حضرت مولاناحبیب الرحمن رائے پوریؒ

حضرت مولاناحبیب الرحمن رائے پوریؒ

تحریکِ خلافت، تحریکِ عدمِ تعاون اور ’حزب الانصار‘ جیسی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کرنے والوں میں ایک نام مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کا بھی ہے۔ ان کی پیدائش 21؍ اپریل 1899ء کو موضع ’جنال‘ ضلع سنگرور میں سردار بگا سنگھ کے ہاں ہوئی۔ پیدائشی نام ’بلویندر سنگھ ‘ تھا۔ ابتدائی تعلیم ضلع انبالہ کے ورنیکلز مڈل اسکول اور فرید کوٹ کے برجندرا ہائی سکول سے حاصل کی۔ مولاناؒ نے 14سال کی عمر میں اَخبارات اور مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو دور کے سیاسی حالات سے آگاہی حاصل ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب عوام و خواص ہندوستان کی جدوجہد ِآزادی میں سرگرم تھے۔ انھیں حالات میں مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کے ذہن میں بھی حریت پسندی کا شوق بیدار ہونے لگا۔ فرید کوٹ میں قیام کے دوران ان کی ملاقات ایک نعت گو شاعر مولانا محمد علی رومؒ سے ہوئی تو ان کی رہنمائی میں دینِ اسلام کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ 
’بلویندر سنگھ‘ دینِ اسلام کی انسان دوست تعلیمات سے اس قدر متأثر ہوئے کہ 1915ء میں صرف 16 سال کی عمر میں حضرت سیّد جعفر شاہؒ کے دستِ حق پرست پر اسلام قبول کرلیا۔ سیّد صاحبؒ نے ان کا نام ’حبیب الرحمن‘ رکھا۔ خاندان کی مخالفت کے خوف سے 4 سال تک اسلام کا اظہار نہیں کیا۔ 1919ء میں جب اظہارِ اسلام کیا تو دل چاہا کہ حجاز شریف میں مستقل سکونت اختیار کرلی جائے، لیکن وطنِ عزیز کی غلامی انھیں تڑپا رہی تھی۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ ہندوستان کی آزادی میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔ یہ سیاسی گہما گہمی کا دور تھا۔ سکول کی تعلیم کے دوران ہی مولاناؒ کی ملاقات ایک صوفی منش سیّد ریحان مصطفی شاہؒ سے ہوئی۔ شاہ صاحبؒ کا سیاسی ذوق ہونے کی وجہ سے مولانا موصوفؒ کو ان سے خوب استفادے کا موقع ملا۔ برعظیم کی سرزمین پر انگریزوں کے جابرانہ قبضے کے خلاف مولاناؒ کے اندر نفرت گو اوائل عمر ہی میں پیدا ہو گئی تھی، اب سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔ یہ وہ دور تھا جب لوگ چھوٹی بڑی جماعتوں کی صورت میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ مولاناؒ بھی مانک پور میں جاری ایک خفیہ انقلابی سوسائٹی کے ساتھ جڑ گئے۔ 1920ء میں تحریکِ خلاف کا آغاز ہوا تو اس میں سر گرم کردار ادا کرنے لگے۔ انگریزوں کے خلاف تحریکِ عدمِ تعاون میں بھی لوگوں سے رابطوں میںرہے اور انھیں جدوجہد کے لیے تیار کرنے لگے۔ تحریک میں تیزی لانے کی خاطر مولاناؒ نے خان پور کھرڑ ضلع انبالہ کی تحریکِ سول نافرمانی کے رہنمائوں سے رابطے پیدا کیے۔ 
مولانا حبیب الرحمنؒ مذکورہ تحریکات میں حصہ لینے کی پاداش میں10؍ مارچ 1922ء کو گرفتار کیے گئے اور انبالہ جیل میں قید میں رکھا گیا۔ اس قید کے دوران ان کی ملاقات اَحراری رہنماؤں؛ چوہدری افضل حقؒ، خواجہ عبدالرحمن غازیؒ اور شیخ حسام الدینؒ وغیرہ سے ہوئی۔ جیل میں قیام کے دوران ہی قرآنِ حکیم کا ترجمہ، مثنوی مولانا روم، فقہ اور تفسیر کی تعلیم بھی حاصل کرلی۔ قید کے دوران مولاناؒ نے قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے بہیمانہ سلوک کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون بھی لکھا، جو لاہور کے ایک اخبار نے ’جیل نمبر‘ میں شائع کیا۔ فروری1923ء میں مولاناؒ کو جیل سے رہائی ملی۔ 
1923ء میں حضرت مولانا اللہ بخش بہاول نگریؒ اور حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے ’منی مرزعہ، انبالہ‘ میں قیام کے دوران مولاناؒ کی ملاقات ان حضراتؒ سے ہوئی تو ان کے گرویدہ ہو گئے۔ 1924ء میں حضرت مولانا اللہ بخش بہاول نگریؒ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ 1926ء میں انھوں نے ایک سیاسی انقلابی دستور مرتب فرمایا، جس میں ہندوستان کی مکمل آزادی کے حوالے سے منشور دیا گیا تھا۔ اس منشور کو مفتیٔ اعظم مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا ظفر علی خاںؒ اور خوا جہ حسن نظامیؒ نے بہت پسند فرمایا اور اس کوشش کو سراہا۔ 
سیاسی تحریکات میں حصہ لینے اور سیاسی شعور کی بیداری کی تحریکات کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کے حوالے سے بھی مولانا حبیب الرحمنؒ سرگرم رہے۔ 1934ء میں دینِ اسلام کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے اپنے آبائی گائوں میں مسجد اور مدرسے کی بنیاد رکھی۔ 1937ء تک اس مدرسے نے ایک بڑے مرکز کی شکل اختیار کرلی تھی۔  میاں جیو اللہ دین کو مرکز کی ذمہ داری سونپ کر مولاناؒ 1935ء میں مستقل قیام کے لیے  رائے پور تشریف لے آئے۔ 1937ء میں حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی زیرِسرپرستی نوجوانوں کی علمی، فکری اور تنظیمی تربیت کے لیے ’حزب الانصار‘ کے نام سے رائے پور میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔ 1938ء میں اس کا دستور مرتب کیا گیا اور مولانا موصوفؒ اس کے پہلے امیر منتخب ہوئے۔ 1939ء میں جب امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ وطن واپس تشریف لائے تو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے انھیں ولی اللّٰہی علوم و افکار کی تعلیم کے لیے حضرت سندھیؒ کی خدمت میں جامعہ ملیہ دہلی بھیجا۔ 1940ء میں حضرت رائے پوریؒ کے حکم سے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم سے متعلق ایک کتاب ’فلسطین الشہیدہ‘ ملک بھر میں تقسیم کی اور ’حزب الانصار‘ کے پلیٹ فارم پر بھی اس مسئلے کو خوب بیان فرمایا۔ 1945ء میں کانگریس کمیٹی ضلع سہارن پور کے صدر منتخب ہوئے اور اس حیثیت سے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ 1947ء کے فسادات کے موقع پر یو۔پی حکومت کی طرف سے اعزازی سپیشل مجسٹریٹ مقرر ہوئے۔ اس منصب پر انھوں نے مسلمانانِ ہند کے تحفظ اور حقوق کی ادائیگی کے لیے جدوجہد فرمائی۔ 1946ء میں مولاناؒ نے حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی مجالس کو قلم بند کرنا شروع کیا، جو بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع ہوئیں۔ 
1947ء کے بعد مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کی جدوجہد ِآزادی کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ہندوستان کا ’آزادی ایوارڈ‘ دیا گیا۔ اسی طرح یو۔پی حکومت اور کانگریس کمیٹی کی جانب سے بھی اعزازات سے نوازا گیا۔ 1956ء میںحضرت مولانا محمد اشفاق رائے پوریؒ کے وصال کے بعد مولاناؒ خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے متولّی مقرر کیے گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ اور حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کے ساتھ اَسفار میں شریک رہتے تھے۔ 21؍ نومبر1981ء کو مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کا انتقال رائے پور ضلع سہارن پور میں ہوا۔ تدفین خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں ہوئی۔ 

Source: Rahimia Magazine October,2020
Tags
No Tags Found