حضرت ابوحذیفہ ہَیثم بن عُتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ

مولانا قاضی محمد یوسف

مولانا قاضی محمد یوسف
مولانا قاضی محمد یوسف
نومبر 14, 2022 - ایمان افروز واقعات
حضرت ابوحذیفہ ہَیثم بن عُتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ

حضرت ابوحذیفہ ہَیثم یا ہاشم بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اصحابِ بدر، السابقون الاولون ، مہاجرینِ حبشہ اور مہاجرینِ مدینہ میں سے ہیں۔ آپؓ سردارِ قریش عتبہ کے بیٹے ہیں، جوکہ حضور اقدس ﷺ کا بدترین دشمن تھا۔ آپؓ کی والدہ فاطمہ بنت صفوان بن اُمیہ تھیں۔ آپؓ ’’ابوحذیفہ‘‘ کی کنیت سے مشہور ہیں۔ آپؓ طویل القامت، خوش چہرہ، آنکھ میں نقص اور بڑی عمر کے لوگوں میں سے تھے۔ بعثتِ نبویؐ کے وقت آپؓ کی عمر 30 یا 32 سال تھی۔ آپؓ حضوؐر کے قیامِ دارِ ارقم سے پہلے اپنی اہلیہ سہلہ بنت سہیلؓ سمیت حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ اس پر عتبہ نے آپؓ اور آپؓ کی اہلیہ سے قطع تعلق کر لیا۔

حضرت ابوحذیفہؓ فضلا صحابہ کرامؓ میں شامل ہیں۔ آپؓ۵نبوی میں ہجرتِ حبشہ کے پہلے قافلے میں شریک ہوئے۔ مسلمانوں اور سردارنِ مکہ کی صلح کی افواہ پر مکہ واپس آئے۔ پھر۶نبوی میں دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ وہیں آپؓ کے ایک صاحبزادے محمد بن ابی حذیفہ پیدا ہوئے۔ ہجرتِ مدینہ سے کچھ عرصہ قبل مکہ واپس تشریف لے آئے۔ پھر آپؐ کے حکم پر مدینہ منورہ ہجرت کی اور حضرت عباد بن بِشرؓ کے مہمان بنے اور ان سے آپؓ کا سلسلۂ مواخات جوڑا گیا۔

حضرت ابوحذیفہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی۔ غزوۂ بدر میں آپؓ اپنے خونی رشتے داروں کے مقابلے میں اُترے۔ اس دوران آپؓ کا اپنے والد عتبہ، بھائی ولید بن عتبہ اور بہن ہندہ بنت عتبہ کے علاوہ کئی دیگر رشتہ داروں سے بھی مقابلہ ہوا۔ عتبہ، حضرت حمزہؓ کے ہاتھوں مارا گیا، جس کا بدلہ اُحدکی جنگ میں اس کی بیٹی ہندہ نے حضرت حمزہؓ کو شہید کرکے لیا، جوکہ وہ بھی بعد میں فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئیں۔ جنگِ بدر کے اختتام پر جب سردارانِ قریش عتبہ، شیبہ اور ابوجہل وغیرہ کی لاشیں کنوئیں میں پھینکی گئیں تو آپؐ نے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے سردارانِ قریش! تم سے اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا، وہ پورا ہوگیا کہ نہیں؟! ہمارے ساتھ جو فتح وغلبہ کا وعدہ کیا تھا، وہ تو پورا ہوگیا‘‘۔ آپؐ نے جب یہ الفاظ فرمائے اور حضرت ابوحذیفہؓ کے چہرے کی طرف دیکھا کہ آپؓ کے چہرے کا رنگ ذہنی پریشانی سے پھیکا پڑ ا گیا ہے، تو آپؐ نے فرمایا: ’’ابوحذیفہ! تم اپنے والد کی اس حالت سے افسردہ ہوگئے ہو؟‘‘ آپؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! میرے اندر اپنے والد اور اس کے قتل کے بارے میں کوئی پریشانی یا افسردگی پیدا نہیں ہوئی، بلکہ میں اسے صائب الرائے، بردبار اور سلجھا ہوا آدمی سمجھتا تھا اور مجھے ان صلاحیتوں کی بنیاد پر قوی امید تھی کہ اس کے یہ اوصاف اسے اسلام کے قریب تر لے آئیں گے۔ جب میں نے اس کے انجام کو دیکھا کہ کفر پر موت ہوئی ہے اور میری آرزو اور خواہش پوری نہ ہوسکی تو مجھے اس کا رنج ہے‘‘۔ جب حضوؐر نے یہ بات سنی تو آپؓ کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔

آپ۱۱ہجری میں جنگِ یمامہ میں 54 برس کی عمر میں شہید ہوئے۔ آپؓ نے اپنے ورثا میں تین بیویاں اور دو بیٹے محمد اور عاصم چھوڑے۔ (حوالہ: اسد الغابہ، الاستیعاب )

متعلقہ مضامین

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …

مولانا قاضی محمد یوسف اکتوبر 10, 2022

خلافتِ راشدہ کے نظام میں وسیع تر بامعنی مشاورت اور آج کی جمہوریت

وطنِ عزیز کی سیاست اپنے روز ِقیام ہی سے مختلف نعروں سے عبارت رہی ہے، جیساکہ ہم نے گزشتہ ماہ کے شذرات میں یہاں اسلامی نظام کے نمائشی نعروں کے برعکس چند سنجیدہ گزارشات …

مولانا محمد عباس شاد نومبر 11, 2021

حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ

​حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗحضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗخاندانِ نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوضحاک‘‘ تھی۔ رسول اللہ ﷺنے ان کو ’’ابو…

مولانا قاضی محمد یوسف جولائی 03, 2026

حضرت ثابت بن قیس بن شماس اَنصاریؓ ’خطیبُ النبیؐ‘

حضرت ثابت بن قیس بن شماس خزرجیؓ اَنصار کے اور رسول اللہ ﷺ کے ’’خطیب‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ فصاحت و بلاغت اور خطابت میں آپؓ کو بڑی مہارت حاصل تھی، اس …

مولانا قاضی محمد یوسف مارچ 16, 2023