حضرت عبادہ بن صامت بن قیس خزرجی انصاری رضی اللہ عنہٗ

مولانا قاضی محمد یوسف
مولانا قاضی محمد یوسف
جنوری 09, 2021 - ایمان افروز واقعات
حضرت عبادہ بن صامت بن قیس خزرجی انصاری رضی اللہ عنہٗ

حضرت عبادہ بن صامتؓ کا تعلق قبیلہ خزرج کے خاندان سالم سے ہے۔ بنوسالم کے مکانات مدینہ کے غربی سنگستان کے کنارے قبا سے متصل واقع تھے۔ یہاں ان کے کئی قلعے بھی تھے، جو ’’اُطمِ قوافل‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس بنا پر آپؓ کا مکان مدینہ سے باہر تھا۔ آپ اسلام کے آغاز سے ہی دین قبول کر چکے تھے۔ اَنصار کے جو وفد حج کے موقع پر 3 سال تک مدینہ سے مکہ آئے تھے، آپؓ ان سب میں شامل تھے۔ پہلا وفد جو دس آدمیوں پر مشتمل تھا، آپؓ اس میں شامل تھے اور چھ آدمیوں کے ساتھ آں حضرت ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ اربابِ علم کی ایک جماعت کا یہی خیال ہے۔ (فتح الباری) اگرچہ کثرتِ رائے ان کے اسلام کو دوسری بیعت تک موقوف سمجھتی ہے، جس میں بارہ آدمیوں نے دینِ اسلام قبول کیا تھا۔ (مسند احمد) تیسری بیعت جس میں 72 اشخاص شامل تھے، حضرت عبادہؓ کی اس میں بھی شرکت تھی۔ (مسنداحمد) اخیر بیعت میں ان کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آں حضرتؐ نے ان کو خاندانِ قوافل کا نقیب (سردار) تجویز فرمایا۔
حضرت عبادہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضوؐر سے ان شرائط پر بیعت کی تھی کہ چستی اور کاہلی ہر حالت میں آپؐ کا کہنا مانیں گے۔ فراخی اور تنگی میں مالی امداد دیں گے۔ اچھی باتیں آگے پہنچائیں گے۔ بُری باتوں سے روکیں گے۔ سچ کہنے میں کسی سے نہ ڈریں گے۔ حضوؐر یثرب تشریف لائیں گے تو مدد کریں گے اور جان ومال اور اولاد کی طرح آپؐ کی نگہبانی کریں گے۔ ان سب باتوں کا صلہ جنت کی صورت میں دیا جائے گا۔ پس ان باتوں پر پورے طور سے عمل کرنا چاہیے اور جو نہ کرے، وہ اپنا خود ذمہ دار ہے۔ (مسنداحمد) 
حضرت عبادہ بن صامتؓ کی زندگی شروع ہی سے ولولہ انگیز ہے۔ مکہ سے مسلمان ہوکر واپس مدینہ آئے تو اپنے گھر پہنچتے ہی اپنی والدہ کو مشرف بہ اسلام کیا۔ (زرقانی) حضرت کعب بن عجرہ آپؓ کے ایک دوست تھے، جو آپؓ کی دعوت اور محنت سے حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ آں حضرتؐ نے مدینہ پہنچ کر انصار و مہاجرین میں باہمی بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت ابو مرثد غنویؓ کو حضرت عبادہؓ کا بھائی تجویز فرمایا۔ غزوۂ بدر اور حدیبیہ میں بیعت الرضوان میں بھی آپؓ شریک تھے۔ خلافت ِصدیقی میں شام کی بعض لڑائیوں میں شریک رہے۔ مصر کی فتح  میں آپؓ کا گراں قدر حصہ تھا ۔ (مسنداحمد) 
حضرت عبادہؓ تادمِ مرگ شام میں سکونت پذیر رہے۔ 34 ہجری میں آپؓ کی وفات ہوئی، اس وقت آپؓ کی عمر 72 سال تھی۔ وفات سے پہلے بیمار رہے۔ لوگ عیادت کو آتے تھے۔ فرمایا کہ جتنی حدیثیں ضروری تھیں، تم لوگوں تک پہنچا چکا، البتہ ایک حدیث باقی تھی، اس کو اب بیان کیے دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہؐ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ’’مَن شَہِد أن لاَّ إلٰہ إلاَّ اللّٰہ، و أنّ محمّداً رسولُ اللّٰہ، حرّمَ اللّٰہُ علیہِ النّار‘‘(مسلم: 29) (جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اس پر اللہ نے جہنم کی آگ حرام فرمادی)۔ حضرت عبادہؓ حدیث بیان کرچکے تو روح جسم کو الوداع کہہ کر جوارِ رحمت میں پرواز کر گئی۔