شہیدِ وطن شہیداللہ بخش سومروؒ

وسیم اعجاز
وسیم اعجاز
جولائی 07, 2026 - سوانح عمری
شہیدِ وطن شہیداللہ بخش سومروؒ

شہیدِ وطن شہیداللہ بخش سومروؒ

سندھ دھرتی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے ماضی کے ہر دور میں ایسے حکمران میسر آئے، جنھوں نے وطنِ عزیز میں سیاسی وحدت اور ارتقا میں نمایا ں کردار ادا کیا۔ انھیں شخصیات میں ایک نمایاں نام شہید اللہ بخش سومروؒ کا ہے۔

شہید اللہ بخش سومروؒ اگست 1900ء میں شکار پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدِ گرامی کا نام محمد عمر سومرو تھا۔ ابتدائی تعلیم شکار پور ہی میں حاصل کی۔ کم عمری میں والدِ گرامی کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کی وجہ سے خاندان کی ساری ذمہ داریاں ان ہی کے کندھوں پر آ گئیں۔ مزاجاً سماجی اور اجتماعی طبیعت کے حامل شخص تھے۔ اسی بنا پر 1923ء میں جیکب آباد کی میونسپل کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔ سماجی رابطوں اور اجتماعی مسائل کے حل میں ان کی کاوشوں کی وجہ سے 1928ء میں میونسپل بورڈ کے صدر منتخب ہوئے۔ فروری 1937ء کے عام انتخابات میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کی جانب سے لیجسلیٹو کونسل کے ممبر منتخب ہوئے اور پھر ایک سال بعد مارچ 1938ء میںوزیر اعظم سندھ کا حلف اٹھایا۔

یہ وہ دور تھا، جب ہندوستان کی تقریباً تمام بڑی جماعتیں امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کو اپنے وطن ہندوستان واپس لانے کے لیے تحریکات چلا رہی تھیں۔ انھیں کاوشوں میں ایک نمایاں نام سردار محمد امین خان کھوسوؒ کا بھی تھا۔ سردار صاحبؒ اس وقت سندھ اسمبلی کے ممبر اور شہیداللہ بخش سومروؒ کے بہت ہی قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے ۔ ان دونوں حضرات نے باہم مل کر یہ ضمانت دلوائی کہ مولانا سندھی واپسی پر عدم تشدد کے پابند ہو کر سیاسی کام کریں گے۔ تب کہیں جا کر مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو وطن واپسی کی اجازت ملی۔ امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو ہندوستان میں واپس لانے کی تحریک‘ وزیرِ اعظم سندھ سر غلام حسین ہدایت اللہ کے دور میں شیخ عبدالمجید سندھیؒ کے ایما پر بھی چلی، لیکن حکومتِ وقت اس وقت کسی قسم کی ضمانت دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ بعد ازاں جب سردار محمدامین خان کھوسوؒ کی کوششوں سے یہ موقع شہید اللہ بخش سومرو کو ملا تو انھوں نے بذاتِ خود اس مسئلے کے حل میں حصہ لیا اور حکومتِ سندھ کی جانب سے ضمانت فراہم کی۔ 7؍ مارچ 1939ء کو جب حضرت سندھیؒ وطن واپس تشریف لائے تو شہید اللہ بخش سومروؒ نے خود کراچی کی بندرگاہ منوڑہ میں جا کر آپؒ کا استقبال کیا ۔

شہید موصوفؒ کے ساتھ امامِ انقلابؒ کی ایک طویل ملاقات کا اہتمام حافظ الملت سردار محمد امین کھوسوؒ نے کیا تھا۔ یہ ملاقات سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طویل ملاقات کے بعد سردار امین کھوسوؒ کا کہنا یہ تھا کہ: ’’شہید اللہ بخشؒ کی سیاست کی بنیادیں اسی ملاقات میں ہی استوار ہوئی تھیں، یہاں سے ان کی سیاسی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا‘‘۔

شہید اللہ بخشؒ نے وزیرِ اعظم سندھ کے عہدے کے دوران تعلیم پر خاص توجہ دی، لائبریریاں قائم کیں، تاکہ مطالعے کا رُحجان پیدا کیا جا سکے۔اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا، تاکہ لوگ اس شعبے کی جانب متوجہ ہوں۔ نہری نظام کو بہتر بنایا۔ انتظامی حوالے سے ان کا یہ فیصلہ تاریخ میں رقم ہے کہ کابینہ کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کے بجائے عام عوام کو سہولتیں دیں۔ ہندو و مسلم کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا، تاکہ ملکی ترقی میں اتحاد و اتفاق سے حصہ لیا جائے۔ شہید موصوفؒ کے یہی اقدامات تھے کہ سندھ بھر کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں میں مشترکہ مقبول تھے۔

1942ء میں جب دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آیا اور خدشہ تھا کہ عام کاشت کاروں اور ہاریوں کا بہت زیادہ نقصان ہوجائے گا، اس دوران موصوفؒ نے یہ حکم دیا کہ پانی کا رُخ ان کی اپنی زمینوں کی جانب موڑ دیا جائے، تاکہ کسانوں کو اس سیلابی ریلے کے نقصان سے بچایا جا سکے۔

شہید موصوفؒ نے انگریز سرکار کے ان تمام اقدامات کی مخالفت کی، جس سے قوم کو نقصان ہوتا ہو۔ ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ تحریک کے دوران انھوں نے گورنر سندھ برٹش گورنمنٹ اور وائسرائے کو ایک خط لکھ کر یہ احتجاج کیا تھا کہ اُس نے اپنی تقریر میں ہندوستان کے سیاسی لیڈروں کی توہین کی ہے۔ اس بات نے انگریز سرکار کو بے حد ناراض کر دیا اور سرکار نے اُن کو کہا کہ وہ معافی مانگیں، یا پھر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ شہید اللہ بخش سومروؒ نے بجائے استعفیٰ دینے کے سرکار کی طرف سے دیے ہوئے ’’خان بہادر‘‘ اور ’’آرڈر آف برٹش ایمپائر‘‘ ٹائٹل واپس کیے، جس نے برٹش حکومت کو آگ بگولا کر دیا۔ سرکار نے انھیں اس عہدے سے 10؍ اکتوبر 1942ء کو فارغ کر دیا۔ ان کی جگہ پھر دوبارہ سرغلام حسین ہدایت اللہ کو سندھ کا پرائم منسٹر بنایا گیا، جن کا اقتدار پاکستان بننے تک جاری رہا۔

ایک دفعہ شکار پور کے نواح میںایک شخص کے آنے کی اطلاع ملی کہ وہ ڈھونگی آدمی مجبور اور پریشان حال عورتوں کو نقلی تعویذ دے کر لوٹ رہا ہے تو شہید موصوفؒ ٹانگے پر بیٹھ کر اس طرف نکل پڑے، تا کہ اسے سمجھایا جائے کہ وہ ان سے کچھ پیسے لے کر کوئی اَور کاروبار کرے اور یہ فراڈ نہ کرے، مگر ان کی آمد کا سن کر وہ کہیں بھاگ گیا۔ جب وہ ٹانگے پر واپس آ رہے تھے کہ اسی ڈھونکی آدمی کے کچھ لوگوں نے ان پر پستول کے فائر کردیے، جس سے وہ 14؍ مئی 1943ء کو شہید ہو گئے۔

شہیداللہ بخش سومروؒ دو مرتبہ ( 1938ء تا 1940ء اور پھر1941ء سے 1942ء) سندھ کے وزیرِ اعظم (اس وقت ’پریمیئر‘ کہلاتے تھے ) رہے۔ ان کا دورِ حکومت‘ سندھ کی ترقی کا سنہرا دور کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔ان کا مزار شکار پور میںمحلہ ’’ہاتھی در‘‘ کے پنج پیر قبرستان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مرقد پر اپنی خاص رحمتوں کی بارش فرمائے ۔ آمین!

وسیم اعجاز
وسیم اعجاز

جناب وسیم اعجاز مرے کالج سیالکوٹ میں زیر تعلیم رہے اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے گریجویٹ ہیں۔ آج کل قومی فضائی ادارے PIA  کے شعبہ انجینئرنگ میں پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 1992ء میں حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے دامنِ تربیت سے وابستہ ہوئے۔ حضرت مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ کی زیر سرپرستی تعلیمی ،  تربیتی اور ابلاغی سرگرمیوں میں ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ برعظیم پاک و ہند کی سماجی و سیاسی تاریخ، حریت پسند شخصیات کے احوال و وقائع ان کی دلچسپی کے خاص میدان ہیں۔ اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں ۔ مجلہ "رحیمیہ" لاہور میں گزشتہ کئی سالوں  سے "عظمت کے مینار" کے نام سے سلسلہ وار لکھ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ایک عظمت افروز واقعہ

مولانا عبیداللہ سندھیؒ ہمارے مطلع تاریخ کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ ان عالی ہمت بزرگوں کا کردار آج کی نسلوں کے لیے مَشعَلِ راہ ہے۔ جمیل مہدی کی کتاب ’’افکار و عزائم&l…

مولانا محمد عباس شاد نومبر 23, 2023

حضرت مولاناعبداللہ لغاریؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے قریبی ساتھیوں میں ایک اہم نام حضرت مولانا عبد اللہ لغاریؒ کا بھی ہے۔ ان کا تعلق ضلع گھوٹکی (صوبہ سندھ) کے ایک گائوں ’’دا…

وسیم اعجاز فروری 17, 2021

حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ جروار مریؒ

حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ جروار مریؒ حضرت مولانا عزیز اللہ جرواؒر کا شمار بھی امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ وہ سندھ میں ضلع لاڑکانہ کی تحص…

وسیم اعجاز فروری 27, 2025

حضرت مولانا ابو حامد محمدمیاں منصورانصاریؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے قائدین میں ایک اہم ترین نام حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ کا بھی ہے، جنھوں نے اس تاریخی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ مولانا انصاریؒ 10؍مارچ …

وسیم اعجاز مارچ 14, 2021