کا اسیر ثابت ہوا ہے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے معاہدے سے علاحدہ ہونے کے نتیجے میں دیگر طاقتیں اس کی اتباع نہیں کریںگی۔ کیوںکہ وہ اپنے علاوہ کسی اَور کو اپنا ہم پلہ قرار دینے کو تیار نہیں تھا، لیکن دنیا اس کے رعونت کے رویے کو عبو ر کرچکی ہے۔ اگرچہ ماضی کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں اسے کمال حاصل تھا، جوآج تاریخ کا حصہ بنتی جارہی ہے، لیکن تاریخ کے علم میں بالکل کورا اور جاہل مطلق ثابت ہوا ہے۔ کیوںکہ تما م عہود و مواثیق کی خلاف ورزی کرنے سے دنیا میں تباہی پیدا ہوتی ہے، جس سے وہ تہی دامن دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ سلامتی کونسل کے صدر کہنا کہ ’’ہم آپ کی ہدایات پر عمل نہیں کرسکتے‘‘ دنیا میں بہت بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ورنہ یہی امریکا تھا جو بلا پوچھے چھوٹے چھوٹے ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا تھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔

ایرانیوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ سلامتی کونسل کے کلب میں اکثریت ایسے ارکان کی ہے جو آہستہ آہستہ اپنے معاشی مفادات ایشیا پیسفک کی اُبھرتی ہوئی قوتوں کے ساتھ منسلک کرتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں ایرانیوں کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔ حکمتِ عملی کا تقاضا ہے کہ ایرانیوں کو ظالمانہ اقتصادی پابندیوں سے نجات مل سکے۔ معاہدے کے بحال ہونے سے نہ صرف ایرانیوں کی جیت ہوگی، بلکہ دنیا میں انقلابی جدوجہد کرنے والی قوتوں کو بھی تقویت ملے گی۔ 

مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان

Mirza Muhammad Ramzan

متعلقہ مضامین
عالمی اجارہ دار کمپنیوں کے خلاف بھارتی کسانوں کا احتجاج

انڈین پارلیمان نے ستمبر 2020ء کے تیسرے ہفتے میں زراعت کے متعلق یکے بعد دیگرے تین بل متعارف کروائے، جنھیں فوراً قانونی حیثیت دے دی گئی۔ انھیں ’’بازار کو سہولت …

مرزا محمد رمضان اپریل 27, 2021

امریکی صدر کا پُر ملا ل ا نتقالِ اقتدار

چینی نیوز ایجنسی کی 7؍ جنوری2021ء کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’کیپٹل ہل‘ میں ہونے والے تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’…

مرزا محمد رمضان اپریل 27, 2021

ایشیائی بالا دستی کے تقاضے

[میانمار میں 2021ء کا فوجی انقلاب] یورپ اور مغربی دنیا کے غلبے کے عہد نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بہ دولت انسانی زندگی میں بے پناہ سہولتیں تو پیدا کیں، لیکن ان کے ثمرات ک…

مرزا محمد رمضان اپریل 27, 2021