حضرت مولاناعبداللہ لغاریؒ

وسیم اعجاز
وسیم اعجاز
فروری 17, 2021 - سوانح عمری
حضرت مولاناعبداللہ لغاریؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے قریبی ساتھیوں میں ایک اہم نام حضرت مولانا عبد اللہ لغاریؒ کا بھی ہے۔ ان کا تعلق ضلع گھوٹکی (صوبہ سندھ) کے ایک گائوں ’’داد لغاری‘‘ سے تھا۔ وہ ۱۲۸۸ھ /1871ء کو نہال خان لغاری کے ہاں پیدا ہوئے۔ 
 ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کرنے کے بعداپنے پھوپھی زاد بھائی مولانا محمدیعقوبؒ اورمولوی عبدالقادر لغاریؒ سے صَرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دیگر کتب کی تعلیم کے لیے نوشہروفیروز، ٹھٹھہ، ملتان اور بہاول پورکے اسفار کیے۔ اسی دوران کراچی میں حضرت مولانا محمد صادقؒ کے والد مولانا عبداللہؒ سے بھی علم حاصل کیا۔ 
امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒسے مولانا لغاریؒ کی ملاقات امروٹ شریف میں ہوئی تھی، جہاں امام انقلابؒ درس و تدریس اور مطالعہ کتب میں مصروف تھے۔ موصوفؒ حضرت سندھیؒ کے نظریات سے بہت متأثر ہوئے اور عملی طور پر حضرت سندھیؒ کے ساتھ شامل ہوگئے۔ جب ’’امروٹ‘‘ میں نشر و اشاعت کے لیے’’محمود المطابع‘‘ نامی ایک پریس قائم کیا تو انھوں نے حضرت سندھیؒ کے ساتھ مل کر کام کیا۔ اسی پریس سے سندھی زبان کا ایک رسالہ’’ہدایت الاخوان‘‘ جاری ہوا، جس نے جلد ہی عوامی مقبولیت حاصل کرلی تھی۔ 
1897ء میں جب حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ نے حضرت سندھیؒ کو دیوبند طلب کرکے سیاسی کام کرنے کی جانب توجہ دلائی تو سندھ سے مولانا محمد صادق کراچویؒ اور مولانا عبداللہ لغاریؒ بھی حضرت سندھیؒ کے ساتھ گئے تھے۔ یہ ان کی حضرت شیخ الہندؒ سے پہلی ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں وہ حضرت شیخ الہندؒ کی شخصیت اور ان کے مشن سے بہت متأثر ہوئے اور اس سیاسی کام میں حضرت سندھیؒ کے ہم سفر بننے کا پختہ عزم کرلیا۔ سندھ دھرتی کے نوجوانوں میں سیاسی بیداری اور انقلابی روح بیدار کرنے کے لیے جب 1901ء میں حضرت سندھیؒ نے صاحب العَلم الثالث پیر رشیدالدین راشدیؒ کے تعاون سے حیدرآباد کے نزدیک ’’گوٹھ پیر جھنڈا‘‘ میں ایک مدرسہ ’’دارالرشاد‘‘ کے نام سے قائم کیا تو مولانا عبداللہ لغاریؒ اس کے مہتمم مقرر کیے گئے۔ امامِ انقلابؒ تو 1909ء میں دیوبند حضرت شیخ الہندؒ کے پاس منتقل ہوگئے، لیکن مولانا لغاریؒ حضرت شیخ الہندؒ کی سرپرستی میں 1914ء تک اس مدرسے کا انتظام سنبھالے رہے۔ 
جولائی 1915ء میں مولانا عبیداللہؒ پیر جھنڈو تشریف لائے اورمولانا لغاریؒ کو اپنے ہمراہ ’’کابل‘‘ چلنے کا فرمایا۔ کابل کے اس سفر میں وہ نہ صرف امامِ انقلاب کے ہم سفر تھے، بلکہ رفیقِ کار اور انتہائی اعتماد یافتہ ساتھی بھی تھے۔ فروری 1916ء میںامامِ انقلابؒؒ نے حکیم محمد اجمل خان، مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر مختاراحمد انصاری وغیرہ کے نام مولانا لغاریؒ کے ہاتھ اپنے اور راجہ مہندر پرتاپ کے خصوصی خطوط ہندوستان بھیجنے کی ذمہ داری لگائی تھی، جنھیں مولاناؒ نے انتہائی راز داری کے ساتھ سرانجام دیا۔ 
تحریکِ ریشمی رومال کے تین اہم ترین مراکز؛ دین پور، امروٹ اور پیرجھنڈا تھے، جہاں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ، حضرت شیخ الہندؒ کی سرپرستی میں بذاتِ خود کام کرچکے تھے۔ ضروری تھا کہ ان تینوں مراکز کے اکابرین سے تحریکِ ریشمی رومال کے تحت انگریزوں کے خلاف جدوجہد کا تحریری پروانہ حاصل کیا جاتا۔ اس مقصد کے لیے بھی امامِ انقلابؒ نے مولانا لغاریؒ کو ایک عبارت قلم بند کرادی تھی۔ مولاناؒ نے یہ کام بھی انتہائی رازداری کے ساتھ سرانجام دیا اور تینوں مراکز سے عبارتوں پر دستخط کروا کر سردار عبدالرزاق (میزان العلما) کو کابل روانہ کیں۔ 
ریشمی رومال خطوط کے افشا ہونے کے بعد تحریکِ ریشمی رومال کے سلسلے میں جہاں اَور بہت سارے لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں، وہیں ستمبر 1916ء میں مولانا  عبداللہ لغاریؒ بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کرلیے گئے تھے۔ تقریباً دو سال تک لاہور، پٹھان کوٹ، دین پور اور کراچی وغیرہ کی جیلوں میں نظر بند رہے۔ 1918ء میں رہا کیے گئے۔ افغانستان اور ہندوستان کی آزادی کے لیے قائم کی جانے والی جماعت ’’جنودِ ربانیہ‘‘ کی فہرست میں مولانا لغاریؒ کا عہدہ’’ کرنل‘‘ کے طور پر لکھا ہوا ہے۔ رہائی کے باوجود بھی انگریز سی آئی ڈی موصوفؒ پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔ انگریز کو ان سے اس قدر خطرہ تھا کہ جب انگریزوں کے خلاف والیٔ کابل امیر امان اللہ خان برسرِ پیکار ہوئے تو اس دوران بھی ان کو کافی دنوں تک ان کے گھر میں نظر بند کردیا گیا۔ 
1926ء میں جب مولانا عبیداللہ سندھیؒ مکہ معظمہ پہنچے تو کچھ عرصے بعدمولانا عبداللہ لغاریؒ بھی ان کی خدمت میں حجاز تشریف لے گئے۔ حجاز میں قیام کے دوران مولانا سندھیؒ نے تفسیرِ قرآن ، علومِ اسلامیہ اور ولی اللّٰہی فلاسفی پر جو تعلیم دی، وہ سب مولانا عبداللہ لغاریؒ نے قلم بند کی، بلکہ جتنی کتابیں مولانا سندھیؒ کے افکار اور شاہ ولی اللہؒ کے فلسفے کے مطابق شائع ہوئیں، ان میں زیادہ تر کے ذرائع مولانا عبداللہ لغاریؒ ہی ہیں۔ 
1939ء میں مولانا سندھیؒ نے جب ہندوستان واپس آنے کا فیصلہ کرلیا توبعض انتظامات کی خاطر مولانا عبداللہ لغاریؒ ان کے آنے سے پہلے سندھ پہنچ گئے تھے۔ وطن واپسی کے بعد بھی موصوفؒ مولانا سندھیؒ کے آخری دم تک ساتھ رہے۔ مولانا سندھیؒ کے وصال کے بعد قریباً 6 سال تک سندھ یونیورسٹی میں قرآن پاک کی تفسیر ا ور حکمتِ ولی اللّٰہی کی تعلیم سے طلبا کے ذہنوں کو آراستہ کرتے رہے۔ آخر میں سندھ یونیورسٹی میں ایم۔اے کے طلبا کو قرآنِ حکیم کی تفسیر پڑھانے کے لیے معلم مقرر کیے گئے۔ 
آخری عمر میں ضعف نے شدت اختیار کرلی تھی۔ بیماری کے باعث 15؍ ستمبر 1958ء کو سول ہسپتال حیدرآباد میں داخل ہونا پڑا، لیکن جاں بر نہ ہوسکے اور جمعرات 18؍ ستمبر1958ء کو جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ سندھ کے ضلع ’’سانگھڑ‘‘ میں آسودۂ خواب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)

متعلقہ مضامین
پاکستان کی تعلیم پر برطانوی راج کی پرچھائیں(2)

یہ سب کچھ منظم منصوبہ بندی و حکمتِ عملی کے تحت ہو رہا تھا۔ برطانیہ نے اس کے لیے پاکستان میں ایک اَور این جی او پیدا کی، جس کا نام ’’ادارہ تعلیم و آگہی‘&l…

محمد اکمل سومرو فروری 17, 2021

حضرت مولانا شیخ بشیر احمد لدھیانویؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگردوں میں ایک نمایاں نام مولانا بشیراحمد لدھیانویؒ کا بھی ہے، جو حضرت سندھیؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے بڑی   ذمہ داری سے…

وسیم اعجاز فروری 17, 2021

حضرت مولانا ابو حامد محمدمیاں منصورانصاریؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے قائدین میں ایک اہم ترین نام حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ کا بھی ہے، جنھوں نے اس تاریخی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ مولانا انصاریؒ 10؍مارچ …

وسیم اعجاز فروری 17, 2021

سونے کی چڑیا اور مغل حکمران

ایک دور تھا جب متحدہ ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان شروع دن سے ہی سونے کی چڑیا تھا، یا اِسے باقاعدہ سونے کی چڑیا بنایا گیا تھا؟ کیا مغل…

مصطفیٰ صفدر بیگ فروری 17, 2021