حضرت مولانا شیخ بشیر احمد لدھیانویؒ

وسیم اعجاز
وسیم اعجاز
جنوری 08, 2021 - سوانح عمری
حضرت مولانا شیخ بشیر احمد لدھیانویؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگردوں میں ایک نمایاں نام مولانا بشیراحمد لدھیانویؒ کا بھی ہے، جو حضرت سندھیؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے بڑی   ذمہ داری سے کام کرتے رہے۔ مولاناؒ پنجاب کے مشہور شہر لدھیانہ کے محلہ اقبال گنج میں ۵؍ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ /28؍جنوری 1899ء بروز جمعرات کو مولانا اللہ دینؒ کے ہاں پیدا ہوئے۔ مولانا اللہ دینؒ ’’انجمن حمایتِ اسلام لاہور‘‘ کے واعظوں میں سے تھے۔ جنھوں نے ہندوستان میں انگریزوں کی جانب سے عیسائیت کی فروغ کے مشن کی شدید مخالفت کی۔ ’’اصل انجیل‘‘ نامی اپنی کتاب میں اسلام مخالف الزامات کے جوابات بھی دیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کوبھی ثابت کیا۔ 
مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ نے اس دینی ماحول میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم لدھیانہ شہر میں حاصل کی۔ مدرسہ اسلامیہ لدھیانہ سے عربی، اردو اور انگریزی کی تعلیم حاصل کی۔ 1916ء میں اسلامیہ ہائی سکول لدھیانہ سے نہم جب کہ 1917ء میں گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا۔ 1919ء میں انٹرمیڈیٹ اور 1928ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔ انھیں عربی، فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل تھا۔ 1922ء میںروزنامہ ’’کیسری‘‘ لاہور سے منسلک ہوئے۔ 1924ء میں روزنامہ ’’سیاست‘‘ میں خدمات سرانجام دیں۔
1925ء میں انجمن حمایتِ اسلام کے قائم کیے ہوئے اسلامیہ ہائی سکول میں تعلیم و تدریس کی خدمات سر انجام دینے لگے۔ اسی دوران ان کا تعلق مولانا احمد علی لاہوریؒ سے ہوا۔ حضرت لاہور یؒ سے انھوں نے دینی علوم کی تکمیل کی۔ مولانا لاہوریؒ کے ذریعے ہی ان کا تعارف امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ سے ہوا تھا۔1939ء میں جب امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ اپنی 24 سالہ جلا وطنی کے بعد ہندوستان واپس تشریف لائے تو کچھ عرصہ لاہور میں شیرانوالہ گیٹ کی مسجد میں قیام فرمایا تھا۔ امامِ انقلابؒ نے ولی اللّٰہی علوم و افکار کے فروغ کے لیے مولانا احمد علی لاہوریؒ سے ان کے دو سمجھ دار اور ذہین شاگرد طلب کیے تو حضرت لاہوریؒ نے اپنے دو شاگرد مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ اور مولانا غازی خدا بخشؒ حضرت سندھیؒ کی خدمت میں پیش کیے۔ مسلسل 4 سال 1940ء سے لے کر 1944ء تک حضرت سندھیؒ نے ان دونوں حضرات کو نہ صرف ولی اللّٰہی علوم و افکار سے متعارف کرایا، بلکہ دینی تعلیمات کا ایک جامع اسلوب بھی سکھایا۔ خاص طورپر مولانا لدھیانویؒ نے مولانا سندھیؒ کی بیان کردہ تقاریر اور ملفوظات کو قلم بند کیا۔ خود حضرت سندھیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ہم 939 ہندی میں وطن واپس پہنچے۔ اس کے بعد جب کبھی لاہور آئے اور اپنے عزیزوں کی خاطر وہاں رہے، مولوی بشیر احمد بی۔اے لدھیانویؒ ہم سے قرآن شریف سمجھنے کے لیے ملتے رہتے تھے۔ اس طرح انھوں نے کئی سو صفحات تیار کر لیے تھے۔‘‘ (قرآنی دستورِ انقلاب)
مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ کو حضرت سندھیؒ کے ساتھ محبت اور عقیدت کا تعلق تھا۔ ہمہ وقت ان کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے، حتیٰ کہ حضرت سندھیؒ کی نا پسندیدگی جان کر انگریز کی ملازمت سے بھی علاحدگی اختیار کرلی تھی۔ انھوں نے حضرت سندھیؒ سے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اکثر کتب براہِ راست پڑھیں اور ان کے تفصیلی نوٹس بھی قلم بند کیے۔ حضرت سندھیؒ کو ان کی قلم بند کی گئی تحریر پر بہت اعتماد تھا اور اپنے دوستوں اور شاگردوں کو بھی اس بات کی سفارش کی کہ وہ سب اپنی یاد داشتیں اس طرز ِتفکر کے مطابق بنالیں۔ چناںچہ حضرت سندھیؒ قرآنی دستورِ انقلاب پر لکھی ہوئی تقریظ میں فرماتے ہیں کہ: 
’’ہماری تقریریں بہت سے لوگوں نے ضبط کرلی ہیں۔ ہم نے آج تک کسی کی تصحیح اپنے ذمہ نہیں لی۔ مولوی بشیر احمد اور مولوی خدابخش کی محنتوں کا ہم پر خاص اثر ہے۔ اس لیے اس رسالے پر نظرِ ثانی منظور کی۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ ان افکار کی ذمہ داری میں ہم ان کے ساتھ شریک ہیں۔‘‘
15؍ مارچ1944ء کو امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے ولی اللّٰہی علوم کے فروغ کے لیے لاہور میں ایک ادارہ ’’محمد قاسم ولی اللہ سوسائٹی‘‘ کے نام سے قائم کیا تو اس کے سیکرٹری کے طور پر مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ کو مقرر فرمایا۔ مولانا موصوفؒ نے اس ذمہ داری کو پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رکھا اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتب اور رسائل کو بڑی محنت سے ایک جگہ جمع فرمایا۔ اسی دوران ان کی یہ کوشش رہی کہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتب کی اشاعت کا بھی خاص اہتمام ہو تا رہے۔ شاہ صاحبؒ کی مایۂ ناز کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا اردو ترجمہ از مولانا محمد اسماعیل گودھرویؒ مولانا موصوفؒ کی کوششوں سے ہی ’’برہانِ الٰہی‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں لاہور سے شائع ہوا تھا۔ حضرت سندھیؒ کے تفسیری افادات؛ قرآنی فکرِ انقلاب، قرآنی اصولِ انقلاب،قرآنی اساسِ انقلاب، قرآنی جنگِ انقلاب، حجۃ اللہ البالغہ کی اردو شرح، عبیدیہ (اردو ترجمہ محمودیہ)، امام شاہ ولی اللہ اور ان کا فلسفہ عمرانیات و معاشیات، شاہ ولی اللہ سوسائٹی اور بیت الحکمت لاہور کی جانب سے شائع کیں۔ پاکستان بننے کے بعد 1950ء میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر کو عام کرنے کے لیے لاہور سے ایک اُردو رسالہ  ہفت روزہ ’’نیافکر‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی دان طبقے میں ولی اللّٰہی افکار کے فروغ کے لیے 1958ء میں ایک پندرہ روزہ انگریزی رسالہ ''New Thought'' کے نام سے جاری کیا۔ اس رسالے میںامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتابوں، علوم و افکار اور حضرت سندھیؒ کی تشریحات کا انگریزی ترجمہ شائع کیا جاتا تھا اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میںان تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ 
مولانا لدھیانویؒ تقریباً35 سال تک مسلسل ولی اللّٰہی افکار کے فروغ کی جدوجہد کے بعد 17؍ جنوری 1974ء بروز بدھ کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔قبرستان میانی صاحب لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان بے لوث مساعی کو قبول فرمائے اور ہمیںولی اللّٰہی افکار کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)