حضرت مولانا ابو حامد محمدمیاں منصورانصاریؒ

وسیم اعجاز
وسیم اعجاز
مارچ 14, 2021 -
حضرت مولانا ابو حامد محمدمیاں منصورانصاریؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے قائدین میں ایک اہم ترین نام حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ کا بھی ہے، جنھوں نے اس تاریخی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ مولانا انصاریؒ 10؍مارچ 1883ء کو مولانا محمد عبداللہ انصاریؒ (بھانجے اور داماد حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ) کے ہاں ضلع سہارن پور کے قصبہ انبیٹھہ میں پیدا ہوئے۔ مولانا موصوفؒ دارالعلوم دیوبند کے بانی اور 1857ء کی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد حضرت نانوتویؒ کے حقیقی نواسے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ منبع العلوم گلائوٹھی میں حاصل کی۔ 1903ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ تحصیلِ علم کے بعد کچھ عرصہ درس و تدریس میں مصروف رہے۔ دارالعلوم معینیہ اجمیر شریف میں صدر مدرّس کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ حضرت عالی مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے حسبِ منشا حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ نے ترجمہ قرآنِ حکیم کے کام کا آغاز فرمایا تو حضرت شیخ الہندؒ نے مولانا محمدمیاں انصاریؒ کو دیوبند بلا لیا، تاکہ اس کام میں وہ ان کے ساتھ تعاون کریں۔ 
یوں تو حریت و آزادی کی خاطر قربانیاں پیش کرنے کی ہمت و استقامت مولانا انصاریؒ کو وراثت ہی میں ملی تھی، لیکن طالبِ علمی کے دورمیں حریت پسند تحریک میں عملی کردار ادا کرنے کا بھی موقع مل گیا۔ حضرت شیخ الہندؒ کے زیرِ تربیت رہے اور آپؒ کی حصولِ آزادی کی تحریک ’تحریکِ ریشمی رومال‘ میں سر گرم کردار ادا کیا۔ 1909ء میں جمعیت الانصار قائم ہوئی تو امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ نائب ناظم کی ذمہ داریاں بہ خوبی نبھائیں۔ 1915ء میںحضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ حجاز تشریف لے گئے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے حجاز پہنچتے ہی مکہ معظمہ کے گورنر غالب پاشاؒ سے ملاقات کی اور انھیں ہندوستان کی صورتِ حال اور اپنے منصوبے سے آگاہ کیا۔ غالب پاشاؒ نے آپؒ سے تعاون کا یقین دلایااور اس سلسلے میں آپؒ کوکئی تحریریں دیں۔ ایک تحریر مسلمانانِ ہند کے نام تھی، جس میں انھیں ظالم انگریز کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی گئی تھی اور کہاگیاتھا کہ اہلِ ہند کو آزادیٔ کامل پر آمادہ ہوجانا چاہیے اور اپنی جدوجہدکو تیز کردینا چاہیے۔ یہی وہ تحریر ہے جو تاریخ میں’ غالب نامہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس تحریر کو ہندوستان اور کابل میں پہنچانے کا انتہائی اہم کام مولانا موصوفؒ ہی کے سپرد کیا گیا۔ 
اپریل 1916ء میں ’غالب نامہ‘ اور دوسرے ضروری کا غذات بہ حفاظت ہندوستان پہنچا نے کے لیے یہ طریقۂ کار اختیار کیا گیا کہ لکڑی کے ایک صندوق کے تختے کو کھود کر اس میں تمام کاغذات رکھ دیے گئے تھے، تاکہ کسی کو پتہ نہ چل سکے۔ یہ صندوق مولانا ہادی حسنؒ اور حاجی شاہ بخش سندھیؒ کے حوالے کردیا گیا۔ بمبئی میں جہاز پر سی آئی ڈی بھی موجود تھی، اس کے باوجود انتہائی رازداری سے یہ صندوق وہاں سے نکال لیا گیا۔ اسی سفر کے دوران ہی مولانا موصوفؒ نے اپنے اصل نام ’محمد میاں‘ کے بجائے ’منصور انصاری‘ رکھ لیا تھا۔ پھر اسی نام سے شہرت پائی۔ 
دہلی میں حاجی احمدمیرزا فوٹو گرافر نے ’غالب نامہ‘ کے متعدد فوٹو لیے، تاکہ ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچائے جاسکیں۔ دہلی میں جماعت کی مرکزی قیادت کو یہ تحریر دکھانے کے بعد مولانا موصوفؒ یاغستان روانہ ہوگئے۔ وہاں ایک ماہ قیام کے بعد امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے پاس کابل تشریف لے گئے۔ اس پورے سفر کے دوران ’غالب نامہ‘ کی کاپیاں مختلف جگہوں پر تقسیم کرتے رہے۔ کابل کی قیادت کو حضرت شیخ الہندؒ کے پیغامات پہنچائے گئے۔ حجاز سے روانگی سے قبل حضرت شیخ الہندؒ نے مولانا موصوفؒ سے تحریک کے خفیہ اُمور پر مشاورت فرمائی اور وطن واپسی کے بعد ان کے ذمے تحریک کے شعبوں کی نگرانی سپرد کی، جسے انھوں نے کمال رازداری سے سرانجام دیا اور اپنے تمام امور سے متعلق ایک تفصیلی خط حضرت شیخ الہندؒ کو تحریر کیا۔ انگریز کی سی آئی ڈی کی رپورٹ میںجن ریشمی خطوط کا تذکرہ ہے، اس میں یہ خط بھی شامل ہے۔ وطنِ عزیز کی آزادی کے لیے قائم کی جانے والی جماعت ’جنودِ ربانیہ‘ کی فہرست میں مولاناؒ کا عہدہ ’نائب سالار (لیفٹنٹ جنرل)‘ کے طور پر لکھا ہوا ہے۔
کابل میں قیام کے دوران افغانستان کے مقتدر حلقوں میں بھی مولانا انصاریؒ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ حکومتِ افغانستان نے انھیں وزیر مختار بنا کر سفارتی مشن کے ساتھ ترکی بھیجا تھا۔ ایک موقع پر ماسکو میں بھیجے گئے سیاسی مشن میں انھیں بہ طورِ مشیر نامزد کیا گیا۔ 1929ء میں افغانستان کے حالات کے پیشِ نظر چند ماہ تک روس میں جلاوطنی کی زندگی بسر کی۔ افغانستان میں اعلیٰ سطح کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے۔ 
 مولانا انصاریؒ سیاسی ذہن رکھنے والے ایک زیرک رہنما تھے۔ انھوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق عملی سیاسی نظام کا ڈھانچہ اپنے ایک رسالے ’’حکومتِ الٰہی: دستورِ اساسی امامت ِاُمت‘‘ میں بھی پیش کیا ہے۔ سیاسیات کے موضوع پر متعدد کتب اور رسائل تحریر فرمائے۔ وہ ایسی سماجی تشکیل کے داعی تھے، جس میں وطنِ عزیز کے باشندے نئے آنے والے دور کے مسائل کو بھی حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ان کی دور اندیشی اور مستقبل بینی کا اندازہ اس خط سے لگایا جاسکتا ہے، جو انھوں نے مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب قاسمیؒ کو لکھا، جس میں کہا گیا کہ: ’’دارالعلوم دیو بند نے گزشتہ 70 برس میں دین کو اتنا پڑھا دیا ہے کہ ہندوستان میں دین اگلے 100 برسوں کے لیے ان شاء اللہ محفوظ ہو گیا ہے۔ میری ادنیٰ رائے یہ ہے کہ اب آپ اس دار العلوم کو ٹیکنکل یونیورسٹی میں تبدیل کر دیں، اور یہ کام آپ بہ خوبی کر سکتے ہیں۔ دنیا کو سائنس کی تباہ کاریوںسے محفوظ و مامون دیکھنے کی خواہش کی تکمیل اس بات کی متقاضی ہے کہ ہمارے علمائے کرام دین کے ساتھ ساتھ سائنس کی ترقیات سے مثبت رُخ پر ایک عالَم کو مستفیض فرمائیں۔ اگر ایسا نہ کیا تو میں دیکھ رہا ہوں کہ آئندہ 50 برسوںمیں مسلمان حکومتیں پے بہ پے شکست سے دو چار ہوں گی۔ عام مسلمان اسے اپنے اعمال کی سزا گردانے گا، تاہم یہ ہزیمت سائنس سے عدم واقفیت کے سبب ہو گی‘‘۔ امامُ الہند مولانا ابو الکلام آزادؒ کی یہ رائے تھی مولانا انصاریؒ جیسے ذہین انسان کی وطنِ عزیز کو اشد ضرورت ہے، اس لیے انھیں واپس بلا لیا جائے، لیکن حریت و آزادی کی خاطر 31 سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے یہ عظیم رہنما 11؍ جنوری 1946ء کو جلال آباد (افغانستان) میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 
 

متعلقہ مضامین
حضرت مولانا شیخ بشیر احمد لدھیانویؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگردوں میں ایک نمایاں نام مولانا بشیراحمد لدھیانویؒ کا بھی ہے، جو حضرت سندھیؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے بڑی   ذمہ داری سے…

وسیم اعجاز جنوری 08, 2021

حضرت مولاناعبداللہ لغاریؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے قریبی ساتھیوں میں ایک اہم نام حضرت مولانا عبد اللہ لغاریؒ کا بھی ہے۔ ان کا تعلق ضلع گھوٹکی (صوبہ سندھ) کے ایک گائوں ’’دا…

وسیم اعجاز فروری 17, 2021

حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم سجاولی  ؒ

ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح سندھ دھرتی کے لوگوں نے بھی ہندوستان کی تحریکاتِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی کاوشوں سے وادیٔ …

وسیم اعجاز مئی 20, 2021