حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہٗ  (1)

حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہٗ  (1)

حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہٗ مشہور صحابیٔ رسول ہیں۔ آپؓکا تعلق ملک شام کے ایک قبیلہ لخم سے تھا۔ آپؓ کی ساتویں پشت پر آپؓ کے جد ِامجد کا نام ’’الدار‘‘ تھا۔ انھیں کی طرف نسبت کی وجہ سے آپؓ کو ’’الداری‘‘ کہا جاتا ہے۔ (اصابہ183/1)

آپؓ جِنّوں کی دعوت پر اسلام کی طرف متوجہ ہوئے۔ مقام حجون پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے والے ایک جن نے آپؓ کو بتایا کہ: ’’اب جنوں کے مکر وفریب کا دور گزر گیا۔ محمد ﷺ ربّ العالمین کے رسول ہیں، آپ ان کے پاس جائیں اور مسلمان ہو جائیں‘‘۔ ایمان لانے سے پہلے حضرت تمیمؓ ایک عیسائی عالم تھے۔۹ہجری میں آپؓ دس افراد پر مشتمل اپنے خاندانی وفد کے ساتھ اپنے بھائی نعیم کو لے کر حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپؓ نے مدینہ منورہ میں مستقل سکونت اختیار کی اور مسلمان ہونے کے بعد تمام غزوات میں شریک رہے۔

اسلام لانے کے بعد حضرت تمیمؓ کو قرآن حکیم سے بے پناہ شغف پیدا ہوگیا اور آپؓ نے قرآنی علوم و معارف سے کامل واقفیت پیدا کی۔ محمد بن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ: ’’چار آدمیوں نے حضور ﷺ کے عہد ِمبارک میں قرآن پاک جمع کرلیا تھا: ’’اُبیٔ بن کعب، عثمان، زید اور تمیم داری رضی اللہ عنہم‘‘۔ (سیراعلام النبلاء، 48/4) ’’جمع کرنے‘‘ سے مراد غالباً لکھ کر محفوظ کرلینا ہے۔

معروف تاریخ دان ابن اثیرؒ لکھتے ہیں کہ: ’’حضرت تمیم داریؓ جب شام سے مدینہ آئے تو اپنے ساتھ قندیلیں اور تیل لائے تھے۔ آپؓ نے قندیلوں کو مسجد ِنبویؐ میں لٹکایا، جن سے مسجد میں رات کو روشنی ہوجاتی تھی۔ اس سے پہلے مسجد میں روشنی نہیں ہوتی تھی ۔ یہ سنتِ حسنہ سب سے پہلے آپؓ نے ہی جاری کی۔ جب حضور ﷺ تشریف لائے تو مسجد روشن دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ یہ اہتمام کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے حضرت تمیم داریؓ کا نام لیا تو حضور ﷺ نے آپؓ کو بہت دعائیں دیں اور فرمایا: ’’اگر میری کوئی بیٹی ہوتی تو میں ان سے نکاح کردیتا‘‘۔ اتفاق سے اسی وقت حضرت نوفل بن حارثؓ موجود تھے۔ انھوں نے اپنی بیوہ بیٹی ام المغیرہ کا نکاح اسی مجلس میں حضرت تمیم داریؓ سے کردیا۔ ان سے آپؓ کی صرف ایک بیٹی رُقیہ پیدا ہوئیں، جن کی وجہ سے آپؓ کی کنیت ’’ابورُقیہ‘‘ پڑی۔ آپؓ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔

حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ: ’’حضرت عمرؓ نے حضرت اُبیٔ بن کعب کو مردوں پر اور حضرت تمیم داریؓ کو عورتوں پر نمازِ تراویح کا امام مقرر کیا‘‘۔ ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمرؓ حضرت تمیم داریؓ کو کبھی عورتوں کی نماز تراویح کا امام بنا دیتے تھے‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی ان کے اوقات کی مناسبت سے جمع کرکے نمازِ تراویح میں ایک امام کے پیچھے نماز کا باپردہ اہتمام عہد ِخلافتِ راشدہ میں موجود تھا ۔

 

متعلقہ مضامین

سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم

حضرت زینبؓ آںحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپؓ بعثتِ نبویؐ سے دس برس پہلے پیدا ہوئیں۔ اس وقت آپؐ کی عمر 30 برس تھی۔ آپؓ اوّلین مسلمان ہونے والوں میں سے تھیں۔ مشرکین مکہ کی…

مولانا قاضی محمد یوسف فروری 17, 2021

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور رمضان المبارک کی دینی و تربیتی سرگرمیاں

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حضور اقدس سے 10نبوی میں نکاح ہوا۔ آپؓ درس گاہِ نبوی سے براہ راست فیض یاب ہوئیں۔ آپؓ انتہائی ذہین اور حاضر جواب تھیں۔ نہایت سخی…

مولانا قاضی محمد یوسف اپریل 17, 2021

حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ اور عید الفطر

حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ جلیل القدر صحابی ہیں۔ بدر و اُحد کے علاوہ تمام 19 غزوات میں حضور اقدس ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ 540 احادیثِ نبویہؐ کے راوی ہیں۔ علمِ حدیث کی اشاعت آپؓ ک…

مولانا قاضی محمد یوسف مئی 12, 2021

حضرت عبادہ بن صامت بن قیس خزرجی انصاری رضی اللہ عنہٗ

حضرت عبادہ بن صامتؓ کا تعلق قبیلہ خزرج کے خاندان سالم سے ہے۔ بنوسالم کے مکانات مدینہ کے غربی سنگستان کے کنارے قبا سے متصل واقع تھے۔ یہاں ان کے کئی قلعے بھی تھے، جو &rsquo…

مولانا قاضی محمد یوسف جنوری 09, 2021